اسلاف ہمارے لئے سرمایہ افتخار کیوں؟ عتیق گیلانی

411
0

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لااکراہ فی الدین ’’دین میں جبر کا کوئی تصور نہیں ‘‘۔ کسی کوزبردستی سے منافق تو بنایا جاسکتاہے لیکن مؤمن نہیں۔ منافق کادرجہ فی درک الاسفل من النار’’جہنم کا نچلا ترین ہے‘‘۔ایسا کوئی ماحول بنانا جس سے تشدد کے ذریعے منافقت کی راہ ہموار ہو اسلامی تعلیمات، فطرت اور انسانیت کے بالکل منافی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام، صدیقین، شہداء اور صالحین کا راستہ ظلم وجبر، تشدد وزبردستی کا ہر گز نہیں۔ اسلام سے پہلے بھی فرقہ واریت کا شدید ترین مسئلہ رہاہے لیکن اسلام نے اس کا حل قتل وغارت اور ظلم وتشدد سے پیش نہیں کیا بلکہ تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کو قرآن میں تحفظ دینے کی تعلیم دی۔ صوامع، بیع، صلوٰت اور مساجد میں اللہ کے نام کا کثرت سے ذکر کی سند جاری کرکے مجوس،یہود ونصاری اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کو تحفظ فراہم کیاہے۔ یہ کسی مخصوص وقت کیلئے نہیں بلکہ قیامت تک کیلئے آیات ہیں اور جب یہ آیات نازل ہوئی تھیں تو اس وقت کے یہود ونصاریٰ ، مجوس و صابی موجودہ دور کے مقابلے میں زیادہ گمراہ تھے۔ دنیا میں عذاب کے بھی مستحق اسلئے تھے کہ اس وقت انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ جاری تھا، جن سے اتمام حجت بھی ہوجاتی تھی۔ اللہ نے فرمایا : وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ’’ اور ہم عذاب نہیں دیتے ہیں یہاں تک رسول کو مبعوث نہ کردیں‘‘۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ہوئی، یہود نے بے انتہا مظالم کردیے، گستاخانہ ذہنیت کی انتہا کری مگر جب اسلام نازل ہوا تو عیسائیوں کو مشرکانہ اور یہود کو گستاخانہ ذہنیت کے باوجود برداشت کرنے کی تعلیم دی اور اللہ نے فرمایا: ان الذین اٰمنوا والذین ہادووالنصٰری والصٰبئین من امن باللہ والیوم الاٰخر لھم اجر فلاخوف علیھم ولاھم یحزنون ’’بیشک جو لوگ ایمان لائے، اور جولوگ یہودی ہیں اور نصاریٰ ہیں اور صابئین ہیں، جو اللہ اور آخرت کے دن پرایمان لائے تو ان کیلئے اجرہے ، نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔
جس اسلام نے صحابہ کرامؓ اور اہلبیتؓ کے دل ودماغ میں بے پناہ وسعتیں پیدا کردیں، اسکے نام سے ہم نے جبروتشدد کی ایسی پگڈنڈی بنائی کہ دنیا کے مختلف ومتضاد مذاہب تو بہت دور کی بات ہے، اگر آیت میں انکی جگہ دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث اور اہل تشیع کو رکھا جائے تب بھی فرقہ بندی کے خوگر اس ایمانی مٹھاس سے اتنا ہی پرہیز ضروری سمجھتاہے جتنا شوگر کا مریض قدرت کی عظیم نعمت مٹھاس سے۔ یہی حال رہا تو بعیدنہیں کہ جنت میں انواع واقسام کے مٹھاس سے دوسرے تو مانوس ہوکر خوف وغم سے آزاد بھی رہیں، تعصب سے قرآنی آیات کا کھل کر انکار کرنیوالوں کی قسمت میں جہنم کا شجرہ زقوم ہو۔ اللہ و آخرت پر بھی ایمان کے بعد اچھا عمل صدیقین، شہداء اور صالحین کی صف میں شامل کرتا ہے اور اچھے اعمال کے بغیر دوسروں کے خلاف تشدد کی آگ بھڑکانے والے ان لوگوں کی اکثریت ہوتی ہے جو مرد ہوکر بھی ایکدوسرے کیساتھ جنسی عمل کے عادی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ’’ ان دونوں( فاعل مفعول) کو اذیت دو، اگر توبہ کریں تواللہ در گزر کرنے والاہے‘‘۔
صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے تشدد اور نفرت کی ایسی آگ نہیں بھڑکائی تھی جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر دوسروں کے خلاف قتل وغارتگری اور جنگ وجدل کا بازار گرم ہو۔ اسلام افہام و تفہیم اور اچھے انداز کی تعلیم وتربیت سے جانی دشمن کے سامنے بھی ایسے انداز میں بات کرنے کی تلقین کرتاہے کہ جس سے وہ گرم جوش دوست بن جائے۔ انبیاء کرامؑ ،صدیقین، شہداء اور صالحین کی راہوں پر چل کر صحابہ کرامؓ اور اہلبیت عظامؓ نے اختلاف کو تشدد میں بدلنے سے بچنے کیلئے جو راستہ اختیار کیا وہ مثالی تھا۔ حضرت عثمانؓ نے مسند پر شہید ہونا قبول فرمایالیکن فساد نہیں پھیلایا، حضرت علیؓ نے منصب سے دستبردار ہونے کی بات قبول کرلی مگر خوارج نے بغاوت کردی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’رسول اللہﷺ نے رسول اللہ کے لفظ کو بھی صلح حدیبیہ میں قلم زد کیا‘‘ ۔ مگروہ نہ مانے اور کہا کہ ’’قریش بحث کرنے کے عادی ہیں‘‘۔اللہ نے میاں بیوی کے درمیان ایک ایک حکم دونوں طرف سے مقرر کرنے کاحکم دیالیکن تحکیم کو کفر قرار دیاگیا۔ صلح حدیبیہ پر مشرکینِ مکہ قائم رہتے تو حضرت عمرؓ کے دور تک مسلمان اسی پر کاربند رہتے۔ دنیا میں عدل کے قیام کیلئے اسلام سے زیادہ پرامن جدوجہد کی مثال نہیں ملتی ہے۔