نا اہل موروثی قیادتیں؟

301
0

bilaval-maryam-bachakhan1--OctobSpecial2016

ہماری قوم بدترین زوال وپستی کا شکار اسلئے ہے کہ سیاسی ومذہبی قیادتیں موروثی بنیادوں پر اپنی نااہلیت کے باجود سب پر مسلط ہیں، اسفندیاراوربلاول زرداری کا کوئی اپنی پارٹی میں ثانی نہ ہو، تو مریم نواز کو بھی ن لیگ کی قیادت سونپ دی جائیگی جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور نواسے کے سلسلوں کی کیفیت رہی ہے، پاکستان کے آئین میں ترمیم ہونی چاہیے کہ وہ سیاسی جماعتیں ملکی انتخابات میں نااہل ہیں جن کے ہاں موروثی قیادت کا نظام ہے، نوازشریف پرویز مشرف کے ساتھ معاہدہ کرکے سعودی عرب چلا جائے اور پاکستان میں بغاوت ، جیل اور بدترین تشدد کا سامنا مخدوم جاوید ہاشمی کر رہا ہو مگر جب نواز شریف کو اقتدار مل جائے توجانشین مریم نوازبن جائے۔ مسلم لیگ ن میں اخلاقی، سیاسی اور انسانی اقدار کا فقدان نہ ہوتا تو یہ ن نہ ہوتی بلکہ اصل مسلم لیگ کا سربراہ جاویدہاشمی بن جاتا۔ جس نے تحریک انصاف میں جاتے ہوئے بھی اعلان کیا تھا کہ میری لاش لیگ کے جھنڈے میں دفن کی جائے۔ کشمیر کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کے اجلاس کا تحریک انصاف نے بائیکاٹ کیا تو بھی حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں میں صرف 75ارکان اسمبلی تھے ۔ 380ارکان میں سے اتنی کم تعداد کی شرکت کرنا اور ان کی بھی آپس میں مڈ بھیڑ یہ پتہ دیتی ہے کہ ہمارے سیاسی جماعتوں کی قومی معاملات سے کتنی دلچسپی ہے؟۔
بلاول بھٹو زرداری ٹی او آرکے مسئلہ پر اپوزیشن کی حمایت کیلئے مولانا فضل الرحمن سے مدد لینے گئے لیکن الٹا شکار کرنے کے بجائے خود ہی شکار ہوگئے۔ جس طرح اسکے والد آصف علی زرداری پاک فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی کے بعد بیان کے متن کی غلط تشریحات کرتے رہے اسی طرح بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم نوازشریف اور انکل الطاف کے بارے میں اپنے بیانات کی غلط تشریحات کی اور شیر ڈیزل سے نہیں چلتا ، کی بھی تلافی کرنے کی کوشش کی ۔ ہواؤں کے رخ کو دیکھ کر جو بلاول اپنے باپ کے خلاف شیخ رشید سے محبت کی پینگیں بڑھا رہا تھا، ایک ملاقات اور ہواؤں کے رخ نے اس کی منزل اور قبلہ وکعبہ کو بدل دیا۔ بلاول بھٹو کی پارٹی میں پھر بھی کچھ تو سیاسی پختگی رکھنے والے رہنما ہیں لیکن پپا جانی کی اسیر مریم نواز کی پارٹی میں چند حاشیہ برداروں کے تسلط کے سوا کیا ہے؟۔ سید ظفر علی شاہ وغیرہ بھی کارنر کردئیے گئے ہیں۔ پاکستان کی قیادت کیا آئندہ بلاول زرداری اور مریم نواز کے ہاتھوں میں اسلئے ہوگی کہ انکے باپوں کے بڑے کارنامے ہیں؟ بڑی سیاسی بصیرت کے مالک ہیں یا پانامہ لیکس اور سوئس اکاونٹ کے؟۔
جنرل راحیل شریف اور پاک فوج کے دل ودماغ میں جو بات بیٹھ جائے ، اس کو نکالنا آسان نہیں مگر نوازشریف کے بیٹے بیٹیاں ، نواسے پوتے ہیں، نواسی کی شادی ہوئی ، اسکے بھی بچے آجائیں گے لیکن اگر ملک وقوم ، اسلام اور ملت کیلئے قربانی کی بات آجائے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس نے نواسے اور نواسی کو سیاسی قیادت کیلئے تیار کرنا ہے مگر اس کی قربانی نہیں دے سکتا۔ الطاف حسین پر کتنے بھی غداری کے الزامات لگائے جائیں ، پھر بھی وہ اپنی اکلوتی بچی کی قربانی اسلام، وقوم وملت اور اپنے ملک کیلئے دے دیگا۔ اسکے پروردہ سید مصطفی کمال اینڈ کمپنی نے بھی قربانی دینے کا فیصلہ کیا اور ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ؤں اور قائد ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی جانوں پر کھیلنے کیلئے میدان میں آئے۔ کراچی کے باسی روزانہ نہ جانے کتنے بڑے پیمانے پر مٹی اور آلودگی کھانے کا شکار ہوتے ہیں اور یہ سب کرپٹ مافیا کی کارستانی ہے۔ الطاف حسین اور اسکے تربیت یافتہ برگشتہ گروہوں کو کراچی کا مہاجر طبقہ اسلئے بھگت رہا ہے کہ اس کو سانس لینے کی بھی کھلی فضا میں فرصت نہیں اور پانی ، بجلی، روڈوں کی خستہ حالی، ابلتے ہوئے گٹر کے سیلاب ، مہنگائی، بے روزگاری اور مسائل ہی مسائل نے ان کا جینا مرنا دوبھر کردیا ہے۔ دن میں پچاس مرتبہ الطاف قیادت چھوڑنے کی بات کرتا تھا تو ایک مرتبہ ایم کیوایم نے بھی اس کو فارغ ہی کردیا مگر اس سے کراچی کے عوام کے مسائل تو حل نہ ہوئے اور نہ ہونگے۔
کراچی کی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بدامنی اور دہشت گردی تھا جس میں ایم کیوایم کا بھی پورا پورا حصہ تھا۔ رینجرز گذشتہ تیس سال سے کراچی کے مسائل حل نہیں کرپارہی تھی اور موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر پہلے ڈی رینجرز سندھ تھے ، فوج کے خلوص پر پہلے بھی شک نہ تھا لیکن باصلاحیت قیادت کے بغیر خلوص زیادہ کام نہیں آتا۔ پورے ملک اور کراچی میں پرامن فضا پاک فوج کی باصلاحیت قیادت اور خلوص کے نتیجے میں قائم ہے اور اس کو جاری رہنا چاہیے۔ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کہا ہے کہ ’’ بجلی پر کسی ایک کمپنی کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے‘‘۔ درست بات ہے لیکن جو سوچ سیاسی قیادت کی ہونی چاہیے ، اس کا اظہار پاک فوج کے ذمہ دار کی زبان سے ہورہا ہے۔ سیاستدان کو ملک وقوم کی فلاح وبہبود سے دلچسپی ہوتی تو آج پاکستان میں بجلی سستی ، سڑکوں کی حالت بہتر، تعلیم و صحت کے شعبوں میں ترقی اور داخلی و خارجہ پالیسی مثالی ہوتی، آئی ایم ایف کا اسحاق ڈار کو ایوارڈ دینا قابلِ شرم ہے کہ جس سے جان چھڑانے کا دعویٰ کیا وہی گلے پڑگیا