کوئٹہ سے سوات تک علماء اُٹھ جائیں

510
0

کوئٹہ (عبد العزیز، محمد زبیر) کچلاک کے معراج خان ولد ملک باز محمد خان کا تعلق جمعیت علماء اسلام (ف) سے تھا۔ پھر الگ ہوا کہ جمعیت نے قرآن و سنت کے بجائے دنیاوی اقتدار کو اپنا نصب العین بنالیا ۔ پھر خوابوں کی بشارت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حکم ملاکہ امام مہدی کیلئے تحریک خراسان پاکستان کی بنیاد پر کام کرے۔ وہ بڑے درد ناک انداز میں پشتو اشعار پڑھتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے ۔ ہمارا کالا جھنڈا ہے جو خوبصورت بلند ہے ۔ حق کی یہ نشانی ہے۔ پانچ اس میں ستارے ہیں اور دوسرا یہ کہ چاند اس میں واضح ہے۔ میں کتاب سے بولتا ہوں ، بڑی قیامت کے باب سے مسلم عالی جناب !مشکوٰۃ ، ترمذی ، ابن ماجہ میں یہ لکھا ہوا ہے ، جانان ﷺ کی حدیث ہے ، تحریک خراسان کی ہے ، یہ بہت بڑا بخت ہے اے مسلماں!۔ اے اُمت! اگر تم شامل ہوجاؤ ، یہ امام مہدی کا لشکر ہے ۔ یہود ہوں کہ نصاریٰ ، بیت اللہ کے اوپر قابض ہیں اور وہ سچے گمراہ ہیں۔ بیت المقدس پر اسرائیلیوں کا قبضہ ہے۔ سب ایک بات پر متفق ہوجاؤ ۔ تو کفر کی سرداری ٹوٹ جائیگی ۔ حق تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے ۔ قرآن کو دہشت گرد کہا جائے، یہ فرعونی دعویٰ ہے۔ میں طالب خراسان کا ہوں ، پورے جہان کیلئے اٹھ کھڑا ہوں، میں بے بس و کمزور ہوں۔ اللہ آپ مدد کرو ، مدینہ پریشان ہے۔
جولائی 1999ء میں ضرب حق کی مین لیڈ لگی مولاناامیر حمزہ بادینی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اسلام (س) نے فرمایاکہ عتیق گیلانی کی حمایت کے بارے میں کچھ دوستوں سے مشورہ کیا لیکن دوستوں نے اجازت نہیں دی۔اللہ کے فضل سے حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی 25اپریل 1999ء کومدینہ منورہ میں استخارہ کیا ، مجھے بشارت ہوئی کہ سید عتیق الرحمن گیلانی اُمت مسلمہ کا خیر خواہ ہے۔ مولانا بادینی نے علماء کرام ، بزرگان دین اور عوام سے کہا کہ وہ ملکر شاہ صاحب سے تعاون فرمائیں۔ حال ہی میں ٹانک وزیرستان کے مولانا عصام الدین محسود نے گیلانی کے اہداف کو درست اور علماء کی روش کو غلط قرار دیا تھا۔