اسلامی اقتصاد کے چند پوشیدہ گوشے: علامہ محمد طاسین ؒ

618
0


مندرجہ بالاکتاب کی طباعت سن 2002ء میں ہوئی ہے۔ ناشر : فضلی سنز (پرائیویٹ) لمیٹیڈ کراچی۔ ترتیب وپیشکش :ڈاکٹرمحمدعامرطاسین وفاقی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین رہے۔ پتہ: گوشہ علم و تحقیق : 20.A، کتیانہ سینٹر ، بنوری ٹاؤن، ای میل: gosha elmo tahqeeq hotmail. com
آج امریکہ نے افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کرنے کے بعد شام کی خانہ جنگی سے ابھی تشفی نہیں پائی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے خلاف سازش کو عملی جامہ پہنانے کی ترکیب کررہا ہے۔ ایران کی تیل پر پابندی کو روس، چین اور بھارت نے مسترد کیا ہے جس کو امریکہ نے قبول بھی کرلیا ہے۔ اگر ہم امریکہ کے بجائے روس اور چین کیساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں لگے ہیں تو اسلامی نظام کی طرف ہی آنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کی شرائط غریب کو آخری حد تک غربت کی لکیر سے ماردیگی جس کا حکمران اور بڑے طبقے پر اثر نہ ہوگالیکن جب غریب اُٹھ کھڑا ہوگا تو پاکستان کی ریاست بھی بچ نہیں سکے گی۔ فوجی سپاہی کا تعلق غریب گھرانے سے ہوتا ہے، پولیس اور تمام اداروں کے غریب ملازمین کی ہمدردیاں اپنے بڑوں کے بجائے اپنے گھرانوں سے ہوں گی۔ یہ وقتی طور پر مذہبی اشتعال انگیزی کا مسئلہ نہیں ہوگا کہ مولانا سمیع الحق کو قتل کرکے علامہ خادم حسین رضوی کو رام کیا جائے بلکہ بھوکی عوام وحشی درندوں کی طرح انقلاب برپا کردینگے۔ جانیں، عزتیں، محلات، بازار، قلعے، چھاونیاں، عدالتیں اور مدرسے کچھ بھی محفوظ نہ رہ سکیں گی۔ سابق صدر زرداری نے حامد میر کو جیو ٹی چینل پر بتایا ہے کہ ’’ عمران خان کے اپنے تعلقات سعودیہ سے اتنے اچھے نہیں کہ اتنا بڑا پیکج مل سکتا تھا، چین بھی بڑی مدد کریگا، اسکے علاوہ ابوظہبی بھی مدد کریگا‘‘۔
زرداری کا واضح اشارہ اسرائیل کی طرف تھا اسلئے کہ اسرائیلی خاتون وزیر نے ابوظہبی کی بڑی مسجد کا دورہ کیا تھا جس کی میڈیا میں تشہیر بھی ہوئی ۔ ممکن ہے کہ اسرائیل سے مسقط اور اسلام آباد آنے والے طیارے میں بھی صداقت ہو اور کسی نے فیصل مسجد اسلام آباد کے بجائے اصحاب اقتدار سے اہم ملاقاتیں بھی کی ہوں۔ پاکستان میں امریکہ کو دئیے جانے والے ائرپورٹوں کو بھی خفیہ رکھا گیا تھا۔ ریاست اور عوام کے اندر اعتماد کا فقدان اپنی جگہ ہے۔ طالبان کی دہشت کا راج ابھی عوام کے دِلوں سے ختم نہیں ہوا ہے کہ کوئی دوسرا فتنہ کھڑا نہ ہوجائے۔
لگتاہے کہ عالمی قوتیں پاکستان کو قدرت کا بڑا ڈھیٹ شاہکار سمجھ کر صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب قبلہ ایاز صاحب کو چاہیے کہ علامہ طاسینؒ کی مندرجہ بالا کتاب کو اقتدار کے ایوانِ بالا تک پہنچائیں تاکہ بڑے پیمانے پر زمین کی کاشت ممکن ہوسکے ۔ علامہ اقبالؒ نے فرشتوں کے گیت کے عنوان سے کیا خوب کہاتھا کہ جو مخلص مسلمان تھے۔
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
اشتراکیت نے بھی پنجے گاڑ رکھے تھے جسکے اثرات سے علماء محفوظ نہیں رہ سکے تھے ۔ دوسری طرف سودی نظام کو بھی جواز بخشنے تک بات پہنچی، اسلام اعتدال ہے