انصار عباسی کا قرآن پرحملہ کیاتختِ لاہور کی تثلیث شاہی مسجد،داتا درباراور ہیرہ منڈی کا اسلا م ہے؟

Orya Maqbool Jan, Women rights in Islam, Reham Khan, Surah Noor, Journalist Ansar Abbasi

انصار عباسی کا قرآن پرحملہ کیاتختِ لاہور کی تثلیث شاہی مسجد،داتا درباراور ہیرہ منڈی کا اسلا م ہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

انصارعباسی نے کہا ”اگر بیوی سے کوئی بدکاری کا تعلق رکھے تو قرآن میںبستر الگ کرنے کا حکم ہے” حالانکہ یہ قرآن نہیں بہت بڑابہتان ہے ۔ اوریامقبول جان ، راجہ سلمان اکرم اور حسن نثار نے بھی قرآن اور فطرت کاکوئی دفاع نہیں کیا۔

اللہ نے فرمایاکہ ” خبیث عورتیں خبیث مردوں کیلئے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کیلئے ہیں ، پاک مرد پاک عورتوں کیلئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کیلئے ہیں”۔سورۂ نور

اللہ نے فرمایا کہ ”زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور یہ مؤمنوں پر حرام کردیا گیا ہے”۔سورۂ نور۔قرآن واضح ہے۔

اسلام کے نام پر امریکہ اور تختِ لاہور نے پختون معاشرہ دہشتگردی سے تباہ کردیا لیکن میڈیا پر اصلی اسلام اور قرآن کی جگہ من گھڑت اسلامی احکام کی ترویج کا سلسلہ جاری رکھا ہے

کسی بھی شوہر کیلئے اپنی عورت کا سب سے بڑا سنگین معاشرتی جرم یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص سے جنسی تعلقات قائم کرے۔ جو انسانی فطرت اور غیرت کا جنازہ ہے۔ ایسا معاشرہ جانوروں سے بدتر ہے۔اللہ نے فرمایا ” زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام کیا گیا ہے”۔ (سورۂ نور) نعیم بخاری نے اداکارہ طاہرہ سید سے نکاح کیا، نواز شریف سے تعلق پر چھوڑ دیا۔ بیوی کے غلط تعلق پر بستر الگ کرنے کا معاملہ قرآن نہیں کوئی دیوث کریگا۔ کیپٹن صفدر اور مریم نواز کیلئے قرآن کے احکام میں تبدیلی کی حرکت بہت گھناؤنی سازش ہے۔
اچھے معاشرے کیلئے ضروری ہے کہ انسانوں کا نسب اور غیرت محفوظ ہو اسلئے کہ نسل وغیرت غیرمحفوظ ہو تو معاشرے میں ہر چیز بے اعتبار ہوگی۔ انتہائی کمینہ طبقہ بھی کہتا ہے کہ” عورتیں پرائی مگر بچے اپنے اچھے لگتے ہیں”۔ خبیث اور ناپاک معاشرے میں بیوی بچوں پر بھی اعتبار نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ہیں بھی یا نہیں؟۔ مذہب اور توحید کے مسئلے میں ہم ایکدوسرے کو گلے لگاسکتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کیا کہ ” دین میں کوئی زبردستی نہیںہے”۔ مسلمان کاعیسائی ویہودن عورتوں سے نکاح ہوسکتاہے۔ یہودی، ہندو اور عیسائیوں سے مسلمانوں کے شدید اختلافات کے باوجودسب اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے اسرائیل وفلسطین ، ہندوستان اور امریکہ و یورپ میں اچھے تعلقات رکھتے ہوئے امن وسکون سے رہ سکتے ہیں مگراپنی بیوی کی بیوفائی اور اس کی گود میں پرائے بچوں کی پرورش بالکل ناقابلِ برداشت ہے۔یہ انسانی فطرت اور غیرت کیخلاف ہے اور اللہ نے کوئی ایسا غیرفطری درس نہیں دیا ہے۔
انصار عباسی خود کوپکا مؤمن اور قرآن کا علمبردار سمجھتا ہے جو انتہائی درجے کا مکار ہے۔ سیاسی مفاد کیلئے اپنے کرتوت جیسے چاہے بدلے لیکن قرآن پر اتنا بڑا بہتان لگانا انتہائی درجے کی نااہلی ہے۔ اوریا مقبول جان کو اللہ نے یہ حکم نہیں دیا ہے کہ وہ امام مہدی کی آمد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر ڈیڈ لائن اورلوگوں کو جھوٹی اُمیدوں کے جھانسے دے بلکہ قرآن ہی ہدایت کا ذریعہ ہے۔ سورۂ الفاتحہ میں یہ دعا ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم ”ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت دے”۔ہر نماز کی ہر رکعت میں مسلمان سورۂ فاتحہ کی یہ دعا مانگتے ہیں۔
صراط مستقیم قرآن ہے۔ المOذٰلک الکتاب لاریب فیہOہدیً للمتقینOالذین یؤمنون بالغیب ”یہ وہ کتاب ہے جس میں شک نہیں ، ہدایت ہے پرہیز گاروں کیلئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں”۔ (البقرہ) قرآن میں کوئی شک نہیں اور اپنی طرف سے جو لوگ ذہنی تخمینہ لگاکر لوگوں کو اس کے پیچھے لگائے رکھتے ہیں تو اس کا سارا معاملہ مشکوک ہوتاہے۔ پورے کا پورا قرآن وہ علم غیب ہے جس پر ایمان لائے بغیر کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا ہے۔ علم غیب اسلئے ہے کہ اللہ کی طرف سے ہونے پر ایمان ہی علم غیب پر ایمان ہے۔
قرآن کا علم غیب انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مذہبی طبقات کے علاوہ پنجابی ، سندھی ، پختون ، بلوچ اور مہاجرکے رسم ورواج میں بڑابگاڑ ہے۔
اوریا مقبول جان سے حسن نثار نے ٹھیک کہا کہ جب تک تمہارے جیسے لوگ ہوں گے تو یہ امت کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گی۔
انصار عباسی نے قرآن پر اپنی طرف سے بڑا جھوٹا بہتان لگادیا لیکن مذہبی طبقات نے اسکا کوئی نوٹس نہیں لیا اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کا اپنی تعلیمات سے بھی یقین وایمان بالکل اُٹھ چکاہے۔
قرآن و حدیث کے نام سے نت نئے گروہ جنم لے رہے ہیں۔ ایک سیدھی بات سب کو سمجھانا ضروری ہے کہ ”اللہ کو سب مانیں لیکن اللہ کی کوئی نہیں مانے توہم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں”۔ غیب پر ایمان یہ ہے کہ قرآن میں جو بھی ہے اس کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مسائل کا حل ہے۔ قرآن میں بات نہ ہو تو اس کو قرآن کی طرف منسوب کرنا انتہائی غلط اور غلیظ حرکت ہے۔ قرآن کی تعلیم بہت سادہ،سہل سلیس ہے۔ جو مذہبی تشخص پیش کرکے اپنے سیاسی مفادات کو تحفظ دیتے ہیں انکے مکروہ چہروں سے نقاب کھینچنے کی سخت ضرورت ہے۔
نوازشریف نے پارلیمنٹ میں لندن فلیٹ کے حوالے سے تحریری مؤقف پیش کیا اور عدالت میں طلب کرنے پر دستاویزی ثبوت فراہم کرنے کا بیان دیا لیکن جب عدالت نے طلب کیا تو قطری خط پیش کیا اور پھر قطری خط سے انکار کردیا۔ اگر یہ جمہوریت اور عدالتی نظام ہے اور اس کو ہم آئین پاکستان کے عین مطابق قرآن وسنت سمجھ کر دفاع کررہے ہیں تو ایسے اینکرپرسن اور صحافیوں کو بڑی شاباش دینا چاہیے۔ اس معاشرے میں ہرقسم کے لوگ بستے ہیں تو صحافیوں کو بھی دلالی کے ذریعے اپنے بچوں کو پالنے کا حق بالکل ملنا چاہیے۔
انصار عباسی نے جس پروگرام میں کامران شاہد کیساتھ(2014 ) میں قرآن کے جعلی حکم نامے کا بیان ریکارڈ کروایا تھا تو اس کو 4سال پہلے یوٹیوب پر دیا گیا ہے۔ جس کو حقیقت سمجھ کر دیکھا جارہاہے لیکن اس پر کوئی ردِ عمل نہیں آیاہے۔ انصار عباسی کو پرواسٹیبلیشمنٹ سمجھا جاتا ہے اور اسلام کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے چند ماہ پہلے اسلام اور آئین پاکستان کے مضبوط تعلق کا ذکر کیا تو میڈیا نے اس کو زیادہ اہمیت نہ دی جس پر انصار عباسی نے میڈیا کو لبرل اور اسلام کیخلاف سازش قرار دیا ۔ حالانکہ درباری علماء سود کو جائز قرار دیتے ہیں تو سود کے نام پراسلام کو استعمال کرنے کا جواز نہیں ہے۔ مغربی سود اور اسلامی سود میں یہ فرق ہے کہ وہاں عوام کو کم شرح سودپر قرضہ ملتا ہے اور اسلام کے نام پر یہ شرح سود عام بینکوں کی طرح مزید بڑھایاگیا اور عذرِ گناہ بدتر ازگناہ بلکہ اسلام کو بدلنے کا جرم ہے۔
انصار عباسی دیگر کئی صحافیوں کی طرح ن لیگ کے سپوٹر ہیں مگر سیاسی سپوٹ کیلئے عدالتوں کے وکیل اور ٹی وی چینلوں کے اینکرپرسن کافی ہیں۔ قرآنی تعلیم کو مسخ کرنا انسانی فطرت کے منافی ہے۔ شوہر بیوی کے غلط تعلق پر بستر الگ کریگا تو دنیا اور تمام گھروں میں بڑا بگاڑ پیدا ہوگا۔مذہبی جماعتیں انصار عباسی پر کھلے عام توبہ کرنے کیلئے بالکل واضح دباؤ ڈالیںیا ان کی دُم کو متحرک کرنا ضروری ہے؟۔
جب عمران خان نے ریحام خان کو طلاق دی تو قندیل بلوچ نے انکشاف کیا کہ عمران خان کا کسی عامل پیرنی سے تعلق ہے۔ اسی سے شادی کریگا پھر قندیل بلوچ قتل ہوگئی۔ کچھ عرصہ عمران خان تیسری شادی کی بات اور کسی خاتون کی نامزدگی کا زیرِ لب اظہار بھی کرتا رہا ۔ لیکن نام بتانے سے انکار کرتا تھا اور یہ بھی نہیں بتاسکتا تھا کہ وہ کنواری ، طلاق شدہ یا بیوہ ہے کیونکہ وہ کسی کے نکاح میں تھی۔ پھر شادی کی خبر آئی تو بشریٰ بی بی کے بچوں نے تردید کردی لیکن پھر شادی کا اعلان ہوا۔ جنگ اور جیو کے صحافی نے عدت کے اندر شادی کاکہہ دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان نے اپنے گھر کو لیگل کردیا ہے لیکن وہ اپنی بیگم کو کب لیگل کرے گا؟۔
اگرانصار عباسی اسٹیبلیشمنٹ کی پیداوارسیاسی طبقہ نوازشریف، عمران خان اور مریم نواز کیلئے اپنا خود ساختہ اسلام بیان کررہاہے تو اس کیلئے قرآن کو مسخ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ درباری علماء کی طرف سے فتوے لیں۔ قرآن میں فحاشی پر اپنی عورت سے بستر الگ کرنے کی بات نہیں بلکہ گھر سے نکالنے اور لعان کا حکم دیاہے۔ بستر الگ کرنے کی بات کا فحاشی سے کوئی تعلق نہیں ۔ سورۂ النساء اور سورۂ الطلاق اور سورۂ النور میں معاملہ واضح ہے۔
غلام احمد پرویز نے قرآن کی خود ساختہ تعبیر کی ہے جس کی وجہ سے معاملات اتنے گھمبیر ہوگئے کہ بڑی بڑی فحش اور فاش غلطیوں کا بھی نوٹس نہیں لیا جاتا ہے۔ جب مخلص اور اچھے علماء ودانشوروں کے اجتماع میں ان غلطیوں کے ازالہ کیلئے موثر کوشش کی جائے تو ہم اورسب لوگ مشکلات سے نکلیں گے اور اچھے دن بہت جلد دیکھنے کو ملیںگے۔انشاء اللہ
باد شاہی مسجدکی یہاںشریعت ہے، عقیدت داتا دربار سے اور عمل کا تعلق ہیرہ منڈی سے ہے۔ تختِ لاہور کی تثلیث نے(70)سالوں میں ملک کا آدھا حصہ پہلے گنوادیا۔پختونخواہ کو دہشتگردی سے تہس نہس،بلوچ کو ملیا میٹ، کراچی کے مہاجروں کو انسانیت کے دائرے سے باہر اور سندھیوں کو بدظن کردیا۔ پنجابیوں اور سرائیکیوں کا بھرکس نکال دیا۔ موٹروے ،ائرپورٹ ، سرکاری املاک کو بینکوں میں گروی رکھوادیا اور اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کردیا اور غریب کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی ہے مگرمدارس پرغلط علماء اور میڈیا پر غلط سرکاری اورغلط صحافیوں کی اجارہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button