موٹر وے کو ڈاکٹر ادیب رضوی کے نام پر انکی زندگی میں منسوب کیا جائے، عتیق گیلانی

415
0

dr-adeeb-ul-hassan-rizvi-dr-ruth-fao-motorway-pakistan-gorkan-namaz-e-janaza-sahafat-najashi

جرمن نژاد پاکستانی ڈاکٹر رُوتھ فاؤ حقیقی خالق سے جاملیں، آنجہانی کو قومی قیادت آرمی اورسول نے قومی اعزاز کیساتھ دفن کیا،21 توپوں کی سلامی سے قومی قیادت نے پوری قوم اور پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا کہ کس طرح انسانیت کی قدردان ایک غیر ملکی نژاد پاکستانی کو قومی اعزاز سے نوازاگیا۔ جب اکثریت کو انا للہ وانا الیہ راجعون کا معنی معلوم نہ ہو ’’بیشک ہم اللہ کیلئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘۔جہالت سے تعصب کی فضاء بنتی ہے۔ نبیﷺ نے مسلمانوں کے محسن حبشہ کے بادشاہ نجاشی کا غائبانہ جنازہ پڑھایا۔ اللہ نے قرآن میں تمام مذہبی عباتگاہوں کے تحفظ کی بات فرمائی ہے بلکہ پہلے یہودو نصاری اور مجوسیوں کی عبادتگاہوں کی فہرست پھر آخر میں مساجد کا ذکر کیا۔ سب کیلئے اس اعزاز کا بھی ذکر کیا کہ ان میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتاہے۔ دنیا میں کرکٹ، فٹ بال اوردوسری ٹیمیں رہیں گی تو مقابلہ اور مسابقت ہوسکے گا ، مذاہب باقی ہونگے تو اللہ کی اطاعت کا حق ادا کرنے اور انسانیت کیلئے مسابقت ہوسکے گی۔
نبیﷺ کی سنت پر عمل ہوتا توڈاکٹر روتھ کا پاکستان اور دنیا بھرمیں مسلمان غائبانہ جنازہ پڑھتے۔ قرآن و سنت میں مذہبی تعصب یہود ونصاریٰ شدت پسند مذہبی گروہوں کا شیوہ تھا۔ جنکے نقشِ قدم پر اب مسلمان چل پڑے ہیں۔
ان الذین امنوا والذین ہادوا والنصریٰ والصٰبئین من امن باللہ والیوم الآخرۃ و عمل صالحا فلہم اجرھم عند ربھم ولاخوف علیہم ولاہم یحزنونO (البقرہ:62)بیشک جو مسلمان ہیں، یہودی، نصاریٰ اور صابی ہیں جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور اچھے عمل کرتے ہیں ان کو انکا اجر ملے گا ،ان پر خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔اللہ نے کہا ہے کہ ’’جس نے ذرہ برابر خیر کیا تو وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر شر کیا تو اس کو دیکھ لے گا‘‘۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ہم اپنی شناخت مسلمان اور پاکستانی رکھیں تو بدامنی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس بیان کو انہوں نے غلط رنگ دیاجو اسی لئے پاکستان ہجرت کرکے آئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ مسلمان فرقوں اور مذاہب سے نفرت نہیں کرتا۔ الدین النصیحۃ’’دین خیر خواہی کا نام ہے‘‘۔ پاکستانی شناخت مذہبی ولسانی منافرت کو بالکل ختم کردیتا ہے۔

dr-adeeb-ul-hassan-rizvi-dr-ruth-fao-motorway-pakistan-gorkan-namaz-e-janaza-sahafat-najashi-2

ڈان نیوز کے پروگرام ’’ ذرا… ہٹ کے‘‘ میں صحافت کا حق ادا ہوتاہے۔ ڈی جی رینجرز لیفٹنٹ جنرل محمد سعید کے بیان پر تنقید اور ایک متوازن تبصرہ کیا گیا۔ وسعت اللہ خان بڑے سیکولر صحافی ہیں مگر عقیدت کے لائق لگتے ہیں، اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جو بھی مخلص لگتا ہواس کی قدر ومنزلت ہونی چاہیے۔ صحافت بڑا مقدس پیشہ ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کوئٹہ بار سے خطاب میں کہا تھا کہ ’’ ایک وہ طبقہ ہے جو اس قابل بھی نہیں جس کا نام زباں پر لاؤں‘‘۔ جس پر ’’ذرا…ہٹ کے‘‘ میں جاندار طریقہ پر تنقید ہوئی۔کافی سارے ہندؤں کے نام لئے جنہوں نے مختلف شعبوں میں عظیم خدمات دی تھیں۔ خاص طورپر رانا بھگوان داس کی عدلیہ کیلئے بڑی خدمات تھیں۔ کوئی شک نہیں کہ رانا بھگوان داس جیسا چیف جسٹس ثاقب نثار بھی نہیں۔ نوازشریف کیخلاف بینچ میں بیٹھناچیف جسٹس نے مناسب نہ سمجھا۔ رانا بھگوان داس ہوتے تو عمران خان کے خلاف بھی نہ بیٹھتے۔
صحافت کی آزادی ضروری ہے لیکن باطل افواہوں کا تعاقب بھی لازم ہے۔ ایک طرف بینظیر بھٹو کو شہید کرنے میں زرداری رحمن ملک اور ناہیدصفدر عباسی کو ملوث کیا جاتاہے دوسری طرف فوج کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتاہے۔ بہت غلط طرزِ عمل ہے، ڈاکٹر شاہد مسعودکہے کہ عذیر بلوچ کو کسی نے پوچھاہے؟۔ اگر وہ پی ٹی وی کا چیئرمین نہ بنتا تو زرداری کو بینظیر کا قاتل ثابت کرتا۔ صحافیوں کا یہ گندہ ٹولہ ٹھیک بات بھی کہے تو غلط لگتی ہے، چاپلوسی سے یہ خود کو بدنام کرچکے ہیں۔ جن صحافیوں کو قابلِ اعتبار سمجھا جاتاہے ان کو حقائق بیان کرنا ہونگے۔
برما میں طویل عرصہ فوجی حکومت رہی اور اگر مجاہدین کاروائی نہ کرتے تو بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری ، جبری جنسی زیادتی اور ملک بدری کا اس طرح سے سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بلوچ پختون اور مہاجر نے بھی اپنے پیاروں کا صلہ اپنے اپنے حساب سے پایا ہے۔ عالمی قوتوں نے پاکستان میں اپنے پیاروں کا صلہ دینا ہے ، زرداری مجرم سہی مگر الزام کی مد میں 11سال کی سزا کاٹ چکا ہے۔ نواز شریف اقرار جرم ، آزادانہ ٹرائل اور سب ثابت ہونے کے بعد بھی سپریم کورٹ کے ججوں کوہی نا اہل قرار دیتا ہے۔ سازش یہ نہیں جو نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ پنجابی مافیا اپنے اثاثوں کے چکر میں پاکستان کی اقلیتی صوبوں کو سازش کے نتیجے میں باغیانہ اور احساس کمتری کی سوچ تک لے گئی ۔ بینظیر بھٹو کا باپ پھانسی پر چڑھا اور اس کا بھائی قتل ہوا ، اسکی حکومت ختم کی گئی پھر بھی جیل اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگل کا قانون شیر کو اس وقت یاد آیا جب نا اہلی کے علاوہ سپریم کورٹ کے پاس چارہ نہ تھا۔ وہ اپنا منہ کالا کرتا یا ن لیگ کو نا اہل لیگ قرار دیتا مگر نواز شریف کو پھر 70سال بعد نئے جنم سے جو انسانیت کی عدالت یاد آگئی اس میں بھی عوام کو دہائی دی گئی کہ میں نے فیصلہ مانا تم نہ مانو۔
ڈاکٹر ادیب رضوی ایک قومی ہیرو ہیں ان کی زندگی میں پاکستان کی موٹروے کو انکے نام سے منسوب کیا جائے،قومی قیادت انکی لاش پر گورکن کی طرح نہ آئے۔ زندہ قومیں زندوں کی قدر کرتی ہیں، مُردوں کی پوچا نہیں۔ عتیق