ہما بقائی پروفیسر کراچی یونیورسٹی سے ملاقات

389
0

کراچی ( ڈاکٹر احمد جمال) نمائندہ نوشتۂ دیوار راقم الحروف احمد جمال، ایڈیٹر اجمل ملک اور چیف ایڈیٹر سید عتیق گیلانی نے کراچی یونیورسٹی میں انٹر نیشنل امور کی ماہراور تجزیہ کار ڈاکٹر ہما بقائی سے ملاقات کی۔ اجمل ملک نے ڈاکٹر صاحبہ سے کہا کہ آپ ٹی وی پر اپنا مؤقف جرأتمندانہ پیش کرتی ہیں۔ ہمیں جرأتمند لوگ اچھے لگتے ہیں ، اسلئے ان سے ملتے ہیں۔ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ آپ کا اخبار ملتا ہے۔ طلاق کے مسئلہ پر بھی کافی لکھا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟۔ سید عتیق الرحمن گیلانی نے بتایا کہ طلاق کے حوالہ سے قرآن وسنت کا مؤقف واضح ہے مگرٹی وی ا سکرین پر اس کو پیش نہیں کیا جاتا۔ جن اسلامی اسکالرز کو اہمیت کے قابل سمجھا جاتاہے، ان کی بہت ناقص معلومات ہوتی ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں اسلامک ڈیپارٹمنٹ کے ڈین ڈاکٹر شکیل اوجؒ سے ملاقات رہی ہے۔ حضرت امّ ہانیؓ حضرت علیؓ کی بہن تھیں، انکے گھر میں معراج کا واقعہ ہواتھا، انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔ فتح مکہ کے بعد حضرت علیؓ نے انکے مشرک شوہر کو قتل کرنا چاہا، انہوں نے شوہر کی پناہ کیلئے نبیﷺ سے درخواست کی، پھر ان کا شوہر ان کو چھوڑ کر گیا تو نبیﷺ نے ان سے نکاح کی پیشکش کردی، وہ بچوں کی وجہ سے راضی نہیں ہوئی تو اللہ نے قرآن میں یہ فرمایا ’’جن رشتہ دار خواتین نے ہجرت نہیں کی، ان سے آپ نکاح نہ کریں‘‘۔ اتنے واضح حقائق کے باوجود ڈاکٹر شکیل اوج کا کہنا تھا کہ امّ ہانیؓ نبیﷺ کی دودھ شریک بہن تھی اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے خلاف تین افراد اور چوتھے فرد کی فحاشی کی گواہی پر حد جاری نہ کی گی تو اس پر باقاعدہ امام ابوحنیفہؒ اور دیگر مسالک کے ہاں قانون سازی ہے لیکن ڈاکٹر شکیل اوج شہیدؒ نے کہا کہ وہ تو حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کی اپنی بیوی تھیں۔جو اتنی موٹی موٹی باتوں کا علم نہ رکھتے ہوں ان کو اسلامی اسکالر کا درجہ دینا کتنا عجیب ہے؟۔
عتیق گیلانی نے کہاکہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر منظور کو عربی دینی علوم پر دسترس تھی، ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ اب تو وہ ضعیف ہیں ۔ مشرف دور میں ان کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی بنایا گیا ، میں بھی ان سے ملتی رہی ہوں۔ عتیق گیلانی نے بتایا کہ انہوں نے اسلام کے حوالہ سے جو کتاب لکھی عام آدمی سمجھ نہیں سکتا۔ اس میں یہ لکھ دیا ہے کہ ’’دو تین سو سال ہمیں اسلام کیساتھ گزارا کرنا پڑیگا، اسکے بعد اسلام کا وجود ختم ہوجائیگا جوں جوں ترقی ہوگی تو اللہ کا وجود ناپید ہوتا جائیگا۔حضرت عمرؓ نے طلاق کے حوالہ سے قرآن کیخلاف اجتہاد کیا، اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو پھر اسلام کی کوئی شکل باقی نہ رہتی‘‘۔ ڈاکٹر ہما بقائی نے اس پر توبہ کرکے کہا کہ ڈاکٹر منظور فلسفی تھے اسلئے ان کی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ سید عتیق گیلانی نے کہا انکی سوچ میں مدارس کے دینی نصاب کا بڑا عمل دخل تھا۔ انہوں نے اصول فقہ پڑھی تھی ، اصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن کی کتابت اللہ کا کلام نہیں۔ فقہ کی معتبر کتب فتاویٰ قاضی خان فتاویٰ شامیہ اور البحرالرائق میں ہدایہ کے مصنف کے حوالہ سے لکھا ’’ علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘ اس کو مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ، جس پر ہمارے اخبار کیوجہ سے دباؤ آیا تو اپنی کتابوں سے عبارت نکال دی۔ مفتی سعید خان نے 2007ء میں کتاب شائع کی، اس میں بھی سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا دفاع کیاہے۔ اسکی بنیادی وجہ گمراہی کی یہ تعلیم ہے کہ ’’المکتوب فی المصاحف سے مراد لکھے گئے قرآن کے نسخے نہیں بلکہ 7قاریوں کے الگ الگ قرآن ہیں‘‘۔ ڈاکٹر منظور احمد نے بھی یہی کہا کہ’’ قرآن اورل(زبانی) ہے۔ اس کی لکھی ہوئی شکل اللہ کی کتاب نہیں‘‘جس پر ان کو جواب دینے سے پہلے فلسفی کے بارے میں یہ لطیفہ بتایا کہ جو کئی ہفتوں سے دیوار پر لگے ہوئے گوبر کے متعلق سوچ سوچ کر پریشان تھا کہ آخر یہ کیسے لگاہے؟۔ خاتون نے پوچھ کر لمحہ بھر میں اس کا مسئلہ حل کردیا۔ ہاتھ سے گوبر اٹھاکر دیوار پر چپکادیا۔ قرآن کے بارے میں اصول فقہ کی فلسفیانہ سوچ بالکل غلط ہے۔ کتاب نام ہی لکھی ہوئی چیز کا ہے۔ جیسے میز، کرسی، پنکھا، موبائل اور دیگر اشیاء کیلئے فلسفیانہ گفتگو کی ضرورت نہیں، اس طرح کتاب پر بھی فلسفے کے بجائے اس حقیقت کا تسلیم کرنا چاہیے کہ اللہ کی کتاب کی لکھی صورت کتاب ہے۔ پہلی وحی میں قلم کی تعلیم کا ذکرہے۔ قرآن میں واضح ہے کہ لکھی ہوئی چیز کا نام کتاب ہے۔ ان پڑھ بھی سمجھتا ہے کہ کتاب کیاہے۔محمد اجمل ملک