مشرف کیساتھ ڈیل کی طرح نواز شریف عدالتی فیصلے پر خوش اور شرمندہ ہیں، اشرف میمن

266
0

panama-leaks-pakistan-pervez-musharraf-hudaibiya-paper-mill-hazrat-umar-hazrat-abubakar-syed-atiq-ur-rehman-gilani

نوشتۂ دیوار کے پبلشراشرف میمن نے کہا کہ جمہوری نظام شخصیت پرستی نہیں مشاورت سے امور طے کرنے کا نام ہے۔ نوازشریف کے جو مالی سکینڈل میڈیا پرآئے۔کچھ اخلاقی قدریں ہوتیں تو شریف فیملی کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ تھی، اقامہ کی ملازمت ہم جیسا بھی وقار کیخلاف سمجھے ۔بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ لینے کی بات بھی بے شرمی ہے۔ مغربی جمہوریت سے بڑھ کر ہمارا اسلامی نظام ہے۔ شکست میں صحابہؓ کے پیر اکھڑ گئے، فرمایا: ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ رسل فان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ’’اورمحمد کیا ہیں؟۔مگرایک رسول ، آپ سے پہلے بھی رسول گزر چکے ، اگر آپ فوت ہوں یا قتل کیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھروگے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے تلوار اٹھائی جوکہے کہ آپﷺ کا وصال ہوا تو اسکی گردن اڑادوں گا، حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ جو محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو آپﷺ فوت ہوچکے، جو اللہ کو پوجتا ہے تو وہ زندہ اورپر موت طاری نہیں ہوتی۔ صحابہؓ کی حددرجہ عقیدت اور نظریاتی پختگی نے دنیا میں عرو ج پر پہنچادیا۔ کوئی نااہل وزیراعظم سے پوچھتا، پارلیمنٹ میں کہاکہ سعودیہ کی فیکٹری بیچ کرلندن فلیٹ خریدلئے جسکے تمام ثبوت موجود ہیں۔ اگر عدالت میں پیش نہ کرسکے تو کارکنوں کو بتادو۔ بیٹے سے تنخواہ نہ لینا ثبوت ہے کہ باپ بیٹے میں مالی تفریق نہیں۔ اقامہ نہ کاروبار بلکہ کالا دھن سفید کرنیکا دھندہ تھا۔ ٹرائل میں تیرا کیا بنے گا؟، کالیا!۔ میڈیا اپنے پیسے سے تجھے ماردیگی ۔
بقیہ نمبر1 : نوازشریف کا کردار: اشرف میمندانیال ، طلال ، گلوبٹ، مولانا فضل الرحمن، میر شکیل الرحمن کو نوازشریف سے کیا عقیدت ہے؟۔ روزروزپارٹی ،موقف اورقبلے بدلنے والوں سے توقعات وابستہ رکھی جاسکتی ہیں؟۔
جمہوریت کیلئے مغرب کی طرف نہ دیکھو۔ اسلام جمہوری عمل کا بڑابنیادی ڈھانچہ ہے۔ نبیﷺ چچازاد و داماد حضرت علیؓ کو اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتے تھے۔ خفیہ نہیں کھلم کھلا اعلان کردیا :من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ ’’جس کا میں مولا ہوں یہ علی اسکا مولیٰ ہے‘‘۔
شیعہ سمجھتے ہیں کہ رسول ﷺ پر یہ وحی تھی ۔ وماینطق عن الھوی الا وحی یوحیٰ ’’آپ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے مگر جو وحی کی جاتی ہے‘‘۔ شیعہ نے مغالطہ کھایا ہے۔ اللہ کاحکم تھا کہ وشاور ھم فی الامر ’’ان سے خاص امر میں مشاورت کریں‘‘۔
علیؓ کامولیٰ ہونا وحی نہیں ۔ آپﷺ کی یہ خواہش ضرور تھی جس کا برملا اعلان کردیا۔ پھر نبیﷺ نے قلم اور کاغذ منگواکر فرمایا کہ ’’ میں ایسی وصیت لکھ دیتا ہوں کہ میرے بعد گمراہ نہ ہوگے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے کہاکہ ’’ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘۔ علاوہ ازیں نبیﷺ نے فرمایا: میں تمہارے اندر دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک ان کو مضبوطی سے تھاموگے کبھی گمراہ نہ ہوگے، ایک قرآن اور دوسرے میرے اہلبیت‘‘(مسلم، ترمذی)
رسول اللہﷺ کے وصال پر قریب تھا کہ انصار وقریش میں خلافت پر جھگڑا ہوجاتا۔ حضرت ابوبکرؓ ہنگامی بنیاد پر منتخب ہوئے۔ آپؓ نے حضرت عمرؓ کواپنے بعد نامزد کردیا۔ شوریٰ نے حضرت عثمانؓ کو نامزد کردیاتھا اور حضرت علیؓ کے وقت حالت بہت بگڑچکی تھی۔ حضرت حسنؓ دستبرداراور حضرت حسینؓ نے کربلا میں شہادت پائی۔ حضرت علیؓ کی سخت اپوزیشن اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ نے کی۔ حضرت امام حسنؓ نے خود مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ اسلامی جمہوری معاشرے کی بنیاد تھی کہ عوام کا دل رسول اللہﷺ کی عقیدت سے لبریزتھا مگر خلافت راشدہ کااقتدار متفرق شخصیات اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے حضرات کے ہاتھ میں رہا۔ جوں جوں اسلام کی روح اُمت کی اجتماعیت سے نکلتی چلی گئی توں توں آمر کے خانوادے بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانی خلافت کی شکل میں آگئے۔ علماء ومشائخ نے بھی اسلام سے دور ہوکر نالائق نا خلف اولاد کو اپنا جانشین بنانا شروع کردیا۔نبیﷺ نے علم کی میراث چھوڑی، مدینہ العلم کا باب بہترین قاضی کاخانوادہ بھی مسند سے محروم رہاتھا۔
مسجد،مدرسہ، خانقاہ ،مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیمیں اور جماعتیں شخصی ملکیت نہیں خاندانی تسلط کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ سید ابوالاعلی مودودیؒ نے جماعت اسلامی کو موروثی رنگ نہیں دیا۔ دارالعلوم دیوبند میں بھی موروثی نظام نہیں۔ قاری طیبؒ نے بیٹے مولانا سالم قاسمی کو مہتمم نامزدکیا تومزاحمت ہوئی پھردارالعلوم دیوبند بٹ گیا۔ تبلیغی جماعت مولانا الیاسؒ کے بعد مولانا یوسفؒ نہیں مولانا احتشام الحسنؒ ؒ کوامیر بنادیتی تو تبلیغی جماعت انقلاب لاچکی ہوتی۔ اب حاجی عبد الوہاب کا مولانا الیاسؒ کے پوتے یا پڑپوتے سے جھگڑابھی چل رہاہے۔
مذہبی وسیاسی جماعتوں ، مدارس، مساجد، خانقاہوں ، سماجی تنظیموں میں خلافتِ راشدہ کے طرز پر تبدیلی آجائے تو بہتری آسکتی ہے۔ رسول ﷺکے اہلبیت سے بہتر خانوادہ تھا؟، مگر حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کا تعلق بنی ہاشم سے نہیں تھااور مشکل صورتحال میں حضرت علیؓ ، حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ نے کردار ادا کیا۔پاکستان میں مذہبی وسیاسی جماعتوں اور اداروں کا رول ماڈل اسلام ہو۔
شریف خاندان کو مشکل کا سامنا تھا تو جاوید ہاشمی نے قربانی دی۔ نواز شریف نظریاتی ہے تو سیدیوسف رضا گیلانی کیخلاف کیوں گیا تھا ؟ اب کیا اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم بنایا گیا یا یہ بھائیوں کا جھگڑا ہے۔ فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر کو باقاعدہ وضاحت کرنا چاہیے کہ سیاست ن لیگ یا ش لیگ کا داخلی معاملہ ہے۔مشہور ہے کہ خوشحال خٹک سے اسکی ماں نے کہا تھا کہ بیٹا تیری زبردست شخصیت ہے لیکن اگر قد تھوڑا سا لمبا ہوتا۔ خوشحال نے اس کا یہ جواب دیا کہ ماں جی! میرا قد بالشت بھر مزید چھوٹا ہوتا لیکن کسی خٹک سے مجھے نہ جنا ہوتا۔کیا خواجہ آصف بھی کہے گا کہ’’ جتنی بھی پاک فوج کی مخالفت میں سر پھوڑی کروں مگر بات نہیں بنتی اسلئے کہ ماں نے اس باپ سے جننا، جو جنرل ضیاء کے شوریٰ کا چیئرمین تھا۔ میراقائد نوازشریف ہے جس کی ہڈیوں کا گودا بھی مارشل لائی ہے ، چوہدری نثار کا دوست شہبازشریف مسلط کردیا ۔ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ جیو اور چاپلوس صحافی ہمیں کتنا دھکیل دیں، عاصمہ جہانگیر کم بخت مرتی بھی نہیں، انوشہ اور تہمینہ کی چوڑیاں نواز اور شہباز کو پہنادو مگر سچ نہ بولیں گے ۔ معاہدہ کرکے سعودیہ جانے پر خوش اور شرمندہ تھے تو اب بھی وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے‘‘۔
خواجہ آصف منہ پھٹ قائد کو کھری کھری سنائے تو تاریخ بدل سکتی ہے۔ ایمان ،اسلام ، پاکستان اور سیاستدان کا یہی تقاضہ ہے۔