3: غلامی سے چھٹکاراکے ذرائع اور محرکات

430
0

عالمی اسلامی جمہوری منشور کے اہم نکات
3: غلامی سے چھٹکاراکے ذرائع اور محرکات
عبد کا لفظ بندگی کیلئے بھی ہے اور غلامی کیلئے بھی۔اسلام نے عالم انسانیت کو روحانی طور پر جھوٹے معبودوں کی غلامی سے نجات دلادی تو دوسری طرف انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر آزادی کی نعمت عطاء کردی ۔ صحابہؓ نے اپنا نصب العین بتادیا کہ لنخرج العباد من عبادۃ العبادالی رب العباد ’’ہمارا کام یہ ہے کہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالیں ربّ کی غلامی کی طرف لائیں‘‘۔ رسول اللہﷺ نے اپنے غلام کو بیٹا قرار دیا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابیؓ کا نام عبدالکعبہ تھا تو تبدیل کردیا۔ انسان تو انسان اللہ کے گھر بیت اللہ کی بھی غلامی اور عبادت جائز نہیں۔یہ حقیقت تھی کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد غلامی کی زندگی گزاررہی تھی۔ اسلام نے بتدریج ماحول بدل ڈالا۔ زمین کی مزارعت ختم کردی ۔ جس دین میں مزارعت جائز نہ ہو اس میں غلامی کا جواز کہاں رہتاہے۔ سود کو اللہ اور اسکے رسول کیساتھ اعلانِ جنگ قرار دیا، سود میں انسان کی گردن کو مالی بوجھ میں جکڑا جاتا ہے۔ مسلمانوں پر اموال وفصل میں غریبوں کیلئے عشروزکوٰۃ اور غیرمسلم رعایا پر خراج وٹیکس تھا۔ حاکموں کو رعایا کیلئے مالک نہیں خادم بنایا گیا۔ نبیﷺ نے سیدالقوم خادمھم کے الفاظ متعارف کروائے تاکہ سفر کی حالت میں کوئی اپنی امارت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ ایک صحابیؓ نے غصہ میں آکر لکڑیاں جمع کرکے آگ لگانے کے بعد اس میں کودنے کا حکم دیا لیکن صحابہؓ نے کہا کہ ’’ہم نے کودنے کیلئے نہیں آگ سے بچنے کیلئے اسلام قبول کیا ہے‘‘۔ مسلمانوں کی مساجد، بازاروں اور عوام کے درمیان بارودی جیکٹ میں پھٹنے والوں کی رگ رگ میں خوئے غلامی نہ سمائی ہوتی تو اپنے امیر کے غلط حکم کو کبھی نہ مانتے۔جس معاشرے میں غریب کی بیٹی کیساتھ زبردستی سے اجتماعی زیادتی ہو اور اس کا مداوا نہ ہوتو یہ اس سے زیادہ قابلِ افسوس ہے کہ کوئی بے گناہ خودکش حملے کی زد میں آئے۔ شہادت تو مطلوب و مقصود مؤمن ہے، حادثاتی موت کا شکار ہونیوالے شہید کی منزل پالیں تو اس سے بڑی کیا خوش قسمتی ہے لیکن جنسی زیادتی کا شکار ہوناکوئی ایسی قربانی نہیں جس پر فخر یا صبر کیا جاسکے۔ مردوں کی غلامی سے بدتر لونڈی بنانے کا نظام تھا۔ پنجرے میں پالے ہوئے پرندوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ بے گھر ہوکر بھوک سے بھی مرجائیں گے، انسانوں کو بھی دورِ جاہلیت میں غلامی کے بندھن سے نکالنے کی بتدریج ضرورت تھی،اسلام نے وہی کیا لیکن افسوس کہ ہم نے پھر خواتین کو لونڈی کی طرح جکڑا، مزارعت و سودی نظام کو پھر سے شروع کیا۔جس طرح آج کے دور میں سودی نظام کو اسلام کی شلوار پہنائی گئی ۔ اسی طرح سے مزارعت کو اسلام کی روح کے خلاف جواز بخشا گیا تھا۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام شافعیؒ ، امام مالکؒ متفق تھے کہ مزارعت سود اور ناجائز ہے ، احادیث میں مزارعت کوسود و ناجائز قرار دیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’جو مرد کمائیں وہ مردوں کا حصہ ہے اور جو عورتیں کمائیں وہ عورتوں کا حصہ ہے‘‘۔ مزارعین خاندان کے خاندان غلام ہیں۔ قرآن و حدیث اور ائمہ مجتہدین کے بعد کونسے علماء نے اجتہاد کیا کہ ’’مزارعین سے ان کی محنت کی کمائی چھین لی جائے؟‘‘۔ اجتہاد کا دروازہ بھی بند تھا اور یہ قرآن وسنت کے مقابلے میں کوئی اجتہاد تھا یا دین میں تحریف کا ارتکاب تھا ؟۔ جیسے آج سودی نظام کو جواز پیش کرنے کا خود ساختہ حیلہ بنایا گیا ہے۔
ناجائز اختیار کی شکل میں حکمرانی، ناجائز منافع خوری کی شکل میں سرمایہ داری ، ناجائز مزارعت کی شکل میں جاگیرداری نے دنیا میں غلامی کے نت نئے ماڈل تیار کرلئے ہیں۔ خواتین کے حقوق غصب کرکے گھر کی لونڈی سے بدتر حالت پر پہنچادیا ہے۔ خواتین سے جبری زیادتی کو دنیا کا ہر شخص بہت برا سمجھتا ہے مگر اسکے عوامل اور وجوہات کو سمجھنے کیلئے تھوڑے سے معروضی حقائق کو بھی دیکھنا پڑیگا۔ جب تک اس بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائیں گے تو اس سے دنیا کو نجات بھی کبھی نہیں مل سکے گی۔
جنسی میلان انسانی فطرت ہے۔ عربی میں شجرہ درخت کو کہتے ہیں، شجرۂ نسب پشت درپشت سلسلہ نسب کو کہتے ہیں۔ انسانی شجرۂ نسب حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء علیہا السلام تک پہنچتا ہے۔ حضرت ہابیل اور قابیل حضرت آدم ؑ کے بیٹے تھے۔ بڑا بیٹا قابیل ناخلف ، نافرمان اور سرکش تھا، اس نے ناجائز جنسی میلان کی وجہ سے چھوٹے بھائی حضرت ہابیل ؑ کو قتل کیا، کوے سے دفن کا طریقہ سیکھا اور افسوس کیا کہ میں کوے جیسا بھی نہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دور میں بادشاہ مسافرکی بیوی چھین کر زیادتی کرتا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی بیوی حضرت سارہؑ کا فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔ بادشاہ کے حوالہ کرنے کے بعد اللہ کی بارگاہ میں عزت کی حفاظت کیلئے دعاکی۔ بت توڑنے پر جھولے کے ذریعے آگ کے الاؤ میں جانے سے بڑی آزمائش یہ تھی۔ اللہ نے عزت کی حفاظت کی اور ساتھ میں حضرت حاجرہؑ بھی تحفہ میں دی جو کسی بادشاہ کی بیٹی تھی لیکن اس کو لونڈی بنایا گیا تھا۔ جاہل بادشاہ کا دوسروں کی تذلیل کا یہ انوکھا طریقہ تھا کہ بہن، بیٹی اور ماں کی عزت بحال رکھتے تھے مگر بیوی کی عزت دری کردیتے تھے تاکہ دوسرا پھر سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔ سوتیلے باپ، داماد اور بہنوئی کا رشتہ عزت کا ہوتاہے لیکن بیگم کیساتھ کسی دوسرے کی نسبت انسانی غیرت کا مسئلہ ہے ، بیگم بھی سوتن بہت مشکل سے برداشت کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت سارہ ؑ کے ضرر سے بچانے کیلئے حضرت حاجرہؑ کو وادئ غیر ذی زرع میں چھوڑنا پڑا، حضرت ابراہیم ؑ کے پڑپوتے حضرت یوسفؑ کو سوتیلے بھائیوں نے ویران کنوئیں میں ڈالا۔ عزیز مصر کی بیگم نے یوسف ؑ پر ہاتھ ڈالا لیکن مالک سے خیانت کرنے کو حضرت یوسف ؑ نے اللہ کے فضل سے مسترد کردیا۔ بچہ سازش کا پردہ چاک کرگیا مگر طاقتور نے غریب الوطن یوسف ؑ کو جیل میں ڈالا، جہاں سے خواب کی تعبیر نے اقتدار کی منزل تک پہنچایا۔ بنی اسرائیل میں بہت ملوک اور انبیاء کرامؑ آئے، حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمان ؑ انبیاء تھے اور بادشاہ بھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کا مقابلہ کیا۔ فرعون کی آل نے بنی اسرائیل سے مظالم کی انتہاء کررکھی تھی۔ انکے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور خواتین کو لونڈیاں بنانے کیلئے زندہ رکھتے تھے، یہ بنی اسرائیل پر اللہ کی طرف سے سخت ترین آزمائش تھی۔ جس سے اللہ نے نجات دی۔ حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو مبعوث فرمایا جن کیلئے حضرت ابراہیم ؑ نے بیت اللہ کی تعمیر کے وقت دعا فرمائی۔اللہ نے لونڈیاں بنانا قرآن میں آلِ فرعون کا وظیفہ قرار دیا تھا تو رسول اللہﷺ کی بعثت اسلئے نہیں فرمائی تھی کہ آل فرعون کا مشن پورا کرنے بنی اسرائیل کو پھر سے لونڈیاں بنانے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ جب دنیا کی اقوام کے ذہن میں یہ بات ہو کہ مذہبی طبقے نے قبضہ کرکے ان کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو لونڈی بناناہے تو وہ شدت پسند وں کی پشت پناہی کرکے مسلمانوں پر ہی مسلط کرنے کی سازش کرینگے تاکہ اسلام کا نام ونشان ہی دنیا سے مٹ جائے۔ سواتی طالبان کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں کہ انہوں نے زبردستی سے خواتین سے شادیاں کیں۔ البتہ وزیرستان کے طالبان نے یہ بڑا کارنامہ انجام دیا تھا کہ بعض خاندان میں روایتی بنیاد پر لڑکیوں کو زبردستی مرضی سے شادی نہیں کرنے دی جاتی تو انہوں نے اس غلط رسم کو توڑنے میں تھوڑاکردار ادا کیا۔ کوئی عورت کسی سے شادی پر راضی نہ ہو اور اس کو روایات کی بنیاد پر زبردستی سے مجبور کرنا لونڈی بنانے سے بھی زیادہ برا ہے۔ خلیل جبران ایک عیسائی فلاسفر اور مصلح تھے مگر ایسے لوگ رنگ ونسل اور مقامی روایات اور مذہبی رسم ورواج سے بالاتر ہوتے ہیں۔ وہ لبنان کے عرب تھے مگر پھرمغرب میں بس گئے ، وہ کہتے ہیں کہ آسمانی شادی وہی ہے جس میں میاں بیوی ایک دوسرے کیساتھ باہمی رضامندی سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوں۔ جہاں ماحول کا جبر مجبور رکھتا ہو شادی کاوہ تصور ناجائز اور غلط ہے۔ کہتے ہیں کہ ’’دین وہ تھا جو عیسیٰ ؑ اور طہ محمد ﷺ لیکر آئے تھے ، بعد والوں نے اپنی خواہشات کو دین کا نام دیدیا‘‘۔ جو بات 20ویں صدی ہجری میں ایک عیسائی اصلاح پسند کہہ رہا تھا وہ ایک مسلمان عربی عالم ابوالعلاء معریٰ نے ہزار سال پہلے کہی تھی۔ لیکن ابوالعلاء وقت کی تلخیوں سے تنگ آکر گوشہ نشین بن گئے تھے اور معاشرے سے آخری حد تک بدظن ہوکر تفردات کا بھی شکار ہوگئے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’اسلام نے لونڈیوں کا نظام ختم کردیا تھا لیکن عربوں نے یورپ کی سرخ وسفید عورتوں کو دیکھا تو نیت خراب ہوگئی اور پھر لونڈیاں بنانا شروع کر دیں‘‘۔ قرآن میں اللہ نے بے نکاح خواتین ، نیک غلاموں اور لونڈیوں کا نکاح کرانے کا حکم دیا : وانکحوا الایامیٰ منکم و صالحین من عبادکم وایمائکم جب لونڈیوں کی شادی کرانے کا واضح حکم ہو تو لونڈیاں بنانے کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟۔ اللہ نے محرم خواتین کی فہرست کے آخر میں فرمایا کہ والمحصنٰت من النساء الا ما ملکت ایمانکم ’’اورشادی شدہ بیگمات مگر جن سے معاہدہ کرنے کے تم مالک بن جاؤ‘‘۔ جن خواتین نے مکہ سے ہجرت کرکے اپنے شوہروں کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تو اللہ نے فرمایا کہ ’’ ان کو واپس مت لوٹاؤ، لاھن حل لھم ولاھم یحلون لھن یہ خواتین ان شوہروں کیلئے حلال نہیں اور نہ وہ ان کیلئے حلال ہیں، ان سے باہمی رضاکیساتھ حق مہر ادا کرکے نکاح بھی کرسکتے ہو‘‘۔وہ خواتین جو ہجرت نہ کرسکیں، مشرک شوہروں کیساتھ رہیں ، ان پر حکم کا اطلاق نہ ہوتاتھا۔ فتح مکہ کے موقع پرحضرت علیؓ نے اپنی بہن حضرت اُمّ ہانیؓ کے شوہر کو قتل کرنا چاہا تووہ رسولﷺ کے پاس پناہ کیلئے پہنچ گئیں، نبیﷺنے پناہ دیدی مگر وہ شخص مکہ چھوڑ کر نجران چلاگیا اور عیسائی بن گیا۔ نبیﷺ نے ام ہانیؓ سے نکاح کیلئے فرمایا مگر آپؓ نے کہا کہ میرے بچے ہیں اسلئے شادی نہیں کرسکتی، جس پر نبیﷺ نے آپؓ کی تعریف فرمائی اور پھر آیت میںیہ حکم نازل ہوا کہ ’’ جن رشتہ دار خواتین نے اسلام قبول کرنے کے بعد ہجرت نہیں کی ، ان سے آپﷺ نکاح نہ کریں اور پھر فرمایا کہ اسکے بعد کسی سے بھی نکاح نہ کریں خواہ وہ آپ کو بھلی لگے‘‘۔