افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد بھی پاکستان میں امریکن فوج کی موجودگی پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ کیا پاکستان کو مزید بربادی کی طرف دھکیلا جار ہاہے؟

American troops withdraw from Pakistan, Afghan Taliban, Molana Fazl Ur Rehman, 9/11,

افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد بھی پاکستان میں امریکن فوج کی موجودگی پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ کیا پاکستان کو مزید بربادی کی طرف دھکیلا جار ہاہے؟

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

اب القاعدہ کے نام پر امریکی فوج کو افغانستان میں کھیلنے کی اجازت پاکستان سے نہیں دے سکتے۔ مولانا فضل الرحمن

پارلیمنٹ نے” پرویزمشرف کی امریکی فوج کو اجازت منسوخ کردی تھی” جنرل کیانی راضی تھے۔سینیٹر مشاہد حسین سید

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ”عمران خان کی موجودگی میں کوئی امریکی اڈہ نہیں بن سکتا” لیکن پہلے اڈوں کااب کیا بنے گا؟

یکم مئی کو افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہونا تھا پھر ستمبر(2021) تک نئی ڈیڈ لائن ہے۔ میڈیا نے معید یوسف کو امریکی امور کاماہر پیش کیا تھا اور تحریک انصاف کی حکومت نے سرکاری معاملات اس کو ہی سونپ دئیے ہیں۔ جنیوا میں امریکن ذمہ دار نے معید یوسف سے ملاقات میں کیا بات طے کی ؟ امریکہ کا بیان آیاکہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مل گئی۔ قطر اور ازبکستان میں امریکہ کے پاس فوجی اڈے ہیں لیکن وہ سی پیک اور چین اور بھارت کے تنازعہ میں بھارت کا ساتھ دینے کیلئے پاکستان میں اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے اسلئے کہ جنگ ہوتو چین سے امریکہ کے اڈے بھارت میں محفوظ نہ ہونگے اور پاکستان میں امریکہ کی حفاظت پاکستان پر ہوگی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ’ ‘ نائن الیون (9/11)کے بعد پرویزمشرف نے (2001) میں اڈے دئیے۔ سلالہ کا واقعہ ہوا تو پیپلزپارٹی دور میں رضا ربانی کی زیرِصدارت پارلیمانی کمیٹی نے یہ مشترکہ فیصلہ کیا کہ امریکہ سمیت کسی غیرملکی فوج کو پاکستان سے کسی دوسرے ملک پر حملے کی اجازت نہیں ہوگی۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی متفق تھے۔ ستمبر(2021) کو امریکی فوج افغانستان سے نکلے تو معاہدہ ختم تصور ہوگا جونائن الیون (9/11)کیلئے ہوا تھا”۔پچاس (50) ہزار سے زیادہ فضائی حملے کئے تو امریکہ نے(2004) میں یہاں سے آپریشن بند کیا اسلئے کہ ضرورت نہ تھی اور پہلے سے بند آپریشن کیلئے یہ جھوٹا تیر مارا گیا تھا جو فخر سے بتایا جارہاہے؟۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ میں کہا: ” عمران خان کی موجودگی میں کوئی امریکی اڈہ نہیں بن سکتا ”۔ امریکہ نے افغانستان میں اپنے اڈے بنارکھے تھے تو اس کو پاکستانی اڈوں کی ضرورت بھی نہیں تھی۔اگر افغانستان سے نکلنے کے بعد پاکستانی اڈوں کو دوبارہ آباد کریگا تو پاکستان کیخلاف جہاد ہو گا۔ امریکی کیمپوں سے پشت پناہی ہوگی ،پاکستان مکافات عمل کا شکار ہوگا۔ امریکہ کی کرپٹ فوج کو اُمت مسلمہ کے خلاف کاروائی میں بڑے ٹھیکے ملتے ہیں۔ اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ کا کاروبار ہوتا ہے۔افغانستان اور پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کی فوج کو بھی کچھ مفاد ملتا ہے۔ جنگل کے طاقتور جانوروں کی طرح گوشت کا وافر حصہ بڑے ترقی یافتہ ممالک کی فوجیں کھا جاتی ہیں اور پسماندہ ممالک کی فوجوں کو لگڑ بگڑ کی طرح بچی کھچی ریزگاری پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے مؤقف پیش کیا کہ” پاکستان سے افغان طالبان کیخلاف امریکہ کو سازش نہیں کرنے دینگے۔ اب القاعدہ کے نام پر دوبارہ ڈرامہ نہیں چلے گا”۔ پی ڈی ایم (PDM)کے اجلاس پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا۔
اوریا مقبول جان نے کہا کہ امریکہ میںنائن الیون (9/11)کے وقت آئی ایس آئی (ISI) کا چیف جنرل محمود بھیک مانگنے کیلئے گیا تھا لیکن امریکی حکام نے بھیک دینے سے صاف انکار کیا تھا، دوسرے دن نائن الیون (9/11) کا واقعہ ہوا توامریکی سی آئی اے کے چیف نے جنرل محمود کو روتے ہوئے گلے لگایااور امریکی امداد کے عوض پاکستان نے اڈے دینے اور بھرپور مدد کرنے کو اپنے لئے غنیمت سمجھ لیا تھا۔ دھمکی سے بات منوانے کا افسانہ غلط تراشا گیا ہے۔ یہ تو ازراہ تفنن ایک اضافی جملہ تھا اور کچھ نہیں۔
اوریا مقبول جان نے بتایا کہ ہمارا فیصلہ غیرت یا خوف نہیں مالی ضرورت پر ہوتا ہے۔ ملٹری وسول اسٹیبلیشمنٹ، عدلیہ، سیاستدان ، میڈیا اپنی اپنی منڈیوں کے ہیرے ہیں لیکن ہیرہ منڈی خوامخواہ بدنام ہے۔ امریکی سینیٹر نے کہا تھا کہ ”پاکستانی پیسوں کیلئے اپنی ماں کو بھی بیچتے ہیں”۔ جنرل محمود نے دھرتی ماں کو بیچا تو تبلیغی جماعت میں گناہوں کی تلافی کرالی۔ کوئی مزاروں اور زیارتوں سے گناہوں کی تلافی کراتا ہے ۔بلا سو چوہے کھاکر حاجی بنتاہے۔ بھلے شاہ نے کہا: تسبیح پڑھی مکاراں والی تے داڑھی کیتی چھٹی۔ اے ملا تیرے کولوں ککڑ چنگا۔
جج، سیاستدان، جرنیل، بیوروکریٹ ، ملااور صحافی کسی کا ایسا کردار نہیں جو حبیب جالب کی روح کو زندہ کرے۔ کوئی کہتاہے کہ پاکستان برائے فروخت ہے ،کوئی کہتا ہے کہ انصاف برائے فروخت ہے، کوئی کہتا ہے کہ فتویٰ برائے فروخت ہے، کوئی کہتا ہے کہ جہاد برائے فروخت ہے، کوئی کہتاہے کہ سیاست برائے فروخت ہے ۔ اب ہمارا معیار یہ ہوگیا کہ عامر لیاقت، مراد سعیداور فیاض الحسن چوہان جیسے بھانڈلیڈر بن گئے۔ لوگ اب یہ کہتے ہیں کہ کنجروں کو کمی پہلے بھی نہیں تھی مگر اب عمران خان کی شکل میں ان کو اپنا لیڈر بھی مل گیا ۔
سوشل میڈیا پر ایک طرف ملالہ یوسفزئی کو اسرائیل کاا یجنٹ کہا گیا کہ اس نے صرف عورتوں اور بچوں کے تحفظ کی بات کیوں کی؟ ، ظالم اسرائیل کی مذمت نہیں کی تو دوسری طرف چالیس اسلامی ممالک کے فوج کے سپاہ سالار کو عربوں کیساتھ تلوار اٹھاکر ناچتے ہوئے دکھایاگیا کہ اسرائیلی حملوں پر جشن منارہا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button