رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااہل غرب ہمیشہ حق پر قائم رہینگے حتیٰ کہ قیامت آجائے، صحیح مسلم

493
0

hadith-ehl-e-gharb-bhutto-fatawa-e-alamgiri-khilafat-e-usmania-lashkar-e-taiba-nasir-ullah-babar

نوشتہ دیوار کے مدیر خصوصی ارشاد نقوی نے کہا: جمہور یت و اسٹبلیشمنٹ کی لڑائی چھوڑ کر حقائق کی طرف آناہوگا۔ ذو الفقار علی بھٹو و میاں نواز شریف کی رگوں کا خون اور ہڈیوں کاگودا اسٹبلیشمنٹ کی عطاء ہے۔ جو رعونت و تکبر اور خود پرستی میاں نواز شریف میں نظر آتی ہے بھٹو کے دور میں یہی چیز ذو الفقار علی بھٹو میں تھی۔ لاڑکانے سے اسکا منتخب ہونا یقینی تھا مگر اپنے مد مقابل کو اسسٹنٹ کمشنر سے اغواء کرالیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد سے پہلے ماڈل ٹاؤن کا جو واقعہ کرایا گیا وہی اپوزیشن کی مخالفت میں غنڈوں سے پٹھانوں کو قتل کرواکر راولپنڈی میں بھٹو نے بھی کروایا تھا۔
جتنی غلطیاں اسٹبلیشمنٹ سے ہوئی ہیں ان سے زیادہ اسٹبلیشمنٹ کی آلہ کار جمہوری جماعتوں سے ہوئیں، ایوب خان ،یحییٰ خان، ضیاء الحق ، مشرف، کیانی اور جنرل راحیل کو ایک دوسرے سے ملانا غلط ہے لیکن جمہوریت کے علمبرداروں کی اولاد اپنا سلسلۂ نسب اپنے قائدین سے ملاتے ہیں۔ کسی عمارت کی بنیاد اور پہلی اینٹ غلط لگ جائے تو اس پر سیدھی اور درست عمارت کھڑی نہیں ہوسکتی ہے۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ خود کو اسٹبلیشمنٹ مخالف ظاہر کرکے عوام پر احسان جتاتے ہیں حالانکہ دونوں کے قائدین پر اسٹبلیشمنٹ ہی کا احسان ہے۔ کوئی اپنی بنیاد سے الگ ہوکر کیسے استحکام حاصل کرسکتا ہے؟ جب یہ لوگ اسٹبلیشمنٹ کے سہارے کھڑے ہوکر عوام کو جوتے مارتے ہیں تو سب کچھ صحیح نظر آتا ہے۔ حالانکہ اسٹبلیشمنٹ نے یہ مینڈیٹ نہیں دیا کہ وہ کرپشن کریں یا عوام کو جوتے ماریں۔ جب انکے نیچے سے اپنی بد اعمالی کے سبب اقتدار کی کرسی چھنتی ہے تو پھر یہ اسٹبلیشمنٹ کو گالی دینا شروع کرتے ہیں،یہ بڑی نمک حرامی ہے۔ جنرل ایوب اورجنرل ضیاء کرپٹ نہ تھے۔
رسول ﷺ اور خلافت راشدہ میں ابوبکرؓ ، عمرؓ ، عثمانؓ ، علیؓ اور حسنؓ نے جمہوری کلچر کی جو بنیاد رکھ دی اگر مسلم امہ بنو اُمیہ بنو عباس اور عثمانیہ کی خاندانی امارت و بادشاہت کا شکار نہ ہوتی تو مغرب ہم سے پیچھے ہی ہوتا۔ موروثی نظام نے جمہوریت کوپنپنے نہ دیا۔ مغلیہ اور عثمانی سلطنت کا خاتمہ مغرب کا کارنامہ تھا۔ مغل کے نیک بادشاہ اورنگزیب عالمگیرؒ نے 500علماء کے تعاون سے فتاویٰ عالمگیریہ مرتب کروایا جو آج بھی مستند مانا جاتا ہے۔ اس میں یہ شرعی احکام بھی درج ہیں کہ ’’بادشاہ چوری ، زنا اور قتل کرے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی اسلئے کہ بادشاہ خود حد جاری کرتا ہے اس پر حد کوئی جاری کر نہیں سکتا ‘‘۔ نواز شریف اپنا مقدمہ مولانا فضل الرحمن کے ذریعے سے اگر شریعت کورٹ میں لے جائے تو جیت جائیگا۔
اسلامی ممالک میں پاکستان جیسا جمہوری ملک کوئی نہیں۔ اسٹبلیشمنٹ نے جن جمہوری شخصیتوں کو اپنے گملوں میں پالا پوسا، انہوں نے عوام کو بیوقوف بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا، جس کی سز اہم بھگت رہے ہیں۔ حبیب جالب نے عوامی شعور اجاگر کیا، جمہوری نظام کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی مگر کسی جمہوری قائد نے ان کی خدمات کا اچھا صلہ نہیں دیا۔
جمہوری جماعتوں نے وقت سے کچھ سیکھا ہے تو اس سے زیادہ اسٹبلیشمنٹ نے بھی سیکھا ہے۔ 9/11 کے بعد پاکستان نے مجبوری میں امریکہ کا ساتھ دیا تو معراج محمد خان جیسا جمہوری لیڈر امریکہ کی مزاحمت میں طالبان کی ہمت کو داد دے رہا تھا۔ پیپلز پارٹی کے امین فہیم اور باقی سیاسی جماعتوں کے رہنما اور عوام کی طرف سے نیٹوکی مخالفت، طالبان کی حمایت کا برملا اظہار تھا۔ کراچی سے پنڈی اور لاہور سے کوئٹہ تک آزمائش کا سامنا پاک فوج نے کیا تھا۔ امریکہ کی بغل میں رہتے ہوئے اسکے چنگل سے بچ نکلنا اللہ کے فضل کے علاوہ ممکن نہ تھا۔ امریکی حکم پر طالبان پیپلز پارٹی کے نصیر اللہ بابر نے بنائے اور بینظیر بھٹو اس کا شکار ہوئی۔ نواز شریف کو گلہ ہے کہ فوج سپریم کورٹ پر چڑھ دوڑنے سے کیوں روک رہی ہے؟۔ پاک فوج الزامات کا دفاع کیسے کرتی، حکومت وزیر دفاع کا قلمدان بھی بغض سے سونپے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟۔
وزیر خارجہ خواجہ آصف نے جیو میں جوشاہ زیب خانزادہ کو انٹرویو دیا ، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ خواجہ آصف نے سچ کہا کہ فوج نے اپنا کام کیا لیکن قومی ایکشن پلان پر عمل نہ ہوسکا۔ جنرل راحیل کے بیان پر پہلے حکومت برا نہ مناتی تو اچھا ہوتا۔ ڈان لیکس کی اصل کہانی یہ تھی کہ فوج اور حکومت جہادی تنظیم پر ایکدوسرے کو کاروائی کا کہہ رہے تھے مگر غلط رنگ میں کہانی شائع کی گئی۔ وزیر خارجہ کہہ رہا ہے کہ ’’امریکہ کے کہنے سے ہم کالعدم جیش و لشکر طیبہ کیخلاف کاروائی سے دلدل میں پھنس جائیں گے‘‘۔ لشکر طیبہ ملت مسلم لیگ بناچکی تو مولانا مسعود اظہر کو عتیق گیلانی کیساتھ مل کر وہ کام کرنا چاہیے، جس سے مدارس کے نصاب میں انقلاب آئے اور امریکی سازش ناکام ہو اور یہ کام ریاست کیلئے کوئی مشکل نہیں ہے۔