Home اہم خبریں جنرل راحیل شریف ایک زبردست جرنیل؟

جنرل راحیل شریف ایک زبردست جرنیل؟

298
0

میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے قائدین سے یہ تأثر مل رہاہے کہ جنرل راحیل کے جانے کا وقت بالکل قریب میں ٹھہرگیاہے لیکن پاک فوج نے ان کی قیادت میں جو مثالی کردار اداکیا ہے، پوری قوم پر احسان کا فرض چکانے کا وقت آگیاہے،جنرل راحیل شریف نہ ہوتے تو نوازشریف کیا عمران خان کے وزیراعظم کی باری لگتی تب بھی دہشت گردی سیچھٹکارا نہ ملتا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت محترمہ بے نظیربھٹو شہید اور اے این پی کے رہنماؤں کی قربانیوں کو خراج تحسین نہ پیش کرنا بڑی زیادتی ہے، ایم کیوایم نے بھی طالبان کیخلاف جو جاندارآواز اٹھائی تھی وہ بھی قابلِ ستائش تھی مگر کراچی میں ایم کیوایم کا ٹارگٹ کلر ونگ اور پیپلز پارٹی کی امن کمیٹی نے طالبان سے زیادہ بدامنی پھیلانے کا ارتکاب کیا، کورٹ نے سارے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے مسلح ونگ اور بھتہ خور مافیہ کی ٹھیک نشاندہی کی ۔
بلوچستان میں دہشت گردی کو عالمی اور بھارتی سپورٹ کے علاوہ مسلم لیگ ن سمیت سیاسی جماعتوں اور سول سوساٹیز کے نام پر این جی اوز کی حمایت بھی حاصل رہی، حالانکہ وہاں آزادی کے نام پر سیاسی جدوجہدکے بجائے بدترین قسم کی دہشت گردی ہورہی تھی۔ پورے ملک میں ہرقسم کی دہشت گردی کو پاک فوج نے جنرل راحیل کی قیادت میں بہت جرأت، بہادری اور حکمت کیساتھ سے ختم کرکے سیاستدانوں کیلئے ایک بہترین فضاء بنائی ہے لیکن دہشت گردوں نے وقتی طور سے چپ کی سادھ لی ہے، فوج کی طرف سے باگ ڈھیلی ہونے کی دیر ہے، یہ پھر اسی زور وشور سے پاکستان کو دیمک زدہ بناکر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے چکر میں ہیں، نوازشریف اور مودی عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر پاکستان اور بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے نظر آتے ہیں۔ آج اعلان ہوجائے کہ کشمیر الگ ملک ہے، پختون ، بلوچ ، سندھ، کراچی اور پنجاب الگ الگ ممالک ہیں تو نوازشریف کو اور نوازشریف کے کھلم کھلا اور درپردہ یاروں کو بڑی خوشی ہوگی۔ مودی بھارتی پنجاب کے سکھوں سے عالمی ایجنڈے کے تحت جان چھڑانے کی کوشش میں ہے اور نوازشریف نے مغل بادشاہوں اور راجہ رنجیت سنگھ کے طرز پر گریٹر پنجاب کا خوب دیکھ رکھا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ سیاستدانوں نے پاک فوج کو بھی کرپشن کا شہد چٹا دیاہے ، سیاستدانوں کی طرح فوج بھی کرپشن سے پاک نہیں لیکن فوج کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر ہے، فوج کی تربیت پاکستانی سرحدات کی حفاظت اور حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہوکر کی گئی ہے، پنجاب کے لوگوں میں سب سے بڑی خوبی جمود کا شکار نہ ہوناہے مگر ان کی سب سے بڑی خامی پیسیوں کی ریل پیل کا انکے سر پر سوار ہوناہے۔ ہر وقت ایک ہی دھن کہ پیسہ کیسے کمایا جائے؟۔ یہ لالچ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کو ایک کرکے عالمی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ مودی انتہاپسند ہندو ہے وہ پنجاب کے کم عقل سکھوں اور پاکستانی فوج سے جان چھڑانے کیلئے یہ قربانی دینے کا جذبہ رکھتاہے۔ محب وطن بھارتی رہنما لالوپرشادیو نے بیان دیا کہ ’’ کشمیر ہاتھ سے نکل رہا ہے‘‘۔ تو میڈیا پر ایک جھلک کے بعد یہ خبر غائب کردی گئی۔ میڈیا زرخرید لونڈی جیسی حیثیت رکھتا ہے جس کی کھائے اس کی گائے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات اب نہ رہی۔ میڈیا کا مالک سودابازی یا اپنے عزائم کی تکمیل کی پالیسی بنالیتاہے، ملازمین کو اس کی خواہش کے مطابق چلنا پڑتاہے۔ سیاسی جماعتیں بھی سیاست نہیں تجارت کرتی ہیں۔
جب پاک فوج کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی تھی، تب بھی ہم نے بفضل تعالیٰ اپنا فرض پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے، اخبار کے ادارئیے ، بڑی شہ سرخیاں اورآرٹیکل اسکے گواہ ہیں، طاقت کے حصول کیلئے دم ہلانے والے سیاستدان کتوں سے زیادہ برے لگتے ہیں لیکن اب حب الوطنی کا یہ تقاضہ ہے کہ کرپٹ، تاجر، ضمیر فروش ، اخلاقی دیوالیہ پن کے شکار اور اسلام و ملک سے بے وفائی کرنے والے حکمرانوں کو بے نقاب کیا جائے۔ عمران خان نے جو الفاظ شیخ رشید کیلئے استعمال کئے تھے ، اس سے زیادہ عمران خان خود بھی برے ہیں مگر اس وقت ان کی آواز سب سیاستدانوں کے مقابلہ زبردست ہے، کراچی وسندھ سے ایم کیوایم و پیپلزپارٹی ، بلوچستان سے بلوچ رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور مولانا محمد خان شیرانی کی صوبائی جمعیت اور پختونخواہ سے مولانا فضل الرحمن و اے این پی کے رہنما قومی سطح کے معاملات کرپشن اور بے انصافی پراگر اس اہم وقت میں نوازشریف پر دباؤ بڑھانے کیلئے اٹھ جاتے تو دوسرے صوبوں کی طرح پنجاب کو بھی غنڈہ گردی سے پاک کردیا جاتا، اصغر خان کیس کے جرم میں مجرموں کو سزا ہوجاتی، جنرل پرویز اشفاق کیانی کی طرح جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ہوتی تو اس ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہوجاتی ۔ نوازشریف نے پہلے بھی دھوکے دئیے ہیں اور مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا ہے۔مسلم لیگ(ن) کیلئے بھی جنرل راحیل ایک بہترین جرنیل ہیں جو حکومت کیخلاف سازش نہیں کرتے لیکن نوازشریف کو اپنے لئے ایک تابعدار جنرل کی ضرورت ہے گر یہ خواہش پوری ہوئی تو بہت برا ہوگا۔