سورۂ الدہر میں دنیا کے اندر ایک خوشحال انقلاب کا ذکر ہے۔ کرونا کی بیماری نے اس کو واضح کیا ہے۔

133
0

جنت میں بہ آسانی نہریں بنانے، نذریں پوری کرنے اور مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلانے کا تصور نہیں ہوگا۔ دنیا ہی میں چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دینے والے لڑکے ویٹرہونگے اور نعمت ہی نعمت، بڑے ملک کا زبردست تصور ہوگا!

سورۂ الدہر میں دنیا کے اندر ایک خوشحال انقلاب کا ذکر ہے ۔ پاکستان اور دنیا میں کرونا کی بیماری نے اس کو زبردست طریقے سے واضح کیا ہے۔ علماء اور دانشور حقائق ضرور بتائیں!

جب قرآن کی سورۂ جمعہ ، سورۂ واقعہ اور سورۂ محمد میں آخرین کا ذکر ہے جو دنیا میں طرزِ نبوت کی خلافت قائم کرینگے تو اس انقلاب کے حالات بھی زمانے کے اعتبار سے نقل کئے گئے ہیں۔

سورۂ جمعہ میں ایک صحابہ کرام کی جماعت کا ذکر ہے اور دوسری آخر ین کی جماعت کا ذکر ہے جو پہلوں والوں سے مل جائیںگے۔ سورہ ٔواقعہ میں السابقین کی دو جماعتوں کا ذکر ہے پہلے میں بہت اور آخر میں تھوڑے سے لوگ ہونگے۔ اور دائیں جانب والوں کی بڑی جماعت پہلوں میں سے بھی ہوگی اور آخر والوں میں سے بھی بڑی جماعت ہوگی۔

قرآن میں پہلی جماعت صحابہ کے ذریعے دنیا میں جو انقلاب آیااسکے اثرات (1924ئ) تک خلافت عثمانیہ کی صورت میں موجود تھے۔ اب ترکی وہ اسلامی ملک ہے جس نے سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ طیب اردگان نے فرانس کے سربراہ مملکت سے ہاتھ نہیں ملایالیکن فرانس کا سفیر اپنے ملک سے نہیں نکالا۔ پہلے اسرائیل کا سفیر ناراض تھا اور اب وہ بھی ترکی کے دارالخلافہ استنبول میں اسرائیلی سفارت خانے میں بیٹھ گیا ہے۔

ایران نے اپنی جمہوری حکومت قائم کررکھی ہے۔ ایران اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ طاقتور ملک بھی خود کو سمجھتا ہے جو امریکہ کے حملوں کا بھی جواب دیتا ہے۔ اگر انکے بارویں امام مہدی غائب نے ایران کو دنیا کا جنیوا بنادیا تو اسلامی دنیا خیرمقدم کریگی۔ امام اور انکے ماننے والا طبقہ دوسروں کے جبر اور دسترس سے آزاد ہیں۔ اہل تشیع امامیہ کا عقیدہ ہے کہ امام کی بعثت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ جب تک امام کا ظہور نہ ہو اپنے عقائد پر مضبوطی سے جمے رہیں۔ اگر انکا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت علی اور دیگر ائمہ سے خلافت کا حق چھین لیا گیا تھا تو ان کو یہ عقیدہ رکھنے کا بھرپور حق ہے۔ اگر بنوامیہ ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کی جگہ ائمہ اہلبیت کو امامت کا حقدار سمجھتے تھے تو اس میںکچھ براکیا ہے؟۔ اگر وہ خلافت راشدہ کیلئے بھی یہی تصور رکھتے ہیں کہ ان سے انکا حق چھین لیا گیا تھا تو یہ اہل تشیع کی طرح اہلسنت کیلئے بھی زیادہ مفید اسلئے ہے کہ سنی سمجھتے ہیں کہ شیعہ حضرت علی کے حوالے سے شرکیہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ جاہل شیعہ کے عقائد کو درست کرنا اہل تشیع کے علمی طبقے کی اپنی ذمہ داری ہے لیکن حضرت علی کیلئے مظلومیت کا عقیدہ رکھنا شرک کے برعکس صحتمند عقیدہ ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ انصارکے سردار بھی خود کو خلافت کا حقدار سمجھتے تھے اور ابوبکرو عمر سے ناراض تھے ،یہاں تک کہ انکے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے تھے۔

سورۂ الدھر میں جس انقلاب کا ذکر ہے اس میں نظامِ شمسی کی تپش سے اور سردی کی سختی سے بچنے کی خوشخبری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت اور ریشم کا ذکر کیا ہے۔ پاکستان میں زراعت کی کتابوں میں ریشمی کیڑوں کا تعارف ہے اور جب پاکستان میں بڑے پیمانے پر زراعت کی ترقی کیلئے راہ ہموار ہوگی تو بڑے پیمانے پرباغات اور کیڑوں سے ریشمی انڈسٹریاں بھی کھلیں گی۔جس سے خوشحالی کا سفر شروع ہوگا۔ کانیگرم میں ماما پیر کے باغ میں سورج نظر نہیں آتا تھا۔ باغ میں ہوا کم لگنے کی وجہ سے سردی کی زیادہ سختی محسوس نہیں ہوتی ۔ پاکستان کے زیادہ تر لوگوں نے ویسے بھی ایسے باغ نہیں دیکھے ہیں۔ اگر ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہوں تو پورے پاکستان میں باغات کے جال بچھاسکتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کی سرحد سے ہندوستان میں جنگلی نیل گائے، ہرن اور دیگر جانور نظر آتے ہیں۔ درندوں کو آسان شکار فارمی یا گھریلو گائے مل جائیں تو وہ تیز رفتار ہرن، نیل گائے اور مارخور کے پیچھے بھاگنے میں وقت ضائع نہیں کرتے۔ جب قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے معبودوں کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے تاکہ وہ ہمارے معبودِ برحق کو برا نہ کہیں تو گائے ہندوؤں کی معبود ہے۔ ہم انکے جذبات کا خیال رکھ کر انکے دل جیت سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ گائے کو شہروں اور جنگلوں میں چھوڑ کر جنگلی درندوں سے قیمتی جنگلی جانوروں مارخور وغیرہ کی حفاظت کا سامان کرسکتے ہیں۔ شیروں کا پیٹ گائے وغیرہ کے گوشت سے بھرا ہوگا تو بکری اور شیر ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے اور انسانوں کے علاوہ جنگل کے جانوربھی اس نظام سے خوش ہونگے۔

جنگلی جانوروں کی حفاظت اورافزائش نسل کیلئے بڑے پیمانے پر حفاظتی تدابیر کا انتظام بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایسی مصنوعی خندقیں، سوراخ اور تعمیرات کا اہتمام ہوسکتا ہے جس میں ہر نوع کے جانوروں کی حفاظت کا اپنے دشمن سے ٹھیک طریقے سے انتظام ہو۔ جب پاکستان ایک امیر ملک بن جائیگا تو اس میں شیشوں اور چاندی کے برتنوں کا استعمال ایک معمول بن جائیگا۔ بادی بھی ایک انسانی کمزوری ہے ۔اللہ نے فرمایا کہ ” آپس میں لڑو مت ، ورنہ تمہاری ہوا خارج ہوجائے گی”۔ قرآن میں ایسے پیالوں کی بات جسکے زنجبیل والے مزاج سے بادی کم ہو یا اس کا اخراج کھلے عام تنگ کرنے کے خلاف مددگار ثابت ہو، اسکا تعلق بھی دنیا ہی کی زندگی سے ہوسکتا ہے۔ ایک ایسا چشمہ جس کا نام سلسبیل رکھا جائے۔ ہوسکتا ہے کہ آب زم زم سے یا خاص نوعیت کا کوئی مصنوعی چشمہ بنایا جائے اور اس میں کوئی خصوصیت بھی ہو تاکہ عوام اور خواص کو مخصوص بیماری ، ہاضمے یا کسی صورت میں کام آئے۔

ویطوف علیھم ولدان مخلدون اذا رأیتھم حسبتھم لؤلؤًا منثورًا ” اور ان کے گرد لڑکے ہمہ وقت گھوم رہے ہوں گے اور جب آپ ان کو دیکھ لیں گے تو ان پر منتشر موتیوں کا گمان ہوگا”۔ انقلاب کے بعد پاکستان میں دنیا بھر سے لڑکی نہیں لڑکے ویٹروں کو نوکری ملے گی ۔ بھارت،عرب، یورپ ، امریکہ ، چین ، آسٹریلیا، روس ، کوریااور دنیا بھر سے غریبوں کو نہ صرف نوکریاں ملیںگی بلکہ انکی اعلیٰ تعلیم وتربیت اور آرام کا بھی مکمل خیال رکھا جائیگا۔ دنیا کو بتایا جائیگا کہ تہذیب وتمدن اور انسانیت کس چیز کا نا م ہے؟ اور پاکستان دنیا کی امامت کے قابل کیوں ہے؟۔ کچرے کے ڈھیر پر کام کرنے والے ہمارے افغانی بھائی بچوں کو صاف ستھرا کرکے ایک مثالی معاشرہ بنایا جائے گا۔ انشاء اللہ وتعالیٰ عزوجل ۔

جب پاکستان صحیح ٹریک پر چڑھ جائیگا تو تمام اسلامی ممالک اور دنیا بھر کے غیراسلامی ممالک بھی انتظامی اعتبار سے جمہوری بنیادوں پر پاکستان سے الحاق کریںگے۔ ایران ، افغانستان کے علاوہ بھارت اور بنگلہ دیش بھی اس کا حصہ بننے کیلئے درخواست دیںگے۔ پاکستان وزیراعظم عمران اور ن لیگ وپیپلزپارٹی کا تجربہ کرچکا ہے۔ امریکہ نے ٹرمپ اور بھارت نے مودی کی بداخلاقی دیکھ لی ہے۔ پاکستان میں اچھی طرزِ حکمرانی سے دنیا میں بڑی خوشگوار تبدیلی آئے گی۔ بھارت سے ہندوانہ رسم وراج کا خاتمہ وہاں کے ہندو خود ہی کردیںگے۔ اچھی نسلوں کے ہندو مسلمان بن جائیںگے تو اس کے زبردست اثرات مرتب ہونگے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” لوگوں کی مثال معدنیات کی طرح ہے۔ جو لوگ اسلام قبول کرنے سے پہلے سونا اور چاندی کی طرح تھے وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ایسی اچھی صفات کے مالک ہیں اور جو لوگ اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی خراب تھے تو وہ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ویسے ہی ہونگے”۔ نبیۖ نے حاتم طائی کی بیٹی کو عزت دی تھی اور مروان بن حکم کو اپنے باپ کیساتھ جلاوطن کیا تھا۔

جن لوگوں نے مسلمانوں کے خوف ، رعب ودبدبہ اور لالچ کی وجہ سے برصغیر پاک وہند میں اسلام قبول کیا تھا، ان کی اولادوں نے علماء ومشائخ اور مجاہدین بن کر بھی اعلیٰ اخلاقی معیارات قائم کرنے کی بجائے اسلام کو خیر نہیں پہنچائی۔ کم اصل ہندو بنیوں کی اولادوں نے غریبوں کی زکوٰة اور خیرات پر بھی اپنے اللے تللے اور بہت ساری دولت کا سامان کرلیا ۔ کراچی کے جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بانی حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری نے ان لوگوں کے کرتوت دیکھ کر اپنے اوپر ہدیہ کی رقم بھی حرام کی تھی۔ ایک سال سے زیادہ زکوٰة کی رقم مدرسے کیلئے نہیں لیتے تھے اور قربانی کی کھالوں کو سب سے اچھا مال سمجھتے تھے لیکن طالب علموں کو کھالوں کیلئے پھر بھی نہیں بھیجتے تھے۔ ہم نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے دیکھے ہیں لیکن اپنی ذات کو ان سے بھی کم تر اسلئے سمجھتے ہیں کہ ہر انسان اپنی خامیوں کو دوسروں سے زیادہ سمجھتا اور دیکھتا ہے۔ تعریف صرف اللہ ہی کیلئے ہے۔

ایسی عاجزی اور مروت بھی بیکار ہے کہ جب مخلوقِ خدا کیساتھ ظلم وستم کی انتہاء کی جاتی ہو اور ظالم اپنے کرتوت سے باز نہیں آتے ہوں اور ان کو اپنے سے بہتر قرار دے کر ایک درست سمت کی جدوجہد سے پہلو تہی برتی جائے۔ مدارس میں جانتے بوجھتے اسلام کے نام پر حلالہ کی لعنت کا کاروبار ہورہاہو۔ اللہ نے ایک جان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے تو ایک عورت کی عزت لوٹنے کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیاہے۔ اگر معلوم ہوجائے کہ قرآن و سنت سے حلالہ نہیں بنتا تب بھی اپنے معتقدین اور عوام الناس کی عزتوںکو لوٹا جائے تو اس سے بڑا جرم روئے زمین پر کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی ریاست اور حکومتوں کی نالائقی، نااہلی اور کرپشن کی داستان 73سالوں سے بلاشبہ اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے جس میں بہت لوگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے لیکن اسلام کے نام پر بہت کچھ ہورہاہے اور خلافت راشدہ کے دور میں حضرت عثمان کی شہادت اور اس سے پہلے اور بعد کے ناسازگار حالات و واقعات سے موجودہ دور تک بتدریج مختلف ادوار میں جو کچھ ہوتا رہاہے وہ بھی بہت افسوسناک ہے۔ مسلکوں اور فرقوں کے نام پر جس طرح اسلام کو باقی رکھا گیا ہے اسی طرح پاکستان کے ساتھ بھی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ عالم اسلام میں ایٹم بم اور بہت سی خوبیوں کیساتھ پاکستان ممتاز ہے تو یہاں کے علماء ومشائخ کا بھی ممتاز مقام ہے۔

جس طرح بدترین جمہوریت بہترین امریت سے بہتر کہلاتی ہے اسی طرح اچھے سرکاری علماء سے چندوں پر گزارہ کرنے والے علماء ومشائخ کا اخلاق وکردار بہت بہترین ہے۔ ہمارا مقصد دل سے کسی کی برائی نہیں ہے۔ صرف جمود توڑنا چاہتے ہیں۔ علمائ، سیاستدان، فوجی اور مجاہدین سب میں ہم سے زیادہ اچھائیاں اور صلاحتیںہیں اور جب انقلاب آئے گا تو سب کو عزت ہی ملے گی۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی