اداریہ نوشتہ دیوار ، ماہ اکتوبر 2016

437
0

درباری ملاؤں اور علماءِ حق کے درمیان ہمیشہ سے بہت بڑا فاصلہ رہا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک طرف علماءِ حق نے اپنی استعداداورصلاحیت کے مطابق کسی بھی مصلحت کا لحاظ رکھتے ہوئے کلمۂ حق بلند کیا ہے، حق کی آواز اُٹھائی ہے ، دین اور ایمان کی پاسداری کی ہے تو دوسری طرف علماءِ سوء نے ہر دور میں باطل کا ساتھ دیکر اسلام کا حلیہ بگاڑنے میں تاریخ کے ہر دور میں اپنا بدترین کردار ادا کیا ہے۔ اسلام کا حلیہ بگاڑنے میں ہمیشہ مسلمان ریاستوں اور حکمرانوں نے ہی اپنے مفادات کے تحت اپنا کردار ادا کیا ہے اور علماءِ سوء نے درباری بن کر چند ٹکوں کی خاطر انکا ساتھ دیا ہے، علماء حق نے مزاحمت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور ہر دور میں عتاب میں رہے ہیں لیکن جیت علماءِ سوء کی اسلئے رہی ہے کہ ریاست اور حکمران ان کیساتھ تھے اور یوں اسلام بتدریج ہردور میں نبیﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اجنبی بنتا گیا ہے۔
مسلکی اختلاف حق اور باطل کی بنیاد پر نہیں رہے ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ،حضرت امام شافعیؒ ، حضرت امام احمد بن حنبلؒ ، حضرت امام جعفر صادقؒ ، امام اوزاعیؒ ، محدثینؒ ، امام ابن تیمیہؒ اور دیگر ائمہ مجتہدینؒ کے درمیان مسلکی اختلاف حق وباطل اورعلماء حق وعلماء سوء کا اختلاف ہرگز نہیں تھا۔آج مملکت خداداد پاکستان میں فرقہ وارانہ اور مسلکی اختلاف میں عقائد ومسالک کو ماحول کے تناظر میں جس طرح دیکھا جاتا ہے، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب تک حقائق کو نہ سمجھا جائے ،عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا اور اختلافات کے دلدل اور بیرونی سازشوں بدترین بھنور سے ہم نکل نہیں سکتے۔
اس مرتبہ عیدالاضحی کے موقع پر تین عیدیں منائی گئیں، اہل تشیع کے بوہری فرقہ نے سعودیہ عرب سے ایک دن پہلے عید کے اجتماعات منعقد کئے۔ دوسرے دن عالمِ اسلام کے سب سے بڑے اجتماع ’’حج‘‘ کے دوران سعودیہ اور عرب ممالک کی عید تھی اور تیسرے دن پاکستان اور دنیا بھر میں پاکستان کے مطابق امریکی صدر اوباما وغیرہ نے مسلمانوں کو عید منانے پر مبارکباد دی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایران، پاکستان اور امریکہ ، برطانیہ اور یورپ میں ایک عیدالاضحی ایک دن میں شرعی طور سے منائی جاتی ہے تو کیا عرب کیساتھ ایک دن میں عیدمنانا شریعت اور مسلک کیخلاف ہے یا اسکے پیچھے کوئی دوسرے عوامل ہیں؟۔ وزیراعظم نوازشریف نے عیدالفظرتو پاکستان سے ایک دن پہلے لندن میں سعودیہ کیساتھ منائی تھی اور عید الاضحی امریکہ میں سعودیہ کی بجائے ایک دن بعد پاکستان کیساتھ منائی۔آخر ایسا کیوں ہے؟۔
دوماہ دس دن بعد وزیراعظم نوازشریف کا عقیدہ و مسلک بدل گیا؟۔ یا یہ ایک اتفاق تھا اور یا پھر اسکے پیچھے معروضی حقائق کچھ اور ہیں؟۔ امریکی پارلیمنٹ نے بل منظور کیا کہ ’’ 9/11کا مقدمہ ورثاء کے مطالبہ پر سعودی حکومت پر چلایا جائے ‘‘۔ جس کو اوباما نے ویٹو کردیا، امریکی صدارتی امیداوار ڈونلڈ ٹرمپ کا تو ایجنڈہ ہی مسلمانوں کیخلاف ہے لیکن ہیلری کلنٹن نے بھی بالکل واضح کردیا کہ’’ اگر میں صدر ہوتی تو اس بل کو ویٹو نہ کرتی‘‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ اسامہ بن لادن کی طرح ابوبکر البغدادی کا پیچھا کرکے ہمیں ماردینا چاہیے تھا‘‘۔ اسامہ بن لادن پر سب سے پہلا حملہ بھی کروز میزائل کے ذریعہ سے صدرکلنٹن کے زمانے میں ہوا تھا، سعودی حکومت ، داعش اور دیگر معاملات کے حوالہ سے امریکہ کا متوقع لائحۂ عمل کیا ہے؟۔ اس کا اندازہ سعودیہ کے علماء کونسل کی طرف سے یہ فیصلہ کہ ’’ کسی مسلمان فرقے کو کافر قرار دینا جائز نہیں اور تکفیری لوگوں کی بھرپور مذمت ہے‘‘۔ اگرکہہ دیا جائے ’’دیر آید درست آید‘‘ تو بھی ٹھیک ہے مگر ایک عمر گزاردی انتظار انتظار کرتے۔
سعودیہ کی ریاست چاہتی تو یہ اقدام بہت پہلے ہوسکتا تھا۔ پہلے شیعہ سنی اور دیگر اختلافات کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ بھی کارفرما تھا، آج مسلم ریاستوں کے ڈھانچوں کو تباہ کرکے مسلمانوں کے بچے، بوڑھے، جوان، خواتین وحضرات کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ افغانستان، عراق ، لیبیا، سوڈان اور شام وغیرہ سے جو لوگ پناہ گزین بن کر تباہ وبرباد ہورہے ہیں، اس کا سب سے بڑا ذمہ دار امریکہ اور مسلمانوں کے داخلی مسلکانہ، فرقہ وارنہ اور نظریاتی اختلافات ہیں۔ شیعہ سنی،حنفی اہلحدیث اور دیوبندی بریلوی اختلافات کے علاوہ القاعدہ اور داعش کے اختلاف کو ختم کرنا وقت کا تقاضہ اور مسلمانوں اور انسانیت کے بہترین مفاد میں ہے۔موجودہ دور میں مسلم ریاستوں کے اصحابِ حل و عقد کا سب بڑا فرض یہ بنتا ہے کہ گماشتہ علماء سوء کو استعمال کرکے جتنا اب مزید اسلام کا حلیہ بگاڑنے کیلئے علماء سوء کو ٹشو پیپر کی طرح سے استعمال کرنا چھوڑ دیں۔ علماء حق اور علماء سوء کے کردار کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے بجائے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دیا جائے۔
موجودہ اسلامی بینکاری کو مفتی تقی عثمانی، مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے اسلامی قرار دیا اور جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی ، جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی ، احسن المدارس گلشن اقبال کراچی کے علماء و مفتیان سمیت دیگر علماء ومفتیان نے اس کو سود اور ناجائز قرار دیا ہے۔ پاکستان اور دیگر ملکوں کی ریاستی پالیسی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح آج کے دور میں بھی درباری علماء سوء کو سپورٹ کررہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بڑی خبر اخبارات میں شہ سرخی بن کر عیدالاضحی کے دن سامنے آئی کہ ’’ اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کو سود سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ درباری علماء سوء کے چہرے پر لگتا ہے کہ’’ ناک نہیں ہے، ورنہ کٹ جاتی، یہ اسٹیٹ بینک نے ان کی ناک پر مکا رسید کیا ہے ‘‘۔ وہ صرف اپنے معاوضہ کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ ان کو عزت بھی کوئی چیز نہیں لگتی ہے۔
پہلے اسلامی بینکنگ نے حکومت سے اسلام آباد،لاہور موٹروےM”2 کی بجائے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ کراچی سودی قرضہ پر لیا تھا، اب موٹروےM”2 کے بدلے امریکہ میں ایک ارب ڈالر اسلامی بانڈز کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سودی نظام کو اسلام کا نام دینے کی آخر ضرورت کیا ہے؟، جب انمیں کوئی فرق بھی نہیں ہے۔ ہماری شرعی عدالت سپریم کورٹ کے تابع ہے اور سودی نظام کو عالمی سطح پر اسلام کے نام سے سودی نظام کے تابع کرنے کی ضرورت کیا تھی،جبکہ یہ کسی بحران کے نتیجے میں بھی نہیں ہے، پھر کیوں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اسلام کا حلیہ بگاڑا جارہاہے۔ یہ شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث کے مسائل نہیں بلکہ نام نہاد شیوخ الاسلام اور مفتیان اعظم اپنے مکروہ چہروں کو مسلکوں کا سہارا لیکر چھپانے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔
دارالعلوم کراچی سے شائع ہونے والی کتابوں میں شادی کے رسوم میں لفافہ کو سود، احادیث کے مطابق 70گناہ،70وبال اور70وعیدوں کے معاملات گنوا دئیے گئے ہیں ، جن میں کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ پورے کراچی کا ستیاناس ہے جو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی سے یہ نہیں پوچھتا ہے کہ عوام پر شادی کے رسم میں لفافہ لینے دینے کے معاملہ پر اپنی ماں سے زنا کا فتویٰ لگانے والو! تم نے دنیا بھر میں سودی بینکاری کو اسلامی قرار دیکر عوام سے بڑا گناہ نہیں کیا ؟۔ کیا کراچی کے دیگر دیوبندی مدارس کی کوئی اوقات نہیں ہے؟۔ جو سب مل کر تمہارے خلاف یک زباں و سربکف ہیں؟۔فرقہ پرستی کا نقاب کب تک اور کس طرح سے چلتا رہے گا، یہ سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔پہلے درباری مفتیان ہوا کرتے تھے اب مولانافضل الرحمن بھی درباری بن گئے ہیں۔