قتل کی سزا قتل اور جبری زنا کی سزا بھی قتل ہے۔ سورۂ احزاب کی آیت:61میں یہ سزا بالکل واضح ہے۔ فیروز چھیپا

448
0

yeh-maluoon-hein-jahan-paye-jayen-pakar-kr-qatal-krdia-jaye-surah-ahzab

نوشتۂ دیوار کے ڈائریکٹرمالیات محمد فیروز چھیپا نے کہا: پاکستان اسلام کے نام پر بنامگر خوفناک حد تک جبری زیادتی کے چونکا دینے والے نمایاں واقعات کا تناسب بڑھ رہاہے۔ اس کا حل قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ قتل کی سزا قتل اور جبری زنا کی سزا بھی قتل ہے۔ سورۂ احزاب کی آیت:61میں یہ سزا بالکل واضح ہے۔ یہ انسانی فطرت اور غیرت کا بھی تقاضہ ہے۔ بدفطرت و بے غیرت مذہبی طبقہ نے قرآن کی اس آیت سے واضح روگردانی کی۔ جماعتِ اسلامی کے ڈاکٹر فرید پراچہ نے اس آیت کو توہین رسالتؐ پر فٹ کردیا حالانکہ اس آیت سے آگے پیچھے کی آیات میں خواتین کی بے حرمتی ہے،اگر مدارس ومساجد کے علماء ومفتیان اُٹھ کھڑے ہوں، زنابالجبر کے حوالہ سے قرآن و سنت کے مطابق قتل اور سرِعام سنگساری کاحکومت سے مطالبہ کریں تو عوام کے دلوں پر راج کرنا شروع کردینگے۔ پھر مدارس ومساجد سے بھی اس برائی کا خاتمہ ہوگا اور مسلمانوں کی عبادتگاہیں پھر اخلاق، کرداراور بھروسے کے مراکز بن جائیں گی۔ کالی بھیڑیں ہر جگہ ہیں مگرکردار سازی کیلئے سزا کا قانون ضروری ہے۔منصورہ لاہوربھی فرید پراچہ کی تردیدکردے۔
دنیا کی کوئی ریاست بھی سزا کے قانون کے بغیر نہیں چلتی ہے۔قرآن و حدیث میں سزا کا قانون موجود ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مذہبی طبقے نے اس قانون کا حلیہ بگاڑ دیا۔ پرویزمشرف کے دور میں زنا بالجبر کے نام نہاداسلامی قانون سے جان چھڑانے کیلئے اس کو تعزیرات میں شامل کرنے کا کہا گیا تو مفتی تقی عثمانی اور جماعتِ اسلامی نے طوفان کھڑا کردیا کہ قرآن میں تحریف کا ارتکاب ہورہاہے۔ صحافی منیزے نے ٹی وی چینل پر بتایا کہ ’’ کوٹ لکپت جیل میں وہ کئی ایسی خواتین سے ملی ہیں جن کیساتھ جبری زیادتی کی گئی تھی لیکن شکایت کی تو تھانہ میں بند کرکے جیل بھیج دیا گیا کہ اچھا تمہارے ساتھ کچھ ہوا ہے تو اس شکایت کا نتیجہ بھی بھگت لو۔ پھر پیپلزپارٹی کے دور میں یہ قانون ختم کیا گیا اور اب شکایت کرنے پر سزا نہیں ملتی‘‘۔
یہ کتنی شرمناک بات ہے کہ ایک خاتون سے جبری زیادتی ہوجائے اور شکایت کرنے پر سزا بھی اسی کو دی جائے؟۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے خواتین کو اس طرح نکلنے کا حکم دیا ہے کہ’’ چادر کا حصہ اپنے اوپر ڈالیں تاکہ پہچانی جائیں کہ شریف ہیں۔ اور ان کو اذیت نہ دی جائے۔ مدینہ میں منافق اور جنکے دلوں میں مرض ہے نہیں رہیں گے مگر کم عرصہ۔ پھر آپ ان سے نمٹ لوگے۔ یہ ملعون ہیں جہاں بھی پکڑے جائیں ان کو پکڑ کر قتل کیا جائے گا۔ یہ اللہ کی پہلی قوموں میں بھی سنت رہی ہے‘‘۔ سورۂ احزاب آیت61میں اللہ تعالیٰ نے جبری زنا کی سزا واضح کی ہے اور نبیﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں اس پر عمل بھی کیا ہے۔ ایک خاتون نے رسول اللہ ﷺ سے کسی شخص کی شکایت کردی کی اس نے راستے میں پکڑ کر چادر میں لپیٹ لیا اور جبری زنا کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو پکڑ کر لانے کا حکم دیا اور پھر سنگسار کرادیا۔ قرآن میں قتل کا حکم زنا بالجبر اور حدیث میں سنگساری کا حکم بھی زنا بالجبر ہی کیلئے ہے۔ جب مسلمانوں نے اس سزا کے نفاذکو ترک کردیا تو قرآن وسنت کے احکام مختلف فقہی مسالک میں اختلاف در اختلاف کا شکار ہوگئے۔ پاکستان نہیں امریکہ و اسرائیل اور دنیا بھر کے انسانوں کے سامنے زنا بالجبر کی یہی سزا تجویز کی جائے تو عالم انسانیت کے تمام لوگ جمہوری بنیادوں پر متفقہ طور پر اس کو نافذ کردیں گے۔مفتی محمد تقی عثمانی نے لکھ دیا تھا کہ’’ سورۂ نور کی آیت میں زنابالجبر اور زنا بالرضا کی سزا میں کوئی فرق نہیں ۔ دونوں کیلئے حد کا ذکر ہے‘‘۔ حالانکہ سورۂ نور کی آیت میں زنا بالرضا ہی کا حکم واضح ہے اسلئے کہ مرد وعورت کو ایک ہی سزا صرف اسی صورت میں دی جاسکتی ہے کہ جب وہ دونوں راضی ہوں۔ عورت پر جبر ہو تو اس کو سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔ البتہ سورۂ نور کی آیت میں شادی شدہ و غیر شادی شدہ کی کوئی تخصیص نہیں ۔ شادی شدہ لونڈی کا قرآن میں نصف سزا کا حکم ہے جو50کوڑے بنتے ہیں تو اس سے شادی شدہ آزاد کیلئے بھی100کوڑے سزا متعین ہوجاتی ہے۔ سورۂ نور کی آیت کے بعد بخاری شریف کی روایت کے مطابق کسی کو بھی سنگسار نہیں کیا گیا ۔ قرآن نے واضح کردیا کہ قتل کا حکم صرف زنا بالجبر کیلئے ہی ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی تفسیر ’’ آسان ترجمہ قرآن‘‘ میں سورۂ احزاب کی اس آیت کی غلط تفسیر لکھ ڈالی ہے کہ ’’ جب مسلمانوں کی ریاست مستحکم ہوجائے تو منافقوں سے بھی کافروں جیسا سلوک روارکھا جائیگا ‘‘۔ حالانکہ قتل کا تعلق اس بنیاد پر بیان کیا گیاہے کہ جو عورتوں کو ستائیں، یہی منافق ہیں۔