غلامی کے نظام کا سب سے بڑا انسٹیٹیوٹ مزارعت؟

260
0

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جب سود کی حرمت کے بارے میں قرآنی آیات نازل ہوئیں تو رسولۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دیکر اس پر پابندی لگادی۔ائمہ مجتہدین حضرت امام ابوحنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی سب متفق تھے کہ مزارعت سود اور ناجائز ہے لیکن بعد میں احناف کے کچھ فقہاء نے اس کو جواز بخش دیا اور رفتہ رفتہ یہ تصور بھی ختم ہوگیا کہ ”مزارعت ناجائز ہے”۔ جس طرح آج سودی بینکاری کو اسلام کے نام سے جواز بخشا گیا ہے اور ایک وقت آئے گا کہ لوگوں کے ذہن میں یہ تصور بھی نہیں ہوگا کہ سود ناجائز تھا۔ مزارعت سے خاندان کے خاندان غلام بن رہے تھے اور سودی نظام سے ریاستوں کو غلام بنایا جارہاہے۔ پاکستان کے مصور علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
آج سندھ اور پنجاب کے مزارع غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جاگیردار ان پر بے تحاشا تشدد کریں، ان کے جسمانی اعضاء کاٹ ڈالیں۔ ان کی عزتیں بھی لوٹ لیں مگر ان میں مزاحمت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پاکستان زرعی ملک ہے اور ہمارا مزارع طبقہ بھوک وافلاس کی آخری حدوں تک پہنچ چکا ہے۔ جسکے پاس کاشت کی زمین ہو ، تو وہ اپنا پیٹ پال سکتا ہے۔ عشر سے کسی غریب کی مدد بھی کرسکتا ہے۔ اپنے بچوں کی تعلیم، خوراک ، پوشاک اور آسائش والی زندگی تک بھی اپنی محنت سے پہنچ سکتا ہے لیکن ہمارا محنت کش طبقہ سب سے زیادہ بری حالت سے دوچار ہے۔ اسلام کا معاشی نظام سود اور مزارعت سے پاک ہے ۔ ہماری ریاست بھی گروی ہے اور ہمارا کاشتکار طبقہ بھی گروی ہے تو خوشحالی کون کس کو دے سکتا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن نے جب سیاست میں قدم رکھا تھا تو مزارعت کا سودی نظام درست کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔ سودی نظام سے زکوٰة کی کٹوتی کے خلاف بیانات دیتا تھا لیکن شاید ا ب خود جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
ہم نے دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ کسی کو غلام اور لونڈی بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ ہم مزارعت کا وہ نظام ختم کررہے ہیں جس کو اسلام نے اسلئے ختم کیا تھا کہ یہ غلامی کا سب سے بڑا انسٹیٹیوٹ ہے۔ آج سودی نظام نے ریاستوں کو بھی غلام بنانے کا نیا حربہ شروع کردیا ہے۔ جب ہم مزارع کو خاندانی غلامی اور ریاست کو عالمی غلامی سے نکالنے کا قصد رکھتے ہوں تو اس سے پہلے اسلام کا معاشرتی نظام بھی ہم نے ٹھیک کرنا ہوگا۔ جب نبیۖ نے آخری خطبہ پڑھا تو سود کے خاتمے کا اعلان کردیا اور سب سے پہلے اپنے چاچا عباس کا سود معاف کردیا اور جاہلیت کے قتل میں سب سے پہلے اپنے خاندان کے فرد کا خون معاف کردیا۔
آج مغرب نے عورت کو طلاق کے بعد زبردست حقوق دئیے ہیں لیکن ہم نے عورت سے بچے جنوانے کے بعد نہ صرف بچے چھین لینے ہیں بلکہ ان کو مالی حقوق سے بھی بالکل محروم کرنا ہوتا ہے۔ حالانکہ قرآن نے مغرب سے زیادہ حقوق عورت کو دئیے تھے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں بھی شوہر کی قدرت کے مطابق عورت کا معروف طریقے سے خرچہ دنیا فرض کیا تھا۔ غریب اور امیر دونوں اپنی اپنی طاقت کے مطابق خرچہ دینے کے پابند تھے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے نصف حق مہر دینے کی قرآن میں وضاحت ہے۔ اگر ایک ارب پتی شخص چند ہزار یا چند لاکھ حق مہر کے نام پر دیتا ہے تو یہ وسعت اور معروف طریقے کے منافی ہے۔ ہمارا مذہبی طبقہ جس کلچر سے وابستہ ہوتا ہے وہی کرتا ہے۔ پنجاب میں جہیز کی لعنت اورپختونخواہ میں حق مہر کھاجانے کی رسم ہے لیکن مولوی اپنی فیس کھری کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں واضح کیا کہ نصف حق مہر فرض ہے۔ لیکن عورتیں چاہیں تو معاف کرسکتی ہیں اور جن کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے وہ بھی درگزر سے کام لے سکتے ہیں اور اگر مرد درگزر سے کام لیں تو یہ تقویٰ کے قریب ہے۔ یعنی مردوں کو ترغیب دی ہے کہ عورتوں سے معاف کرانے کی توقع یا لالچ رکھنے کے بجائے تم ہی درگزر سے کام لو اور پورا حق مہر دو۔ کیونکہ طلاق تم نے دی اسلئے جن کے ہاتھ میں”نکاح کا گرہ” سے ایک احساس دلادیا۔
مولوی نے اس لفظ کو پکڑ کر انسانی فطرت کے آخری کناروں کو بھی پار کردیا اور یہاں تک فتوؤں کی شریعت بناڈالی ہے کہ ” ایک آدمی نے بیوی سے کہا کہ تجھے تین طلاق۔ پھر مکر گیا۔ طلاق ہوگئی اور بیوی حرام ہے لیکن بیوی کو دوگواہ عدالت میں لانے پڑیںگے ۔اگر نہیں تو وہ اس کی بیوی ہے اور بیوی کو چاہیے کہ ہر قیمت پر خلع لے لیکن اگر شوہر خلع نہیں دیتا ہے تو پھر وہ بدکاری اور حرامکاری پر مجبور ہے۔ یہ فقہ کی کتابوں کے خفیہ اور ناقابل عمل مسائل نہیں ہیں بلکہ آج بھی مدارس سے فتویٰ دیا جارہاہے اور اس پر عمل بھی ہورہاہے۔ حالانکہ جس آیت سے علماء خلع مراد لیتے ہیں آیت 229البقرہ ۔ اس سے خلع مراد نہیں ہوسکتاہے بلکہ آیت19النساء میں خلع کو واضح کردیا گیا ہے۔ آیت20، 21 النساء میں طلاق کی صورت میں عورت کے حق کی وضاحت ہے۔ قرآن نے نہ صرف خلع کی اجازت دی بلکہ عورت کو شوہر کی طرف سے دی ہوئی تمام منقولہ اثاثہ جات ساتھ لے جانے کی بھی اجازت دی اور بعض اشیاء بھی واپس لینے کی ممانعت کی ہے اسلئے کہ یہ اس کا اپنا حق ہے۔ اگر شوہر خوش نہیں رکھ سکا یا وہ خود خوش نہ رہ سکی تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ قرآن نے پھر حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے اور اللہ کی طرف سے اس میں بہت ساراخیر بنانے کو بھی واضح کیا ہے۔
جبکہ طلاق کی صورت میں تمام منقولہ وغیرمنقولہ اشیاء خواہ خزانے کیوں نہیں دئیے ہوں ،کسی ایک چیز کے بھی واپس لینے کی گنجائش نہیں دی ہے اور بہتان لگاکر حق سے محروم کرنے کی بھی عار دلائی ہے۔ جب ہمارے معاشرے میں عورت کے حقوق بحال ہونگے تو اسلامی انقلاب کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔ عورت کو آزادی بھی قرآن نے دی تھی۔ آج جاہلیت کے دور سے بھی عورت کا برا حال ہے۔ جبری جنسی زیادتیاں ہورہی ہیں اور اسلام نے جبری جنسی زیادتی پر گواہ کا مطالبہ نہیں کیا ہے بلکہ قرآن میں ان کو ملعون قرار دیکر جہاں پائے جائیں پکڑکر قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور حدیث میں نبیۖ نے عورت کی گواہی قبول کرتے ہوئے سنگساری کا حکم جاری کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نیب کے نوٹس پر ریاست کا حال امریکہ جیسا کرنے کی دھمکی دے سکتے ہیں لیکن عورتوں کی عصمت دری پر اسلامی قانون کی وضاحت نہیں کرسکتے ہیں تو اسکے ذریعے سے کونسا اسلامی انقلاب آسکتا ہے؟۔
ملکت ایمانکم کا مفہوم وسیع ہے۔عورت برابری کا معاہدہ کرسکتی ہے۔ ام ہانی نے ام المؤمنین بننا قبول نہ کیا تو ملکت ایمانکم کا استفادہ ملا۔ علامہ بدرالدین عینی نے ان کو 28ازواج مطہرات میں شمار کیا ۔ حضرت صفیہ جنگ کے نتیجے میں آئی مگر مجبوری نہیں خوشی سے ام المؤمنین کا شرف مل گیا۔ حضرت ہاشم کے بیٹے حضرت عبدالمطلب کو مکہ والے بڑے بھائی کا غلام سمجھتے تھے۔ حضرت اسماعیل کی شان کم نہیں تھی کہ اماں حاجرہ لونڈی تھیں۔ اسلام نے غلامی کا نظام ختم کیا۔ ابولعلاء معریٰ نے لکھاکہ ”عرب بادشاہوں نے یورپ کی سرخ وسفید عورتوں کو دیکھا تو لونڈی کو پھرجواز بخش دیا”۔ عورت کو اسلا م نے حقو ق دئیے مگر چراغ تلے اندھیرا ہے۔عورت کے حقوق پر کتاب اسلئے لکھ دی ہے ۔ جب لوگوں میںحقائق کا علم عام ہوجائے تو پھر معاشرے کا ہر جھول جلد بدل سکتا ہے ۔