جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی

511
0

jamia-tul-uloom-islamia-binori-town-karachi-ki-bunyad-taqwa-per-rakhi-gai

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا نام مدرسہ عربیہ اسلامیہ تھا۔ دنیا کی مقبول ترین جامعہ کا حق تھا کہ اسکا نام بدل دیا جائے۔ مدرسہ عربیہ کی حیثیت پرائمری سکول کی ہوتی ہے۔ پہلے ابتدائی اعدایہ کے بعددو سرا درجہ مساوی میڑک ہے۔ جہاں کم از کم مشکل سے میٹرک کو داخلہ ملتاہے،FA،BA اورMAبھی ہوتے ہیں۔ 8سال میںMA پھر قرآن، حدیث، فقہ، اصول فقہ اور تفسیر ودیگر علوم میں تخصص( اسپیشل آئیز یشن) کی تعلیم یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے، جس کو جامعہ کہتے ہیں۔
مولانا انور بدخشانی جامعہ کے ایک قدیم استاذ ہیں۔ وہ فرماتے کہ ’’ہدایہ‘‘ فقہ کی کتاب نہیں بلکہ فقہ کی تاریخ ہے۔ انکے نزدیک فقہ قرآن وسنت کی تعلیمات میں عبور حاصل کرنے کا نام ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا کہ ’’ اصول فقہ ‘‘ کی تعلیم پر کسی عقلمند کی نگاہیں پڑگئیں تو نصاب میں پڑھائی جانے والی کتابیں ملیامیٹ ہوجائیں گی اور باقی نصاب بھی ساتویں صدی ہجری میں لکھی جانے والی کتابیں ہیں جو اسلامی علوم کے بدترین زوال کا دور تھا۔ علماء کی شکایت ہے کہ ان میں استعداد نہیں لیکن یہ نصاب ہی ان کو کوڑھ دماغ بنانے کیلئے کافی ہے۔ امام الہند مولانا آزاد کی مادری زباں عربی تھی ، عرب میں ابتدائی تعلیم کے بعداردو ہندوستان میں سیکھ لی تھی۔ مولانا انوربدخشانی حیات ہیں اور جامعہ بنوری ٹاؤن میں انکا وجود بھی ایک برکت ہے۔ زاغوں کے تصرف میں ہے شاہیں کا نشیمن!۔ مولانا یوسف بنوریؒ کے فرزند شہید ہوئے۔ اس اُجڑے گلستاں کی حدود میں میرے ترنم سے کبوتروں کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا ہوگا ، اسلئے کہ اس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ۔ یہاں 24گھنٹے عبادت اور پچھلے پہر تک آہ وبکا کی صدائیں بلند ہوتی اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔
اصول فقہ کی کتابیں ’’اصول الشاشی‘‘ اور ’’ نورالانوار‘‘ ہم نے مولانا بدیع الزمانؒ سے پڑھی تھیں۔ اصول فقہ کا قاعدہ یہ ہے کہ قرآن ، حدیث، اجماع اور قیاس کے دلائل بتدریج ہیں۔ اگر خبر واحد کی حدیث قرآن سے ٹکراتی ہو تو تطبیق دینے کی کوشش کی جائے گی ، تطبیق ممکن نہ ہو تو قرآن پر عمل ہوگا اور حدیث کو چھوڑ دیا جائیگا۔ آیت حتی تنکح زوجا غیرہ ’’یہاں تک کہ عورت کسی اور سے نکاح کرلے‘‘۔اور حدیث ہے کہ’’ جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے‘‘۔ آیت میں نکاح کی نسبت عورت کی طرف ہے تو وہ خود مختار ہے۔ جبکہ حدیث میں ولی کی اجازت کا پابند بنایا گیا۔ لہٰذا حدیث کو چھوڑ دیا جائیگا۔ یہ امام ابوحنیفہؒ کا مسلک ہے۔ جمہور امام مالکؒ ، شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اس پر متفق تھے کہ حدیث کی پابندی درست ہے ۔ عورت نے بھاگ کر شادی کرلی اور ولی کی اجازت نہیں لی تو کورٹ میرج وغیرہ کا نکاح باطل ہے۔ جمہور کنواری، طلاق یافتہ اور بیوہ سب کو شامل کرتے ہیں۔حالانکہ قرآن و حدیث میں تطبیق کی راہ موجود ہے۔ فطرت، عقل اور شریعت مسلک اعتدال مسئلے کا حل ہے۔ عورت کنواری ہو تو اس کا نگران و محافظ ولی اس کا باپ اور خاندان ہے اور شادی کے بعد اس کا ولی اس کا شوہر بن جاتا ہے اور طلاق یا بیوہ بن جانے کے بعد وہ آزاد اور خود مختار ہوتی ہے۔ کنواری اور ایم کے احکام بھی مختلف ہیں۔ قرآن میں طلاق شدہ اور بیوہ کیلئے خود مختار ہونے کی وضاحت ہے اور کنواری کیلئے جہاں ولی سے اجازت کی پابندی ضروری ہے وہاں والد کیلئے بھی ضروری ہے کہ اس کی اجازت سے نکاح کروائے، ورنہ تو اس کا نکاح نہیں ہوگا۔ معاشرے میں قرآن وسنت اور مسلکوں کی تطبیق سے کام لیا جائے تو اختلاف زحمت نہیں رحمت بن جائے اوراسے ایک اہم معاشرتی اور خوشگوار انقلاب برپا ہوجائے ۔
یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ جہاں حدیث کا قرآن سے ٹکراؤ نہیں، تب بھی مصنوعی ٹکراؤ پیداکیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار یہ وضاحت فرمائی ہے کہ عدت کی تکمیل سے پہلے، عدت کی تکمیل پر اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی اور صلح سے رجوع کیا جاسکتاہے۔ کوئی ایک بھی ایسی آیت اور صحیح حدیث نہیں کہ عدت میں قرآنی آیات کے برعکس رجوع کی ممانعت ہو۔ رفاعۃ القرظیؓ کے واقعہ میں وضاحت ہے کہ الگ الگ مراحل میں طلاق دی، عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کی تو اس کو نامرد قرار دیا۔ یہ خبر واحد درست ہو توبھی نامرد میں حلالہ کی صلاحیت نہیں ہوتی اور واقعہ کا ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ پر مجبور کرنے کیلئے حوالہ دینا بھی بڑی خیانت ہے ۔قرآن میں صلح و رجوع کی کافی وضاحتیں ہیں۔