Home Dars-e-Nizami فاروق اعظم ؓ کے فیصلے یاائمہ اربعہ ؒ کے فتوے اختلاف؟ (اداریہ...

فاروق اعظم ؓ کے فیصلے یاائمہ اربعہ ؒ کے فتوے اختلاف؟ (اداریہ نوشتہ دیوار، شمارہ مارچ 2019)

671
0

اگر حضرت عمر فاروق اعظم ؓ کے فیصلے اور ائمہ اربعہ ؒ کے فتوے سے قرآن کی کوئی آیت یا نبیﷺ کی کوئی حدیث ٹکرائے تو ہم ایسے فیصلے اور فتوے کو جوتوں کی نوک پر رکھنے کے قائل نہیں بلکہ بفضل تعالیٰ تاریخ کے اوّلین علمبردار ہیں۔ ہم نے نہ تو حضرت عمر ؓ پر ایمان لانے کا کلمہ پڑھا ہے اور نہ ائمہ اربعہ ؒ ہمارے کسی ایمانِ مفصل کا حصہ ہیں۔ شیعوں نے حضرت علی ؓ کا کلمہ پڑھا ہے تو ہمارے اور ان کے درمیان پھر کوئی فرق بھی باقی نہیں رہے گا۔ شیعہ بھی قرآن وسنت سے اپنے متصادم عقائد ومسالک سے دستبردار ہونے کیلئے کوئی دیر نہیں لگائیں گے۔ میاں بیوی میں تنازعہ چل رہا ہو تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ طلاق کے بعد عدت کے اندر ہی اندر باہمی اصلاح اور معروف طریقے سے رجوع کرلیں۔ قرآن نے عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر بار بار معروف طریقے سے رجوع کی گنجائش واضح کردی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ عزیز واقارب سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں جدائی کے نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں تو ایک ایک حکم دونوں خاندان سے تشکیل دیا جائے اور اگر ان کا ارادہ ہو کہ اصلاح ہوجائے تو اللہ تعالیٰ موافقت کی راہ پیدا کردے گا۔ میاں بیوی کا یہ مسئلہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور اگر وہ آپس میں صلح کرنے یا جدائی کی بات پر پہنچتے ہیں تو اس میں حکومت یا مفتی کی مداخلت کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جب یہ دونوں ناکام ہوں۔ تنازعہ بڑھ جائے تو پھر حکومت سے فیصلہ لینے اور مفتی سے فتویٰ لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ صلح کیلئے تو میاں بیوی خود معروف طریقے سے راضی ہوں یا ایک ایک رشتہ دار دونوں طرف سے کردار ادا کرلے تو بہت ہے۔ تنازعہ کی صورت میں حکمران کے پاس فیصلہ لیجانے یا مفتی سے فتویٰ مانگنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ حضرت عمر ؓ کے پاس بھی شوہر کی طرف سے متنازعہ مسئلہ پہنچا تھا۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ تنازعہ کی صورت میں شوہر کو رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں۔ یہ ممکن نہ تھا کہ حضرت عمر ؓ قرآن کے منافی فیصلہ دیتے اور صحابہ کرام ؓ اس پر اپنا ردِ عمل ظاہر نہ کرتے۔ صحابہ کرام ؓ کے اجتماعی شعور میں یہ بات واضح تھی کہ اگر میاں بیوی راضی ہوں تو کسی سے فیصلہ یا فتوی لینے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ اگر تنازعہ چل رہا ہو تو یہی فیصلہ کیا جائیگا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ یہی فتوی دیا جائیگا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ قرآن وسنت کا بھی یہی تقاضا ہے اور انسانوں کی کوئی جماعت اور کوئی عدالت اس فطری قانون سے انحراف کی جرأت نہیں کرسکتی ہے۔ حضرت عمر ؓ نے بالکل ٹھیک فیصلہ دیا تھا اور عورت کی جان چھڑائی تھی کہ مرد کو رجوع کا حق حاصل نہیں۔ ائمہ اربعہ ؒ نے بالکل ٹھیک فتویٰ دیا کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ لیکن یہ سب بھول گئے کہ یہ فیصلہ اور فتویٰ تنازع کی حالت میں تھا۔ ان غریبوں کو کیا پتہ تھا کہ بعد میں لوگ قرآن وسنت کی واضح تعلیمات سے بالکل عاری ہوجائیں گے اور باہمی صلح کیلئے بھی قرآن سے رہنمائی لینے کے بجائے ان علماء وفقہاء کے دروازے پر دستک دیں گے کہ ہماری صلح ہوسکتی ہے یا اس کیلئے ایک مرتبہ بیوی کی فرج کا خراج پیش کرنا پڑیگا؟۔ جس نے دیکھا کہ ’’ہم خرما وہم ثواب کا کام ہے‘‘ تو اللہ کے واضح احکام کو اس طرح وہ پسِ پشت ڈال گیا جس طرح حضرت آدم ؑ نے واضح طورپرمنع ہونے کے باوجود شجرۃ الخلد کا ذائقہ چکھ لیا تھا۔ انسان کھانے پینے میں بے بس نہیں ہوتا لیکن بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے ایک صحابی رسول نے اپنا روزہ بھی توڑ دیا تھا۔ کراچی میں علماء ومفتیان کے پاس زیادہ تر اپنے گھر اور بیوی بچے نہیں ہوتے ہیں اور وہ حلالہ کے اتنے خوگر بن چکے ہیں کہ مدارس کے ارباب اہتمام بھی انکی خونخواری سے گھبراتے ہیں۔ حلالہ کی لعنت پر ان کی آنکھیں چڑھ جاتی ہیں لیکن ملعون اور دلّے اپنے مؤقف پر نظر ثانی کیلئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں اگر ایٹمی جنگ سے انسانیت دھوان بن گئی تو اس میں بڑا کردار حلالہ کی لعنت میں ملوث لوگوں کا گھناؤنا کردار ہوگا۔ پاک فوج اپنی ذمہ داری سرحدات پر پوری کرسکتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کی معصوم افواج کا کوئی قصور نہیں ہے۔ پاک فوج نے حملہ آور پائلٹ کو زندہ گرفتار کرکے واپس کیا اور انسانیت کی تاریخ میں مثالی کردار ادا کیا۔ یہ مولوی اور مفتی ہیں جواس درجے گر چکے ہیں کہ قرآن کے منافی اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے اپنے عقیدتمندوں کی عزتوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ عقیدت مند ہیں جو نہ صرف اپنی ہی بیگمات کو انکے سامنے حلالہ کی لعنت کیلئے پیش کرتے ہیں بلکہ اگر یہ علماء ومفتیان حکم دیں تو حق کی آواز کو بلند کرنے والوں کو شہید بھی کرڈالیں۔ ہم نے مارچ، اپریل اور مئی 2007ء کے ماہنامہ ضربِ حق کراچی میں اپنی آوازحلالہ کی لعنت کے خلاف اُٹھائی تھی۔مئی2007ء کو ہمارا اخبار بھی بند کیا گیا تھا اور 30مئی 2007ء کو میری موجودگی کی اطلاع پر ہمارے گھر پر اٹیک کیا گیا اور13 افراد کو شہید کردیا۔ حملہ آور وہی لوگ تھے جن کی اعتقاد ،مسلک یہ تھا کہ اگر وہ اپنی بیگمات یا انکے باپ انکی ماؤں کو یا بھائی انکی بھابیوں کو اکٹھی تین طلاق دیدیں تو حلالہ کی لعنت سے گزرنا پڑیگا۔ ہم آج بھی ان دونوں ہی طبقات کو خیرخواہی کی بنیاد پر سمجھار ہے ہیں کہ قرآن کے احکام کی بیخ کنی کی گئی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ نے سچ فرمایا’’ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو برا سمجھو اور اس میں خیر ہو،تمہارے لئے‘‘۔ جب تک یہ جاہل طبقے ایکدوسرے کو حلالہ کی لعنت پر آخری حد تک نہیں پہنچائیں گے انہوں نے اہل حق کی بات نہیں سننی ہے اسلئے بہتریہی ہے کہ اس لعنتی عمل سے گزر کر زیادہ سے زیادہ بے غیرت بن جائیں اور پھر کبھی حق کی بات سننے کیلئے بھی تیار ہوجائیں گے۔ ہم نے محسود قوم کو بھی طالبان کے حوالے سے کافی متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جب تک وہ اپنے گھر بار اور جان ، مال اور عزتوں کی قربانی تک نہ پہنچے تو ہماری باتیں ان کو ٹھیک نہیں لگتی تھیں۔میرے اپنے بھائی صاحبان بھی طالبان کی حمایت میں ہم سے لڑتے تھے تو انہوں نے اس کا مزہ چکھ لیا۔ میرے رشتہ دار بھی طالبان کے بڑے حامی تھے اور اب ان کو غبار ہٹنے کے بعد پتہ چل گیاہے کہ وہ کتنے پانی میں تھے۔ طالبان کی وجہ سے جاہلانہ غیرت ہماری قوم سے نکل گئی ہے لیکن حلالہ کی لعنت سے قوم کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی والے ویسے بھی کم بے غیرت نہیں ہیں، زیادہ تر علماء ومفتیان ان کو ہی شکار بنالیتے ہیں۔ یہ غریب اس کو اللہ کا حکم سمجھ رہے ہیں۔ جاوید احمد غامدی کی مثال بھی ان یہودی علماء کی طرح ہے جن پر گدھے کی طرح کتابیں لادی گئیں ۔ قرآن کا حکم حضرت عمرؓ اور ائمہ اربعہؒ نے منسوخ کیا اور نہ کرسکتے تھے بلکہ تنازعہ میں ان کی بات قرآن کے مطابق تھی۔ اکٹھی100 طلاق کے بعدباہمی صلح پر قرآن میں رجوع کی گنجائش واضح ہے۔ رجوع کا تعلق عدت اور اسکی تکمیل سے ہے۔ اللہ نے اسلئے رجوع کا تعلق عدت کی تکمیل سے رکھا ہے تاکہ یہ مذہبی گوپال لوگوں کو گمراہ نہ کرسکیں۔سید عتیق الرحمٰن گیلانی