سورۃ الدہر میں زمانے کا انقلاب، نہروں سے پانی کی ترسیل کا نظام اور پاکستان

سورة الدہر میں زمانے کا انقلاب ، سہولت کے ساتھ نہروںسے پانی کی ترسیل کا نظام اور پاکستان میں اس پر عمل سے عالمِ اسلام کی اخلاقیات اورپوری دنیا کی تقدیر بدلنے اور طرزنبوت کی خلافت کا زبردست انداز میں آغاز

پاکستان جیسی بہترین قوم پوری دنیا میں کہیں بھی نہیں ،جب اسکی اقتصادی حیثیت مستحکم ہوجائیگی تو انسانیت اور اسلام کی روح پر عمل کرنے میں ہم بہت بہترین رول ماڈل ہوں گے!

مولانا فضل الرحمن اور اس کی جماعت محترم محمود خان اچکزئی سے زیادہ جمہوری ہیں اور محترم محمود خان اچکزئی اور اس کی جماعت مولانا فضل الرحمن سے زیادہ انقلابی اور اسلامی ہیں!

اللہ تعالیٰ نے سورۂ دہر میں جن معاملات کا ذکر کیا ہے ان کو نہ صرف مؤمن مانیںگے بلکہ دہری بھی قبول کرلیںگے اور یہ اتفاق الرائے کی پہلی بڑی بنیاد ہے۔ پاکستان میں مؤمن تبلیغی، جہادی ،سیاسی مختلف حوالے سے بٹے ہوئے ہیں لیکن دہریوں کا الگ ٹولہ ہے جو مذہب سے نفرت کرتا ہے۔

ھل اتٰی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیئًا مذکورًا ” کیا انسان پر ایسا لمحہ زمانے میں گزرا، جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہیں تھا”۔ سورۂ دہر کی اس پہلی آیت میں ملحدین سے صرف سوال ہے۔ کیونکہ اللہ کو پتہ تھا کہ مذہبی لوگوں کی احمقانہ حرکتوں کی وجہ سے کبھی وہ دور بھی آئے گا کہ جب اچھے بھلے لوگ الحاد اختیار کرکے اس قدر ہٹ دھرم بن جائیں گے کہ قرآن کی ہر بات کو بالکل منفی طریقے سے لیں گے۔ اللہ نے یہاں سوال اٹھایا ہے کہ کبھی کوئی ایسالمحہ گزرا ہے جب انسان قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟۔پھرفرمایا کہ ”بیشک ہم نے انسان کو نطفۂ امشاج (ماں باپ) سے پیدا کیا ، ہم نے آزمائش میں ڈالااور اس کو سننے والا ، دیکھنے والا بنایا ۔بیشک ہم نے راستہ بتایا اس کی مرضی ہے کہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا بنے۔ بیشک ہم نے کافروں کیلئے زنجیریں، طوق اور بھڑکتی آگ تیار کررکھی ہے ، بیشک نیک لوگ ایسے پیالوں سے پئیں گے جن کا مزاج کافوری ہوگا۔ ایسا چشمہ جس سے اللہ کے بندوں کو پانی پلایا جائیگا ، جہاں چاہیں گے اس کی شاخیں نکالیں گے۔ یہ لوگ اپنی نذریں پوری کرینگے اور اس دن سے ڈریں گے جس کا شر ہر جانب پھیلا ہوا ہوگا اور کھانا کھلائیں گے اپنی چاہت سے مسکین، یتیم اور قیدی کو ۔ (کہیں گے) کہ ہم تمہیں اللہ کی رضا کیلئے کھلاتے ہیں، ہم آپ سے کوئی بدلہ اور شکریہ نہیں چاہتے ہیں۔ ہم اپنے رب سے ڈرتے ہیں جو دن سخت مصیبت کا طویل ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا۔ اور ان کو بدلہ دے گا جو انہوں نے صبر کیا باغ اور ریشم۔ جس میں وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اُونچی مسندوں پر۔ اس میں ان کو سورج نظر آئے گا اور نہ سردی کی سختی اور ان پر اسکے سائے جھک رہے ہوں گے اور ان کے پھل انتہائی دسترس میں نیچے ہوں گے اور ان پر چاندی کے برتن اور شیشوں کے پیالے پھرائے جائیں گے۔ شیشوں کو بھی چاندی سے مرصع کرکے بہترین انداز میں بنایا ہوا ہوگا۔ جس میں ان کو ایسے مشروب پلائے جائیں گے جس کا مزاج ادرک کا ہوگا۔ ایک چشمے کا اس میںنام سلسبیل رکھا جائیگا۔اور ان پر ہمیشہ (چوبیس گھنٹہ فل ٹائم) ویٹرلڑکے خدمات انجام دینگے۔ جب آپ اس کو دیکھیں تو سمجھیں کہ موتی ہیں جو بکھیر دئیے گئے ہیں۔ جب آپ اسے دیکھ لیں اور پھر دیکھ لیں تو نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی اور بہت بڑا ملک ہوگا۔ ان پر باریک ریشم کے سبز اور موٹے ریشم کے کپڑے ہونگے اور زیبِ تن کرائی جائیں گی چاندی کی گھڑیاں اور ان کو انکا رب پاکیزہ مشروب پلائے گا۔ بیشک یہ تمہارا بدلہ ہے اور تمہاری محنت آخر کار رنگ لائی ۔ بیشک ہم نے نازل کیا آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے۔ پس آپ صبر کریں اپنے رب کے حکم کیلئے اور ان میں کسی کی اطاعت نہ کریں گناہگار اور ناشکراہوکر اور اپنے رب کا نام یاد کریںسویرے اور شام کو۔ اور رات کو اس کو سجدہ کرو اور رات گئے تک لمبے وقت تک اس کی پاکی بیان کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جلدی حاصل ہونیوالی چیز سے محبت کرتے ہیں لیکن چھوڑ دیتے ہیں پیچھے لمبے دن کے انجام کار کو۔ ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور ان کو استحکام بخش دیا ہے اور جب ہم چاہیں گے تو ان کو ان جیسوں کی طرح تبدیل کرکے رکھ دیں گے۔ بیشک یہ ایک نصیحت ہے۔ پس جو چاہے اپنے رب کی طرف جانے والا رستہ اختیار کرے اور تم نہیں چاہتے ہو مگر جو اللہ چاہے۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ جس کو چاہتا ہے رحمت میں داخل کرتا ہے اور ظالموں کیلئے اس نے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے”۔ (سورہ الدہر۔پارہ نمبر29)

سورہ ٔ دہر سے پہلے سورۂ قیامت کا ذکر ہے۔ سورۂ دہر میں قیامت نہیں دنیا اور زمانے کا ذکر ہے۔ آج دنیا نے اللہ سے بغاوت کرنے کے بعد اپنے لئے زنجیروں، طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ کا سامان کرلیا ہے۔ اسلامی ممالک کیساتھ جو کچھ ہوا اور جو ہورہاہے اور جو ہونے جارہاہے اور انسانیت کیساتھ جو کچھ ہورہاہے کیا اس سے بڑھ کر مزید تباہی وبربادی کے بعد انسانیت کے ہوش ٹھکانے آئیں گے؟۔ شاکر شجاع آبادی کہتا ہے کہ ” میری سخاوت بھی حاتم طائی سے کم نہیں جب صبح قلم کی خیرات چلاتا ہوں تو شام ہوجاتی ہے”۔

جب سعودیہ پاکستان کے کام نہ ّئے تو ہماری سوشل میڈیا کے کتے چوبیس گھنٹے عربوں کی برائی کرنے لگتے ہیں اور جب تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو چپ ہوجاتے ہیں۔ ہمارا قبلہ اور کعبہ تو اقتصادیات ہیں۔اگر ہماری اقتصادی حالت بہتر ہوتی تو بھونکنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور ہمارا اسلام اور ہمارے اخلاقیات بھی بہتر ہوجاتے۔

سعودی عرب میں تیل کے چشمے ہیں اور پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے پانیوں کے پاک چشموں سے مالا مال کیا ہے لیکن ہمیں صاف اور پاک پانی پینے کو بھی نہیں ملتا ہے، جتنے منرل واٹر پر ہمارا اشرافیہ خرچ کرتا ہے ،اگر انہیں پینے کا صاف پانی ملتا اور منرل واٹر کے خرچے مسکین ، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلانے پر صرف ہوتے تو پاکستان میں بدحالی نہیں خوشحالی کا زبردست طوفان آجاتا۔ جنت میں کافوری اور ادرکی مزاج کے پیالوں کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ جراثیم کش کافوری مزاج کے پیالوں اور بادی وغیرہ کے علاج کیلئے ادرک کے مزاج کی مشروبات کی ضرورت اس دنیا میں ہے۔ با آسانی پانی پہنچانے کے طریقے اُخروی جنت نہیں بلکہ دنیا کی جنت کی ضرورت ہیں۔ مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ ”جنت میں پھاوڑے اور کدال نہیں ہونگے” لیکن اگر آپ زندہ رہتے اور سہراب گوٹھ میں میلوں کھڑی بھاری مشنری دیکھ لیتے اور پاکستان میں بہترین نہری نظام کا آغاز ہوجاتا تو اپنی تفسیر کی رائے بھی بدل لیتے۔ آسانی کیساتھ نہری نظام کے علاوہ نذریں پوری کرنے اور ایسے دن کے شر سے ڈرنا جس کا شر ہر جانب پھیلا ہوا ہے، اس کا تعلق بھی دنیا سے ہی ہے اور موجودہ کرونا کی بیماری اس کی زبردست مثال ہے۔ جب کبھی خوشحالی کا دور آئے گا تو لوگ نذریں پوری کرینگے کہ ہر اچھے انسان کے خیال میں ایک خواہش ہوتی ہے کہ اگر میرا کاروبار چل گیا تو یہ یہ خدمت غریبوں کی ضرور کروں گا۔ پاکستان کی مثال لے لیجئے ،اگر آج کاروبار چل گیا تو لوگ اس پر عمل کرنا بھی شروع کردیں گے۔ وہ لوگ کاروبار چلنے کے بعد اپنی ہی محبت سے مسکینوں ، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلانا شروع کردیںگے اور کہیں گے کہ ہم اللہ کیلئے کھلاتے ہیں آپ سے کسی ووٹ اور زندہ باد کا نعرہ لگوانے سے ہماری کوئی غرض نہیں ہے۔ ہمیں تو اپنے رب سے ڈر لگتا ہے جو دن بہت سخت اور لمبا ہے اور یہ دنیا میں کرونا کی نئی لہریں ہوسکتی ہیں۔ پھر اللہ ان کو اس دن کے شر سے محفوظ رکھے گا اور ان کو تازگی اور خوشی بخشے گا۔

پاکستان میں نہری نظام سے ایک تو کاروبار بہت بڑے پیمانے پر چمکے گا اور دوسراسستی بجلی پیدا کرنے سے سردی گرمی میں بجلی کی کھپت بہت زیادہ ہوگی۔ پاکستان زرعی ملک ہے، یہاں انواع واقسام کے باغات ہونگے اور نہری نظام سے سستی بجلی پیدا ہوگی تو کھانے پینے اور رہن سہن کی مشکلات کا خاتمہ ہوجائیگا۔ سردی گرمی میں درخت کام آئیںگے۔ پھلوں کی بہتات اور ترقی یافتہ ممالک کا پاکستان بہت ہی اعلیٰ نمونہ بن جائیگا۔

بنوں شہر میں انگریز کے دور سے پانی کی ایک ایسی ٹنکی ہے جو ڈیم سے بھرتی ہے۔ گڈوبیراج میں کتنی بجلی پیدا ہوتی ہے؟۔ حیدرآباد اور کراچی کے درمیان پانی کی نہریں بناکر ایک تو اتنی سستی بجلی پیدا کرسکتے ہیں کہ دونوں ہی شہروں کو بہت کم قیمت پر بڑے پیمانے پر بجلی پہنچ سکتی ہے۔ جہاں غریب اور فیکٹری مالکان چوری کے بغیر سستے بلوں کو ادا کرسکیںگے اور کراچی میں پانی کا نظام بھی بغیر بجلی کے نوری آباد میں ڈیم بناکر اونچی سے اونچی بلڈنگ تک پہنچ سکتا ہے۔ گھروں میں زیادہ بل پانی کی موٹر کیوجہ سے آتا ہے۔ ماحولیاتی آلودگیوں سے پاکستان کو بچانے کیلئے بھی قدرتی نظام کا سہارااچھا رہے گا۔ پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کیلئے کوئی پالیسی نہیں بناتا ہے۔

عمران خان نے الیکشن میں دو جھوٹ بولے۔ ایک یہ کہ پختونخواہ کی پولیس بہت بہتر کردی۔ حالانکہ پختونخواہ کی پولیس پہلے سے نسبتًا بہتر تھی اور دوسرا یہ جھوٹ بولا کہ تین سو (300)ڈیموں سے پختونخواہ کی تقدیر بدل ڈالی ۔ یہ بھی بالکل جھوٹ تھا۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ صدر، وزیراعظم کون ہو؟۔ ہم پاکستان کی تقدیر بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ اس کی تقدیر بدلنے میں اللہ تعالیٰ زیادہ وقت نہیں لگائے گا۔ وزیراعظم عمران خان، نوازشریف، شہبازشریف ، پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمن نے اپنی بساط کے مطابق ایکدوسرے سے انتقام لینا ہے یا قوم کی خدمت کرنی ہے؟۔ اگر قوم کی خدمت کرنی ہے تو اقتدار میں رہتے ہوئے اور اقتدار سے باہر انہوں نے اپنی اپنی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ اپنی خوب تعریف اور مخالفین کوبہت ذلیل کر کے یہ کہنا نہیں بنتا کہ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العٰلمین ”ہماری آخری بات یہ ہے کہ سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیںجو جہانوں کا پالنے والا ہے”۔ یہ تو اس وقت ہوگا کہ جب پاکستان کو جنت بنائیں گے اور آپس میں ایکدوسرے کا خیرمقدم سلام سے کرینگے۔محمود اچکزئی مولانا فضل الرحمن سے زیادہ اسلامی اور انقلابی اور مولانا ان سے زیادہ جمہوریت پسند ہیں۔لیکن بے بسی کے نتیجے میں محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن اپنی اپنی چال بھول گئے ہیں اور اگر افراتفری پھیل گئی تو پھر سنجیدہ لوگ بھی غیر سنجیدہ ہی بن جائیں گے۔بنیادی تبدیلیوں کی طرف آنا ہوگا۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

Leave a Reply

Back to top button