جمہوریت کی ناک چیئر مین سینٹ رضا ربانی

308
0

پہلی مرتبہ فوجی عدالتوں کا پارلیمنٹ سے توثیق کا معاملہ آیا تو پیپلزپارٹی رہنما سینٹر رضاربانی کی بھرائی ہوئی آواز کو بہت مقبولیت کا درجہ حاصل ہوا۔یہ مگر مچھ کے آنسو نہ تھے کہ رضا ربانی نے روتے ہوئے کہا کہ ’’میں پارٹی کی امانت سمجھ کر فوجی عدالت کے قیام کو ووٹ دے رہا ہوں‘‘۔ سینٹر رضا ربانی اپنی مقبول آواز کے ذریعے سے ہماری لولی لنگڑی، بہری اندھی اور موروثی گندی جمہوریت کی ناک بن گئے۔ قوم کو رضا ربانی پر بہت پیار آیا، ان کی عزت دوبالا ہوگئی۔ چیئرمین سینٹ کیلئے انکے نام کو ہی تقریباً بلامقابلہ پذیرائی مل گئی۔ جنرل راحیل شریف نے دفاعی تقریب کی رونمائی میں اپنے ساتھ بٹھاکر نمایاں حیثیت سے نوازنے میں بالکل بخل سے کام نہیں لیا۔
سینٹر رضاربانی ایک باکرداراور ایماندار شخصیت ہیں، نواز شریف نے سعیدالزمان صدیقی کو زرداری کے مقابلہ میں صدارتی امیدوار نامزد کیا ، اگر نوازشریف رفیق تارڑ کے بعد ممنون حسین کو صدر بنوانے کے بجائے محترم رضا ربانی کو صدر بنانے کیلئے نامزد کردیتے تو پاکستان میں جمہوری قدروں کو بہت تقویت مل جاتی۔ اگر پیپلزپارٹی پرویزمشرف کے دور میں جمالی اور شوکت عزیز کو موقع دینے کے بجائے متحدہ مجلس عمل کے مولانا فضل الرحمن کو وزیراعظم بنانے میں کردار ادا کرتی تو بھی جمہوریت کو استحکام ملتا، اسلئے کہ مولانا فضل الرحمن مشرف کے مقابلے میں پھر نوازلیگ اور پیپلزپارٹی کا بھی وزیراعظم بنتا ، جس نے دونوں پارٹی کے قائدین کو جلاوطنی پر مجبور کیا تھا۔ جب ن لیگ وعمران خان نے پیپلزپارٹی اورپرویز مشرف کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دیا تو کتنا اچھا ہوتا کہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن بھی نوازلیگ اور عمران خان کا ہی ساتھ دیتے؟۔کیا سیاسی کردار ہر دور میں جمہوریت کی ناک کٹوانے ہی کانام نہیں رہاہے؟۔
سینٹر رضاربانی نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ میری بزدلی تھی یا کوئی لالچ مگر فوجی عدالت کیلئے میرا ووٹ دینا میری غلطی تھی ، اب اس غلطی کو نہیں دہراؤں گا۔ اگر چیئرمین سینٹ رضا ربانی اعتراف کرلیں کہ بزدلی کا تو سوال ہی ختم ہوگیا ہے اور یہ کنفرم ہے کہ مجھے پہلے بھی اور آج بھی عہدے کی لالچ نے مجبور کیا کہ میں فوجی عدالت کے حق میں اپنا کردار اداکروں۔ تو بہت ہی بہتر ہوگا۔ جب پہلے رضاربانی ایک ووٹ نہ بھی دیتے تو فرق نہیں پڑتا تھا، جاوید ہاشمی نے بھی پرویز مشرف کے ہاتھوں حلف اٹھانے سے انکار کیا ۔ ہاشمی کی قیادت ضیاء نواز تھی ، رضا ربانی جمہوریت کی ناک مگر کٹ گئی ۔ مولانا فضل الرحمٰن اقتدار کیلئے زرداری کاساتھ نہ دیتے ،نوازشریف و عمران خان کے احسان کا بدلہ اتارتے تو اقتدار کی جوتی نہیں جمہوریت کے تاجدار بنتے،شرم و حیاء کھوگئی ہے،اب پنجاب کے شیروں سے پختونخواہ کے چوہوں کی بات میں جوش اور ہوش سے بات آگئے نکل گئی۔