پچھلے 41برس سے پاک افغان تعلقات کی ایک داستان: سید عثمان الدین گیلانی

250
0
میرا تعلق پکتیا صوبے افغانستان سے ہے اور میں ایک سید خاندان سے ہوں ہمارے آباؤ اجداد کی پشتون عورتوں سے شادیاں ہوتی چلی آرہی ہیں۔ میرے بڑے چاچا کی کابل میں سپیئر پارٹس کی دکان تھی جو وہ جرمنی سے امپورٹ کرتے تھے اچھا خاصا کاروبار جاری تھا روسیوں نے جب ملک پر قدم رکھا تو دکان کم داموں میں فروخت کرکے ان کے خلاف جنگ میں لوکل عوامی لوگوں کے کمانڈر بنے پشاور میں مجاہدین کے لیڈرز کے دفاتر ہوا کرتے تھے جہاں سے ان کو اسلحہ ملتا تھا چند دفعہ وہاں جا کر ہی چاچا جو معاملات سے پتہ چل گیا تھا کہ یہاں تو لیڈرز اپنے مفاد کے بندوں کو رکھتے ہیں اور اسلحہ دینے میں اپنی چوری کرتے ہیں۔ بہرحال اس نے جنگ جاری رکھی جنگ کے دوران ہمارے خاندان نے کرم ایجنسی ہجرت کی تھی اور اللہ کے فضل سے لوکل لوگوں سے بہت اچھی دوستی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ نے عزت کے میدان میں علاقے میں شہرت بھی دی تھی۔جس کا ثبوت یہ تھا کہ سن 2000 میں جب ہم افغانستان واپس لوٹے تو دادا سے ملنے بہت سے کرم ایجنسی کے لوگ بھی آتے تھے۔ 1990 کے شروعات کے سالوں میں جب ڈاکٹر نجیب کی حکومت کا پانسہ الٹ گیا تو مجاہدین کے لیڈرز نے کابل کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے آپس میں سول وار شروع کی جن کی خودغرضی اور قتل و غارت دیکھ کر ہی میرا چاچا اس نتیجے پر پہنچا کہ جو جہاد ہم نے کیا وہ دراصل جہاد نامی فساد تھا۔ 2001 میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے میں پشاور آیا اور پڑھتے پڑھتے یونیورسٹی پہنچ گیا۔ یونیورسٹی میں” international relations ” نامی سبجیکٹ تھا جس نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا۔ ہمیں 18 صدی کے فلاسفر Maciavelli کی فلاسفی متعارف کرائی گئی جس کا لب لباب یہ تھا کہ مقصد حاصل کرنے کیلئے انسان کو کوئی بھی ذرائع استعمال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے خواہ وہ غیر اخلاقی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیچرز ہمیں کہہ گئے کہ تب سے بین ال اقوامی تعلقات میں ” self interest first” کی ڈپلومیسی چل رہی ہے اور افغانستان میں امریکی جنگ لڑنے پر آمادگی کے لیے جنرل ضیاء نے امریکہ سے یہ عہد لیا تھا کہ جنگ جیتنے پر پاکستان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کو اپنی مرضی کے مطابق formulate کرے جسے achieve کرنے کے لیے روس کے نکلنے کے بعد مجاہدین کو ڈاکٹر نجیب کے خلاف سپورٹ کیا گیا اور بعد میں 1996 کو طالبان موومنٹ تشکیل کیا گیا جو اسی سوچ کا تسلسل تھا۔
طالبان نے تاجک،ازبک اور ہزارہ جن کا ان سے طرز حکومت پر اختلاف تھا ان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پشتون ہی صرف اسلام کی پہچان قرار پائے اور تاجک، ازبک اور ہزارہ کے ساتھ نفرت پشتونوں میں پھیل گئی۔ جس کا ثبوت یہ تھا کہ نا صرف افغانستان کے پشتونوں میں منبر کے ذریعے یہ ذہنیت پھیل گئی بلکہ پاکستان میں بھی یہی حال تھا۔ مسلمان افغانستان سے آتے ہوئے لوگوں کو جب پولیس اور ایف سی گاڑی سے اتارتے تو پشتونوں کو چھوڑ دیتے اور تاجک،ازبک اور ہزارہ کے لوگوں سے پیسے بٹورتے تھے۔ یہی حال شہروں میں رہنے والی ان اقوام کے افراد کا تھا نہ صرف پولیس بلکہ کچھ عوام بھی ان سے نفرت کرتی تھی۔ میں خود بھی اسی ذہنیت کا شکار تھا اور میں نے پشاور میں رہتے وقت تعلیمی اداروں میں ان کو کبھی دوست نہیں بنایا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ لوگ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ امام اعظم امام ابو حنیفہ بھی ایک تاجک ہی تھے۔ یہ سلوک دیکھ کر جب 2001 میں امریکہ نے افغانستان میں ان لوگوں کی حکومت قائم کی تو انہوں نے صرف افغان پشتونوں سے بدلہ لینے کا بھرپور جذبہ دکھایا بلکہ پاکستان کے بارے میں بھی یہی حال رہا جسکا فائدہ انڈیا نے لیا۔ یہ بات درست ہے کہ افغانستان نے نہ صرف روس کے آنے سے قبل بار بار پاکستان کو دھمکیاں دیں بلکہ پاکستان بنتے وقت مخالفت بھی کی اور ان دونوں اطراف سے تلخی کی اصل بنیاد 1893 کی ڈیورنڈ لائن معاہدہ تھا جو انگریز چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے زندگی کے زیادہ تر ایام پاکستان میں گزارے ہیں اور افغانستان کو مکہ اور پاکستان کو مدینہ مانتا ہوں۔ پاکستان کے لوگ افغانستان کی نسبت زیادہ نرم طبیعت کے اور باشعور ہیں کیونکہ نہ صرف 300 سال انگریزوں کے ساتھ اور خلاف جدوجہد میں تحریکوں میں institution کا حصہ رہنے کے ساتھ ساتھ 73 سالہ پاکستانی جمہوریت سے گزرے ہیں بلکہ پاکستان زیادہ diverse اور جامع ہونے کے ناطے ہر قسم کے تجربات سے گزرا ہے جبکہ افغانستان 18 صدیوں سے لیکر 1978 تک دو قبائل (درانی اور غلزائی) خاندانوں کی موروثی monarchies (شاہی حکومت)کا شکار رہا ہے اور جمہوری عمل اور سیاست سے عوام کو دور رکھا گیا تھا۔
1978 سے لے کر 2001 تک کمیونسٹ غلزائی پشتون تھے، ڈاکٹر نجیب بھی اسی قبیلے سے جبکہ ملا عمر درانی قبیلے سے تھا۔ کل اگر افغان یہ کہتے تھے کہ پاکستان پر انگریزوں نے حکومت کی ہے اس لحاظ سے ہم اس سے برتر ہیں تو خدا نے برطانوی انگریز کے کزن امریکی انگریز کی حکومت افغانوں پر قائم کر کے اسکا جواب دے دیا ہے اور حساب برابر ہوا ہے۔ اب اگر پاکستانی عوام یہ سمجھتی ہے کہ افغان آرمی مرتد ہے کیونکہ وہ یہودو نصاری کی صف میں کھڑی ہے تو انکو اس پر غور کرنا ہوگا کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان نہ صرف انگریزوں کی فوج میں رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ مل کر ترکی کی خلافت عثمانیہ کا تختہ بھی الٹا ہے۔ اگر وہ مرتد نہیں تھے تو یہ کیسے ہو؟؟؟ اس لیے یہ امید رکھنا بہتر ہوگا کہ حالات کچھ ایسے بن سکتے ہیں جو امریکہ کو انگلستان کی طرح جانے پر مجبور کر دے۔
افغانستان اور پاکستان کے پشتونوں میں بہت زیادہ چیزوں میں مشابہت ہے اور ہونی بھی چاہیے اگر ایک قوم ہے تو۔ اسکا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ افغانستان کے علاقے خوست پکتیا اور غزنی کا رہن سہن، لباس،کھانا پینا، لہجہ اور دیگر رسومات تقریبا شمالی و جنوبی وزیرستان ، خیبر ، اورکزئی اور کرم ایجنسی سے ملتا جلتا ہے اور بہت سے قبائل بارڈر کے پار نہ صرف مشترک آباؤ اجداد کے دعوی ہیں بلکہ بارڈر کے دونوں طرف ایک قوم کے لوگ بھی رہتے ہیں جیسے منگل،وزیر اور بنگش۔ اسی طرح ننگہار (جلال آباد) کے رہائشی یوسف زئی اور قندہار اور ہلمند کے رہائشی بلوچستان کے پشتونوں کے قریب تر ہیں۔ بارڈر کے دونوں طرف روس کے حملے سے پہلے کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی کاشت نہ ہونے کے برابر تھی البتہ اسمگلنگ ہوتی رہتی تھی کیونکہ زیادہ تر بارڈر پڑوس تھا مندرجہ بالا بحث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اخذ ہوتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں جسکا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور غلطیاں دونوں طرف سے ہوئی ہیں جسکی اصل بنیاد انگریز کا چھوڑا ہو مسئلہ ڈیورنڈ لائن ہے۔ ہمیں ایک امت کے ناطے اصل اسلام جو اخوت اور بھائی چارے پر زور دیتا ہے کی طرف معاملات کو موڑنا چاہئے۔ جیسا کہ آیت ہے ” اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں مت پڑو ” اور حدیث ہے کہ مسلمان امت ایک جان کی مانند ہے جیسے جسم کے ایک حصے میں درد ہوتا ہے تو دوسرا بھی محسوس کرتا ہے۔