آپ کی بچی خود اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی: رانا ثناء اللہ

613
0

aap-ki-bachi-khud-us-ke-peeche-bhag-rahi-thi-Rana-Sanaullah

yeh-maluoon-hein-jahan-paye-jayen-pakar-kr-qatal-krdia-jaye-surah-ahzab-Rabia-Anam-Program-Geo-Tv

نوشتۂ دیوار کے چیف ایڈیٹرمحمد اجمل ملک نے کہاہے کہ میڈیا پر دکھایا جانے والے منظر بڑا ہی افسوسناک تھا جس میں رانا ثناء اللہ نے ننھی معصوم مظلوم شہیدبچی زینب کے والدہی کو غصہ میں ڈکٹیشن دی کہ ’’ تیری بچی ویڈیومیں خود ہی اسکے پیچے بھاگ رہی تھی‘‘۔کوئی جواں لڑکی ہوتی اور معاملہ قتل کا نہ ہوتا تو راناثناء اللہ کا حق بنتاتھاکہ تیری بچی شریک مجرم تھی ،ہونا تویہ چاہیے تھاکہ زینب کا والد راناثناء اللہ کے منہ پر زور دار طمانچہ مارتا کہ یہ بکواس کرنے کی ضرورت کیاہے؟، ثابت کرناچاہ رہے ہو؟۔ لیکن شاید شہباز شریف نے زینب کے والد کو کچھ زیادہ ہی رقم تھما ئی ہوگی۔ مظلوم کیلئے پہلے تو کوئی آواز اُٹھتی ہی نہیں اور جہاں لوگ کچھ غیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں تومظلوم چند ٹکے لیکرخاموش ہوجاتا ہے ، شاہ زیب قتل کیس پر جو کچھ ہوا قوم نے دیکھ لیا۔ زینب کی معصومیت پردو افراد شہید ہوئے ہیں۔
قصور کی ایک زینب کا مسئلہ نہیں ، قرآن کہتاہے کہ جو ایک انسان کوبے گناہ قتل کرتاہے جیسے وہ تمام انسانوں کو قتل کردے۔ پاکستان کے تمام بچے اور بچیوں کی عزتوں کا مسئلہ ہے۔ غریب اور بے بس کے پاس آواز اٹھانے کی ہمت بھی نہیں ہوتی ہے۔ زینب کا قاتل پکڑا گیااور قصور کی دہرتی میں رہنے والے بہت سے بے قصوروں کیساتھ جبری زیادتیوں کی داستانیں میڈیا کی زینت بن گئیں۔ جنسی روحجانات میں اضافہ ہوا؟ یا میڈیا نے یہ واقعات اٹھانے شروع کردئیے؟۔ بہرحال مردان، مظفر گڑھ اور اٹک وغیرہ میں بھی واقعات ہوئے۔ کوئی بااثر شخص اپنی بیٹی کو جیل کی قیمت پر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے دے گا؟۔
رانا ثناء اللہ نے ڈاکٹر شاہد مسعود سے بالکل ٹھیک لہجہ سے کہا کہ اگر الزام ثابت نہ کرسکو تو یہ تمہارا آخری الزام ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے بینظیر بھٹو پر کارساز میں حملے کو پیپلزپارٹی کی اپنی سازش قرار دینے کی کوشش کی تھی، اور بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اس کی ذمہ داری زرداری ہی پر ڈال رہاتھا مگر پی ٹی وی کا چیئرمین بننے کے بعد خود زرداری کا خادم اور پیپلزپارٹی کا پرانا جیالا بتانا شروع کردیا۔ گندی اور بلیک میلنگ کی صحافت کرنیوالوں کو کھلے عام قرار واقعی سزا دی جائے تو زرد صحافت کا خاتمہ ہوگا۔ روزنامہ جنگ کراچی میں یہ شہہ سرخی لگی کہ ’’وزیرمذہبی امور حامد سعید کاظمی نے خود کرپشن کا اعتراف کرلیاہے‘‘۔ حامد سعید کاظمی اسی دن کی ٹاک شوز میں یہ حلفیہ بیان دے رہاتھا کہ اس نے پائی کی کرپشن بھی نہیں کی مگر حامد سعید کاظمی نے کئی برس جیل بھی کاٹی اور جرم بھی ثابت نہیں ہوا۔ اسکے برعکس نوازشریف نے پارلیمنٹ کے اندردستاویزی ثبوت لہرا کر دکھائے اور پڑھ کر سنائے مگر عدالت میں قطری خط آگیا، جیو اور جنگ نے نوازشریف کی صفائی میں سب نظر انداز کرکے یہ تأثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ فوج اور عدلیہ ہی نواز شریف کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ ریاست کے پاس اگر واقعی عدل کا پیمانہ ہوتا تو زرد صحافت اور حکومت سے اشتہارات کا حساب بھی لیا جاتا، قوم کا پیسہ اسلئے نہیں کہ حکمران اپنی کرپشن چھپانے کیلئے صحافیوں اور میڈیا چینلوں کو بھی خریدیں۔
چیف جسٹسوں کو چاہیے کہ قوم کو گمراہ کرنے والے صحافی و میڈیا چینلوں کا بھی ازخود نوٹس لیں۔ شاہ زیب خانزادہ نے جو صلاحیت نوزشریف و شہبازشریف کی حمایت میں لگائی، اس کی بنیاد پر وہ گدھے سے بھی کئی بالٹی دودھ نچوڑ لیتا۔ وہ نوازشریف اور شہباز شریف سے اتنا پوچھ لیتا کہ پارلیمنٹ میں بیان سیاسی تھایا قطری خط کیلئے معقول مقدمہ تھا تو مجھے کیوں نکالا کا جواب بھی مل جاتا۔ ن لیگ کے رہنماؤں کی طرف سے لندن فلیٹ کی ساری کلپوں کو چلا کر ایک صحافتی عدالت لگادیتے تب بھی یہ پتہ چل جاتا کہ نوازشریف کو کیوں نکالا گیا۔ جب میڈیا چینل کی طرف سے صحافت نہیں وکالت شروع کردی جائے تو یہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے علاوہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایسا صحافتی کاروبار بھی قانون کے اندر جائز نہیں بنتاہے اور قوم کی اخلاقی حالت ایسی زرد صحافت سے بالکل تباہ ہوجاتی ہے۔ سنسنی پھیلانے والے شاہد مسعود، جھوٹی مہم جوئی جیو کرنے والا جیو چینل ، پارلیمنٹ میں دروغ گوئی کرنے والا نوازشریف اور سفاکانہ انداز میں جبری جنسی زیادتی اور قتل کے مرتکب افراد کو قرارِ واقعی و کھلے عام سزا دی جائے تو قوم کی تقدیر بدل جائے۔