یہ کراچی ہے، مہاجر کیا سوچتے ہیں، کیا سوچنا چاہئے؟

422
0

نوشتۂ دیوار کے سینئر کالم نویس عبدالقدوس بلوچ نے کراچی کی صورتحال کو موضوع سخن بناکر کہاہے کہ: ان کارٹونوں سے ایک عام مہاجر کے ذہن کی درست عکاسی ہورہی ہے، ایک طرف وہ یہ سوچتاہے کہ بہ تکلف پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا جارہاہے حالانکہ اس حمام میں سب ننگے ہیں مگر غدار صرف کسی ایک کو قرار دیا جارہاہے۔دوسری طرف الطاف حسین اور ڈاکٹر فاروق ستار ڈگڈگی بجاکر مہاجروں کو نچارہے ہیں اور سب ہی اپنے احکام صادر کر رہے ہیں۔کل تک ایکدوسرے پر جان نچھاور کرنیوالوں کو ہوا کیا ؟۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے قائدین، کچھ رہنما اور کچھ کارکن رہتے ہیں ،باقی عام عوام الناس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا، بس ان کو اتنا پتہ ہوتا ہے کہ یہ ہماری قیادت ہے اور اس کی جماعت کو ہم اپنی نمائندگی کیلئے ووٹ دیتے ہیں، ہردکھ سکھ میں ہمارے رہنماکام آتے ہیں اور وہ ہماری شناخت ہیں۔ ایم کیوایم کا دعویٰ درست تھا کہ پڑھی لکھی عوام میں پارٹی اور قائدِ تحریک الطاف حسین کی پذیرائی دوسروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ہے، ایم کیوایم کی اس صلاحیت نے کراچی پر بہت برے اور اچھے دنوں میں اپنی حکمرانی برقرار رکھی ۔ مصطفی کمال کی پی ایس کو گورنر سندھ نے بے سروپاکہا۔ ایم کیوایم کی ساری قیادت نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کردیا، جس کی لندن سے بھی تائید ہوئی اور پھر سندھ اسمبلی سے بغاوت کا مقدمہ چلانے کی بھی ایم کیوایم سے تائید کروائی گئی۔ جسکے بعد ایم کیوایم لندن نے ایم کیوایم کے رہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا۔ گورنر سندھ کو مصطفی کمال بے غیرت اور رشوت العباد اور عشرت العباد نے مصطفی کمال کو گٹھیا اور مفادپرست کہا۔ ایک عام مہاجر کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کون بھلاہے اور کون بُرا ہے؟۔
ایک زمانہ تھا کہ بلوچوں میں سب سے زیادہ مہمان نواز، ملنسار، وفادار اور اچھے لوگ لیاری کے بلوچ ہوا کرتے تھے، پھر سیاسی لوگوں نے اپنا مفاد اٹھاکربدمعاشوں کو لوگوں پر مسلط کردیا، پھر لیاری کی شناخت بھی شناسا ؤں کیلئے مسخ ہو گئی۔ یہی صورتحال کراچی کیساتھ پیش آئی۔ پاکستان بھر میں جہاں کراچی کا باشندہ جاتا تو اس کو بہت عزت ملتی تھی۔ پھر اس قوم پر وہ طبقہ مسلط ہوا، جس نے شناخت بدل ڈالی۔ پہلے پاکستان کا دارالخلافہ کراچی تھا اور جب نہ رہا تب بھی کراچی سے حکومت کی تقدیر کے فیصلے ہوتے تھے۔ لالو کھیت کے باشندے کہتے تھے کہ ’’ہم بادشاہ گر ہیں، جسے چاہیں اقتدار کی کرسی سے اتار لیں‘‘۔ پھر معاملہ بدل گیا تو لالوکھیت کے باشندے لیاقت آباد کے نام سے بھی اپنی عزت بحال نہ کرسکے۔ ایک معزز گھرانے سے نبیل گبول کا تعلق تھا اور جب پہلی مرتبہ ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی بن گئے تو ہمارے شاہ صاحب کی ایک کتاب پر ان کا تائیدی بیان شائع ہوا۔ پھر ذوالفقار مرزا نے ماحول خراب کیا تو لیاری میں ان کیلئے جانا مشکل ہوگیاتھا جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی چھوڑی، ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کرلی، پھر وہاں سے بھی نکل گئے۔
کراچی کی سیاست میں نبیل گبول کے خاندان کا1930ء سے ممتاز مقام تھا لیکن اب وہ موجودہ دور میں بے عزت سیاستدانوں سے عزت کی توقع رکھتے ہیں۔ بلاول ، عمران، نواز شریف ، الطاف اور دیگر لیڈروں کی عزت ان جیسوں نے بنائی جن کا اپنا قدبہت اونچاتھا اور یہ لوگ درست قیادت کا انتخاب کریں گے تو قوم، ملک اور مسلمانوں کی تقدیر بھی بدل جائیگی۔ الطاف حسین نے سوبار کہا کہ ’’میں قیادت چھوڑتا ہوں‘‘ پھرکارکن منالیتے۔ اب پوری پارٹی نے کہا کہ ’’ قیادت ڈاکٹر فاروق ستارکرینگے ‘‘ تو الطاف بھائی کو چاہیے تھا کہ کہتے’’ میرا دیرینہ مطالبہ مان لیا گیاہے‘‘، شروع میں درست کہا ،توقائم رہتے۔ لندن کے چند رہنما بیان بازی کا سلسلہ جاری نہ رکھتے تو ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں مہاجر متحداور خوشحال رہتے۔ ٹارگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور بدزبانوں سے نجات مل جاتی اور وقت آتا تو غلط فہمیاں بھی دور ہوجاتیں۔ بانی بڑی عمر میں پہنچ کربھائی سے حاجی الطاف حسین بن جاتے۔ دل گرفتہ بددعاؤں کے بجائے پاکستان، قوم و ملت اور عالم انسانیت کو دعائیں دیتے۔ اگر عمران خان عظیم طارق کی شخصیت سے بہت متأثر تھے تو الطاف حسین سے بھی متأثر ہوتے۔قائد تحریک نے اس کی کونسی بلی ماری تھی۔پھرزہرہ شاہدہ ماری گئی تب بھی عمران خان نے کافی عرصہ بعد ہیلی کاپٹر پر کراچی آنے کے باوجود تعزیت تک نہیں کی۔ عمران خان نیازی سے زیادہ والدہ کی وجہ سے برکی قبیلے کی نسبت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جس طرح بلاول اپنے آپ کو زرداری سے زیادہ بھٹو سمجھتا ہے۔ کانیگرم سے برکی قبیلے کے گلشاہ عالم برکی نے عمران خان کیلئے بڑی قربانی دی تھی جو طالبان کے ہاتھوں زندہ غائب ہوا، لیکن عمران خان نے اس پر بھی طالبان کی کوئی مذمت نہیں کی، اگر عمران خان اور نوازشریف کے بچوں کو طالبان ذبح کردیتے یا زندہ غائب کردیتے یا دھماکوں میں ماردیتے توان کو دہشت گردی کی حمایت پر عوام کے دکھ کا پتہ چلتا۔ ضرب عضب کے بعد بھی نوازشریف کی طرح عمران خان نے بھی قومی ایکشن پلان پر کوئی عمل نہیں کیاجس کی وجہ سے پختونخواہ میں طالبان دہشت گردوں نے بھتے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا اور پولیس بالکل لاتعلق رہی۔ الطاف حسین واحد قائد تھے جس نے اپنے کارکنوں سے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو چائینہ کٹننگ پر پٹوایا۔ یہ الگ بات ہے کہ کارکنوں نے قائد سے نہیں پوچھا کہ ’’منی لانڈرنگ کی رقم تم سے برآمد ہوئی ہے‘‘۔ عمران خان اپنے سسر گولڈ سمتھ سے بہت متأثر ہیں اسلئے برطانیہ کی مثالیں دیتے ہیں۔ برطانیہ نے امریکہ کا نوکر بن کر عراق تباہ کیا اور چوری پکڑی گئی تو ٹونی بلیئر کو کیا سزا دی؟۔ الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کا کیس غلط چلایا تھا یا سزا میں 400بیسی سے کام لیا؟۔ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تو برطانوی فوجی افغانستان میں طالبان کو رقم دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔
لندن میں بیٹھنے والے جی حضوری کے عادی بن چکے ہیں، ان کوکیا معلوم کہ کراچی کی عوام روز روز ہڑتال سے تنگ تھی، لندن کی کھلی فضاؤں میں الطاف حسین اور دوسرے رہنما اندازہ نہیں لگاسکتے، ڈاکٹر عمران فاروق کی موت تو اپنی جگہ لیکن جس کسمپرسی میں کنونیئر رہے وہ بھی کوئی کم معمہ نہیں ،اب الطاف کوبھی یہی دن نہ دیکھنے پڑجائیں!۔ڈاکٹر عمران فاروق کی زندگی موت سے زیادہ تلخ تھی ۔کراچی کی بہادر عوام کو اگر بڑی بڑی قربانیاں دینے پر مجبور کرنے کے بجائے مہذب طریقے سے آگے بڑھایا جاتا تو آج کراچی کا مہذب طبقہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا۔ مصطفی کمال الطاف کے حصار سے نہ نکل سکا، تقریرہی کرنی ہے تو عوام کو تبلیغ میں بھیج دیا جائے،گھڑی گھڑی بداخلاقی کامظاہر ہ کس اخلاق کی تعلیم ہے ؟۔ کراچی کااصل مسئلہ پسماندگی ہے۔ سندھ کے دارالاخلافہ کراچی کی حالت بہتر ہوتی اور دیگر علاقے پسماندہ ہوتے تو دیہات کا مطالبہ نیا صوبہ ہوتا، الٹی گنگا اسلئے بہہ رہی ہے کہ دارالخلافہ کی حالت خراب ہے، سندھ کی رقم سے دبئی آبادہے، کراچی اور شہری آبادی پر پیسہ نہیں لگ رہا تو دیہاتوں کی کیا حالت ہوگی؟۔ سلجھے مہاجر بے وفا نہیں، الطاف بھائی کے پٹوانے کے باوجود رہنما ڈٹے رہے ۔ عوام علماء کے واعظ سن کر الطاف سے مانوس تھی مگر قائد کی غلطی اور معافی کا نہ رُکنے والا سلسلہ رہنماؤں اور پارٹی کیلئے بڑاتضحیک آمیز تھا، کامران خان نے ٹی وی پر الطاف کا کلپ دکھایا تو رضاہارون کی حالت قابلِ رحم تھی،روٹی حلال کریں مگر لندن میں الطاف کو غلط مشورے دیکر مہاجروں کا بیڑہ غرق نہ کریں،الطاف حسین اسی کی سزا بھگتے ہیں۔ عبد القدوس بلوچ (تیز و تند)