جانِ استقبال ارضِ پاکستان ہے مگر کیسے؟

370
0

یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز، پوری دنیا میں خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام یہاں سے ہوگا۔
جیو ٹی چینل نے طلاق کے مسئلہ پر پاکستان کی سپریم کورٹ کا اہم ترین فیصلہ کیوں نہ اٹھایا؟
بھارت کے موذی سرکار سے جیو کی کیا دوستی ہے کہ جو سازش وہاں تیار ہوئی یہاں اٹھائی گئی
اس خلافت کی خوشخبری نبیﷺ نے دی ہے جس سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے

پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا ہے اور اسلام کے نفاذ میں ہی اس کی بقاء ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات نکاح و طلاق سے لیکر بین الاقوامی دنیا کے ساتھ معاملات کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے۔ اسلام کی ریاست مدینہ منورہ میں پہلی مرتبہ قائم ہوئی تھی جس میں وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے انمٹ دستور واضح ہیں، یہود و منافقین اور مشرکین مکہ سے بڑھ کر اسلام دشمن کون ہوسکتے ہیں؟۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے ریاست کے داخلی اور خارجی اُمور پوری دنیا کے سامنے اُسوۂ حسنہ کا بہترین نمونہ پیش کرکے رکھ دئیے۔ کوئی گمراہ فرقہ یا منافقت کرنے والا کتنا بھی اپنے حدود سے تجاوز کرے لیکن رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی اور اسکے ساتھیوں تک نہیں پہنچ سکتا اور مشرکین مکہ و یہود مدینہ سے بڑھ کر کسی ریاست میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺسے دشمنی کا تصور نہیں ہوسکتا ہے۔
جب حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حالات اس قدر بگڑے کہ عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرامؓ حضرت علیؓ ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ نے بھی ایکدوسرے کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا اور ہزاروں مسلمانوں سمیت ان کو بھی ان فتنوں کی وجہ سے شہید ہونا پڑا ، تو حضرت امام حسنؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خوشخبری کے مطابق کردار ادا کیا اور مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائی۔ آ ج ہمارے پاس قرآن کے الفاظ کے علاوہ ایسا کچھ بھی نہیں کہ اس دور میں اُمت مسلمہ کے اندر بے پناہ منافرتوں کو ختم کرسکیں۔ پاک فوج کا کام سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے لیکن پوری قوم امریکہ کے بدترین کردار کے سبب آپس میں تقسیم ہوکر قتل و غارت گری کا شکار ہوئی۔ جب پاک فوج کی موجودہ قیادت نے کمان سنبھالی تو طاقت کے زور سے مختلف قسم کے دہشت گردوں کی لگائی آگ کو بجھانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ جنرل راحیل شریف نے کشمیر کو تقسیم ہند کا نا مکمل ایجنڈا قرار دیا تو اللہ نے کشمیر کی آزادی کیلئے مقبوضہ کشمیر کی عوام کو اٹھایا۔ مودی نے موذی بن کر مختلف طریقے سے حملے شروع کردئیے۔ اب یہ وار کردیا کہ ’’سرکار کی مدعیت میں تین طلاق اور حلالہ ‘‘ کے حوالے سے ایشو اٹھایا تاکہ پاکستان میں اس حوالے سے بیداری کی لہر کو دبانے میں اپنے دوستوں کی مدد ہوسکے۔ یاد رہے کہ تین طلاق کے مسئلے پر بھارت میں بہت پہلے دیوبندی ، بریلوی، جماعت اسلامی اور اہل حدیث کے بڑے اکابر نے 70 کی دہائی میں بڑا سیمینار منعقد کیا تھاجس کی روداد تین طلاق کے حوالے سے پاکستان میں بھی ایک کتاب کی صورت میں شائع ہوئی ہے۔
پاکستان کے بڑے مدارس میں بڑے علماء کرام اور مفتیان عظام کی طرف سے تین طلاق کے مسئلے کو حل کرنے پر مثبت ردِ عمل ملا ہے۔ سورۂ طلاق میں نبی ﷺ کو مخاطب کرکے عوام کو طلاق کے احکام بتائے گئے ۔ اس طرح سورۂ احزاب میں نبی ﷺ کو مخاطب کرکے علماء کو سمجھایا گیا ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں کافروں ،منافقوں کی اتباع نہ کرو۔ جو حکم اللہ نے تیری طرف نازل کیا ہے اسی کا اتباع کریں۔ مدارس کا نصاب مغلیہ دور سے پہلے نہ تھا۔ درس نظامی کسی مولوی نظام کی طرف منسوب ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے صاحبزادوں کے شاگرد حضرت مولانا فضل حق خیر آبادیؒ اور حضرت شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ میں علمی اختلاف تھا جس کی وجہ سے بریلوی دیوبندی اختلافات وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے گئے۔ مولانا فضل حق خیر آبادی ؒ نے انگریز کے سامنے بہت جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرکے کالے پانی کی سزا میں اپنی جان کی بازی جیتی اور شاہ اسماعیل شہیدؒ نے بھی خلافت کے قیام کی کوشش میں راجا رنجیت سنگھ کے جابر سپاہیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کی۔ آج یہ دونوں طبقے عالمی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مقامی طور پر درست کردار ادا کرتے ہوئے ایک اور نیک ہوسکتے ہیں، دونوں مکتبہ فکر کے مدارس کا نصاب ایک ہے اور اس نصاب کو درست کرنے میں زیادہ وقت بھی نہ لگے گا۔ اللہ نہ کرے کہ پاکستان بھی افغانستان ، عراق ، لیبیا ، یمن، شام اور دیگر ممالک کی طرح فتنوں کا شکار ہوں۔ذیل کے نقشہ میں اہلسنت کا موقف ہے ،اہل تشیع کے علامہ طالب جوہری نے بھی سید گیلانی کا ذکر پیشگوئی میں کیا ہے۔