اختلاف رحمت اور امت کا اجماع گمراہی پر نہیں ہوسکتا

768
0

رسول اللہ ﷺ نے بالکل درست فرمایا کہ میری امت کا اختلاف رحمت ہے اور میری امت کا اجماع گمراہی پر نہیں ہوسکتا۔ حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو اصول فقہ کی دنیا میں اجماع امت کی دلیل قرآن اور حدیث کے بعد ہے۔ ایک طرف احادیث میں امت کے اختلاف کو رحمت اور گمراہی پر اجماع نہ ہونے کا ذکر ہے تو دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے فرمایا :رسول ﷺ قیامت کے دن شکایت کرینگے کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ قرآن کی آیت اور ان احادیث کی تطبیق کیسے ہوسکتی ہے؟۔ کہا جاتا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ اب دل کے اندھوں سے پوچھا جائے کہ جب اجماع کا تعلق قرآن و حدیث کے بعد ہے تو قرآن کی موجودگی میں اجماع کوئی دلیل بن سکتی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے کہ عدت میں اور عدت کی تکمیل کیساتھ رجوع ہوسکتا ہے۔ کوئی ایک بھی ایسی صحیح حدیث نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ قرآن کی بھرپور وضاحتوں کیخلاف عدت کے اندر بھی رجوع کا دروازہ بند ہوجاتاہے۔ قرآن و حدیث کی موجودگی میں اجماع کوئی دلیل بن نہیں سکتا۔ تاہم اسکی حقیقت کا ادراک کرنے کیلئے اُصول فقہ کی سمجھ بوجھ بھی ضروری ہے۔ درس نظامی کی معتبر کتاب ’’نور الانوار‘‘ اور دیگر اصول فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ائمہ مجتہدین کا اجماع بھی معتبر ہے، ائمہ اہل بیت کا اجماع بھی معتبر ہے اور اہل مدینہ کا اجماع بھی معتبر ہے، کیا اجماع کی یہ تعریف درست ہوسکتی ہے؟۔ امت مسلمہ کو یہ تعریف اجماع کے بجائے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں طلاق کے عزم کا اظہار نہ ہونے کی صورت میں پہلی مرتبہ طلاق کا ذکر کیا ہے اور اس کی عدت چار ماہ واضح کی ہے جبکہ اسکے بعد کی آیت میں طلاق کے اظہار کی صورت میں تین طہر و حیض یا تین مہینے کے انتظار و عدت کی وضاحت ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک چار ماہ تک رجوع نہ کرنے سے طلاق واقع ہوتی ہے اور جمہور کے نزدیک جبتک طلاق کا اظہار نہیں کرتا زندگی بھر طلاق نہ ہوگی۔ دونوں مسلکوں کا اختلاف بالکل رحمت ہے اسلئے کہ اگر کسی ایک مؤقف پر یہ اکھٹے ہوجاتے تو امت کا گمراہی پر اتفاق ہوجاتا۔ قرآن اور فطرت سے دونوں مسلک کیخلاف ہیں۔قرآن نے شوہر اور بیوی دونوں کا حق بیان کیا ہے۔ شوہر کا حق تو یہ ہے کہ عورت چار ماہ تک دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی اور عورت کا حق یہ ہے کہ وہ چار ماہ کے بعد دوسری شادی کرسکتی ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مرد کا حق استعمال ہوا ، اسلئے عورت کو طلاق ہوگئی اور چار ماہ کے بعد یہ تعلق حرامکاری ہے۔ جمہور کے نزدیک جب تک طلاق نہ دیگا وہ زندگی بھر بھی دوسری شادی نہیں کرسکتی ،اگر کریگی تو یہ حرامکاری ہوگی۔ دونوں کی گمراہی قرآن کیخلاف ہے۔ قرآن نے شوہر کے ساتھ ساتھ بیوی کا بھی حق بیان کیا ہے، اگر بیوی چار ماہ کے بعد دوسری شادی کرتی ہے تو اجازت ہے اور اگر اسی شوہر کے ساتھ رہنا چاہے تو بھی اس کو اجازت ہے۔ اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ نے بالکل کھلے الفاظ میں بیوہ کو 4ماہ 10دن کی عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کی اجازت دی ہے مگر یہ بھی اسکے اختیار میں ہے کہ اگر وہ اسی فوت شدہ شوہر سے اپنے تعلق کو برقرار رکھنا چاہتی ہو تو تعلق قیامت تک برقرار ہی رہیگا۔ یوم یفر المرء من اخیہٖ و امہٖ و ابیہٖ و صاحبتہٖ و بنیہ ’’اس دن فرار ہوگا آدمی اپنے بھائی، اپنی ماں، اپنے باپ ، اپنی بیوی اور اپنے بچوں سے‘‘۔ جس طرح والدین اور بچوں کا تعلق ختم نہیں ہوتا اسی طرح سے بیوی کا بھی شوہر سے تعلق ختم نہیں ہوتا ہے۔
معروف اور منکر دو متضاد الفاظ ہیں۔ معروف اچھائی اور نیکی کا نام ہے اور منکر برائی اور بدی کا نام ہے۔ معروف کا مترادف لفظ احسان بھی ہے۔ احسان بھی منکر کا متضاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن میں بار بار واضح فرمایا ہے کہ رجوع اور چھوڑنا (طلاق) معروف طریقے سے ہو ، ایک جگہ احسان کیساتھ رخصتی ( طلاق) کا بھی ذکر ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک رجوع کیلئے نیت شرط نہیں اور امام شافعیؒ کے نزدیک رجوع کیلئے نیت شرط ہے۔ حنفیوں کے نزدیک غلطی شہوت کی نظر پڑ ے تو بھی رجوع ہے نیند میں شوہر یا بیوی کا ہاتھ شہوت سے لگ جائے تو بھی رجوع ہوگا۔ شافعیؒ کے نزدیک نیت نہ ہو تو مباشرت سے بھی رجوع نہ ہوگا۔ یہ سب معروف کے مقابلے میں منکرات ہیں اور طلاق کیلئے عدت شرط ہے اور عدت میں رجوع ہوسکتا ہے تو منکر طریقے سے طلاق نہ ہوگی۔