Home اداریہ اکتوبر99نے ہمیں سی پیک دیا اور شریفوں کو مالدار بنایا… اداریہ نوشتہ...

اکتوبر99نے ہمیں سی پیک دیا اور شریفوں کو مالدار بنایا… اداریہ نوشتہ دیوار

345
0

جنرل ضیاء نے مذہبی طبقہ کی کرایہ کے جہاد سے آبیاری کی۔ بینظیر کے آخری دور میں نصیراللہ بابر نے افغانستان میں طالبان کو تشکیل دیا۔ جنرل ضیاء کو محسن کہنے والے نوازشریف پر اسامہ لادن سے بھی پیسہ لینے کا الزام ہے، طالبان کے حامی شہباز شریف کی زبان سے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنیوالے جرنیل پر بھی دہشتگردی کو پھیلانے کا الزم بڑا لغو ہے۔اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر 16سال بعد سپریم کورٹ نے ISIسے رقم لینا ثابت کیا ، حمیدگل مرحوم اقرارجرم اور سزا کی تمنا لیکر دنیا سے گئے۔ اگر ملوث اہلکاروں اور جماعتِ اسلامی وغیرہ کو عدالت مقدس گائے سمجھ کر ذبح کرنے کا حکم جاری نہیں کرسکتی ہے تو ن لیگ سامری کا بچھڑا بن کر ایسی آواز زر خریدمیڈیا کے چینلوں سے نکالنے میں کامیاب رہیگی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی موجودگی میں بھی قوم کو گمراہ کیا جاسکے گا۔ جتنے سوال جواب کرنے ہوں عدالت عظمیٰ سورۂ بقرہ کے واقعہ کی طرح آخر مقدس گائے کو ذبح کرنے اور سامری کے بچھڑے کو سزا دیدے۔ پھر جمہوریت کے نام پر شاہی نظام کا خاتمہ کرنے میں بالکل ہی دیر نہ لگے گی۔
چیئرمین سینٹ رضا ربانی ،خورشید شاہ و دیگر اپوزیشن جماعتوں، حکومتی اتحاداور میڈیا کے اینکرپرسن حضرات کو اگر واقعی جمہوری نظام کا چلتے رہنے سے پیار ہو تو پھر ایک نکاتی ایجنڈہ لیکر کھڑے ہوجاؤ، عمران خان کا رونا دھونا بھاڑ میں جائے، سب یہ حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ جنرل کیانی کیساتھ نوازشریف کالا کوٹ پہن کر عدالت میں گیاتھا، کیا قانون کی حکمرانی کیلئے چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہونا جمہوری سسٹم بچانے کا ذریعہ نہ ہوگا۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ 16سال بعد ہوا، عمل درآمد کی دیر ہے، ن لیگ سمیت ساری آمریت کی پروردہ جماعتوں کے قائدین نہ صرف سزا سے نااہل ہوجائیں گے بلکہ جمہوری نظام کو بھی زبردست استحکام ملے گا۔
جنرل راحیل سیاسی آدمی نہیں لگتے اور نہ سیاسی عزائم رکھتے ہیں، اگر وہ بعض دوسروں کی طرح دُم ہلانے والے ہوتے تو یومِ دفاع کے موقع پر جمہوری علمدار چیئرمین سینٹ رضا ربانی اور قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ کو تقریب میں اپنے ساتھ کیوں بٹھاتے؟۔ جس سے برسر اقتدار حکمران بھیگی بلی بن کر رہ گئے تھے۔ جن دہشت گردوں کی آبیاری امریکہ نے اپنے مقاصد کی خاطر کی تھی ، وہ اپنے عزائم پر تاحال قائم ہے۔ ڈرون حملوں کے ذریعہ دہشت گردوں کو امریکہ ختم نہیں کرنا چاہتا بلکہ ان کو گرمائے رکھنا چاہتا ہے۔ القاعدہ، طالبان اور داعش میں پسند و نا پسندکے سلسلے کو جاری رکھنے والا امریکہ اور شیطانی قوتیں اس اسلامی آئین سے خائف ہیں جس کا ذکر علامہ اقبالؒ نے ’’شیطان کی مجلسِ شوریٰ‘‘ کے حوالے سے کیا تھا۔
وزیراعظم نوازشریف ! لوگوں نے مان لیا کہ ’’ کراچی آپریشن اور امن کی فضا ‘‘ اور ضرب عضب آپ کی حکومت کا تحفہ ہے۔سی پیک آپ کا کارنامہ تھا اور آپ نے لوڈشیڈنگ، بے روزگاری اور دہشتگردی کا خاتمہ کیا۔قرضے کے انبار نہیں اقتصادی ترقی کرلی لیکن سوئس اکاونٹ کیخلاف آسمان کو سر پہ اٹھانے والے! لوگوں کو کرپشن کیخلاف ایک کرنے، سوئس اکاونٹ اورپانامہ لیکس پر تضادات کو دور کرنے میں آخر قباحت کیاہے؟۔باقی سارے ایشوز کیساتھ یہ ایک ایشو بھی اطمینان بخش ہوجاتا۔
آپ نے دو دفعہ حکومت کی مگرگوادر کو چین سے ملانے کا خیال نہ آیا، 1999ء میں آپ کی حکومت گئی، آپ غریب و بے بس نے چوہدری اعتزاز احسن سے بھی کم ٹیکس دیا تھاپھر اللہ تجھ پر مہربان ہوا، پرویزمشرف نے تیری حکومت کیا ختم کی، ایک طرف پاکستان کی تقدیر بدلی ۔2002ء میں چائنہ کو گوادر دیاگیا۔ دوسری طرف تیری تقدیر بدلی اور بچے پانامہ لیکس اور لندن کے قیمتی فلیٹوں کے مالک بن گئے۔ پرویز مشرف کے دور میں جنرل راحیل جیسا جنرل ہوتا، جو گوادر چین کے سڑک پر صدر یا وزیراعظم کو جیپ میں بٹھاکر ڈرائیونگ کرتا تو گوادر اور چین کے درمیان روڈ بھی بن چکا ہوتا۔جنرل پرویز مشرف کو امریکہ کا غم نہ تھا،وہ قطر سے مہنگا ترین گیس کا معاہدہ کرنے کے بجائے ایران سے گیس پائپ لائن لاکرانڈسٹریوں اور گھروں کو سستے دام گیس کی سپلائی بھی شروع کردیتا۔اور کالا باغ ڈیم بناکرزیر زمین اور سطح زمیں پانی کے ذخائر سے پاکستان کوزراعت و سستی بجلی کی نعمت سے مالامال کردیتا۔
سندھ میں راجہ داہر ہو یا پنجاب میں راجہ رنجیت سنگھ۔ اچکزئی ،اسفندیار، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق وغیرہ نے نواب، سردار اور خان بننے کیلئے اپنی لنگوٹ کس رکھی ہے۔ الیکشن عوام کی رائے نہیں پیسے کا کھیل ضمیر کی سوداگری ہے۔ جمہوریت کا دم بھرنے والوں کی اگلی منزل بلاول بھٹوزداری اور مریم نواز صفدر عباسی کی آل اولاد ہے لیکن نوابوں ، سرداروں اور خانوں کواس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ شہنشائے معظم کے تخت پر گھوڑا ہو یا گھوڑی، گدھا ہو گدھی اور خچر ہو یا خچری؟۔ ان کو تو اپنی مراعات ملنے سے کام ہے۔ آزادی کے متوالوں غفار خان،صمد خان اچکزئی اور فقیر اے پی کو جرمنی کی مراعات نہ رہیں تو آزادی بھی بری لگی۔پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کاروبار ہے ، جس کمپنی کے شیمپو والے اس دوشیزہ کو اشتہار کیلئے زیادہ سے زیادہ پیسے دے وہ جعلی بالوں ، زیبائش وآرائش کے نسوانی حسن اور ناز ونخرے سے مالامال چال چلن کا مظاہرہ کریگی۔ میڈیا ہاؤسز کو اپنے کاروبار کیساتھ قوم کی بھی فکر کرنا چاہیے۔
’’جب جلانے کیلئے کچھ نہ ملا تو ماں نے اپنے لعل کی تختی جلادی‘‘ ۔ جنگلات کا تحفظ کیجئے ، محکمہ جنگلات ۔میڈیا کو لڑانے کیلئے کچھ نہ ملا تو جیو نیوز کی رابعہ انعم نے آفریدی و میانداد کو لڑایا، شعیب اخترنے صلح کو خیرکہہ کر ترجیح دی۔ سندھ حکومت نے ہیلمٹ ، ون ویلنگ پر جتنا خرچہ اشتہارات پر لگایا ،اگر تھوڑا سا خرچہ روڈوں پر بھی کردیتے تو وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سے کراچی کی عوام بھی محبت کرنے لگ جاتی۔ پہاڑی علاقوں میں پانی سڑکیں بہا لے جاتاہے، روزانہ نہیں تو چند دن بعد بڑے سیلابی فلڈ آتے ہیں۔لوگ رضاکاربن کر سڑک بنالیتے ہیں۔ قائد آباد کے پاس تھوڑی جگہ حکومت کی اپنی نااہلی کے باعث خراب ہوگئی ، دن رات گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ کاش وزیراعلیٰ اپنے والد کی روح کے ایصال ثواب کیلئے مرحوم کی نیک کمائی میں سے اس پر تھوڑی رقم خرچ کردیتا۔ یا میڈیااشتہار مفت میں چلائے اور یہ رقم حکومت کو کھڈوں پر خرچ کرنے کا کہے۔ گلشن حدید لنک روڈ کا پل عارضی بنایا جائے تو بھی عوام اور ٹرالرمالکان کو مصیبت سے چھٹکارا ملے۔ ٹرالروں کو بے وقت چھوڑدیاجاتاہے پھررینجرز اہلکار ائرپورٹ سے ماڈل ٹاؤن کی طرف جانیوالے مختصر رانگ وے پر عوام کو تنگ کرتے ہیں جس پرٹریفک پولیس بھی کچھ نہیں کہتی ۔ ریاستی اداروں کو عوام سے اپنا رویہ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، پولیس اہلکار کتوں کی طرح لالچ کا رویہ رکھتے ہیں جس کی وجہ اپنے بچوں و افسروں کو پالناہے۔ رینجرز اہلکار عوام سے سرِ عام رقم ہتھیالینے کا رویہ نہیں رکھتے لیکن کینٹ سے گزرنے والے بے وقت غیرقانونی ٹرالے اور بڑے ٹرک نظر نہ آتے ہوں اور چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل والے سے قانون کی پاسداری کیلئے غیر اخلاقی رویہ پر گدھے لگتے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ ہماری بدتمیز عوام کیلئے زیادہ سے زیادہ سخت رویہ کی بھی ضرورت ہے اور یہ بھی غنیمت ہے کہ پولیس والے بچوں کے پیٹ کیلئے ہی سہی لیکن کچھ نہ کچھ تو قانون کی پاسداری کرواتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کرائم پر قابو کیلئے ہی بڑی قربانیاں دیتے ہیں ۔ عدالتوں میں قوانین کے ذرئع مجرموں کو تحفظ نہ ملتا تھا تو ہمارے اداروں میں اچھے افسروں، سپائیوں اور اہلکاروں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوتا۔ جب محنت کے نتائج نہیں نکلتے تو اچھے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔