اسلام دین فطرت ہے غیرفطری اختلاف سے جان چھڑانی چاہیے

1812
0

وضووغسل سے معاشرتی نکاح و طلاق triple talaq اور معاشی احکام تک اسلامی شعائر رائج ہیں جو قرآن وسنت میں موجودہیں مگران احکام کے غیرفطری تضادات سے علماء بھی آگاہ نہیں،بوقتِ ضرورت مطالعہ کرکے دیکھ لیتے ہیں، حالانکہ اسلام میں انکی بھی قطعی کوئی ضرورت نہ تھی مگر مذہبی طبقات کے ذاتی مفادات ہیں جس سے ان پیچھا چھڑانے کی ضرورتہے۔عربی میں غسل نہانے کو کہتے ہیں، انسانوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کو بھی نہانا آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھنے سے پہلے نہانے کا حکم دیا ہے اور دوسری جگہ وضو کا حکم دیتے ہوئے حالتِ جنابت میں اچھی طرح سے پاکی کا حکم دیا ، جس سے نہانا ہی مراد ہے لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے اس پر انواع واقسام کے اختلافات کا بیج بودیا، جو مدارس کے علاوہ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی کی مجالس میں عوام کو رٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بے نمازی کیلئے قرآن و سنت میں کسی سزا کا حکم نہیں، فقہی مسالک میں قتل، قید اور کوڑوں کی سزاؤں کے احکام پر اختلافات پڑھائے جاتے ہیں، نوجوان طبقہ ان احکام کی وجہ سے داعش، طالبان ، حزب التحریر اور دیگر تنظیموں میں شامل ہوکر اسلام کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ان نوجوانوں کو پتہ چل جائے کہ ان بکواسات کا اسلام محض علماء ومفتیان کی تجارت اور فقہاء کے پیٹ کا غبار ہے تو یہی نوجوان طبقہ محنت کا رخ موڑ کر اپنے اپنے ممالک میں ظلم و جبر کے خلاف عدل وانصاف کا نظام قائم کرنے کی کوشش میں لگ جائے گا ۔ میرے دوست مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید مذہب کے نام بغاوت کے علمبردار نہیں بلکہ ریاست کے آلۂ کار ہیں۔ ریاست ان باغیوں کیخلاف اقدامات اٹھاتی ہے جن میں اسلامی نظام کیلئے بغاوت کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ مذہب کے قدرِ مشترک میں باغی گروہوں اور ان گروہوں میں جو ریاست کے وفادار ہیں ، باہمی طور سے ہمدردیاں ہیں۔ غسل اور وضو فطری ہیں، نماز فطری ہے مگر ان پر اختلاف اور سزاؤں کا نفاذ غیرفطری ہے۔ ہماری ریاست ، حکومت اور سیاستدانوں کا سب سے بڑا فرض تھا کہ مدارس کے نصاب پر سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مثبت اقدامات اٹھاتے اور کور کمانڈز کانفرنس ، عدلیہ اور حکومت اس پر بہتر تجاویز اور احکام جاری کرتے۔
ایک بچہ بھی کتاب، قلم ، غسل، وضو، نماز، ماں باپ اور رشتہ داروں کے مضبوط تعلق نکاح اور طلاق triple talaq، علیحدگی اور ناراضگی سے لیکر زکوٰۃ، حج اور عمدہ حکومت کے معاملات کو سمجھتا ہے۔ اسلام کے دینِ فطرت ہونے کی یہ سب سے بڑی خوبی ہے کہ جس معاملہ کو بھی اس کی حقیقی صورت میں پیش کیا جائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دنیا میں کسی معقول انسان کو اسکے قبول کرنے میں تھوڑا بھی تأمل ہو۔ نکاح وطلاق کے اسلامی احکام بالکل فطری تھے لیکن مذہبی طبقات نے اس کا وہ حلیہ بگاڑ دیا ہے کہ غیرمسلم تو درکنار، دوسرے فرقوں کے لوگوں کا معاملہ بھی چھوڑدو، اپنے مسلک اور خود پڑھنے پڑھانے والا طبقہ بھی اس کو سمجھنے کی کوشش کرے تو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے میں ہرگز تھوڑی دیر بھی نہ لگائے۔ اسلام ہرقوم، ملک اور مذہب کے قانونی جوڑ ے کا نکاح قبول کرتاہے، قانونی علیحدگی کو طلاق قرار دیتا ہے اور اپنے نکاح و طلاق کیلئے ایسے قوانین پیش کرتاہے کہ دنیا کے کسی قوم ومذہب، ملک وملت اور رسم ورواج کے اندر اس کا درست تصور پیش کیا جائے تو پوری دنیا اسی بنیاد پر بھی اسلامی نظام کو سمجھنے اور اس کو نافذ کرنے اور رائج کرنے پر برضا ورغبت آمادہ ہوجائے گی، اور اسلام نہ بھی قبول کریں لیکن نہ صرف عالمی اسلامی خلافت کی تمنا کرنا شروع ہوجائیں گے بلکہ عملی طور پر اپنے اپنے ممالک میں اس کی جدوجہد کا بھی آغاز کردینگے۔
کتاب’’ابر رحمت‘‘ میں نہ صرف طلاق triple talaq کا مسئلہ ہے بلکہ درسِ نظامی کی بنیادی خامی کو بھی اُجاگر کیا گیاہے، اختصار کیساتھ عدالتی معاملات، فرقہ وارانہ مسائل کا حل اور نظریاتی اور سیاسی معاملات کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ triple talaq کے مختصر سے کتابچہ میں فرقوں اور مسالک سے بالاتر قرآن وسنت کا ایسا نقشہ پیش کیا گیاہے جس کے اعتراف میں سب یک زباں ہیں لیکن بہت سی مقتدر شخصیات اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنے ارادتمندوں اور عقیدتمندوں کی عزتوں سے کھیلنے کا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جن لوگوں کو خود کش حملہ آوروں، سرعام دہشت گردانہ کاروائیوں ،فتنہ وفساد ، کشت و خون کی ہولی کھیلنے اور پرتشدد کاروائیوں میں ملک وقوم کی تباہی سے مسئلہ نہ تھا اور نہ کبھی وہ اپنی زباں پر حرفِ شکایت لائے ہیں ، ان کو مسلمانوں کے گھر برباد ہونے اور عزتیں لٹنے سے بچانے میں ہمارے الفاظ کا لہجہ سخت لگتا ہے، تب بھی ہم اپنے رویہ پر نظر ثانی کرسکتے ہیں جس کا ہم نے بار بار اس شرط پر اعلان بھی کیا ہے کہ علماء و مفتیان قرآن و سنت اور عقل وشریعت کے منافی اپنی طرف سے جاری وساری گھروں کو تباہ کرنے اور حلالہ کی لعنتوں کا فتویٰ ترک کردیں۔ نصاب میں غیرفطری اختلافات کو چھوڑ کر اسلام کی درست تعلیمات سے مدارس کے طلبہ کو روشناس کرائیں جس سے مسلم قوم کا رخ فرقہ واریت، دہشگردی اور منفی رحجانات کی بجائے اسلام دینِ فطرت کی طرف ہوجانے میں کوئی دیر نہ لگے۔
triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq
triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq
triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq