جاوید غامدی پر تبصرہ: علماء ومشائخ کا کردار قرآنی حقائق کی روشنی میں

598
0

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :لعن الذین من الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد وعیسیٰ ابن مریم ، ذٰلک بما عصوا وکانوا یعتدونOکانوا لا یناھون عن المنکر فعلوہ، لبئس ماکانوا یفعلونOتری کثیرا منہم یتولون الذین کفروا، لبئس ماقدمت انفسھم اَن سخط اللہُ علیہم و فی العذاب ہم خالدونOولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وماانزل الیہ مااتخذوھم اولیاء ولٰکن کثیرا منہم فاسقونOلتجدن اشد الناس للذین اٰمنوا الیہودو الذین اشرکوا ولتجدن اقربھم مودۃ للذین اٰمنوا قالوا انا نصٰرٰی، ذٰلک بان منہم قسیسین ورھباناً وا نہم لایستکبرون Oواذا سمعوا ماانزل الرسول تریٰ اعنہم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق،یقولون ربنا امنا فاکتبنا مع الشٰھدینOالمائدہ
’’داؤداور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت ہوئی ان لوگوں پر جنہوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا۔ یہ اسلئے کہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔ ایکدوسرے کو برائی سے نہ روکتے، جوکرتے تھے۔ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔ آپ دیکھتے ہو کہ ان میں اکثر کافروں کو حکمران بناتے ۔کیاہی برا ہے جو اپنی جانوں کے مستقبل کیلئے آگے بھیجتے یہ کہ اللہ نے ان پر سختی(جبر وظلم) مسلط کردیا اور وہ عذاب(ظالمانہ نظام ) میں ہمیشہ رہیں گے۔اگر یہ اللہ، نبی اور جو اس کی طرف نازل کردہ پر ایمان لاتے توان کو حکمران نہ بناتے مگران میں اکثر لوگ فاسق ہیں، اورآپ پاؤ گے،دشمنی میں زیادہ سخت مسلمانوں کیلئے یہود اور جو لوگ مشرک ہیں اور آپ پاؤگے، مسلمانوں کیلئے محبت میں زیادہ قریب ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں، یہ اسلئے کہ ان میں علماء و مشائخ ہیں اور یہ کہ وہ لوگ تکبر نہیں کرتے اور جب سنتے ہیں کہ جورسول پر نازل ہوا توآپ دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں، اسلئے کہ وہ حق کو پہچانتے ہیں،کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ! ہمیں گواہوں کیساتھ لکھ دیں‘‘۔ المائدہ
بنی اسرائیل کے مشہور حکمران حضرت داؤدؑ اور ان کے فرزند سلیمانؑ تھے۔ آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے اور بنی آدم و ملتِ ابراہیمی کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ جب قرآن نازل ہوا تو اس وقت یہود اور مشرک مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور نصاریٰ محبت میں زیادہ قریب تھے ،اسلئے کہ ان میں علماء ومشائخ تھے اورجن میں تکبر نہ تھا، وہ حق کوپہچانتے تھے اور گواہی دیتے۔ جب اسلام کو دوبارہ غلبہ نصیب ہوگا تو پھر علماء ومشائخ اہل حق سے محبت میں قریب اور کھل کر حمایت کرنے میں پیش پیش ہونگے۔ جس طرح اہل کتاب کے دو طبقے تھے ایک یہود اور دوسرے نصاریٰ اور یہود خود کو زیادہ باشعور، چالاک اور عیار سمجھتے تھے اور وہ اس وجہ سے متکبر بھی تھے۔ اسی طرح جدید تعلیم یافتہ مذہبی طبقہ اسلامی اسکالرز یہود سے زیادہ مشابہت رکھتاہے۔ یہ ظالم حکمران طبقہ کیلئے الۂ کار کا کردار ادا کرتاہے۔ ان میں بڑا غرور اور تکبر ہے اور مفادپرستی کے داؤ وپیج سے واقف ہوتے ہیں جبکہ اکثرعلماء ومشائخ سیدھے سادے ہوتے ہیں جو تکبر، مفادپرستی ، چالاکی وعیاری سے پاک اور حق سے دشمنی نہیں رکھتے ۔علماء ومشائخ حضرت عیسیٰ ؑ کے انصار و حواریوں سے مشابہت رکھتے ہیں جن کے قسیسین ورھبان کا سلسلہ جاری رہا۔ علماء اور مشائخ کو صحابہ کرامؓ سے ایک تسلسل کیساتھ عقیدت ومحبت کا تعلق رہاہے۔ حق کی معرفت کی ان میں صلاحیت بھی ہے اور وہ تکبر بھی نہیں رکھتے ہیں۔ قرآن میں جو صفت ان کے علماء ومشائخ کی بیان ہوئی ہے وہ ہمارے ہاں بھی ہے۔ جبکہ جدید تعلیم یافتہ طبقے نے جو اسلامی اسکالرز کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے،یہ پڑھا لکھا مگر اسلام کے مبادی سے جاہل طبقہ ہے، ان میں عقیدت اور معرفت نہیں اور یہ یہودیوں کی طرح تحریف کا مرتکب طبقہ ہے۔ یہ فاسق حکمرانوں کیساتھ ملکر مذہب کو سیاسی ڈھال کے طور پر استعمال کررہاہے یہ حق کو قبول نہیں کرتا۔
ہم پر ایک عرصہ سے چالاک وعیار طبقہ کی اسلئے حکمرانی ہے کہ مذہب کے نام پر سیاست ہورہی ہے لیکن اصل شرعی احکام کی طرف مذہبی اور حکمران طبقہ توجہ نہیں کرتا۔ ظالمانہ وجابرانہ نظام کے عذاب سے نکلنے کیلئے قرآنی آیات کی طرف رجوع بہت لازمی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے بانی مولانا مودودیؒ پہلے داڑھی منڈاتے تھے، پھر بہت مختصر داڑھی رکھ لی اور پھر ساتھی علماء کے دباؤ پر داڑھی بہت بڑھالی۔ جماعت اسلامی نے طاقت کے حصول کیلئے پاکستانی ایجنسیوں سے امریکی سی آئی اے تک قوت کی وصولی اور اقتدار تک رسائی کیلئے سیاست وجہادکے میدان میں اپنی خدمات پیش کیں، جس کی وجہ سے بہت کم تعداد کے باوجود آئینۂ اقتدار میں حصہ بقدر جثہ سے زیادہ اپنا حصہ پاتے رہے۔ جاوید غامدی، ڈاکٹر اسرار، ڈاکٹر ذاکرنائیک،وحید الزمان، ڈاکٹرطاہرالقادری ودیگر وہ اسلامی سکالروں نے مدارس کی بنیادی تعلیمات اور علماء ومشائخ کا راستہ چھوڑ کر اپنے طرز پر اسلام کو مسلمانوں کے سامنے پیش کیا، ان کا طرزِ عمل اہل کتاب میں یہودیوں کی طرح ہے اور علماء ومشائخ کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ نصاریٰ کی طرح ہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ امت بھی سابقہ قوموں یہودونصاریٰ کے طرز پر چلے گی۔ مولانا سیدمودودی ؒ نے لکھا تھا کہ ’’ امام مہدی بالکل ایک عام شخص ہوگا، ہر میدان میں اپنا لوہا منوا دے گا، سب سے پہلے علماء و صوفی صاحبان ہی اسکے خلاف شورش برپا کرینگے وہ تمام جدیدوں سے بڑھ کر جدید ہوگا‘‘۔ حضرت ابراہیمؑ کی قوم مشرکین مکہ اسلام کی نشاۃ اول سے ختم ہوئے، حضرت نوحؑ کی قوم ہندو اسلام کی نشاہ ثانیہ سے ختم ہونگے۔ سچے علماء ومشائخ سے اہل حق کو بہت توقعات بھی ہیں جس پر وہ پورے اتر رہے ہیں ،علماء ومشائخ اربابامن دون اللہ کی شکل میں بتوں سے زیادہ خطرناک بھی ہیں اسلئے کہ دین میں غلو اور تحریف کے وہ مرتکب ہیں، اوران بتوں کا پیٹ، دل ودماغ، بیوی بچے اور رشتہ دار بھی ہیں جو مذہب کے نام پر کاروبار بھی کرتے ہیں اور جانتے بوجھتے حق کے مخالف بھی ہیں البتہ علماء ومشائخ کی اکثریت جدید اسلامی اسکالروں کے مقابلہ میں بہت اچھی ہے۔
اسلامی جمہوری اتحاد کے صدر غلام مصطفی جتوئی تھے، سینئرنائب مولانا سمیع الحق کو سود کیخلاف آواز اٹھانے پر نوازشریف نے اسکینڈل سے بدنام کیا تھا۔ مفتی تقی عثمانی کی برادری شروع سے حکومتی تانگہ ہے، اپوزیشن کی پہچان مولانا فضل الرحمن بھی میٹھاخان بن گیا۔ سیاستدان کھلونے ہیں ان کی کلوننگ کہیں اور سے ہوتی ہے،اسلامی احکامات کا معاشرے میں احیاء مسائل کا حل ہے۔