گستاخ آسیہ مسیح اور مذہبی وسیاسی قیادت کا شاخسانہ

382
0


پاکستان میں یہ قانون آئین کا حصہ ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی شان میں اگر کوئی گستاخی کریگا تو اسے سزائے موت دی جائے گی۔ریمنڈ ڈیوس نے اپنا نام مولانا تاج محمد ظاہر کرکے سی آئی اے کیلئے اپنی خدمات انجام دیں، جب وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو قتل کے بدلے قتل کا مقدمہ درج ہوا۔ سزا سے بچنے کیلئے دیت کے اسلامی قانون کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ آسیہ مسیح کو سیشن اور ہائیکورٹ سے سزائے موت سنائی گئی۔ پھر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیدیا کہ اس پر یہ کیس بنتا ہی نہیں ، جس کو قومی اخبارات میں شہہ سرخیوں سے شائع کیا گیا۔ وجہ اس کی یہی ہوسکتی تھی کہ اس کیلئے عالمی دباؤ کا سامنا کرنے کے بعد دیت کا کوئی قانون بھی لاگو نہیں کیا جاسکتا تھا، اگر سپریم کورٹ عمر قید کی سزا دیتی تو بھی اس پر زیادہ سخت ردِ عمل سامنے نہ آتا۔ تحریک لبیک کے قائدین نے عدالت کیساتھ آرمی چیف جنرل باجوہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مولانا سمیع الحق نے عدلیہ کے جج حضرات پر توہین رسالت کا مقدمہ چلانے اور ان کو لٹکانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے پہلے حکومت کے جعلی مینڈیٹ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اپوزیشن کی جماعتوں نے ساتھ نہیں دیا۔ پھر صدارتی امیدوار کے طور پر ایک کوشش کی لیکن ناکام رہے اور پھر آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے تحریک عدم اعتماد کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ اب حکومت کے خلاف آسیہ مسیح کیس کو آخری حربہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں لیکن اس میں بھی کامیابی مشکل ہے۔ جب شخ رشید نے پارلیمنٹ میں ختم نبوت کے خلاف سازش کا انکشاف کیا تھا تو وہ اس میں تنہاء تھے، پھر قافلے ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ آخر کار اسلام آباد دھرنے کے ذریعے اور ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کا حربہ کامیاب ہوا۔ اس وقت تو اے آر وائی کے سمیع ابراہیم، صابر شاکر اور حمید بھٹی اور شیخ رشیدو عمران خان اس جذبے کو اسلام کی تعلیمات قرار دے رہے تھے لیکن اس دفعہ جب حکومت نہیں اسٹیبلیشمنٹ نشانہ بن گئی تو پھر معاملے کو دوسرا رنگ دیا جانے لگا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے زرداری کے بعد نوازشریف کی بھی خوب خدمت کی لیکن جمہوری میدان میں اپنے ساتھ اس بارجماعت اسلامی کو بھی لے ڈوبے۔ خلافِ معمول جماعت اسلامی کی بدقسمتی تھی کہ تحریک انصاف کی صفوں سے نکل کر مولانا فضل الرحمن کے بغل میں بیٹھ گئی۔ اب دونوں کی سیاست کیساتھ ساتھ مذہب کی ٹھیکہ داری کا بھی سلسلہ ختم ہونے والا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کے نام سے اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ بن کر دھوکہ کیا۔ نوازشریف نے ایک میڈ اِن پاکستانی اسلام کے نام پر عوام کو دھوکے میں رکھا اور اب عمران خان نے ریاست مدینہ کے نام پر اسٹیبلشمنٹ کے تیسرے ایجنٹ کے طورپر عوامی نمائندگی کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے،پاکستان کی بقاء اسلامی نظام میں ہے اور جھوٹ کے اسلامی نظام سے کفر کا عادلانہ نظام بہتر ہے۔ کمیونزم اور کیپٹل ازم کے درمیان اسلام کا نظام ہی حقیقی اعتدال اور درست معنوں میں عدل ونصاف کا نظام ہے۔ دھوکے بازی کا سلسلہ زیادہ عرصہ تک جاری نہیں رہ سکتا ہے ، حقیقی انقلاب ناگزیر ہے۔