یہ کون ہے جو پانامہ کے انڈے پر بیٹھی نہ جانے کیا کیا بیچاری سوچ رہی ہے؟

613
0

یاجوج نے کہا : یہ کون ہے جو پانامہ کے انڈے پر بیٹھی نہ جانے کیا کیا بیچاری سوچ رہی ہے؟۔
ماجوج نے جواب دیا: ابے ! بتادیا تو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی کہیں توہین نہ ہوجائے!
یاجوج : اس مرغی صاحبہ کے سر کی قسم اگر توہین عدالت کا خوف ہو تو بلا جھجک کہیو کہ جیو ٹی وی چینل کی ہوسٹ ہے جوکبھی ’’ہم سب اُمید سے ہیں‘‘ کا پروگرام کرتی تھی نہ جانے اب کیا مسخرے کرتی ہے
ماجوج: جیو کے پروگرام کی اب کسی اور سے یاری ہوگئی ہے، اب نواز لیگ ، عدالت اور جمہوریت کی تثلیث کی دیوانی ہے۔ ایک دفعہ ماڈل ایان علی کی طرح جیو بھی پھنس گئی تو جان نہیں چھوٹ رہی
یاجوج: یار اصل بات کا جواب دو اگر پانامہ انڈے پر بیٹھی مرغی عدالت نہیں تو کیا پھر مرغا بنچ ہے ؟
ماجوج: اپنی عدالت کی تاریخ یہ رہی ہے کہ مجرم کو پکڑنا اس کیلئے آسان نہیں، اگر بنچ نے مرغا بن کر اذان سحر شروع کردی تو پھر یہ بہت بڑا انقلاب ہوگا جو مجاہد کی اذاں اور شاہین کا جہاں ہوگا۔
یاجوج: ابے! تمہیں کرگس کے جہاں میں ملاں کی اذاں سے اس قدر نا اُمیدی کیوں ہے؟ ۔جب روٹین کا معاملہ چل رہا ہے تو ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔ وکالت کی مشق کرنے والے سے بھی کبھی مشک کی خوشبو آسکتی ہے؟۔
ماجوج: علامہ اقبال نے کہا تھا کہ مجذوب فرنگی مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی کے تخیل کو بدنام کیا مگر جہاں ہرنیں رہتی ہیں وہاں سے تمہیں نا اُمید نہیں ہونا چاہیے۔ نوشتۂ دیوار سے ایسی فضاء بن رہی ہے کہ مُلاؤں کی ان طاقتوں سے جن سے ریاستیں ڈرتی ہیں اب یرغمال اسلام کو بازیاب کیا گیا تو مرغے کیا کبوتر سے تن نازک میں بھی شاہیں کا جگر پیدا ہوگا۔