Home Unity محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے روئے پر اجمل ملک...

محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے روئے پر اجمل ملک ایڈیٹر نوشتہ دیوار کا تبصرہ

348
0

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹراجمل ملک نے محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے روپے پر تبصرہ کیا کہ: کالا قانون 40ایف سی آرکی کیا حیثیت ہے؟، محترم اچکزئی اس کے ذریعے قبائل کو افغانستان سے الحاق کی دھمکی دیکر اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرنیکے چکر میں تو نہیں ؟۔ پیریونس شاہ کے ہمراہ پیر عبدالواحد کی حال میں اچکزئی سے ملاقات ہوئی ، پیر عبدالواحد نے نوشتۂ دیوار سے مطالبہ کیا کہ یہ ہم قبائل سے زیادتی ہے کہ 40 ایف سی آر کو ختم کرکے قبائل کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا جانے لگا تومحمود اچکزئی رکاوٹ بن گئے۔ وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخواہ سے الحاق کا اعلان کیا تو مولانا فضل الرحمن نے مخالفت کردی۔سرحد نام انگریز کی سازش تھی، جسے بدلنے کیلئے نوازشریف تیسری بار وزیراعظم کی شرط پر راضی ہوا۔ قبائلی علاقہ کیخلاف کوئی نیا ڈرامہ تو نہیں کھیلا جارہا؟ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو،ٹل، کوہاٹ، پشاور اور دیر پختونخواہ کے سیٹل علاقے قبائل کیلئے مرکز اور سر کی حیثیت رکھتے ہیں ، جہاں کمشنریاں ہیں ، کمشنرکے ماتحت پولیٹیکل ایجنٹ کام کرتا ہے۔ قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کی بات دُموں کا گلدستہ بنانے کے مترادف ہے۔
محمود خان اچکزئی ومولانا فضل الرحمن کے سیاسی ومذہبی اکابر متحدہ ہندوستان کے حامی تھے، ان کی حب الوطنی پر شک انتہائی لغوبات ہے۔ پاکستان کی مخالفت کرنیوالوں کے اسلام سے محبت پر شک اسلئے کیا گیا کہ انہوں نے اسلام پر حب الوطنی کو ترجیح دی ۔ عبدالغفارر خان،شہید عبدالصمد خان، غوث بخش بزنجو ، حبیب جالب،فیض احمد فیض اور مفتی محمودکی حب الوطنی ان صحافیوں کی سند کا محتاج ہرگز نہیں جو کتوں کی طرح کسی کے ہُش پر پیچھے پڑتے ہیں۔ پرویزمشرف نے کہا کہ عالمی قوتوں کے کہنے اور تعاون سے ہم نے طالبان بنائے ۔ محمود خان اچکزئی کے جرأتمندانہ بیانات اسمبلی کے فلور پرہیں اورجو ببانگِ دہل کہتے تھے کہ ہمارے خفیہ ادارے امریکی سی آئی اے سے زیادہ ہوشیار نہیں ، انکے تعاون سے جہادی گروپوں کی افزائش ملک ، قوم، ملت کیلئے بہت نقصان کا باعث ہے۔ آج ان کی باتیں ہو بہو درست ثابت ہوئی ہیں، جس سے کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔
برطانیہ نے برصغیرپاک وہند پر قبضہ کیا تو افغانستان سے ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ کیا۔ ایک طرف متنازعہ کشمیر کا محاذ چھوڑا، دوسری طرف افغانستان سے یہ معاہدہ ایک خاص مدت کیلئے کیا۔ قبائل نے انگریز کیخلاف آزادی کیلئے جتنی قربانی دی، اتنی پورے برصغیر پاک وہند کے تمام سیاسی لوگوں نے بھی نہیں دی ،علماء کافتویٰ غلام ہندوستان کیلئے تھا کہ رہنے سے نکاح ٹوٹ جائیں گے، جس سے قوم پرستوں کے سرخیل عبدالغفار خان نے بھی قبول کرکے افغانستان ہجرت کی تھی۔ قبائل نہ تو افغانستان کا حصہ تھے اور نہ انگریز کی وہ دسترس تھی کہ علماء نکاح ٹوٹنے کے فتوے دیتے۔ قوم پرست کہتے ہیں کہ جاہل علماء کا فتویٰ بالکل غلط تھا ۔مولانا فضل الرحمن کہے گا کہ خانہ بدوشوں پر وہ فتویٰ لاگو نہیں ہوتا۔میرے آباء واجداد اس کی زد میں نہیں آتے، مولانا محمد خان شیرانی قبائل کا سہارا لے گا لیکن اسلامی نظریاتی کونسل میں اس فتوے پر بحث کی جائے جس کی وجہ سے کتنوں کے نکاح باقی نہیں رہے ہونگے؟۔ قبائل نے افغانستان میں قوم پرستوں کے ہیروامیر امان اللہ خان کی حکومت قائم کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کیا جو جرمنی کی مدد سے افغانستان پر قابض ہوا تھا۔ کانگریس کی مدد بھی جرمنی کررہی تھی اسلئے قوم پرستوں پر انگریز دور سے ایجنٹ کا الزام لگتارہا ہے۔ انکا یہ کہنا درست تھا کہ انگریز سے حب الوطنی کی سند ضروری نہیں۔ انگریز گیاتو قبائل نے پاکستان کو دل وجان سے قبول کیا، اگر پاکستان فیصلہ کرتا کہ قبائل کو اپنے سے جدا کرنا ہے، تو بھی یہ واضح حقیقت ہے کہ قبائل افغانستان میں شامل نہ ہوتے۔ افغانی بیچارے خود شورش زدگی کے ہمیشہ شکار رہے ہیں۔ انگریز دور میں قبائل افغانستان کا حصہ نہیں بنے تو آج کیسے بن سکتے ہیں؟۔ سندھ و ہند کی طرح قبائل اور افغانستان بھی الگ تھے ۔سندھ (پنجاب وکشمیرتک تھا) کو ہند کا حصہ قرار دینے کیلئے برطانیہ جیسی عالمی قوت کی ضرورت تھی تو قبائل کو افغانستان سے ملانے کیلئے اس سے بڑی طاقت درکار ہوگی۔روس افغانی قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا، نیٹو بھی ناکامی کا سامنا کر رہاہے۔ پاکستانی قبائلی علاقوں پر منصوبہ بندی سے دہشتگردوں کا قبضہ کروایا گیا مگر قبائل کی اپنی بھی غلطی تھی جس کا خمیازہ وہ بھگت رہے ہیں۔ امریکہ نے دہشتگردوں کو ٹرینڈکیا، حمایت کی فضاء ہموار کی اور وہی پکڑ نے کے بعد ہیرو بناکر چھوڑ رہاہے، جب قبائل میں امریکہ مجاہدین کی تلاش میں آیا تو عبداللہ محسود کو گوانتا ناموبے سے ہیرو بناکر چھوڑ دیا ۔ عبداللہ محسود کے فرشتوں کو پتہ نہ ہوگا کہ افغانستان سے امریکہ نے پکڑا، پھر وہیں چھوڑا کہ پھر پاکستان سے لڑنے کا کیا تُک بنتاہے؟۔ مگرعبداللہ محسود نے شعوری طور سے پاکستان کیخلاف اسلئے خود کش تیار کئے کہ چاچا پرویز مشرف خیر خوشی سے یا بامر مجبوری امریکہ کا اتحادی تھا۔ طالبان کے بڑے مخالف فیصل رضاعابدی نے میڈیا پر بتایا کہ اسلام آباد میں امریکی فوج کیلئے بڑا کمپاؤنڈ تیار ہورہاہے تو یہ طالبان کے حامی مجاہدین ، علماء اور سیاستدان امریکیوں کیخلاف یہاں احتجاج کیوں نہیں کررہے ہیں؟۔ فیصل رضا عابدی کی یہ گفتگو نادانستہ ان طالبان کی حمایت کا ذریعہ ہے جو پاکستان کو نشانہ بنارہے ہیں۔اس لاشعوری جنگ سے چھٹکارا پانے کیلئے ضروری ہے کہ مل بیٹھ کر مسائل پر قابو پائیں۔ جنرل راحیل لاہوری ہیں، عاصمہ جہانگیر، مبشر لقمان فخریہ کہتے ہیں کہ ہم لاہوری ہیں، جنرل ضیاء الحق آرائیں تھے مگر بھٹو کو کیسے ٹانگا؟۔ جنرل قمر باجوہ بہادر جٹ ہیں، ان کی ملنساری کی وجہ بھکر سے تعلق ہے۔ شہباز شریف نے پچھلا الیکشن بھکر سے لڑا مگر وہاں کی کوئی خدمت نہ کی۔ رؤف کلاسرا جیسے یہ لوگ قسمت کے شاکی ہیں۔ دہشتگردوں کو پہلے کبھی ایسا نشانہ نہ بنایا گیا، پاکستان و افغانستان میں جٹ آرمی چیف نے اپنی بات سچ ثابت کرکے 100 سے زیادہ مار دئیے، ٹانک کے دور دراز علاقے پنگ میں عصمت اللہ شاہین کاگروپ مارا مگر ہزار کارنامے کے باوجودآرمی چیف یہ نہیں کہہ سکتے ’’میں بھکری ہوں‘‘ سرائیکی جفاکش ،وفا شعاراور ملنسارلوگ ہیں، مولانا شیرانی کا فوج سے متعلق 9/11 سے پہلے بیان تفصیل سے شائع کیا تووہ قدرے ناراض ہوئے۔ ریاست،قوم اور وطن کو مشکلات سے نکالنے کی ضرورت ہے ۔مولانا شیرانی اسلام اور نوکری کاحق اد کریں ۔اجمل ملک