اسلام دین فطرت ہے، منافق کیلئے اسمیں کوئی جگہ نہیں

صحابہ کرامؓ رسول اللہ ﷺ کے خواب پر یقین و ایمان رکھ کر عمرہ کیلئے مکہ مکرمہ روانہ ہوگئے۔ حدیبیہ کے مقام پر مشرکین مکہ سے مذاکرات کیلئے حضرت عثمانؓ کو بھیجا۔ دشمنوں نے شرارت کی اور افواہ اڑادی کہ سفیر اسلام حضرت عثمانؓ کو شہید کردیا گیا۔ احرام کی چادروں میں لپٹے ہوئے مسلمان لڑنے کیلئے نہیں آئے تھے لیکن مشرکین مکہ نے ان کی غیرت کو آخری حد تک چیلنج کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے حضرت عثمانؓ کا بدلہ لینے کیلئے بیعت لی۔ جس پر اللہ نے فرمایاکہ’’ اللہ کا ہاتھ انکے ہاتھوں کے اوپر تھا۔ بیشک اللہ ان سے راضی ہوا جنہوں نے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی‘‘۔ پھر مشرکین مکہ نے جب اس نزاکت والے معاملے کو سمجھا تو صلح حدیبیہ پر آمادہ ہوئے۔ طالبان نے بھی بے سرو سامانی کے باوجود امریکہ کے B52طیاروں اور ہتھیاروں کو چیلنج کیا تھا۔
جب کچھ خواتین مکہ سے فرار ہوکر مدینہ پہنچیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں واپس کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہمارے معاہدے میں صرف مردوں کیلئے بات ہوئی تھی۔ جسکی اللہ نے بھی قرآن میں حمایت کردی۔ جب مشرکین نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑتے ہوئے مسلمانوں کے حلیف کافر قبیلے بنو خزاعہ کے خلاف بنو بکر کی مدد کی تو نبی ﷺ نے اپنے کافر حلیف قبیلہ کا بدلہ لینے کیلئے مکہ کو فتح کیا۔ قرآن میں اللہ کا حکم ہے کہ ظالم کافروں کو اس حد تک پہنچادو کہ ذلیل ہوکر جزیہ دیں۔ جب 9/11کا واقعہ ہوا تو امریکہ نے اقوام متحدہ کی اجازت سے ہی افغانستان پر حملہ کیا۔ پاکستان کے پاس اقوام متحدہ کے رکن کی حیثیت سے کوئی چارہ نہیں تھا کہ امریکہ کا ساتھ نہ دیتا۔ جبکہ افغانستان کی طالبان حکومت کو اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ پاکستان میں انکار کی صلاحیت بھی نہیں تھی۔
مولانا مسعود اظہر تہاڑ جیل میں تھے تو اتنی آزادی پاکستان کی ذرائع ابلاغ میں بھی حاصل نہ تھی جتنی انڈیا کے جیل میں حاصل تھی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ مسعود اظہر دہشتگرد ہے اس نے مجھ پر بھی حملہ کروایا۔ پرویز مشرف مولانا مسعود اظہر کو امریکہ کے حوالہ کرتے یا انڈیا کے لیکن پھر بھی مولانا مسعود اظہر کے مشن پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا تھا۔ تہاڑ جیل میں بھی آزادی تھی اور امریکہ نے ملا ضعیف کو بھی آخر کار چھوڑ دیا۔ بھارت اپنا رویہ بدلے ، کلبھوشن ہی دہشتگرد ہے۔ امریکہ کے ہاتھ میں نہ کھیلے اور نہ نقل اتارے۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا۔
رستم شاہ مہمند نے کہا کہ ’’ اسلام کی ہزار سالہ تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ کسی خاتون کو اس طرح سے کافروں کے حوالے کیا گیا ہو جس طرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جنرل پرویز مشرف نے حوالے کیا۔ میرا رابطہ رہتا تھا اور مجھے بتایا گیا کہ ایک خاتون کی چیخوں کی آواز بگرام ایئر بیس افغانستان میں آتی ہے تو میں نے کہا کہ معلوم کرو کہ افغانی ہے یا پاکستانی؟۔ مجھے بتایا گیا کہ پاکستانی خاتون ہے جس کے ساتھ امریکی فوجی جبری جنسی تشدد کرتے ہیں۔ ملا ضعیف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مجھے پاکستانی افسروں نے امریکی فوجیوں کے حوالے کیا تو انہوں نے مجھے ننگا کیا اور مجھ پر چڑھ گئے، یہ شرمناک کھیل پاکستانیوں نے دیکھا اور اتنا بھی نہیں کہا کہ ہمارے سامنے سے ملا ضعیف کو ہٹا لو اور پھر جو کرنا ہو مرضی ہے۔ پرویز مشرف نے انسانیت اور مسلمانوں کو داغدار کردیا‘‘۔
رستم شاہ مہمند اگر اسی وقت ڈاکٹر عافیہ کی بات پر استعفیٰ دیدیتا تو شاید امریکی حکام تک ڈاکٹر عافیہ کی داد رسی ہوجاتی۔ برسوں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا پتہ بھی نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں ہے؟۔ رستم شاہ مہمند اگر بتادیتے تو کم از کم انکے لواحقین کو اطمینان تو ہوتا کہ امریکیوں کی قید میں ہے۔پھر شاید وزیر اعظم عمران خان کی طرح پروپیگنڈے سے اہل خانہ کو یہ اطمینان بھی ہوجاتا کہ مغرب میں انسان رہتے ہیں۔ امریکی ڈاکٹر عافیہ سے جانوروں والا سلوک نہیں کرتے ہونگے۔
رستم شاہ مہمند نے ہٹلر کا قول اپنے لئے درست نقل کیا کہ ’’ذلت کے ماحول میں غیرت کی توقع نہیں ہوسکتی ‘‘۔ اپنی ریاست کی خامیوں کو دور کرنے کیلئے سب کو ملکر فتوؤں سے لیکر عدالتی نظام تک اور پولیس سے لیکر اعلیٰ آرمی ایجنسیوں تک باہمی مشاورت سے ضروری ہے۔ آزادی بڑی نعمت ہے اور اس میں شک نہیں کہ پاکستان کا عدالتی نظام قابل اصلاح ہے لیکن نہ ہونے سے پھر بھی بہت بہتر ہے۔ پشاور میں آرمی اسٹیدیم ایک بہت بڑا پارک تھا لیکن عدالت نے اس کا قبضہ آرمی سے چھڑایا۔ آرمی میں بہت خامی ہوسکتی ہے مگر پاکستان کا استحکام آرمی کی بدولت ہے۔ جب ہم پر مشکل وقت تھا ، طالبان نے دہشتگردی کی بدترین واردات کرکے مائن بھی بچھائے تھے تو متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے مائن صاف کرنے کی سرکاری اسکواڈ سے بھی انکار کیا۔ ہم نے پرائیویٹ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی خدمات حاصل کیں۔ رات کی تاریکی میں بھاگتے ہوئے طالبان بارودی سرنگیں بچھا سکتے تھے تو سالوں سال وزیرستان میں رہائش پذیر دہشتگردوں نے بھی کتنی بارودی سرنگیں بچھائی ہوں گی؟۔ یہ تاریخی حقائق کوئی مٹا نہیں سکتا ۔
فوج نے پی ٹی ایم کے مطالبے پر جنوبی وزیرستان محسود ایریا سے بارودی سرنگوں کو صاف کیا اور منظور پشتین نے اس کو سراہا تو یہ ٹھیک بات تھی۔ وہ لوگ جو اپنے ملک سے باہر بیٹھ کر حقائق سے بے خبر ہیں اور ہر بات میں پنجاب اور فوج کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ان کو بیرون ملک امن و امان کی فضا ء میں مفت کے نعرے لگانے کے بجائے اپنے ملک میں آکر ہمت دکھانی چاہیے۔ منظور پشتین نے ڈان نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پی ٹی ایم پختونوں کی قومی تحریک ہے اور پی ٹی ایم کی کوئی رائے نہیں کہ قبائلی علاقہ جات پختونخواہ کیساتھ ضم ہوں یا الگ صوبہ بنے۔ پی ٹی ایم دونوں کے حق میں ہے۔ البتہ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ پختونخواہ کیساتھ ضم ہو‘‘۔ جو لوگ منظور پشتین کے نام اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے پاکستان کو پنجاب کی حکومت کہتے ہیں اگر ہمت ہو تو منظور پشتین کو بدنام نہ کریں۔ اگر آج منظور پشتین نے ان لوگوں کے حوالے سے کوئی درست وضاحت پیش نہیں کی تو کل وہ منظور پشتین کیلئے بھی گل خان کے نعرے لگائیں گے۔ منظور پشتین نے ایک مشکل وقت میں اپنی محسود قوم کے تحفظ کیلئے کام کیا اور پھر جب اپنی قوم کے لوگ ملکان اور علماء کیساتھ چھوڑ کر چلے گئے تو اپنی تحریک کو محسود تحفظ موومنٹ کی جگہ پشتون تحفظ موومنٹ کا نام دیا۔ اگر یہ تحریک مظلوم تحفظ موومنٹ کے نام سے کام کرتی تو بلوچ ، سندھی ، مہاجر، پنجابی سب اس جھنڈے تلے اکھٹے ہوتے اور عمران خان کی جگہ منظور پشتین آج ملک کا وزیر اعظم ہوتا۔
خوشگوار تبدیلی کیلئے قرآن کی عظیم تعلیمات کو دیکھنا ہوگا۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور علماء قرآن و سنت سے برگشتہ ہیں۔ اگر پختون قوم طالبان کو وقت پر پہچان لیتی تو اس قدر مشکلات کا شکار نہ ہوتی۔ اب بھی وقت ہے کہ علماء کرام کو راستے پر لانے کیلئے پاکستانی قوم ایک زبردست تحریک چلائے۔خامیوں کی کوئی اصلاح کرنا چاہتا ہو تو استنجے کے بغیر قوم کی امامت نہیں کرسکتا ہے۔ پہلے اپنی ہی خامیوں پر نظر مشکل سے جاتی ہے جو انقلاب کیلئے بنیاد ہے۔سید عتیق گیلانی

اپنا تبصرہ بھیجیں