نفرت کی گنجائش نہیں محبت کے سواء خواہش نہیں…….عتیق امن و سلامتی کا قرآں بہترین حوالہ ہے

میں ہندی کی وہ بیٹی ہوں جسے اردو نے پالا ہے
اگر ہندی میری روٹی تو اردو میرا نوالہ ہے

یوم خواتین 8مارچ 2019کے موقع پر لتاحیا نے اپنے کلام میں کہاکہ:بہت me too , me too چل رہا ہے اور بہت اسکا غلط استعمال بھی ہورہا ہے تبھی ایک نظم کہی ہے :جب تک اس سے کام ملنے کی اُمید تھی وہ روز اس سے ملنے جاتی تھی، ہر طرح کا رشتہ نبھاتی تھی جسمانی بھی روحانی بھی۔ ایک دن گرما گرم خبر پڑھنے کو ملی کہ اس نے اپنے بوائے فرینڈ پر بلتکار کا کیس کردیا ہے۔ آروب اور ہتھیہ روگ کا سلسلہ یونہی چل رہا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ اگر وہ اسے کام دے دیتا تو وہ کیس نہ کرتی۔ Given Takeکی پارٹی یونہی چلتی رہتی۔ کیونکہ اس نے اسے کام نہیں دیا ہے اسلئے اسے لگ رہا ہے کہ ارے میرا تو ریپ ہوگیا ہے۔ جانے یہ کیسی محبت ہے۔ جہاں ان دیکھی محبت کی جاتی ہے لیکن یہ بات ہم جیسے جاہلوں کو سمجھ میں نہیں آتی ہے ، لیکن اتنا ضرور سمجھ میں آتا ہے کہ ریپ اور کمپرومائز میں فرق ہوتا ہے۔ کم سے کم ڈکشنری میں تو یہی لکھا ہے ۔
مجھے پاک و ہند سے محبت قانونِ فطرت نرالا ہے
حیا کی غزلوں کا ہر شعر قدرت کا جوالہ ہے
جب ہیں دونوں ایک ماں باپ کی سگی بہنیں
پاک ہے ہماری ماں تو بھارت بھی اپنی خالہ ہے
انگریز نے طلاق دی تو سوکناہٹ کا بھی نہیں جواز
مگر یہاں سازِ سامری کا ولولہ وہاں سازِ گوسالہ ہے
وہ برہمن دل سے مؤمنہ زباں و عمل سے صادقہ
مگر اچھوت نسل مفتی یہاں پر بھی بنیا سالا ہے
یہاں کے لوگ ہیں شیر تو وہاں کے ہرن خیر
جانوروں سے بھی بہت بدتر دونوں کا گوالا ہے
ایک برصغیر، ایک آب وہوا ،ایک جیسے شہر دیہات
یہاں لاہور، کراچی ، وہاں پر دلی اور انبالہ ہے
سمندر سرزمین ڈھنگ ایک، نسل و رنگ بھی ایک
ایک فضا وہاں گنگا جمنا یہاں کوہ ہمالہ ہے
ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے شیر و ہرن دیس میں کبھی
شیر چھوڑ دے درندگی غزالہ تو پھر غزالہ ہے
امریکہ نے ہمیں برباد کیا وسائل پر قبضے کا فساد کیا
جنگ کے جنون کی سیاست بڑا شرم ناک مسالہ ہے
کہیں کل بھوشن کی ہے کھل کر در اندازی
کہیں حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کا بقالہ ہے
ہزار سال کعبے کا جگر رہا بتوں کا مندر
وہ صنم صنم کرتے ہم صمد صمد آیت کوتوالہ ہے
ہر مذہب کی تائید ہر عبادتگاہ کی تمجید
کلام پاک سچے تبلیغ کا آخری رسالہ ہے
اسلام کی دیوانی حیا نے کھپائی اپنی جوانی
یہاں بھی اب کوئی کوئی انسانیت کا متوالا ہے
تالی ایک سے نہیں بجتی ملاؤ دونوں ہاتھوں کو
ہماری بہن حیا کی بیٹی ہوئی پیدا ملالہ ہے
بھارت میں نیتا کے خلاف بہت اُٹھتی ہے آواز
یہاں بھی منظور پشتین، ہزارہ کی جلالہ ہے
ظلم و جبر کے نظام کا ہوا چاہتا ہے اب خاتمہ
حقدار کو ملے گا حق، نظامِ عدل لا محالہ ہے
دونوں طرف سے آئیں گے کبھی اچھے رہنما
اِدھر نیازی، اُدھر مودی کی حکومت بد خصالہ ہے
اگر ایٹم بم کا عذاب آیا پیغام امن کا پلٹا کھایا
تو وجہ ریاستی دہشت، سبب لعنت حلالہ ہے
اپنا مذہب کاروبارِ ریاست ان کا غضب پرستارِ سیاست
برائے نام یہ اور وہ حکومت عالمی استعمار کی دلالہ ہے
جسٹس مرکنڈے کی تقریر اور حیا کی شاعری
ایک بلبل کا فغاں تو دوسری گل لالہ ہے
وہ پاکستان نہ آئیں تو ہم نے بھارت ہے جانا
ہاتھ ہمارے قلم اور نہ پیروں میں چھالہ ہے
جنگ کا جنوں رکھتے ہیں، لڑتے نہیں پرکھتے ہیں
متعصب بے شرم بے غیرتوں کا منہ کالا ہے
لپٹے گی یہ جمہوری بساط باشعور ہیں شش جہات
ٹرمپ ، مودی اور نیازی نے اقتدار سنبھالا ہے
انسانیت، تعلیم اور اقدار سب کا ہوا ہے خاتمہ
ذہنوں میں اندھیر نگری اور دلوں پر تالا ہے
بے روز گاری، غربت، ظلم، جبر سب تخت تاراج
لونڈے لپاڑوں کی آوازیں رنڈوا بنی گالہ ہے
شدت ہے نفرت ہے جہالت ہے وکالت ہے
مفاد پرستی ہے، خود پرستی ہے جانوروں سے پالا ہے
دینِ ابراہیم، دینِ نوح دین اسلام ہے ایک
نشاۃ ثانیہ کا آغاز جشن ڈیڑھ ہزار سالہ ہے
نفرت کی گنجائش نہیں محبت کے سواء خواہش نہیں
عتیق امن و سلامتی کا قرآں بہترین حوالہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں