پندرہ روزہ جدوجہد اداریہ۔۔۔ کرپشن کے کھلاڑی

732
0

’’گلی گلی میں شور ہے سارے لیڈر چور ہیں‘‘ یہ نعرہ برصغیر میں کتنی نسلوں سے یہ خلق سنتی آرہی ہے،لگاتی آرہی لیکن جوں جوں کرپشن کے خلاف شور بڑھتا گیا، کرپشن مزید پھیلتی پھولتی گئی ہے۔عمران خان نے اس معمول کو ایک غیرمعمولی کیفیت دیکر اس پرانے نعرے کونئے سرے سے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ لیکن اگر غور کریں تو کرپشن کیخلاف مہم بنیادی طور پر اس نظام زر کے تحفظ اور اسکی المناک بربادیوں پر مزید پردہ پوشی کا کام کرتی ہے، درحقیقت یہ کرپشن کے علاج کا ڈھونگ اور عوام میں شعور پیدا کرنے کی جھوٹی کوشش ہے، یہ بیماری کی بجائے اسکے علامات کا نسخہ ہے۔کرپشن کے شور تلے اس حیوانی نظام کی مشقت و استحصال کے مظالم چھپائے جاتے ہیں۔ دولت کو ’’ جائزطریقوں‘‘ سے اکٹھا کرنے اور اسکی ذخیرہ اندوزی کیلئے راہِ عامہ بنائی جاتی ہے۔کرپشن کے واویلے میں بڑے بڑے امراء، مخیر حضرات ، شرفا اور مذہبی پیشوا دولت کے اجتماع اور منافعوں کی ڈاکہ زنی کو جائز قرار دینے کی اصل واردات کررہے ہیں۔ پہلے تو جائزو ناجائز دولت جمع کرنے میں فرق کرنا مشکل نہیں ناممکن ہے،امارت اور غربت میں بڑھتی ہوئی تفریق اور دولت کے انبار لگاکر بھوک اورغربت کو پھیلانے کو اگر اخلاقی یا قانونی طور پر درست قرار دیا جائے تو پھر کرپشن کو گالی دینے کی کوئی تک نہیں بنتی۔کیا محنت کے استحصال سے حاصل کردہ قدرِ زائد یا منافع خوری جائز ہے؟۔ اگر یہ کرپشن نہیں ہے تو پھر اس سے بڑا جھوٹ کوئی ہوہی نہیں سکتا؟۔ غریبوں کو مزید غریب کرکے اور امارت میں بے ہودہ اضافوں کا عمل اگر جائز ہے تو پھر کرپشن کیسے ناجائز ہے؟۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اخلاقیات ہوں یا اقدار، سماجی رجحان ہوںیا مختلف مفروضوں کی تعریف، ایک طبقاتی نظام ان کے بنانے اور بگاڑنے کا حق صرف بالادست طبقات کے نمائندگان اور انکے کاسہ لیس مفکروں اور تجزیہ نگاروں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ لیکن ایک محروم معاشرے میں جہاں نظام ترقی کرنے اور دینے سے قاصر ہوجائے وہاں کا سرمایہ دار بجلی اور ٹیکس چوری کیے بغیر سرکاری خزانے کو لوٹے بغیراور محنت کشوں کی روزی روٹی پر لات مارے بغیرتو سرمایہ دار ہو نہیں سکتا۔وہ جیسے جیتے ہیں ویسے ہی مر نہیں سکیں گے۔انکی اوباشی پل نہ سکے گی اور وہ سیاست اور طاقت کو خرید کر حاکمیت نہیں کرسکیں گے۔ لیکن جس معاشرے میں ذلت اور رسوائی ہر طرف پھیلی ہوئی ہواور زندگی کو اذیت ناک بنارہی ہووہاں کرپشن معاشرے کی رگوں اور ہڈیوں میں سرائیت کرجاتی ہے۔کرپشن کے بغیر شناختی کارڈ تک نہیں بن سکتاتو پھر ایسے معاشرے میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا بنیادی طور پر اس کو تحفظ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کی کرپشن ضرورت اور ناگزیر پیداوار ہے۔
فوج میں کرپشن اتنی ہے کہ اس کا وجود اور ڈھانچے بکھر جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ سپریم کورٹ کا ہر نیا چیف جسٹس عدلیہ کی کرپشن کا رونا روتے روتے اپنی مدت پوری کرلیتا ہے اور عدالتی کرپشن کے ذریعہ باقی زندگی عیش وآرام سے گزارتا ہے،صحافت میں کرپشن کیخلاف سب سے زیادہ شور ہے اور جتنی کرپشن اسکے ان داتاؤں نے کی ہے اور کررہے ہیں اس کا مقابلہ کرنے میں پولیس اشرافیہ بھی پیچھے رہ گئی ہے۔معاشرے کی کوئی پرت کوئی ادارہ ، کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو کرپشن کے بغیر چل سکتا ہویا قائم بھی رہ سکے۔لیکن پھر بھی کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ شور ہے۔جہاں ایک کرپٹ عدالتی نظام بدترین کرپشن کے مرتکب حکمرانوں کو بری کردیتا ہووہاں وہی حکمران اور جج پھر کرپشن کیخلاف راگ الاپتے ہیں۔ یہ کیسا کھلواڑ کیسا ناٹک ہے؟۔ نوازشریف خاندان ہو یا باقی حکمران طبقات کے دھڑے ہوں،اگر کرپشن نہیں کرینگے تو اس نظام میں حکمران بنیں گے کیسے؟۔سیاست سے جس جلسے میں کرپشن کے خلاف آگ اگلی جاتی ہے اسی جلسے یا جلوس کو بدترین کرپشن والے ہی فنانس کرتے ہیں، ملک ریاض جیسے نودولیتے اور بلیکیے جرنیلوں سے لیکر عام سیاسی لیڈروں کو کرپشن سے تابع کرلیتے ہیں،ہرادارے کو کنٹرول میں لے لیتے ہیں صحافت انکی داشتہ بن جاتی ہے، ریاست انکی مشکور ہوتی ہے ، سیاست انکے کرموں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہے لیکن
پھر بھی کرپشن کا کھلواڑ جاری ہے۔ کرپشن کے کھلاڑی عوام کو اس کرپشن کے ایشو میں الجھائے رکھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔لیکن عوام اب اس کرپشن کے ناٹک سے اکتا چکے ہیں۔ انکی سیاسی بیگانگی اس ایشو کے استعمال کی ناکامی کی غمازی کرتی ہے۔ یہ بیگانگی جب پھٹے گی تو پھر جاگے ہوئے محنت کش عوام کی یلغار اس پورے نظامِ زر کو اکھاڑنے اور دولت وطاقت کو نیست ونابود کرنے کا وار بن جائے گی۔پھر نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری! (یکم مئی2016 پیپلزپارٹی اور مزدورتحریک میں سوشلزم کی آواز)

جدوجہد یکم مئی تا15مئی 2016کے’’ اداریہ پر تبصرہ‘‘ فاروق شیخ

محترم کامریڈ لال خان سوشلزم کی اس تحریک کے روحِ رواں ہیں ۔ جہاں قیادت محنت و صلاحیت کی بنیاد پر ہو تو وہاں انسانیت کیلئے اچھی توقعات رکھنے کی امید ہوتی ہے، اس پندرہ روزے میں بڑی اہم بات یہ ہے کہ اس میں کارل مارکس کا نظریہ’’قدر زائد‘‘ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اسی نظریہ کی وجہ سے لینین نے روس ’سویت یونین‘کا عظیم انقلاب برپا کیا تھا،چین میں بھی اسی نظریے کی بنیاد پر انقلاب برپا ہوا ہے۔ پاکستان یا برصغیر میں اس نعرے میں تھوڑی سی کشش اسلئے باقی ہے کہ آزادی کے بعد بھی پاکستان اور بھارت کے حالات میں عوام کیلئے کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے، وہی فوج، وہی عدالتیں اور وہی بیوروکریسی اور وہی استحصالی نظام بلکہ پہلے کی نسبت اب زیادہ ظلم وستم اور جبرو زیادتی کا ماحول ہے۔ پہلے فوج سول آبادی میں قدم رکھنے میں خوف محسوس کرتی اور اب اس جنگلی طبقے کا عوام پر راج ہے، سیاست فوج کی باندی، عدالت لونڈی اور بیوروکریسی نوکر اور صحافت چاکر ہے۔ اگر ترکی میں عوام فوجیوں کو بغاوت سے روک سکتے ہیں تو پاکستان کی عوام کیلئے اس نظام کو تہہ وبالا کرنے میں ایک رات کی مار ہے لیکن نظام کو بدلا جائے تو متبادل کیا نظام ہوگا۔عوام نے جمہوریت اور مارشل لاؤں کا بار بار تجربہ دیکھا ہے جو ایک دوسرے سے بدتر اور بدترین ثابت ہوتے ہیں۔
سوشلزم اور اسلامی انقلاب کے خواہاں تبدیلی کے حوالہ سے جو نظریات رکھتے ہیں ، ان میں مکالمہ کی ضرورت ہے۔ اس پندرہ روزہ رسالے میں پیپلزپارٹی کے قائد بلاول بھٹو زرداری کی قیادت سے توقعات وابستہ کی گئی ہیں کہ وہ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی بجائے پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی راہ پر چلیں اور پارٹی کا بنیادی نظریہ سوشلزم کا تھا، پرائیویٹ ملوں اور فیکٹریوں کو بھٹو نے سرکاری تحویل میں لیا تھالیکن یوسف رضاگیلانی نے اس اقدام کو سب سے بڑی گالی دی تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔
ہماری سوشلزم کی علمبردار تحریکوں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ تمہاری حب الوطنی، انسان دوستی، غریب پروری اور جرأت وبہادری پر کوئی شبہ نہیں ہے لیکن قدرِ زائد کا بنیادی نظریہ ہی موروثی نظام کے خلاف ہے۔ بلاول بھٹو،میر حاصل بزنجو، اسفندیار ولی خان اور دیگر سوشلزم اور کمیونزم کے نظریے کو سپورٹ کرنے، سمجھنے اور اس پر ایمان رکھنے والی جتنی جماعتیں ہیں وہاں سب کی سب قیادتیں موروثیت کی وجہ سے ہیں۔ بلاول بھٹو میں کتنی صلاحیت ہے اور اس نے کتنی محنت کی ہے؟۔ کیا پیپلزپارٹی کی قیادت بذاتِ خود یہ اہلیت رکھتی ہے جو قدرِ زائد کے بنیادی نظریہ پر پورا اترتی ہو؟۔ اس کے بنیادی ڈھانچے کی قیادت ہی قدرِ زائد پر استوار ہونے والے نظریے کی بیخ کنی ہے۔اگر ایسے توقعات اور خواہشات کی بنیاد پر چند محنت کشوں کے جیبوں پر اضافی بوجھ رکھ کر تحریک برپا کرنے کا سلسلہ جاری رہے تو دانشوروں کی میٹنگوں سے معاملہ کبھی آگے نہ جائیگا۔ جن منافقتوں کا رونا رویا جارہاہے،اسی کے آنسو پی کر اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کیجائے تو کیا نتائج برپا ہونے کی امید بھر آئیں گے؟۔البتہ اس نظام کی ناکامی کے بعد چند افراد کی تربیت سے بھی اچھے توقعات پوری ہونے کی امید زیادہ بری اور کوئی جرم بھی نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ ایک محنت کش تھے، اماں خدیجہؓ ایک سرمایہ دار تھیں۔ایمانداری نے وہ نتائج برپا کیے کہ سرمایہ دار خاتونؓ ایک محنت کش پیغمبرﷺ کی اس وقت بیوی بن گئیں اور ان کا سارا مال پھر تحریک کیلئے وقف ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ انبیاء درہم ودینار کی نہیں علم کی وراثت چھوڑتے ہیں‘‘۔ درہم ودینار کی وراثت چھوڑنے والے بادشاہ اور علماء دنیا ہوسکتے ہیں لیکن انبیاء کے وارث نہیں ہوسکتے۔ جب حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت تھی تو والد کی زندگی میں حضرت سلیمان علیہ اسلام نے اپنی صلاحیت کو بھی منوایا تھا اور کوئی بھی اہلیت والی شخصیت ہو تو اس کو جانشین بنانے پر اتفاق میں حرج نہیں لیکن
پاکستان میں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو عوام کی روحانی اور جسمانی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرے۔ جو کرپشن کو ہڈیوں کے گودے اور خون کے جرثوموں سے باہر نکال دے۔ جو عوام کی روحانیت اور اخلاقیات کو بھی بدل دے۔ سوشلزم کے نعرے میں جان ہونی چاہیے تھی لیکن افسوس کہ نہیں ہے۔ کرپشن کے نعرے کی طرح نظام کی تبدیلی کا نعرہ بھی خوشنما ڈھونگ کے سوا نتیجہ خیز اسلئے نہیں کہ یہ چلے ہوئے کارتوس کا خول ہے،اگر روس سمٹ گیا، چین نے اپنے نظریہ سے انحراف کیا تو پھر پاکستان میں انقلاب چائے کی پیالی میں وہ طوفان ہوگا جو عجیب بھی ہوگا اور غریب بھی۔ سوشلزم کے حامی اگر اسلام کے آفاقی نظام پر اتنی محنت اور صلاحیت لگاتے تو دنیا میں ایک زبردست انقلاب برپا ہوسکتا تھالیکن اہل فکر ونظر میں مکالمے کی ضرورت ہے، امریکہ نہیں روس سے دوستی ہوجائیگی۔