پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، امریکہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ اٹھارہا ہے، عتیق گیلانی

712
0

جہادِ افغانستان میں سعودی کوکھ سے القاعدہ اورعراق سے داعش نکالی اور لیبیا وشام وغیرہ کے ڈھانچوں کو تباہ کرکے دنیا بھر میں خود کش حملوں سے مقاصد حاصل کیے ہیں

قوم،وطن، ملک سلطنت سے محبت رکھنا انسان کی فطرت اور ایمان کاحصہ ہے لیکن تعصب رکھنا ایمان کے بالکل منافی ہے، تعصب و محبت میں واضح و باریک فرق ہے

روشنی سفید او راندھیرا کالا ہوتا ہے مگر سفیدوسیاہ اور روشنی واندھیرے میں نمایاں فرق ہے روشنی سے سیاہ وسفید کا پتہ چلتا ہے اور اندھیرے میں سیاہ و سفیدکی تمیز نہیں رہتی

محبت روشنی، تعصب اندھیرا،محبت ایمان تعصب ایمان کے منافی، محبت علم تعصب جہالت،محبت اچھی فطرت تعصب بدفطرت، محبت انسانیت تعصب حیوانیت ہے

ایدھیؒ کی انسانی خدمت کو جنرل راحیل نے قومی اعزاز سے نواز کر 7چاند لگادئیے،جس سے پاکستان کی عزت میں نئے باب کا اضافہ ہوا، وزیراعظم سوچتے رہ گئے ہیں

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرکے پاک فوج نے ثابت کیا کہ اصل دہشت گرد اورانکے سرپرست افغانستان میں امریکہ اور اسکے ساتھی ہیں

ہیروئن کی کاشت، سپلائی، آمدن اور اسلحہ کے فروخت کیلئے قوموں کے درمیان طویل خانہ جنگیں امریکہ کاشغل اور پیشہ ہے ۔تابعدار پسماندہ فوج کو حصہ بقدرِ جثہ ملتا ہے

جنرل راحیل کی قیادت میں پاک فوج کو کردار دیا جائے کہ نیٹو کے زیرنگرانی ہیروئن اور اسلحہ کے ایکسپورٹ امپورٹ کو روکاجائے توخطہ سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا

کوئی کتے،مرغے،تیتر،بٹیرلڑاتا ہے اور وہ اسکا پیشہ ہوتا ہے، امریکہ دیگرریاستوں کاڈھانچہ تباہ اور قوموں کو لڑاتا ہے۔ اسلحہ امریکہ کی وائٹ منی اور ہیروئن بلیک منی ہے

جنرل راحیل شریف نے اپنی فوج،ریاست،حکومت،قوم اوراسلام کو چاہنے والوں کی جان دہشت گردی کے گھناؤنے کھیل سے بچاکر ایک بڑے مسیحا کا کردار اداکیا

 

انگریز تقسیم ہندچاہتا تھا، متحدہ ہندوستان کے حامی روسی نظام کے حامی تھے، پاکستان مشرقی و مغربی میں عملی طور سے دولخت تھا، پاک فوج کے انگریز سپہ سالاروں کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل ایوب نے عہدہ سنبھالا تو بنگال کے آخری نواب میر جعفر کے پوتے سکندر مرزا کوپاکستان کی صدارت سے برطرف کیا، ذوالفقار علی بھٹو کو وزیرخارجہ بنایا گیا، پھرسقوطِ ڈھاکہ پر پاک فوج کی بڑی تعدادنے بھارتی فوج کے آگے ہتھیار ڈالے ،ذلت ورسوائی کے وقت سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرذوالفقاربھٹو کو بنادیاگیا، ذوالفقارعلی بھٹو نے روس کے سوشلزم کا نعرہ بلند کیا لیکن عملی طور سے اسلامی ممالک کو امریکہ کی چھتری میں روس کیخلاف کام پر آمادہ کیا،اس وقت بھٹو کا سسرایران امریکہ کا سب سے بڑاپٹھو تھامگرٹشو کو استعمال کرکے پھینک دیا جاتا ہے۔ شاہ ایران کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرناپڑا، امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کونمایاں مقام اسوقت حاصل تھا جب روس کیخلاف امریکہ کی جنگ افغانستان کی سرزمین پر لڑی جارہی تھی، اسکے ساتھ شریک سعودیہ وغیرہ بھی بھٹو کی پالیسیوں کا تسلسل تھا، روس کی شکست کے بعد طالبان پیپلزپارٹی کے نصیراللہ بابر اور پاک فوج کے زیرسرپرستی امریکہ کے حکم پر لائے گئے۔ امریکہ سی آئی اے کی فعالیت سے سعودیہ کی کوکھ سے جنم لینی والی القاعدہ کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو پرویزمشرف اور اشفاق کیانی کو دوغلہ کردار دیا گیا، عراق پر حملہ کرکے اور شام کو تہس نہس کرنے کیلئے جوکردار ادا کیا گیا وہاں سے داعش نے جنم لیا۔ امریکہ اور اسکے گھماشتے اسلامی اورغیراسلامی ممالک انسانیت کو تباہی کی طرف تسلسل کیساتھ لے جارہے ہیں، اسکے نتائج کیا ہونگے؟۔ مدینہ میں خود کش حملے پر انسانیت دشمنوں کو دکھ پہنچنے کا کیا تُک بنتا ہے؟۔
نبیﷺ سے زیادہ خانہ کعبہ کی عزت اور چاہت کا احساس کس کو ہوسکتا تھا؟، فرمایا کہ ایک مؤمن کا دل دکھانا خانہ کعبہ کو دس مرتبہ گرانے سے زیادہ بُرا ہے، مکی زندگی میں انسانی جانوں کو تحفظ دینے کیلئے خانہ کعبہ میں 360بتوں کو برداشت کیا، فتح مکہ کے وقت لوگوں میں اعلان کیا کہ لاتثریب علیکم الیوم انتم طلقاء آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں ،تم آزاد ہو۔ اور دشمن کے سردار ابوسفیان کے گھر کو عزت بخشی، انسانیت کے محسنِ اعظم ﷺ کی حرم اماں عائشہؓ پر بہتان لگایا گیا تو اس کی سزا 80کوڑے کی آیات نازل ہوئیں جوکسی بھی پاک دامن پر بہتان لگانے کی عام سزا ہے چاہے وہ گٹر صاف کرنی والی عیسائی جمعدارنی ہی کیوں نہ ہو۔
پسماندہ ممالک پر جنگیں مسلط کرکے عالمی قوتیں اسلحہ کی سپلائی اور منشیات کی سمگلنگ سے منافع بخش کاروبار میں ملوث ہیں، جنرل راحیل شریف اور پاک فوج اس گندے کاروبار کو دنیا کے سامنے عیاں کریں، دہشت گردی کا اس خطہ اور دنیا سے خاتمہ ہوجائیگا،ہماریبدقسمتی یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق سے جنرل اشفاق پرویز کیانی تک دوسروں کی چاکری کرکے ہم نے ہیروز بننے کی کوشش کی، دوسروں کو دھوکہ دینے کے نام پر خود سے دھوکہ کیا، دوسروں کو ہیروئن سمگلنگ کرنے کے نام پر ان کیلئے ہی استعمال ہوئے۔جنرل ضیاء سے منسوب کیاگیا کہ’’ ہیروئن سے امریکہ و مغرب تباہ ہوگا، یہ ہمارا ہتھیارہے‘‘۔ دنیا سوچتی ہے کہ پسماندہ ممالک سے پولیو ختم کرنے پربھاری رقم خرچ کرنیوالوں کو مسلمان منشیات سے تباہ کرکے کیا عزت کمائیں گے؟۔ جب دنیا کو پتہ چل جائیگا کہ امریکی افواج کی سرپرستی میں بلیک منی حاصل کرنے کیلئے دنیا بھر کی فوجیں منشیات کی سرپرستی کرتی ہیں اور وائٹ منی کیلئے جنگیں برپا کرکے اسلحہ فروخت کیا جارہا ہے تو انسانیت کی آنکھیں کھلیں گی کہ امریکہ ہی برائی کی اصل جڑ اور اس کاپیش خیمہ ہے۔عراق کو تباہ کیا گیا اور اب اعترافِ جرم کیا جارہا ہے؟۔ رضاکارانہ اقرارِ جرم کے پیچھے اصل کہانی منشیات کی سمگلنگ اور اسلحہ کے کاروبار کا مزید فروغ ہے، جو بڑے آب وتاب کیساتھ جاری ہے۔ اوبامہ گدھے کو کیا پتہ کی طویل عرصہ تک جنگ پاکستان میں جاری رہنے کا بیان اسے کیوں دلوایاگیا۔
جب کامریڈ سلیم اختر کے ہمراہ میری کمیونسٹ پارٹی کے امدادقاضی سے عاصم جمال مرحوم کی رہائشگاہ پر ملاقات ہوئی تو طالبان اور جہاد کے ذکر پر عاصم جمال مرحوم بہت برہم ہوئے، بڑے سخت لہجہ میں کہا کہ یہ ڈرامہ چھوڑ دو، اصل بات بتاؤ کہ ہیروئن کی اسمگلنگ کی کہانی کیا ہے؟۔ ان کو غصہ آرہا تھا کہ طالبان اور جہاد کا ذکر کیسا؟، ان کا مؤقف تھا کہ’’ امریکی فوج نے دنیا بھر کی افواج کو اپنے ساتھ منشیات کی سمگلنگ میں ملایا ہوا ہے، امریکی فوجیوں کا یہی دھندہ ہے اور انکے تربیت یافتہ دنیا بھر کے پسماندہ ممالک پر جنگیں مسلط کرکے ہیروئن کی کاشت اور سمگلنگ کے ذریعہ سے ایک ڈالر پر80 ڈالر کمانے کا منافع بخش کاروبار کرتے ہیں۔امریکہ کے اینٹنی نار کوٹس کے چیف کو اسمگلنگ میں باقاعدہ عدالت کی طرف سے اسی وجہ سے سزا بھی ہوچکی ہے‘‘۔
اپنی قوم ، ملت اور سلطنت سے محبت رکھناایمان کا تقاضہ ہے لیکن تعصب کرنا بے ایمانی ہے اور مسلم قوم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دوسرے ہمارے ساتھ تعصب کریں تو ہم بھی تعصب کو ہوا دیں، نبیﷺ نے فرمایا کہ الدین النصیحۃ ’’ دین خیرخواہی کا نام ہے‘‘۔ دوسروں کی تباہی نہیں خیر خواہی کا نام اسلام ہے۔ اسلام سلامتی اور ایمان امن کی ضمانت ہے۔ ایمان واسلام کی بنیاد پر یہ دنیا امن وامان کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ دنیا کو تقسیم در تقسیم،نفرت در نفرت، تعصب در تعصب ، انتقام در انتقام، عداوت در عداوت اور تباہی وبربادی کی طرف لے جایا جارہا ہے۔ ایک طبقہ امریکہ اور دوسرا دہشت گردوں کا حامی ہو،دونوں آپس میں الجھ کر دہشت گردوں کو مجاہد یا فسادی کہنے پر لڑیں تومیدانِ جنگ بدلے گا۔اس منفی سوچ ، غلط رویہ اور تعصب کی بدولت ہمارے سیاستدان، مذہبی طبقے اور لسانی قائدین تباہ تھے۔ جنرل راحیل نے یومِ دفاع پر چیئرمین سینٹ ،اقتصادی راہداری پروزیراعظم کی ڈرائیونگ اور ایدھیؒ کی عزت سے قوم کے مثبت رحجانات کا پیغام دیا۔
امریکہ نے دنیا کے مختلف ممالک کی طرح اپنے مفاد میں پاکستان اور خطے کا نقشہ بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پہلے افغان مہاجرین کو نکالنے یا نہ نکالنے پر ایک تعصب کو ہوا دی جائے گی، جب یہ قوم ملتِ اسلامیہ کو بخرے کرنے پر لسانی اعتبار سے تعصب کا شکار ہوجائے گی توکوئی افغانیوں کی حمایت اور کوئی مخالفت کریگا؟۔ جب اسلام کے حوالہ سے جہادی جذبہ چل رہا تھا، تو وہ قوم کو تباہ کرنے کیلئے گارگر ہتھیار تھا، عالمی قوتوں کے ایماء پر افغان مہاجرین کو سونے کی چڑیا سمجھ کر بسایا گیا، اس وقت روس کے ایجنٹ بن کر بعض لوگ دھماکے کرتے مگر ہم نے اپنے مفاد کیلئے وہ سب کچھ برداشت کیا، اب پولیس افغانیوں کو تنگ کرنا شروع کریگی تو ایک نیا کھیل شروع ہوگا۔
سندھی، بلوچ، پنجابی اور بعض پختون کہیں گے کہ ان کو نکال دو، بعض کہیں گے کہ ان کو اس طرح دھکیلنا زیادتی ہے، جنکے پاس ٹکے کی عزت اور افراد نہ ہونگے، اسی نام پر دونوں اطراف کو نئی سیاست چمکانے اور ہمدردیاں بٹورنے کا موقع مل جائیگا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی صاحب سے میری ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ امریکہ نے تمام دنیا میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان کی تقسیم کا بھی فیصلہ ہوچکا ہے، یہ اپنے انجام کی طرف جارہا ہے جو مقتدر قوتیں ہیں وہ مزاحمت نہیں کرنا چاہتی ہیں بلکہ ان کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں تو ہماری ایسی اوقات نہیں کہ رکاوٹ بن سکیں، بس ویمدھم فی طغیانھم یعمھون ان کو اللہ ان کی سرکشی میں اندھیرنگری کی کیفیت میں لے جارہا ہے۔ساتھ میں تشریف فرماایک رہنمانے کہا کہ کراچی کو علیحدہ کرنے کیلئے پہلے دوسری قومیتوں کو نکالا جائیگا، پھر کراچی کو ملک سے کاٹ دیا جائیگا۔
یوں تو مشہورہے کہ دو ملاؤں میں کُکڑی حرام ہے، یعنی ان کی آپس میں نہیں بنتی لیکن یہ واقعات بھی تاریخ کا حصہ ہیں کہ ایک اللہ والا شیخ طریقت کسی شہر میں آنا چاہتا تھا تو دوسرے نے تحفہ کے طور پر شربت کا بھرا ہوا گلاس بھیج دیا، لطائف صوفیہ کے لطیف اشارہ سے سمجھایا کہ یہاں اس شہر میں تیری گنجائش نہیں،فیضانِ تصوف کا پیمانہ لبریز ہے ۔ آنے والے نے اس سے بڑھ کر اپنے کمال فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرے ہوئے گلاس پر پھول رکھ دیااور لطافت کے فن سے بتایا کہ مجھ سے تجھے کوئی تکلیف نہ پہنچے گی، پھول کی طرح رہوں گا۔ چنانچہ شہر میں پہلے سے موجود صوفی نے اپنا گڈریہ سمیٹا اور چل دیا کہ آنے والا زیادہ پاورفل اور عقلمند ہے،میری دال نہ گلے گی، سورج کے سامنے چاند کی روشنی مدہم پڑجاتی ہے، اسلئے وہاں سے جانا پڑ گیا۔ علماء کی طرح صوفیاء بھی اپنے ٹھیے لگاکر خلقِ خدا کو ایسا فیضیاب کرنا چاہتے ہیں جہاں دوصوفیوں کے اندر شارٹ سرکٹ سے کہیں خطرہ 440 پیدا نہ ہو، اور وولٹیج 220ہی رہے۔ایک ہی شیخ کے خلفاء کی تشکیل دور درازکے مختلف علاقوں میں کی جاتی تھی۔معاصرت کا لفظ ہی کافی ہے، یعنی ایک زمانہ میں ہونے کی وجہ ہی مخالفت اور مخاصمت عام سی بات ہے۔ توحید اور نبیﷺ سے محبت کے نام پر ایک دوسرے کیخلاف تعصب کا زہر گھولا جاتا ہے ۔مولاناطارق جمیل خودکش حملوں کی مذمت سے انکارمگر حرم والوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے پر اظہارِ افسوس سے تعصب کی بدبُو کو ہوا دیتا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اللہ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو نبوت سے نوازا تھا، کسی بات پر اختلاف کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑا ۔اگر اس کا قرآن میں ذکر نہ ہوتا تو اسرائیلیات قرار دیکر اس کو رد کردیا جاتا کہ ایک جلیل القدر نبی اپنے دوسرے نبی بھائی کیساتھ یہ حرکت کیسے کرسکتا تھا اور اس سے بڑھ کر معصوم فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق پر کھل کر اعتراض کیا جن کی سرشست ہی میں معصیت کا خمیر بھی نہ تھا، جبکہ ابلیس نے پہلے کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ روتا تھا کہ کہیں وہ کمبخت مَیں نہ ہوں جس کو جنت سے نکالا جائے،پھر جب یہ حکم آیا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو سارے فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے تکبر کیا، اس نے یہ نہیں دیکھا کہ نوری فرشتے سجدہ کررہے ہیں تو ناری جنّ کو سجدہ سے انکارزیب نہیں دیتاہے،اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ مسلمانوں کو بلکہ انسانیت کو یہ سبق سکھادیا کہ ابلیس کے نقش قدم پر چلنے میں عافیت نہیں ذلت ورسوائی کا راستہ ہے۔
صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلافات اور لڑائی جھگڑوں سے انکار نہیں مگرموسیٰ ؑ و ہارونؑ اور موسیٰ ؑ وخضرؑ کے درمیان اختلافات کو عقیدت ومحبت کی نگاہ سے دیکھنے والوں کیلئے یہ لازم ہے کہ صحابہ کرامؓ کے اختلافات کو بھی محبت و عقیدت کی بجائے بغض و تعصب کا رنگ نہ دیں اور جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وکالت کرکے حضرت ہارونؓ و خضرؑ کی توہین واہانت گمراہی ہے اسی طرح نبیﷺ کے صحابہؓ کے اختلاف کو بھی محبت و عقیدت کی بجائے بغض و تعصب کا رنگ دینا کوئی مستحسن نہیں بلکہ قبیح ومکروہ فعل ہے۔ ہم پر فرض ہے کہ موجودہ دور میں فرقہ وارانہ تعصبات کو ختم کرنے کیلئے ایمانداری سے وہ کام کریں جس سے لوگوں کے ذہن اور دل ایک دوسرے سے بغض و عناد ، دشمنی و عداوت کی بجائے محبت وانسیت سے لبیریز ہوجائیں۔ زبان وقبائل کی شناخت تعارف کیلئے لیکن فرقہ واریت کی شناخت ایک حقیقت تو ہے مگر کوئی مستحسن چیز نہیں ۔
میرا تعلق دیوبندی مکتب سے ہے، قریبی حلقے سے محبت فطرت لیکن اپنے فرقہ کیلئے تعصب رکھنا انتہائی مذموم فعل ہے اور اسی وجہ سے سابقہ قومیں تباہ وبرباد ہوئی ہیں۔ جو یہ کہا کرتے تھے کہ وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ہودا اونصاریٰ وقالت الیہود لیست النصاریٰ علی شئی وقالت النصاریٰ لیست الیہود علی شئی ۔۔۔ وقال الذین لایعلمون مثل قولہم ’’اور وہ کہتے تھے کہ کوئی بھی جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو یہودی یا نصرانی ہو، یہود کہتے تھے کہ نصاریٰ کسی (حق) چیز پرنہیں اور نصاریٰ کہتے تھے کہ یہود کسی چیز پر نہیں۔۔۔ اسی طرح جو نہیں جانتے وہ بھی انہی کی طرح بات کرتے ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اس متعصبانہ ذہنیت کی نفی کرتے ہوئے اسلام کو رحمۃ للعالینﷺ کے ذریعہ رب العالمین جل جلالہ کا دین بنادیا۔ ان الذین اٰمنو ا و الذین ھادوا والنصاریٰ و الصابئین من امن باللہ والیوم اٰخر وعمل صالحا فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون ’’ بیشک جولوگ مسلمان ہیں، جو یہودی ہیں اور جونصاریٰ ہیں ، جو صابئین ہیں، ان میں سے جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کئے تو ان پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہونگے‘‘۔
لو لا دفع اللہ الناس بعضھم علیٰ بعض لھدمت صوامع و بیع و صلوات و مساجد اذکرو ا فیھا اسم اللہ کثیرا اس میں باقی مذاہب کے مقابلے میں مساجد کو اللہ نے آخر میں رکھا ۔ ہم مذہب کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعصبات رکھتے ہیں۔ سنی شیعہ، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث نے مل کر مرزائیوں پر کفر کا فتویٰ لگایا لیکن اکابر دیوبند کا یہ عقیدہ زیادہ خطرناک و گمراہ کن ہے کہ روحانی طاقت کی بنیاد پرامام مہدی دنیا کے حالات کو بدلے گا، بلکہ شیعہ اور عام لوگ بھی اسی گمراہی میں مبتلاء ہیں، علامہ اقبال ؒ کا تصور درست تھا،مولانا مودودی ؒ نے لکھا :مہدی عام لوگوں سے بالکل مختلف نہ ہوگا، میرے خیال میں اس کی جدتوں کیخلاف سب سے پہلے علماء وصوفیاء ہی شورش برپا کرینگے(تجدید واحیائے دین)مگردر حقیقت مہدی کوجدتوں کی ضرورت ہرگزنہ ہوگی بلکہ قرآن وسنت کاسادہ اسلوب ہی اجنبیت کاپردہ اٹھانے کیلئے کافی اور ہدایت کا اصل بڑا ذریعہ ہوگا۔بنیادی معاملات پر قرآن وسنت کو واضح کیا جائے تو جماعت اسلامی، بریلوی، دیوبندی،شیعہ ،اہلحدیث سب ایک اورنیک ہونگے۔عتیق گیلانی