پشتون تحفظ پی ٹی ایم (PTM)اور پی ڈی ایم (PDM)ایک راہ کے دومسافر

78
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی
لاہور میںپی ڈی ایم (PDM)کا جلسہ ہوا تو اخترجان مینگل نے پاک فوج کو جس طرح چارج شیٹ کیا ، انگریز فوج سے بدتر قرار دیا ، واضح طور سے کہا کہ پاک فوج سے ہماری عزتیں محفوظ نہیں۔ لاڑکانہ جلسہ میں کریمہ بلوچ کے قتل اور پرویز مشرف کا حوالہ دیا کہ چوہدری نثار سے کہا تھا کہ الطاف حسین کو مار دیںگے اور ہمارا نام بھی نہیں آئے گا۔ اختر جان مینگل کی ابھی عمران حکومت کو چھوڑے ہوئے عدت بھی پوری نہیں ہوئی ہے۔ جمعہ جمعہ آٹھ دن پہلے جس طرح عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ ایجنٹ مرکز میں قرار دیا جاتا ہے اس سے بڑھ کر بلوچستان میں اختر جان مینگل کو بھی اسٹیبلشمنٹ کا پکا مہرہ سمجھا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق اور مفتی کفایت اللہ کی زبان میں پاک فوج کو سیاست سے بے دخل کرنے میں کوئی فرق نہیں ۔
عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں مولانا فضل الرحمن کے ڈیزل پرمٹ اور عمران خان کی طرف سے پیٹرول کو کنٹرول کرکے ذخیرہ اندوزی کے ذریعے سے پیسہ کمانے کا موازنہ کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن کو اسلام آباد کا گھر دوستوں نے گفٹ کیا اور عمران خان کو بنی گالہ کا گھر بیوی نے جہیز میں دیا۔ ایک سابق وزیراعلیٰ کا بیٹا ہے اور دوسرا پنجاب کے پٹواری کا بیٹا ہے۔ ایک پر بی آر ٹی (BRT)پشاور میں اربوں اور دوسرے پر ٹانک پیزو روڈ میں کروڑوں کے غبن کا الزام ہے ۔ سائیکل کے چوروں کی طرح دونوں کا ریمانڈ لیا جائے تو عمران خان سے زیادہ پیسہ نکل آئے گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکس ٹینشن غلط یا درست ملی لیکن پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے کھل کر ووٹ دئیے ہیں۔ فیصل واوڈا نے فوجی بوٹ میز پر رکھ دیا کہ چاٹ لیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی واضح کیا تھا کہ باجوہ کے ایکس ٹینشن کے خلاف نہیں ۔
اگر عدالت کے خلاف اصل تحریک پنجاب سے اُٹھے اور علامہ خادم حسین رضوی کو چھوڑ کر مولانا سمیع الحق کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ پاک فوج کے خلاف مریم نواز اور نوازشریف سب سے بڑا خطرہ ہوں اور قربانی کا بکرا مولانا فضل الرحمن کو بنایا جائے تو عالمی قوتوں کے علاوہ مقامی باغی بھی سر اٹھائیںگے اور پاکستان کو قائم رکھنا بہت مشکل ہوگا۔آج پاک فوج کے حوالے سے لوگوں کے تیور بدل گئے ہیں۔ اختر مینگل کے بیانات پر ایک حرف بھی سوشل میڈیا میں ان لوگوں کی طرف سے نہیں آیا جن کا کام گیدڑوں کی آواز میں سارا دن رات چور مچائے شور ہے لیکن محمود خان اچکزئی کی طرف سے اہل لاہور پر تنقید کا تماشہ بنادیا گیا۔ لیگی جاوید ہاشمی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کیلئے قطب نما ہیں لیکن اس نے اچکزئی کی حمایت کردی ۔
بچپن میں یحییٰ خان و اندرا گاندھی کا تصور تھا تو میں ماحولیاتی ملی غیرت سے مجبور ہوکر گڈی گڈے کا مقابلہ کراتا تھا۔ گڈی کو اندرا گاندھی کے نام پر پتھروں سے خوب مارتا۔ یحییٰ خان کی وجہ سے گڈے سے بڑی محبت تھی ۔ پھر جوانی میں مولانا فضل الرحمن کی تقریر سن لی تو جنرل ضیاء الحق کا مخالف بن گیا، حتی کہ اس کا اسلام بھی قبول نہیں تھا کہ اسکا کام وردی میں اپنی ڈیوٹی دینا ہے۔ جب مفتی تقی عثمانی کے پیر ڈاکٹر عبدالحی کے جنازہ میں جنرل ضیاء الحق سے سامنا ہوا تو اینٹ ، پتھر اور مٹی کا ڈھیلہ نہیں ملا،ورنہ شاید اُٹھاکر ماردیتا۔ مٹی اُٹھاکر منہ پر پھینکنے سے اسلئے رُک گیا کہ جنازے کی بے حرمتی ہوجائے گی۔ جب نواز شریف کو پکڑ کر پرویزمشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تب بھی اپنے اخبار ضرب حق کے اداریہ میں لکھا کہ ”فوج کی تعلیم وتربیت دشمنوں سے نمٹنے کیلئے ہوتی ہے ،اپنوں سے سلوک کرنے کیلئے نہیں ہوتی۔ فوجی بیرکوں میں کہتے ہیں کہ فوجی وہ جانور ہے جو دن کوجنگل ، شام کو لنگر اور رات کو کمبل میں پایا جاتا ہے”۔ حالانکہ جمہوریت پسند مٹھایاں بانٹ رہے تھے۔ پی ٹی ایم (PTM) کا نعرہ پاکستان کے وکیلوں نے لگایا، ن لیگ والوں نے لگایا۔ اب اگرمولانا فضل الرحمن کو مار دیا گیا تو گلی کوچوں اور بازاروں میں فوج کے خلاف انقلاب آجائیگا۔
اعجاز شاہ نے کہا تھا کہ فوج مخالف بیانیہ کی وجہ سے جو حشر بشیر بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے کا ہوا، وہ ن لیگ کا بھی طالبان کردیںگے۔ شیخ رشید بھی یہ کہتا تھا مگر وہ وزیرریلوے تھا۔ جب پی ٹی ایم (PTM)کے علی وزیر کوسندھ حکومت نے گرفتار کیا تو باغی طالبان فیس بک پر پی ٹی ایم (PTM)کے ایکٹیوسٹوں کو طعنے دیتے تھے کہ احتجاج کرلو اور عدالت میں جاؤ۔پی ٹی ایم (PTM)کے رہنما گلہ شکوہ کررہے تھے کہ اے پی ایس (APS)پشاور کے بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان چھوڑ دیا گیا حالانکہ سلیم صافی نے اس پر بڑااچھا پروگرام کیا۔ ہارون الرشید قسم کی مخلوق فوج کی طاقت پر نہیں گو پر پدو مارتے ہیں لیکن عوام کو حقائق نہیں بتاتے۔ ان سے تو سلیم صافی اچھا نکلا جس نے اچھا پروگرام کیا ہے۔
سرنڈر طالبان کو زبردستی قومی ترانہ گانے پرمجبور کرکے بہت اچھا کیا لیکن ان سے بہادری کی اُمید خام خیالی ہے۔ ان کو سلنڈر کہا جاتا ہے اور یہ طعنہ ان کی نسلوں کیلئے بھی کافی ہے ۔ دوسری طرف افغانستان میں بیٹھے طالبان بغاوت کا تمغہ اپنے اوپر نہیں سجاتے بلکہ ستر (70)سال سے پاکستان کو اسلامی نظام سے دور رکھنے کی بات کرتے ہیں اور بہت بڑا قصوروار فوج اور اسکے کٹھ پتلیوں کو قرار دیتے ہیں۔اگر سرنڈر مذہبی مجاہدین یا آلۂ کاروں کے ذریعے قوم پرستی کا جذبہ دبانے کا سلسلہ جاری رکھا گیا اور قومی سیاسی قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا تو عوام میں نفرت بہت بڑھے گی اور پاکستان کی ریاست ناکام ہوجائے گی۔ ایک فوج کی قوت نہ ہو تب بھی ریاست کا نظام ہمارے کرپٹ سول بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس اور انتظامیہ کے بس کی بات نہیں ہے۔ مصنوعی مجاہدین اور مصنوعی سیاسی ستاروں کا نظام بری طرح پٹ چکا۔
ایک بات جملہ معترضہ کی طرح لکھ دیتا ہوں کہ جنوبی وزیرستان میں محسود قوم کو زیادہ قربانی کا بکرا بننا پڑا ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ جنوبی وزیرستان میںوزیر قوم نے طالبان کا زیادہ ساتھ دینے کے باوجود اس کا غلط فائدہ نہیں اُٹھایا۔ کسی بھی پڑوسی کو انہوں نے تکلیف نہیں پہنچائی جبکہ محسود قوم کے طالبان نے بیٹنی قوم کے علاوہ پورے پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے سب سے زیادہ نقصان سب کو پہنچایا ہے۔ ہمیں بھی طالبان نے نقصان پہنچایا ہے اور ہمارے خاندان والوں نے بھی طالبان کو سب سے زیادہ سپورٹ دی تھی۔ جب تک اپنی غلطیوں کا بہت کھل کر اعتراف نہیں کیا جائے تو پھراگردہشتگردی کی فضاء قائم ہوگی تو زیادہ نقصان ہوگا۔
بلاول نے گلگت میں دھاندلی کے بعد پشاور جلسے میں آئی ایس آئی (ISI)کے دفتر آبپارہ اور لانگ مارچ کا رُخ بھی یہی بتایا ۔ ن لیگ والوں میں ہمت ہوتی تو اسلام آباد کے پہلے دھرنے میں مولانا کے پاس اپنے کارکنوں کو پہنچنے کیلئے کہتے ۔ خیر اس وقت نوازشریف کو ریلیف درکار تھی اور اب مریم نواز کی قلفی جم گئی ہے تب بھی اپنے خول سے باہر ہے۔ پنجاب کے جوان بہت بہادر ہوتے ہیں۔ احمد خان کھرل نے انگریز کا مقابلہ کیا ،اگر وہ وزیرستان کا باشندہ ہوتا تو رزمک سے وانا تک کیمپ اور روڈ بنانا انگریز کیلئے ممکن نہ ہوتا۔ ہمارے بے غیرت قبائلی عمائدین انگریز سے کہتے تھے کہ ”تم پہاڑ کی طرح ہو اور ہم ندی کے پانی سے سیفٹی کیلئے مصنوعی کنکریٹ کی دیوار”۔ توس لاکہ غار میژ لاکہ ڈھونگہ۔حوالہ انگریزی کتاب ”میژ ” وزیرستانی پشتو میں”ہم”
بلوچستان کے پشتون اور بلوچ سرداروں اور نوابوں کو آقا سمجھتے ہیں لیکن آزاد قبائل کے لوگ خانوں اور ملکوں کو انگریز کا جاسوس سمجھتے ہیں۔ طالبان نے کٹھ پتلی کے شبہ میں زیادہ تشدد کیا لیکن بہت سوں نے اپنے جنسی تشدد کا انتقام عوام سے لیا۔