ڈاکٹر طاہر القادری کو مشورہ اور بیان پر تبصرہ: ڈاکٹرسید وقار شاہ

849
0

تم شیخ الاسلام کہلاتے ہو، عتیق گیلانی کی کتابیں ’’ ابررحمت‘‘ اور ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ کو پڑھ کر تصدیق یا تردید کمال ہوگا

پدو مارناپنجاب کی عام روایت ہے لیکن شعور بیدار ہوتا تو پیروں فقیروں سے سیاسی لیڈروں تک لتھڑی شلوار وں کو کم از کم پہچانتے

قادری!شریف برادری پر بھارت کے کھلے ایجنٹ کا الزام لگا کر پاک فوج کے ذمہ داروں پر کالک مل رہے ہو؟۔ڈاکٹر وقار حیدر

ڈاکٹرطاہرالقادری عجیب الخلقت قسم کا جانور لگتاہے، اپنے کرنے کا کام وہ کرتا نہیں، شیخ الاسلام ہو تو عتیق گیلانی کی طلاق سے متعلق تحقیق کی تصدیق یا تردید کردیتا، علماء کی دنیا میں نام کماتا، عوام کا امام بن جاتا۔ یہ انکے کرنے کا اصل کام تھامگر اس پر کان نہیں ہلاتا ہے، سیاست اسکے بس کی بات نہیں، جان سے بڑاعزت کا معاملہ ہے حلالہ کے نام پر عزتیں لٹ رہی ہیں، قرآن و سنت کیخلاف فتویٰ سازی کی فیکٹریوں سے کیا گھر تباہ کرنا ، خاندانوں کو اجاڑنا، بچے خوار کرنا قرآن اوراسلام کا وظیفہ ہوسکتاہے؟۔
اگر شریف برادران ’’را‘‘ کے ایسے کھلم کھلا ایجنٹ ہیں تو یہ تم جنرل راحیل، ڈی جی آئی ایس آئی اور فوج کے منہ پر کالک مَلرہے ہو۔ہمارے ادارے اس قدر نااہل اور احمق بھی نہیں کہ جوڈاکٹر طاہرالقادری سمجھ رہا ہے۔ میڈیا میں بیٹھے بہت سے وہ صحافی جن کو صحافت کرنا زیب نہیں دیتی ہے، گھوڑوں کو دیسی طریقہ سے خصی کرنے والے کو سلوتری کہا جاتا تھا، یہ لوگ گدھوں کے سلوتری لگتے ہیں۔
جب ڈاکٹر طاہرالقادری پہلی مرتبہ کنٹینر سجاکر اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنا دیکر بیٹھ گئے تو شیر خواہ بچے بارش اور سخت ٹھنڈ میں بدحال تھے، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے صاحبزادے اور برقعہ پوش جواں صاحبزادی دندناتے ہوئے ٹھنڈ پروف کنٹینر میں گھوم رہے تھے، یزید کے سامنے یہ نہیں ہوا تھا کہ کربلا میں بچے سامنے پیاس سے مررہے ہوں، یا سردی گرمی سے بدحال ہوں، اس شخص نے پوری قوم ، میڈیا کے سامنے جس بے غیرتی کا مظاہرہ کیا تھا اس پر آسمان کے فرشتے اور دنیا کے سمجھدار انسان کتنا افسوس کا اظہار کرتے ہونگے؟۔ جن غریبوں نے کبھی اسلام آباد دیکھا نہ تھا، ا نکے بچے کربلا کے نام پر قربان ہونے کیلئے سردی میں کنٹینر کے سامنے مررہے تھے، کھانے کو فاسٹ فوڈ مل رہا تھا تو غریب سمجھ رہے تھے کہ بلا کی سردی میں یہاں کھانے کایہ مزہ تو جنت کی طرف کوچ کرنے میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اپنی خطابت سے انکے جذبات سے کھیل رہے تھے، یزید کے لشکر میں ایک’’ حر‘‘ سپہ سالار تھا لیکن قادری کے کنٹینر سے کسی ایک کی آواز نہیں آئی کہ اپنے جوان بچے محفوظ اور غریب کے شیر کوار بچے سردی اور بارش میں بدحال ہیں، اس وقت عامر فرید کوریجہ اتنا سوچ لیتے مگر پنجاب اور پاکستان کی عوام میں شعور کا فقدان ہے۔
اس وقت جس انقلاب کی بات ہورہی تھی، اس میں تحریکِ قصاص کا نام لینے کی گنجائش نہ تھی، اس وقت طالبان کا اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ تھا، خرم نواز گنڈہ پور وزیرستان کے ان علاقوں میں کھلے عام گھوم رہے تھے جن میں طالبان اور سیکورٹی ایجنسیوں کا مشترکہ راج تھا، جہاں وزیرستان کے اپنے باشندے بھی نہ جاسکتے تھے، اور خرم نواز طالبان کو فرشتہ صفت کہتے تھے، ڈاکٹر طاہرالقادری کا کردار یہ تھا کہ نیٹو نے مل کرکتوں کے ریلے کی طرح جب طالبان پر حملہ کیا تو مسلکی تعصب کی بنیادپر ریلے کیلئے کتیا کا کردار ادا کرتے ہوئے مظلوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا اور ان پر کتاب لکھ کر فتویٰ لگادیا کہ ’’یہ خوارج اور قتل کے قابل ہیں‘‘۔ نیٹو نے پھر عراق، لیبیاوغیرہ کو بھی تباہ کردیا، حالانکہ طاہرالقادری کو اتحادامت کا داعی ہونے کی وجہ سے اپنے مسلک والوں نے باہر کیا تھا۔یہ تو غلط کہتا ہے کہ ’’ بارود والے نہیں درود والے ہیں‘‘ کبھی درود وسلام کی آواز انکے کنٹینر سے آئی؟، خود کو پہلی مرتبہ آمدپرطالبان کا بھائی کہا تھا۔ یہ توسیاسی رقص وسرودوالے ہیں۔اسلام آباد میں لاؤڈ اسپیکر خراب کرکے اپنے فسٹ کزن کے راگ ورنگ والے کنٹینر میں پہنچ گیا تھا، یہ پولیس کی پٹائی لگوارہا تھا، اور عمران خان پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی سرِ عام دھمکی دے رہا تھا۔
جسطرح ایک پولیس افسر کی پٹائی لگائی گئی اور میڈیا نے اس کو کوریج بھی دی ،اگر نوازشریف اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں غیرت ہوتی تو حکومت بچانے کے بجائے ڈاکٹر طاہر القادری کو اسی طرح میڈیا کے سامنے اسی پولیس افسر کی سرکردگی میں ان پولیس اہلکاروں سے پٹوادیتے جن کو اسلام آباد ائرپورٹ میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان بے غیرتوں کو گھر کے احتجاج پر طیش آتا ہے لیکن پولیس افسر کی توہین اور تشدد کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ میرا اپنا تعلق بھی سیالکوٹ سے ہے اور مجھے پنجاب کے بے شعور عوام پر ترس آتا ہے جن کو پیروں فقیروں سے لیکر سیاسی اور مذہبی لیڈروں تک سب بیوقوف بناتے ہیں،سرِ عام پدو مارنا تو عام سی بات ہے لیکن دھوتی ، شلوار اور پینٹ بھی گُو سے لتھڑی ہو تو کسی کو بدبو کا پتہ کیوں نہیں چلتا ہے؟۔ کئی دنوں سے مسلسل بک بک ہورہی ہے کہ ہمارے پاس سرکاری دستاویزی ثبوت ہیں کہ نوازشریف اور اسکا اتحادی را کا ایجنٹ اور اسکے پیرول پر ہے۔ پیرول پر ہونے کیلئے تو ضروری ہے کہ کوئی کسی کی کسٹڈی میں ہو اور اس کو وقتی طور سے چھوڑ دیا جائے، جب محمود خان اچکزئی بھارت کی کسٹڈی میں بھی نہیں تو پیرول پر کیسے ہوسکتا ہے؟۔ البتہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے پاس بیرون ملک کی نیشنلٹی ہے اور یہ نیشنلٹی کس لئے دی گئی؟، ان سے یہاں فرقہ وارانہ فسادات کا کوئی نیا دور شروع کرانے کا پروگرام تو نہیں؟۔
ڈاکٹر عاصم حسین سے متعلق اقرارِ جرم کے بہت سے شواہد اور دستاویزی ثبوت کی باتیں کی گئیں اور اب شاہ زیب خانزادہ نے کسی کی تحقیق منظرِ عام پر لائی ہے کہ جن دہشت گردوں کے علاج کا معاملہ اٹھاکر بڑے بڑے مقدمات بنائے گئے، جن میں نامی گرامی لوگ شامل ہیں، ضیاء الدین ہسپتال سے ان لوگوں کے نام نکلوائے گئے تو وہ سب کے سب شریف شہری ہیں، ان میں سے کوئی بھی دہشت گرد نہیں اور نہ انمیں سے کسی کو پتہ ہے کہ ان کی بنیاد پر مقدمات قائم کئے گئے ہیں، رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ آپ نے رابطہ کیا ہے اس سے پہلے اس سلسلہ میں کچھ بھی پتہ نہیں۔ اگر ریاست میں اتنے بڑے بڑے کام واقعی غلط طریقے سے ہوں تو یہ ملک شعور کا تقاضہ کرتا ہے، شعور سے انقلاب آسکتا ہے، اداروں، حکومت اور لیڈر شپ کے کردار کو بدلنا ہوگا۔