عصر حاضرحدیث نبویﷺ کے آئینہ میں

669
0

عن حذیفہؓ قال: کان الناس یسئلون رسول اللہ ﷺ عن خیر و کنت اسئلہ عن الشر مخافۃ ان یدرکنی، قال : قلت یا رسول اللہ! ان کنا فی جاہلیۃ و شر فجاء نا اللہ بھٰذا الخیر، فھل بعد ھٰذا الخیر من شر؟ قال: نعم! قلت : وہل بعد ذٰلک الشر من خیر ؟ قال: نعم ! و فیہ دخن، قلت : وما دخنہ؟ قال: قوم یستنون بغیر سنتی و یہتدون بغیر ھدیتی، تعرف منھم و تنکر، قلت فہل بعد ذٰلک الخیر من شر؟ قال: نعم! دعاۃ علیٰ ابواب جہنم، من اجابہم الیھا قذفوہ فیھا، قلت یا رسول اللہ! صفہم لنا، قال ھم من جلدتنا و یتکلمون بالسنتنا! ، قلت: فما تأمربی ان ادرکنی ذٰلک؟، قال: تلزم جماعۃ المسلمین و امامہم! قلت فان لم یکن لہم جماعۃ ولا امام؟ قال: فاعتزل تلک الفرق کلہا ولو ان تعض باصل شجرۃ حتیٰ یدرکک الموت و انت علیٰ ذٰلک (مشکوٰۃ، بخاری، عصر حاضر)
حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگ خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا تاکہ مجھے شر نہ پہنچے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! بیشک ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ نے اس خیر (اسلام)کو ہمارے پاس بھیجا ۔ کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگا؟، فرمایا : ہاں! ۔ پھر میں نے پوچھا کہ کیا اس شر کے بعد کوئی خیر ہوگی؟۔ فرمایا: ہاں! اس میں دھواں (آلودگی) ہوگی۔ میں نے پوچھا : وہ دھواں کیا ہے؟۔ فرمایا: لوگ میری سنت کے بغیر راہ اپنائیں گے اور میری ہدایت کے بغیر چلیں گے۔ ان میں اچھے بھی ہوں گے اور برے بھی۔ میں نے عرض کیا کہ کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا؟۔ فرمایا: ہاں! جہنم کے دروازے پر کھڑے داعی ہونگے جو ان کی دعوت قبول کریگا اس کو اسی میں جھونک دینگے ۔ میں نے عرض کیا: ان کی پہچان کرائیں۔ فرمایا : ہمارے لبادے میں ہوں گے اور ہماری زبان (مذہبی اصطلاحات) بولیں گے ۔ میں نے عرض کیا : اگر میں انکو پالوں تو کیا حکم ہے؟۔ فرمایا: مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام سے مل جاؤ ۔ عرض کیا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت ہو اور نہ ان کا امام تو پھر؟۔ فرمایا : ان تمام فرقوں سے الگ ہوجاؤ اگرچہ تمہیں درخت کی جڑ چوس کر گزارہ کرنا پڑے۔ یہاں تک کہ تمہیں موت پالے اور تم اسی حالت پر رہو۔ (عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں)
اس حدیث میں صفحہ نمبر 4پر موجود نقش انقلاب کی بھرپور وضاحت ہے۔ اسلام کے آغاز میں نبوت اور خلافت راشدہ کا دور تھا جس کے آخر میں عشرہ مبشرہ نے بھی گھمسان کی جنگ لڑی۔ اس دور کا خیر اور شر دونوں واضح تھے۔ پھر اسکے بعد خیر میں دھواں نمودار ہوا۔ یہ دھواں امارت ، بادشاہت اور جبری حکومتوں کے اختتام تک بتدریج بڑھتارہا، اس خیر کے دور میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی، جن میں علماء صوفیاء اور ہر طرح کے حکمران شامل تھے۔ اس دور کے بالکل اختتام پر دوبارہ طرز نبوت کی خلافت کے قیام سے پہلے شر کا وہ دور آیا ہے جس میں مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں مذہبی لبادے اور مذہبی زبان میں لوگوں کو جہنم کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کی جماعت اور انکے امام کے ساتھ ملنے کا حکم ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے نماز ، وضو اور غسل وغیرہ کے فرائض نہیں سکھائے ، خلافت راشدہ کے دور میں بھی چاروں خلفاء نے اس قسم کی فضولیات پر اپنا اور اپنی قوم کا وقت ضائع نہیں کیا۔ اسی دھوئیں کے دور میں نبی ﷺ کی سنت اور ہدایت کے بغیر فرقہ واریت اور مسلکوں کے اپنے اپنے چشمے لگائے گئے۔ ان من گھڑت ہدایت اور سنت کے طریقوں سے اسلام کا چہرہ بتدریج اجنبیت کا شکار بنتا چلا گیا۔ ان میں کچھ اچھے نیک ، صالح ، اللہ والے اور حق کے علمبردار تھے اور کچھ بد ، بدکار، طاغوت کے بندے اور باطل کے علمبردار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرائض اور واجبات کیلئے کوئی حلقے نہیں لگائے اور جن لوگوں نے نیک نیتی کیساتھ یہ تعلیم عام کردی کہ غسل کے احکام کیا ہیں اور اس میں نت نئے فرائض وغیرہ دریافت کرلئے مگر درباری بن کر حکمرانوں کی ایماء پر اہل حق کا خون جائز قرار دینے کے فتوے نہیں لگائے تو بھی ان کا کردار اپنی شخصیتوں کی حد تک نیک و صالح اور اہل حق کا رہا۔ انکی ہدایت اور سنت کو پھر بھی بجا طور سے نبی کریم ﷺ کی ہدایت اور سنت نہیں کہہ سکتے۔
امام ابو حنیفہؒ پر حکمرانوں کو شک تھا کہ پس پردہ حضرت امام حسنؓ کی اولاد عبد اللہ اور ابراہیم کی بغاوت کی تائید کررہے ہیں تو ان کو جیل میں زہر دے کر شہید کیا گیا۔ امام ابو حنیفہؒ کی ساری زندگی علم کلام کی گمراہی میں گزری اور پھر آخر میں توبہ کرکے وہ فقہ اور اصول فقہ کی طرف رُخ کرکے شمع ہدایت کے چراغ جلانے لگے۔ قرآن کے مقابلے میں احادیث صحیحہ اور خلفاء راشدین کے فیصلوں کو بھی رد کرنے میں ذرا تامل سے کام نہ لیا۔ ان کی شخصیت اہل حق کیلئے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی تھی۔ آپ نے بڑی استقامت کیساتھ حق کا علم بلند کرنے میں مقدور بھر کوشش کی۔ حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ اور حضرت امام جعفر صادقؒ بھی اپنے اپنے طرز پر نبی ﷺ کی سنت کو ہر قیمت پر تحفظ دینے کے زبردست علمبردار رہے ۔ ان کے پیروکاروں نے اپنے اپنے طرز پر فقہ و مسالک کی تدوین کا کام کیا۔ نبی کریم ﷺ کی سنت اور ہدایت کو زندہ کرنے کیلئے دوبارہ طرز نبوت کی خلافت قائم ہوگی تو تاریخ کے ادوار میں اسلام کے سورج پر پڑنے والے دھوئیں کا سراغ لگ سکے گا۔ موجودہ دور میں بات یہاں تک پہنچی ہے کہ سب کو پیٹ کی لگی ہوئی ہے یا پھر خود کش دھماکوں اور گرنیٹ کا خوف دامن گیر ہے۔ مساجد ، خانقاہ اور امام بارگاہ میں وہ لوگ براجمان ہیں جنہوں نے مذہب کو محض دنیاوی مفاد کا ذریعہ بنادیا ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کی خدمات کا انکار اسلام کے سورج سے پھوٹنے والی روشن کرنوں کا انکار ہے۔ تاہم اسلام کے سورج کو آلودہ کرنے میں بھی سب نے اپنا اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے علم الکلام (علم العقائد) سے توبہ کرکے قرآن کریم کی بیش بہا خدمت انجام دی مگر اس طریقے ہدایت اور سنت کو نبی کریم ﷺ کے طرز عمل سے نہیں جوڑا جاسکتا ہے۔ علم کلام کا یہ مسئلہ تھا کہ تحریری شکل میں اللہ کی کتاب قرآن کا نسخہ اللہ کا کلام نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے وحی کا آغاز ہی قلم کے ذریعے سے انسان کو تعلیم دینے سے کیا ہے اور سورہ بقرہ میں الذین یکتبون الکتٰب بایدیھم ’’جو لوگ کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں‘‘( کتاب ہاتھ سے لکھی جانے والی چیز ہے ) مشرکین مکہ جانتے تھے کہ صبح شام لکھوائی جانے والے چیز کا نام کتاب ہے۔ ان پڑھ اور جاہل بھی یہ سمجھتا ہے کہ کتاب موبائل ، میز اور جگ نہیں لیکن علم کلام سے اپنی گمراہی مقدر ٹھہری۔ اُصول فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ قرآن کے نسخے کلام اللہ نہیں اور ان پر حلف اٹھانے سے حلف نہیں ہوتا۔ پھر گمراہی کے کالے بادل وقت کیساتھ گہرے ہوتے گئے تو یہاں تک لکھا گیا کہ سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ مستند سمجھے جانیوالے مذہبی مدارس گمراہی کے گڑھ اور قلعے بن چکے جو اپنے نصاب سے گمراہی کو نہیں نکال سکتے۔ علم کی سند جہالت اور مدارس کے نصاب پر ڈٹ جانا ہٹ دھرمی کے سوا کیا ہے؟ ۔امام نہ ملے تو درخت کی جڑ چوسنا بہتر رزق ہے۔
آج بڑے مدارس کے علماء ومفتیان اور مذہبی وسیاسی جماعتوں کے رہنما حق کی خاطر کھڑے ہوجائیں تو اسلامی انقلاب میں بالکل بھی کوئی دیر نہیں لگے گی۔
عن عبد اللہ ابن مسعودؓ ان رسول اللہْ ﷺ قال: ما من نبی بعثہ اللہ تعالیٰ فی اُمۃٍ قبلی الا کان لہ من امتہٖ حواریون و اصحاب یاخذون بسنتہٖ و یقتدون بامرہٖ ثم انھا تخلف من بعدہٖ خلوف یقولون مالا یفعلون و یفعلون مالا یؤمرون ومن جاہدھم بیدہٖ فھو مؤمن ومن جاہدھم بلسانہٖ فھو مؤمن ومن جاھدھم بقلبہٖ فھو مؤمن ولیس وراء ذٰلک من الایمان حبۃ خردلٍ (صحیح مسلم)
حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے جس نبی کو بھی اللہ نے مبعوث فرمایا اس کی اُمت میں کچھ مخلص اور خاص رفقاء ضرور ہوا کرتے تھے جو اس کی سنت کی پابندی اور اسکے حکم کی پیروی کرتے، پھر انکے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے جو کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور وہ کام کرتے تھے جن کا ان کو حکم نہیں ہوتا تھا۔ پس جو شخص ہاتھ سے انکے خلاف جہاد کرے وہ بھی مؤمن ہے اور جو زبان سے انکے خلاف جہاد کرے وہ بھی مؤمن ہے اور جو دل سے انکے خلاف جہاد کرے وہ بھی مؤمن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔ (عصر حاضر حدیث نبویؐ کے آئینہ میں۔ مولانا یوسف لدھیانویؒ )
ہمارا ایک دوست امین اللہ خانپور کٹورہ میں اخبار کا گشت کررہا تھا ، ایک شخص نے کہا کہ میں مولانا عبد اللہ درخواستیؒ کا نواسہ ہوں۔ ہمارے مدرسے میں یہ میٹنگ بھی ہوئی ہے کہ عتیق الرحمن مفتی تقی عثمانی اور مفتی شامزئی کیخلاف لکھتا ہے اسکے لئے کوئی پروگرام بنائینگے، اگر مجھے ملے تو میں اس کو کلاشنکوف سے قتل کردونگا۔ امین اللہ بھائی نے کہا کہ میں تمہیں اس کے پاس لے جاتا ہوں پھر قتل کرنا ہو یا خود کش کرنا ہو میں نشاندہی کردیتا ہوں، تو وہ شخص کہنے لگا کہ تمہارا کوئی قصور نہیں ہے تم تو اخبار بیچتے ہو ، میرا اختلاف تم سے نہیں ، امین اللہ بھائی نے کہا کہ میں اخبار بیچتا نہیں ہوں بلکہ یہ میرا مشن ہے۔ تو اس نے کہا کہ مجھے معاف کرنا آپ کی دل آزاری ہوئی ہے۔
جب مفتی تقی عثمانی نے ہمارے مرشد حاجی محمد عثمانؒ پر فتوے لگائے تھے تو مولانا عبد اللہ درخواستی ؒ کے نواسے مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید حاجی عثمان صاحب سے بیعت ہوئے تھے۔ ان کے بڑے بھائی مفتی حبیب الرحمن درخواستی نے حاجی عثمانؒ کے حق میں فتوے دئیے تھے۔ جب وہ میرے مشکوٰۃ کے اُستاذ تھے تو اپنے بھتیجے امداد اللہ کو میرے ذمہ لگایا تھا جو تقریباً ہر روز مدرسے سے چھپ کر فلم دیکھنے جاتا تھا۔ اب اس نے بھی بہاولپور میں اپنا مدرسہ کھول رکھا ہے۔ جب انوار القرآن کا طالب علم تھا تو اس وقت بہت بیکار لوگ بھی وی سی آر پر فلمیں نہیں دیکھتے تھے مگر مدرسے میں جمعرات کو کرائے پر وی سی آر لایا جاتا تھا اور میں نے ڈنڈے کے زور پر ان کو روکا تھا۔ اس وقت مدرسے کے تمام اساتذہ اور طلباء اس کے گواہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس عالم کی مثال کتے سے دی جس نے علم نہیں دنیا کو ترجیح دی۔ کتوں میں بھی کچھ نسلی کتے ہوتے ہیں جوپرایا اور دشمن کا نہیں کھاتے لیکن قرآن میں گلی کوچوں کے اس کم اصل کتے کا ذکر ہے جو ہر حال میں ہانپتا ہے۔ ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک گمراہ مولوی اور مردود صوفی تھا لیکن اس کو بھی کوئی اتنی نشاندہی کرتا کہ نصاب میں اس قسم کی مغلظات ہیں تو وہ بھی ان مغلظات کیخلاف ہوجاتا۔ موجودہ دور اس دہانے پر کھڑا ہے کہ یا کوئی انقلاب کا امام بن کر مسلمانوں کی جماعت کو ان گمراہانہ تصورات سے بچائے یا پھر سب فرقوں سے الگ تھلگ ہوکر مذہب کے نام پر پلنے کے بجائے جنگل میں نکل جائے چاہے درخت کی جڑیں چوس کر گزارہ کرنا پڑے۔ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے کہ ہم نے ان ناخلف جانشینوں کیخلاف نہ صرف علمی اور عملی جہاد کا آغاز کیا ہے بلکہ مسلم اُمہ کی ایک بھاری اکثریت بھی ہر مکتبہ فکر سے ہماری ہم نوابن گئی ہے۔
ہمارے ساتھیوں کو اگر اللہ تعالیٰ نے کامیابی بخشی تودنیا ان کو سورہ واقعہ کے اندر موجود قلیل من الاٰخرین کے طور پر سمجھے گی۔ سورہ جمعہ اور سورہ محمد میں بھی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے جو آیات ہیں احادیث میں ان کی وضاحت کی گئی ہے۔ پاکستان اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے بنا تھا اور یہ بہت اچھا ہوا کہ مولوی حضرات اقبال و قائد اعظم کیخلاف تھے ورنہ اسلام کے نام پر اس ملک کا کباڑہ کیا جاتا۔ جن لوگوں نے کھل کر ہماری حمایت کی ہے اور وہ دنیا سے جاچکے ہیں اور جو کھل کر ہماری حمایت کررہے ہیں اور وہ دنیا میں موجود ہیں تو ان کا شمار سورہ واقعہ کے مطابق اصحاب الیمین میں ہوگا جو پہلے دور میں بھی کثرت سے تھے اور اس دور میں بھی کثرت سے ہیں۔ دین کو پہچاننے کے بعد ہاتھ ، زباں اور دل سے جہاد کے مختلف مراحل سے ہم بفضل تعالیٰ گزر چکے ہیں۔ حدیث میں پہلا درجہ انہی کو دیا گیا ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو پہچانا اور پھر اس کے ذریعے زبان ہاتھ اور دل سے جہاد کیا۔ دوسرا درجہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو پہچانا اور پھر اعلانیہ اس کی تصدیق بھی کی اور تیسرا درجہ ان لوگوں کاہے جن میں اعلانیہ حمایت کرنے کی جرأت نہ تھی مگر دل ہی دل میں خیر کا عمل کرنے والوں سے محبت رکھی اور باطل کا عمل کرنے والوں سے بغض رکھا۔ انکے بارے میں بھی وضاحت ہے کہ وہ اپنے اس پوشیدہ عمل کے باوجود بھی نجات پائیں گے۔ بہت سے بزرگ علماء دین کل بھی ہم سے محبت رکھتے تھے اور دنیا سے اسی طرح سے رخصت ہوگئے۔ آج بھی بفضل تعالیٰ بڑے بڑے اکابر ہیں جو ہم سے دلی محبت رکھتے ہیں مگر ہمت نہیں کرسکتے۔ اخبار میں ان لوگوں کے بیانات بھی منظر عام پر آتے ہیں جو اعلانیہ ہماری حمایت کررہے ہیں۔ ان کی اس ہمت میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے اور بہت سے لوگوں کو ان کی بدولت اعلانیہ حمایت کی ہمت عطا فرمائے۔ اصل معاملہ عوام کی جہالتوں کا بھی ہے، آج ایک عالم نمازمیں قرآن وسنت کے مطابق سورۂ فاتحہ اور قرآن کی دیگر سورتوں اور آیات سے پہلے جہری بسم اللہ پڑھنا شروع کردے تو عوام کی طرف سے بغاوت کا خطرہ ہوگا۔
انقلاب کیلئے جہری نماز میں جہری بسم اللہ سے آغاز کرنا ہوگا۔ بنی امیہ کے دور میںیہ المیہ پیش آیا کہ جہری نماز میں جہری بسم اللہ پڑھنے والوں کوحضرت علیؓکا حامی قرار دیا جاتا تھا، امام شافعیؒ نے جہری بسم اللہ کو لازم قرار دیا تو ان کو رافضی قرار دیکر منہ کالا کرکے گدھے پر گمایا گیا، حضرت امام ابوحنیفہؒ کی موت جیل میں ہوئی ، حضرت امام مالکؒ کیلئے مشہور ہے کہ ان کے فقہ کو رائج کرنے کی پیشکش ہوئی مگر انہوں نے انکار کردیا۔ امام مالکؒ کی طرف یہ منسوب ہے کہ فرض نماز میں بسم اللہ پڑھنا جائز نہ سمجھتے تھے، حنفی مسلک میں یہ پڑھایا جاتاہے کہ ’’ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے مگر اس میں شک ہے‘‘(نورالانوار)۔صحیح بات یہ ہے بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شک اتنا قوی ہے کہ اسکے انکار کی وجہ سے کوئی کافر نہیں بنتا‘‘( توضیح تلویح) درس نظامی کی یہ دونوں کتابیں دیوبندی وفاق المدارس و بریلوی تنظیم المدارس کے وفاقی بورڈ کا حصہ ہیں۔ آج مذہبی جماعتیں مدارس کے اپنے کفریہ نصاب کو درست نہیں کرسکتیں تو دنیا میں کیا اسلامی نظام کے نفاذ کا کام کرینگی۔ مولانا فضل الرحمن اور مولانا عطاء الرحمن نالائق طلبہ تھے تو فیل ہوتے تھے،ان کو اسلام کی کوئی فکر نہیں۔ ان خود ساختہ ٹھیکیداروں کے چنگل سے اسلام کو بازیاب کرانا ہوگا۔کسی بادشاہ کو بھکارن پسند آگئی اور اس سے شادی کرلی،جو محل میں کھانا نہیں کھارہی تھی، بادشاہ کو پریشانی لاحق ہوئی تو وزیر نے سمجھایاکہ محل کے کونوں روٹی کے ٹکڑے پھیلادیں تو کھا جائیگی۔درباری مُلاؤں کو بھی انقلاب کا مزہ نہیں آتا بلکہ ٹکڑوں پر پلنا اچھا لگتاہے۔