کیا فرماتے ہیں علماء دین اور مفتیان شرح متین اس مسئلے کے بارے میں…..

841
0

kanzul-iman-masjid-fatwa-triple-talaq

کیا فرماتے ہیں علماء دین اور مفتیان شرح متین اس مسئلے کے بارے میں کہ
شوہر (محمد یوسف ولد محمد انور) کا بیان : میری شادی 10ستمبر 2000ء میں ہوئی ، شادی کے بعد ہم ساتھ رہے ۔ 6 سال پہلے میں نے اپنی زوجہ کا نام لے کر ایک طلاق دی ، الفاظ یہ تھے ’’میں شائستہ کو طلاق دیتا ہوں‘‘ اسکے بعد ہم ساتھ رہے ، عدت کے اندر رجوع ہوگیا تھا۔ پھر اسکے بعد اکثر لڑائی جھگڑے میں یہ الفاظ کہتا کہ میں طلاق دیدوں گا ۔ ایک سال پہلے بھی یہ کہا میں طلاق دیدوں گا اور کچھ روز قبل بروز جمعہ (07-10-2016 ) بیوی کو ایک طلاق دی۔ الفاظ یہ تھے’’جا میں نے طلاق دی‘‘ ان دو طلاقوں کے علاوہ میں نے کبھی کوئی طلاق نہیں دی۔ جبکہ میری بیوی کا کہنا یہ ہے کہ میں نے تین طلاقیں دیدی ہیں۔ اس مسئلے کا حل شریعت کے مطابق بتائیں تاکہ میں اپنا رشتہ قائم رکھ سکوں۔ میری چار بیٹیاں ہیں ۔ دوسری طلاق کے بعد میں نے ابھی تک رجوع نہیں کیا ۔
بیوی (شائستہ بنت محمد اقبال) کا بیان: میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیدی ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک ساتھ نہیں دیں بلکہ 6 سال پہلے انہوں نے میرا نام لے کر کہا تھا کہ میں نے شائستہ کو طلاق دیدی ہے۔ اسکے 15دن بعد ہم نے رجوع کرلیا تھا۔ پھر ایک سال بعد پہلے انہوں نے لڑائی کے دوران کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی۔ پھر ہم نے ایک مہینے کے اندر رجوع کرلیا تھا اور اب بروز جمعہ (07-10-2016) انہوں نے پھر کہا کہ جا میں نے تجھے طلاق دی۔ میں حلفیہ طور پر بیان دیتی ہوں کہ اس طرح انہوں نے مجھے تین طلاقیں دیدی ہیں مگر میرے شوہر دو طلاق قبول کرتے ہیں ۔ اب میرے لئے شرعی حکم کیا ہے؟۔
نوٹ: شوہر اور بیوی دونوں نے دار الافتاء اہلسنت میں آکر اپنے بیانات دئیے ہیں اور شوہر نے حلفیہ بیان دیا ہے کہ اس نے 6سال پہلے ایک طلاق دی تھی اور اب (07-10-2016) ایک طلاق دی ہے۔ اس طرح صرف دو طلاقیں دی ہیں۔ تیسری طلاق نہیں دی۔ بیوی جو ایک سال پہلے کے واقع کا کہہ رہی ہے ، اس وقت میں نے کہا تھا کہ میں تجھے طلاق دیدوں گا۔ اس کے علاوہ کبھی کوئی طلاق نہیں دی۔ بیوی کے پاس اپنے بیان (ایک سال پہلے والی طلاق) پر کوئی شرعی گواہ نہیں۔
سائل محمد یوسف ولد محمد انور ( شو مارکیٹ، نشتر روڈ کراچی)۔ شناختی کارڈ نمبر 42301-3475150-3
بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب اللٰھم ہدایۃ الحق و الصواب
پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر اپنے حلف میں سچا ہے تو دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئی ہیں اور دو طلاقیں رجعی کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر بغیر نکاح کے اور عدت کے بعد نکاح کے ذریعے رجوع ہوسکتا ہے۔ اور عدت کے اندر رجوع کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ شوہر دو گواہوں کی موجودگی میں یہ الفاظ کہے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا۔ اگر اس طریقے سے رجوع نہ کیا بلکہ فعل سے کیا تو رجوع ہوجائے مگر اس طرح رجوع کرنا مکروہ و خلاف سنت ہے۔ اور رجوع کرنے کے بعد اسے صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔ پھر کبھی ایک طلاق دی تو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ اور شرعی حلالے کے بغیر رجوع کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ اور شوہر کے بیان کے مطابق یہ الفاظ کہ میں تمہیں طلاق دیدوں گا ، اس سے کوئی طلاق واقع نہ ہوئی کیونکہ یہ طلاق دینا نہیں بلکہ آئندہ طلاق دینے کا اظہار ہے، اور اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ بیوی کے بیان کے مطابق تینوں طلاقیں واقع ہورہی ہیں۔ وہ اسطرح کہ 6سال قبل پہلی طلاق واقع ہوئی ، ایک سال قبل ان الفاظ ’’میں نے تجھے طلاق دی ‘‘سے دوسری طلاق واقع ہوئی ،اب مورخہ (07-10-2016)کو تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی۔ اب شوہر اور بیوی کے بیان میں تضاد ہے کہ شوہر تیسری طلاق کا انکار کررہا ہے جبکہ اسکے برعکس بیوی کے بیان کردہ الفاظ سے تینوں طلاق واقع ہورہی ہیں تو اس صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ بیوی اپنے بیان پر نیک ، صالح ، پرہیزگار، پابند شرع گواہ پیش کرے جو کہ یہاں موجود نہیں۔ نیز گواہوں کے بیانات اور ان کی تحقیقات کے مطابق فیصلہ کرنا قاضی کا کام ہے۔ لہٰذا جب گواہ موجود نہ ہوں یا گواہوں کے مطابق طلاق کا حکم ثابت نہ ہوسکے تو دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ شوہر قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے تین دفعہ یہ الفاظ نہیں کہے تو اسکی قسم کو مان لیا جائے گا اور اسکے حلف دینے کے سبب عورت کو اس کی زوجہ ہی قرار دیا جائے گا اور نکاح ٹوٹنے کا حکم نہیں دیا جائیگا۔
عورت کے لئے حکم : لیکن اگر عورت بالیقین جانتی ہے کہ مرد نے اسے تین طلاق دیدی ہیں اور اب وہ انکار
کرتا ہے تو عورت ہرگز ہرگز مرد کے ساتھ نہ رہے ۔ اور چونکہ شوہر کے بیان کے مطابق دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئی ہیں اور شوہر نے ابھی تک رجوع بھی نہیں کیا لہٰذا عورت عدت پوری کرے ، اگر شوہر عدت کے دوران کسی طرح بھی رجوع نہیں کرتا تو عورت عدت گزار کر آزاد ہوگی ، نکاح سے نکل جائیگی ، جہاں چاہے شادی کرسکتی ہے۔ اسی شوہر سے دوبارہ نکاح نہ کرے کہ عورت کی بیان کے مطابق تو تین طلاقیں واقع ہورہی ہیں اور تین طلاقوں کے بعد شرعی حلالے کے بغیر رجوع کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ اگر شوہر عدت میں کسی بھی طرح رجوع کرلیتا ہے تو پھر عورت شوہر کے بیان کے مطابق اسکے نکاح میں رہے گی۔مگر عورت پر لازم ہوگا کہ ہر ممکن طریقے سے اس سے دور بھاگے اور اسے خود پر اختیار نہ دے۔ اس سے طلاق لے ، چاہے مہر چھوڑ کر یا اور مال دے کر اور اگر شوہر زبردستی اس سے میاں بیوی کے تعلقات قائم کرے تو دل سے اس پر راضی نہ ہو۔ اور اگر یہ راضی ہوگئی تو گناہگار ہوگی اور دل سے راضی نہ ہو تو گناہگار نہ ہوگی۔
ضروری تنبیہ: اگر شوہر نے واقعی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہے تو اس پر لازم ہے کہ بیوی کو چھوڑ دے۔ ورنہ ایسی صورت میں اس کے قریب گیا تو صریح حرام و گناہ کا مرتکب ہوگا۔ اور شرعی حلالے کے بغیر اس عورت کو نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ اور جھوٹا حلف اٹھانا قیامت کے دن یقیناًاسے کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور اگر بیوی اپنے بیان میں جھوٹی ہے تو سخت گناہگار ہوگی۔ اور جھوٹا بیان ہونے کی صورت میں فتویٰ اسے بھی کام نہ دے گا۔ دو طلاق کے بارے میں اللہ عزو جل ارشاد فرماتا ہے (الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان) ترجمہ کنزالایمان: یہ طلاق (جس کے بعد رجعت ہوسکے) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا‘‘۔ پھر تیسری طلاق کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے (فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا ان ظن ان یقیما حدود اللہ )ترجمہ کنز الایمان: پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے۔‘‘
بہار شریعت میں ہے ، :رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے۔ اور عورت کو بھی اسکی خبر کردے کہ عدت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔ اور اگر کرلیا تو تفریق کردی جائے۔ اگرچہ دخول کرچکا ہو کہ یہ نکاح نہ ہوا۔ اور اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کئے یا گواہ بھی کئے مگر عورت کو خبر نہ کی تو مکروہ و خلاف سنت ہے۔ مگر رجعت ہوجائے گی۔ اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہوگئی مگر مکروہ ہے۔ اسے چاہیے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے ۔‘‘ (بہار شریعت ، جلد 2 ،صفحہ 170-171 )۔
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں ’’اگر ہزار بار کہے میں تجھے طلاق دے دوں گا طلاق نہ ہوگی۔ و ھٰذا ظاہر جدا ، وفی جواھر الاخلاطی فقال الزوج طلاق سیکتم طلاق سیکتم انھا ثلاث لان می کنم یتمحض للحال وھو تحقیق بخلاف قولہ کنم لا نہ یتمحض للا ستقبال و بالعربیۃ قولہ اطلق یا یکون طلاقا دائر بین الحال و الاستقبال فلم یکن تحقیق مع الشک الخ‘‘۔(فتاویٰ رضویہ جلد 12، ص588)
سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال کیا گیا کہ اگر زوجین میں طلاق کی بابت اختلاف ہو خاوند منکر اور بی بی طلاق کا ثبوت دینا چاہتی ہو تو ثبوت کا کیا طریقہ ہے ؟ تو جواب میں ارشاد فرمایا ’’بحالت اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی ادا کریں کہ اس نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی…ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا۔ اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی۔ اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت ہوجائے گی‘‘، (فتاویٰ رضویہ جلد 12، ص 253,252)
مزید ایک مقام پر ارشاد فرماتے ہیں ’’اگر واقع میں تین طلاقیں دی ہیں عند اللہ عورت اس پر حرام ہوگئی ہے۔ بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔ قال اللہ تعالیٰ : فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ اور اس کا انکار اللہ عزو جل کے یہاں کچھ نفع نہ دے … اگر ان میں ایسے گواہ نہ ہوں اور عورت کے سامنے طلاق نہ دی ہو تو عورت اس سے حلف لے۔ اگر وہ حلف دے کہ میں نے طلاق نہ دی تو عورت اپنے آپ کو اس کی زوجہ سمجھے اگر اس نے حلف جھوٹا کیا تو وبال اس پر ہے۔ اور اگر خود زوجہ کے سامنے اسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملتے تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے۔ اگرچہ اپنا مہر چھوڑ کر ، یا اور مال دے کر ، اور اگر وہ یوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اپنے اوپر قابو نہ دے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کبھی اپنی خواہش اس کے ساتھ زن و شوکا برتاؤ نہ کرے۔ نہ اسکے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو پھر وبال اس پر ہے۔ لا یکلف اللہ نفس الا وسعھا‘‘(فتاویٰ رضویہ ، جلد12، ص 424-423 مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔ و اللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم عز وجل و صل اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کتبہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی ابو عبد اللہ محمد سعید العطاری المدنی
الجواب صحیح العبد المذنب محمد فضیل رضا العطاری عفی عنہ الباری
اللہ نے یہ ظالمانہ فتویٰ مسلط نہیں کیا بلکہ انسانوں نے خود اس طرح کی شریعت بنانے کا ظلم کیا، جس کا تدارک فرض ہے۔ عتیق گیلانی

kanzul-iman-masjid-fatwa-triple-talaq-2