بلوچستان ایران سے گیس خرید کر باقی صوبوں کو سپلائی شروع کردے، اجمل ملک

443
0

وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان کے مفاد میں ایران سے گیس لینے کے بجائے قطر سے اپنے ذاتی مفاد کیلئے معاہدہ کیا جس سے ملک پھر گیس کے بحران کا شکارہوگا

ن لیگ کے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری اور محمود اچکزئی کے بھائی گورنر بلوچستان اپنے صوبے کی پسماندگی دور کرنے کیلئے ایران کی گیس سے پاکستان کو فائدہ پہنچاسکتے ہیں

پنجاب چین،ترکی اور دیگر ممالک سے صوبائی مفاد میں معاہدے کرسکتاہے تو بلوچستان اپنے صوبے اور قومی مفاد کی خاطر فیصلے کرنے میں کسی دوسرے کا غلام کیوں؟۔

نوشتۂ دیوار کے ایڈیٹر محمداجمل ملک نے پاکستان کی تعمیر وترقی، بلوچستان کومحرومی سے نجات دلانے کیلئے تجویز پیش کی ہے کہ جنرل راحیل شریف کے کردار سے اسلئے ملک و قوم کو فائدہ پہنچاہے کہ اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے قومی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا ۔ بلوچستان حکومت اگر ایران سے گیس خرید کر صوبوں کو فروخت کرے تو پاکستان تیزی کیساتھ ترقی کا سفر طے کریگا،شریفوں کی رشتہ داری پر بھی اثر نہ پڑیگا۔ پاکستان میں مارشل لاؤں کی بہتات سے بڑی گندی ذہنیت کے لوگ کرپشن کے ذریعے سے ملک کے سیاسی نظام پر قابض ہوچکے ہیں۔جنرل راحیل شریف کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ مزید کرپٹ لوگوں کو اپنی پیداوار نہیں بنایا۔ عمران خان اور علامہ طاہرالقادری وغیرہ نے بہت دم ہلائے لیکن جنرل راحیل نے کوئی لفٹ نہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ احتجاجی دھرنوں میں جتے ہوئے فسٹ کزن ایک دوسرے پر بروقت احتجاج نہ کرنے کا الزام لگارہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کتا کچھ تو مالک کیلئے بھونکتاہے اور کچھ اپنے لئے بھی بھونکتاہے۔ سیاستدان ہر اسی ایشو پر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور اپنے قدم جمانے کی کوشش کرتے ہیں جس میں قوم کیساتھ ساتھ اپنا مفاد بھی ہو۔
قوم گلی محلوں ، شہروں اور دیہاتوں میں کتوں کے بھونکنے کی طرح سیاستدانوں اور صحافیوں کا گلہ پھاڑ پھاڑ کر آواز یں سننے کی عادی بن چکی ہے۔ جنرل ایوب خان کا قوم کیلئے بڑا تحفہ ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق کا نوازشریف، جنرل پرویزمشرف کا ق لیگ کے علاوہ چھوٹی بڑی خوبی و خامی اپنی جگہ پر ہیں،سب ہی میں انسان ہونے کے ناطے اچھائیاں اور برائیاں ہوتی ہیں۔ اب اس ملک خداداد پاکستان کیلئے بھی کچھ کرنے کا وقت آگیاہے۔ قوم پرستوں کو بلوچستان میں دبایا گیاہے تو یہ مسئلے کا بنیادی حل نہیں ہے۔ مسلمان مکہ سے حبشہ اور مدینہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے لیکن ایک دن ایسا بھی آیا کہ دبے ہوئے مسلمان پھر ابھر کر نہ صرف مکہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ جزیرہ نما عرب کے بعد دنیامیں اپنے دور کی سپر طاقتوں کو بھی شکست سے دوچار کردیا۔
بلوچ اور پٹھان ایک باعزت اور غیرتمند قوم ہے، بلوچستان سے افتخار چوہدری، جاوید اقبال اور دیگر پنجابی بیورکریٹ کو عزت ملنے سے بلوچستان کی پسماندگی کا حل نہیں ہے اور بلوچ رجمنٹ سے آرمی چیف کا انتخاب بھی اطمینان کا باعث نہیں بن سکتاہے۔ کرپٹ بلوچ قیادت کو کرپشن کی آزادی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف ترکی اور چین کیساتھ صوبہ کی سطح پر معاہدے کرسکتا ہے تو ن لیگ کا وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری اورمحمود خان اچکزئی کے بھائی گورنر بلوچستان کو بھی صوبائی سطح پر بڑے معاہدوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ بلوچستان حکومت کی اپوزشن جمعیت علماء اسلام ف بھی اس کارِ خیر میں بھرپور طریقے سے مدد فراہم کرے گی اور بلوچوں کی قوم پرست پارٹیاں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی جس سے اٹھاروین ترمیم پر بھی عمل کرنے میں زبردست مدد ملے گی۔ صوبائی خود مختاری کو قومی یکجہتی اور مرکز کو کمزور کرنے کیلئے سازش کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان سے غداری کے مساوی گردانے جانے میں حرج نہیں ہے۔
پورے پاکستان میں گیس کی شدید قلت ہے، قطر سے گیس لانے میں ملک وقوم دونوں کے مفادات کو بہت نقصان پہنچ رہاہے۔ پنجاب کی سرحد سے ایران ملتا تو پنجاب اپنے اور ملک کیلئے ضرور گیس پائپ لائن کے معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتا لیکن بلوچستان کی سرحد پر موجود ایران کی طرف ن لیگ کی سیاسی لیڈر شپ کا دماغ نہیں جاتاہے، پرویزمشرف سے پہلے نوازشریف دومرتبہ وزیراعظم رہ چکے تھے لیکن گوادر اور سی پیک کی طرف اس کا دماغ نہیں گیاتھا، ایران سے گیس لانے کیلئے بھی کیا کسی جرنیل کی ضرورت ہوگی جو وزیراعظم نوازشریف کو جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دے ؟۔بلوچستان ایران سے گیس اپنے لئے بھی خرید لے ، کسی کو ضرورت نہ بھی ہو تو سستے گیس کی وجہ سے پاکستان اور بیرون ملک سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کار اپنے مفاد کی خاطر انڈسٹریاں لگانے میں دیر نہیں لگائیں گے۔
بلوچستان کے خزانہ میں گیس کے ذریعہ سے اتنی آمدن آئے گی کہ وہ اپنے سیکیورٹی کیلئے بھی مرکز سے کچھ لینے کے بجائے بہت کچھ دینگے۔ چین کے علاوہ روس سے آزاد ہونیوالی ریاستوں کو بھی اپنی مدد آپ کے تحت گوادر کی بندرگارہ سے ملادینگے۔ جنرل راحیل شریف نے قومی خدمت کی ہے لیکن اختیارات پر قبضہ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے قوم مثبت رحجانات کی جانب بڑھی ہے۔ سیاسی قیادت کو بھی ہوش کے ناخن لیکر دوسرے کے اختیارات پر ناجائز قبضے کے خواب ترک کرنا ہونگے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے قومی سیاسی پارٹیوں کا کردار انتہائی قابلِ نفرت رہاہے۔
بلدیات اور صوبوں کو اختیارات دینے سے ہی پاکستان بہت مضبوط ہوگا۔ وزیراعلی پنجاب شہبازشریف اور وزیراعظم نوازشریف کی پوری توجہ لاہور ہی پر مرکوز ہے۔ پورا ملک تو دور کی بات پورے پنجاب کا بھی خیال نہیں ہے۔ یہ شکرہے کہ فوجی قیادت کے چناؤ میں انکے پاس بڑے ہی محدود اختیارات ہیں ورنہ صدرمملکت ممنون حسین، گورنر سندھ سعیدالزمان صدیقی ، گورنر پنجاب رفیق رجوانہ اور گورنر پختونخواہ اقبال ظفر جھگڑا کی طرح چہرے اور کردارتلاش کئے جاتے۔ صدر کو دوسروں کے چہرے منحوس اور اپنے معصوم لگتے ہیں تو یہ ان کا جمہوری حق ہے لیکن جمہوری ماحول میں اختلاف رائے کی گنجائش ہوتی ہے۔ کسی ذوالفقار بھٹو اور کسی کو جنرل ضیاء کا چہرہ اچھالگتا تھا اور اب اللہ کرے کہ جنرل راحیل شریف اور ان کے بعد آنے والے جرنیلوں کے چہرے اچھے ہی لگیں۔ جب پنجاب میں گیس کی قلت کے خلاف احتجاج ہو تو ایران سے گیس لیکر مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اصحابِ اقتدار ملک کو مالامال کرنے میں بالکل کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔