غربت ختم کرنے کا ذریعہ زکوٰۃ مگر…..

762
0

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جب یہ اُمت شراب کو مشروب کے نام سے ، سُود کو منافع کے نام سے اور رشوت کو تحفے کے نام سے حلال کرلے گی اور مال زکوٰۃ سے تجارت کرنے لگے گی تو یہ ان کی ہلاکت کا وقت ہوگا، گناہوں میں زیادتی و ترقی کے سبب۔
رواہ الدیلمی ، کنز العمال ص ۲۲۶ ج ۱۴ ، حدیث نمبر ۳۸۴۹۷۔ عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ ۔
مکتبہ بینات علامہ بنوری ٹاؤن کراچی نمبر ۵۔ ملنے کے پتے: مکتبہ شیخ الاسلام جامع مسجد فلاح بلاک نمبر 14نصیر آباد ، ایف بی ایریا کراچی۔
اسلامی کتب خانہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی، مظہری کتب خانہ گلشن اقبال نمبر۲کراچی، مکتبہ بینات جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

نماز ، روزہ اور حج کی طرح زکوٰۃ بھی ایک اسلامی فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی قرآن میں تلقین فرمائی ہے۔ زکوٰۃ میں ایک بنیادی اور اہم ترین بات یہ ہے کہ کسی مستحق شخص کو زکوٰۃ کے مال کا مالک بنادینا ضروری ہے۔ جو فلاحی ادارہ اور مدرسہ بھی زکوٰۃ لوگوں سے مانگتا ہے کیا وہ شرعی تقاضہ کو پورا کرتے ہوئے مستحق افراد کو زکوٰۃ کا مالک بناتاہے یا نہیں؟۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بانی حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ مدرسہ کیلئے 8 مہینے کا بجٹ بنادیتے تھے ، شعبان اور رمضان کی چھٹیاں ہوتی تھیں ، شوال سے رجب تک 8مہینے طلبہ تعلیمی نصاب مدرسہ میں پڑھتے تھے، جن میں ہر ماہ طلبہ کو زکوٰۃ کے وظیفے کا باقاعدہ مالک بنادیا جاتا تھا، پھر جو طلبہ مدرسہ کے لنگر کا کھانا کھاتے تھے وہ کچھ رقم کھانے کی مد میں جمع کرتے تھے اور کچھ اپنی ضروریات کیلئے رکھ لیتے تھے ۔ مثلاً 150روپے ہر طالب علم کو وظیفہ ملتا تھا اور اس میں سے 120کھانے کیلئے اور 30 روپے ضروریات کیلئے ہوتے تھے۔ اگر مدرسہ میں ہزار طلبہ پڑھتے تھے تو 8ماہ کے حساب سے ماہانہ بجٹ150×1000=150000 ڈیڑھ لاکھ اور سالانہ بجٹ 150000×8=1200000، بارہ لاکھ بنتا تھا۔ مولانا بنوری ؒ 12 لاکھ سالانہ کے بعد زکوٰۃ کی رقم لینا بند کردیتے تھے۔ اگلے سال کیلئے مزید زکوٰۃ لینا جائز نہیں سمجھتے تھے، کیونکہ اس طرح سے سالانہ زکوٰۃ کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔
دار العلوم کراچی کے ارباب اہتمام زکوٰۃ کیلئے مخصوص مقدار کے بجائے لا متناہی رقم لیتے تھے۔ جہنم کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ وہ کہے گا کہ ھل من مزید کیا اور بھی ہے۔ دار العلوم کراچی کے ارباب اہتمام زکوٰۃ کے خود ہی وکیل بن جاتے اور خود ہی منصف۔ زکوٰۃ کے بارے میں مذہبی طبقہ کی طرف سے حیلے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ حضرت امام غزالیؒ نے لکھا کہ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد شیخ الاسلام قاضی ابو یوسف سال ختم ہونے سے پہلے اپنا سارا مال بیوی کو ہبہ کردیتے تھے اور اگلے سال بیوی سارا مال اس کو ہبہ کردیتی تھی، یوں زکوٰۃ سے بچنے کا حیلہ بنارکھا تھا۔ امام غزالیؒ کی کتابوں کو اس وجہ سے مصر کے بازاروں میں جلایا گیا۔ ان کو امام ابو یوسف کی بدنامی سے زیادہ فکر اپنے حیلوں کو بچانے کی تھی۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے لکھا کہ دیوبند کے ایک بزرگ بڑے عالم دین بھی یہی حیلہ کرتے تھے اور یہ یہود کے نقش قدم پر ہوبہو چلنے کے مترادف ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے سلیم صافی کو انٹرویو میں کہا کہ میری بیرون ملک اور اندرون ملک کوئی جائیداد اور دولت نہیں ہے ، صحیح کہا ہوگا کہ جب حکمران وزیر اعظم نواز شریف کی بیوی بچوں کی کمپنیاں وزیر اعظم کی نہیں تو کسی اور کی کیا ہوں گی؟۔ اسحٰق ڈار کے بیٹے چالیس چالیس لاکھ درہم باپ کو تحفہ میں دیتے ہیں، وزیر اعظم اپنی صاحبزادی کو کروڑوں تحفے میں دیتے ہیں، بچے کروڑوں وزیر اعظم کو دیتے ہیں ، جس طرح کرپشن کا پیسہ مالدار خاندانوں کے درمیان ایک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ تک گردش میں رہتا ہے اور ٹیکسوں سے بچنے کیلئے آف شور کمپنیاں بنائی گئی ہیں اسی طرح زکوٰۃ کے مال کیلئے بھی بڑے بڑے مدارس اور فلاحی اداروں کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے اس سے زکوٰۃ کا فریضہ ادا نہیں ہورہا ہے بلکہ ایک مخصوص طبقہ زکوٰۃ کے نام پر کاروبار کررہا ہے۔
رسول اللہ ﷺ صحابہؓ سے کہتے تھے کہ مجھ پر زکوٰۃ کے مال کی ذمہ داری ڈالنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے خود مستحقین کوزکوٰۃدیں، اللہ نے فرمایا انہ لحب الخیر لشدید انسان مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان سے زکوٰۃ لیں یہ انکے لئے تسکین کا ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنے اوپر ، اپنی اولاد ، گھر والوں اور رشتہ داروں پر زکوٰۃ کو حرام کردیا۔ جب انسان اپنے مال کی زکوٰۃ دے تو اسکو ترجیحات کا حق بھی پہنچتا ہے لیکن کسی اور کی زکوٰۃ مانگنے کیلئے بے چین روح بن جائے اور ترجیحات خود طے کرے تو اس میں وہ لذت ہے جس کو آپ بڑے بڑے اشتہارات کی شکل میں دیکھتے ہیں، حالانکہ اپنے لئے بھی بھیک مانگنا بہت مشکل کام ہے چہ جائیکہ دوسروں کیلئے مانگی جائے۔ اگر اس رمضان کو صرف اور صرف زکوٰۃ کا مال غریب طبقہ تک پہنچ جائے تو پاکستان میں ایک بہت بڑا انقلاب آجائیگا۔
مستحقین کو زکوٰۃ اپنے ہاتھوں سے دیجائے تو جو لوگ کھانے کیلئے بھوکے ہوں ان کے تن پر کپڑوں کی ضرورت ہو یا علاج اور تعلیم کی ضرورت ہو وہ غریب خود اپنی ترجیحات طے کرینگے۔ زکوٰۃ کے نام پر اشتہارات میں جو پیسہ خرچ کیا جاتا ہے ، بڑی عمارتیں بنائی جاتی ہیں ، بڑے بڑے ادارے پالے جاتے ہیں یہ غریبوں ، ناداروں اور مسکینوں کی حق تلفی ہے۔کاروبار اسی وجہ سے تباہ ہیں کہ غریبوں کو زکوٰۃ بھی نہیں مل رہی ہے ، ایک مرتبہ کی زکوٰۃ مستحقین تک پہنچائی جائے تو ثابت ہوگا کہ اللہ کا فرمان سچ ہے کہ’’ صدقہ مال کو بڑھاتا ہے‘‘۔ جیسے بتوں کو سجدہ جائز نہیں اسی طرح غیر مستحق کو زکوٰۃ کے نام پر پالنا غلط ہے

jun2016(fazlurehman_cartoon)

کبھی تیر کے اورکبھی شیر کے بھی شکار ہیں        زکوٰۃ بھی کاروبار خدمات بھی مستعار ہیں