پاکستان واحد مسلم ایٹمی قوت اور عالم اسلام کا امام ہے ۔

707
0

پاکستان واحد مسلم ایٹمی قوت اور عالم اسلام کا امام ہے ۔ جب امریکہ نے مسلم ممالک افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام وغیرہ پر حملہ کرنے کی ابتداء کی تو بقول شاعر مشرق علامہ اقبال ؂ نادان گرگیا سجدے میں جب وقت قیام آیا۔ اسلام شاعرانہ جذبے کانام نہیں ، لیلۃ القدر کی رات میں پیدا ہونے والے مغربی پاکستان کانقشہ ایسا ہے جیسے سجدہ کی حالت میں ہو،گوادر اس کا سر ہے ، کراچی شہ رگ ہے ، سندھ بایاں بازو،جگر اور دل ہے، بلوچستان دایاں بازو اور جگر ہے ، پختونخواہ دائیں پسلیاں ہیں ، پنجاب پیٹ ہے اورمقبوضہ کشمیر و آزاد کشمیر گلگت و بلتستان پاؤں و چوتڑہیں۔ بائیں ٹانگ وچوتڑ پر بھارت کا قبضہ ہے جسکی آزادی تک کوئی غیرتمند پاکستانی چین و سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔گوادر کے راستہ سے منہ کی طرح غذا آئیگی اور آنتوں سے ہوتی ہوئی چین پہنچے گی تو جسم توانا بن جائیگا۔ کھلے دل سے پالیسی تشکیل دیں تاکہ غیرتمند بلوچ کے دماغ سے بغاوت کا جذبہ نکلے، کرپٹ لوگوں کے بجائے باکردار لوگ صرف پاکستان نہیں بلکہ عالم اسلام کی خاطر ریاستی اداروں کیساتھ روح و جسم کی طرح ایک و نیک بن جائیں۔ کراچی و سندھ کے شہری علاقوں کے اردو اسپیکنگ پاکستان میں شہ رگ کی طرح کردار ادا کریں۔ سندھیوں کے دل اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیساتھ دھڑکیں اورٹوٹی پسلی پختونخواہ کو صحت مند بنایا جائے جو جسم کو تکیہ دینے کے قابل بن جائے۔ پنجاب پھٹے ہوئے پیٹ کی طرح نہ ہو جسکے شہزادوں کی آف شور کمپنیاں پانامہ میں لیک ہوں، شریف فیملی سمیت سب اپنی حق حلال کی کمائی ملک لاکر سرمایہ کاری کریں، عوام غربت سے بدحال اورعوامی نمائندوں کے بچے باہر مالامال ہیں۔اگر انکے بچے واقعی قابل ہیں تو زیادہ شادیاں کریں اور زیادہ بچے جنوائیں اور بیرون ملک سے زرِ مبادلہ کماکر پاکستان منتقل کریں تاکہ اعتمادقائم ہو۔

پاک آرمی نے خود احتسابی شروع کی تو یہ آئین کے عین مطابق ہے ، عدلیہ و فوج کیلئے یہی قانون ہے ۔ اگر جسٹس(ر) افتخار چوہدری کے وقت عدلیہ کی تطہیر ہوجاتی تو اعتزاز احسن ، عاصمہ جہانگیر ، علی احمد کرد اور وکلاء رہنماؤں کا سر فخر سے بلند ہوتا، عدلیہ کیلئے فوج کا احتساب ممکن بھی نہ تھا، ملک کی قسمت ہے کہ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی اور کرپشن کے خاتمے کیلئے بنیادی کر دار ادا کیا ہے۔ لائق احترام چیئر مین سینٹ رضا ربانی اگر کہتے کہ’’ ہمارا سر شرم سے جھکا، جمہوری حکومت اور سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کے عمل سے خود کو قوم کے سامنے رول ماڈل پیش کرنا تھا مگر ہمارے بجائے یہ کام فوج نے خود ہی شروع کردیا‘‘۔ جنرل راحیل شریف آن ڈیوٹی اور ریٹائرڈ جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کو معاف نہیں کرتے لیکن سیاستدانوں نے جمہوریت کے نام پر بادشاہت اور کرپشن کی بے تاج بادشاہی کا کاروبار بنا رکھا ہے۔ کارکن رہنماؤں کا ،رہنما اپنے قائدین کا گریبان پکڑتے تو سیاسی قبلہ درست ہوتا، کرایہ کے ٹٹو کارکن اور ضمیرفروش سیاسی ر ہنما جمہوریت کاتحفظ نہیں کرسکتے ہیں۔ پانامہ لیکس نے اس حمام میں احرام پہنے والے جاتی عمرہ کے حاجی نواز شریف اور الحاج شہبازشریف کا احرام بھی کھول دیاہے،اب قربانی دینا ہوگی،علماء درست اسلام کا جھنڈا بلند کریں توپاکستان روحانی، اخلاقی اور انسانی بنیاد پربدلے گا۔
جنرل راحیل شریف نے ریاست کی رٹ پاکستان بھر میں بحال کردی تو اسمیں بہادری کے علاوہ کرپشن سے پاک پالیسی کا بنیادی کردار ہے۔ کیا برا ہوتا کہ ہماری سیاسی قیادت باہر سے اپنا پیسہ واپس پاکستان منتقل کردیتی تو ملٹری اور سول بیوروکریسی کے لوگ بھی اپنے حق حلال یا نا حق حرام کی کمائیاں لوٹادیتے۔ جس طرح ایم کیو ایم کے قائد الطاف بھائی کا پیسہ ضبط ہوا ، منی لانڈرنگ کے کیس بن گئے اور ایجنٹ کے الزام بھی لگے ۔یہی دوسرے پاکستانیوں کیساتھ بھی ہوگا،اسلئے برضا و رغبت اور خوشی خوشی اپنی رقوم پاکستان منتقل کردیں ، یہاں بھی بڑے شہروں میں ڈیفنس کی شکل میں آف شور کی سہولیات موجود ہیں،اگر ڈیفنس کی یہ سہولت ختم کردی تو ڈیفنس کے بجٹ میں یہ رقم آئیگی۔
اعتزازاحسن نے کہا :’’ بلوچستان کاسیکرٹری خزانہ بلوچ تھا، ہتھکڑی لگ گئی اس نے کروڑوں روپیہ گھر میں رکھا لیکن پنجابی شہزادوں کو سزا نہ ہوگی جنہوں نے اربوں کھربوں آف شور کمپنی میں رکھے ،دونوں کی کرپشن میں فرق کیا ‘‘۔پاکستان ٹھوس اقدامات سے اسلامی برادری اور دنیا میں آج بھی کھڑا ہوسکتا ہے مگر فطری اسلام ضروری۔