احادیث میں زمین کو بٹائی اور کرائے پر دینے کی ممانعت ہے مفت دینے کا حکم ہے

677
0

مولانا مودودیؒ نے قرآن وسنت کی نہیں سرمایہ دارانہ نظام کی خدمت کی

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا تھاکہ اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل وقرآن الفجر ان القرآن الفجر کان مشہودا O ومن الیل فتہجد بہ نافلۃ لک O عسیٰ ان یبعثک مقاما محموداO’’نماز قائم کرو، سورج کے غروب سے رات کا اندھیرا چھا جانے تک اور فجر کا قرآن بیشک فجر کا قرآن مشہود ہے اور تہجد کی نماز تیرے لئے نفل ہے۔ہوسکتا ہے کہ اللہ تجھے مقام محمود عطاء کرے‘‘۔
یہ آیات اُمت مسلمہ کیلئے دعوتِ فکر ہیں۔ سارا دن کام کاج کرکے مغرب سے عشاء تک تھکاوٹ ہوتی ہے۔ ٹی وی کے ٹاک شوز ، مقررین کی تقریریں اور مذہبی وعظ کا دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان کے دل ودماغ کوتازگی میسر نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کو حکم دیا کہ مغرب سے رات گئے تک نماز قائم کرو۔ نبیﷺ نے اس پر عمل بھی کیا ہے لیکن افسوس کہ کسی نے بھی قرآن کے اس حکم اور نبیﷺ کے اس عمل کو سنت نہیں قرار دیا ہے اسلئے کہ اگر یہ سنت بن جائے تو واعظین اور مقررین پھر اس وقت میں کیسے لوگوں کواپنی خرافات سنا سکیں گے؟۔ فرمایا کہ انا ارسلنٰک شاہدا ومبشرا ونذیرا ’’بیشک ہم نے آپ کو شاہد، بشارت دینے اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے‘‘۔ نبیﷺ شاہد تو قرآن مشہود ہے جس کی گواہی دی گئی ۔ صبح کے وقت انسان کا دل ودماغ تازہ، صاف اورسمجھنے سمجھانے کے قابل ہوتا ہے ، اسلئے صبح کے وقت کے قرآن کا خصوصی طور پر اہمیت کا ذکر فرمایا ہے۔
پھر ان آیات میں تہجد کی نماز کو نبیﷺ کیلئے نفل قرار دیا، جس کا پڑھنا ضروری نہیں اسلئے کہ یہ ایک انفرادی عمل ہے جبکہ قرآن اجتماعی اور اہم فریضہ ہے۔مغرب اور رات گئے تک تسلسل سے نماز قائم کرنے کی سنت کا حکم بھی نبیﷺ کی ذات مبارکہ کو مخاطب کرکے دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مقام محمود کی توقع بھی دلائی ہے اور اس کیلئے اگلی آیات میں مکہ سے نکلنے اور مدینہ میں داخل ہونے اور اقتدار کو مددگار بنانیکی دعا کا حکم ہے اور حق کے آنے اور باطل کے مٹ جانے اور قرآن کو مومنین کے شفاء اور رحمت کا ذکر ہے اور یہ کہ ظالم نہیں بڑھیں گے مگر خسارہ میں کی بھرپور وضاحت ہے۔ مولانا مودودیؒ سرمایہ دارانہ نظام کوتحفظ نہ دیتے تو بندۂ مزدور کے اوقات آج بہت تلخ نہ ہوتے۔ یہ بدترین المیہ آج بھی قرآن وسنت سے حل ہوسکتا ہے۔
یہ آیات اسلئے پیش کی ہیں تاکہ لوگ قرآن کے اہم معاشرتی مسائل کو سمجھنے کیلئے خاص طور پر فجر کے وقت کا انتخاب کریں۔ جب امت مسلمہ کی طرف سے قرآنی احکام کو سمجھنے کا سلسلہ شروع ہوگا تو دنیا پر اسلام کی حکمرانی قائم ہو گی۔ یہ نبیﷺ کامقام محمود ہوگا۔ دنیا میں دوبارہ طرزِ نبوت کی خلافت قائم ہونے کی پیش گوئی صرف احادیث میں نہیں بلکہ قرآن میں بھی ہے لیکن جب تک قرآن کے مسخ شدہ احکام دنیا کے سامنے ہونگے ،اسلامی خلافت کا قائم ہونے کا تصور تو بہت دور کی بات ہے، دنیا ہمارااور اسلام کا مذاق اُڑائے گی اور ہم توہینِ رسالت کے مرتکب افراد کا محض تماشہ دیکھتے رہیں گے۔ آسیہ بی بی کیس ہمارے سامنے ہے۔ سلمان تاثیر، شہباز بھٹی، ممتاز قادری، احتجاج میں تبلیغی جماعت کے کارکن اور مولانا سمیع الحق کی جان گئی مگر معمہ حل ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔
جب خواتین کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دئیے ہوئے حقوق سے محروم کیا جائیگا۔ حلالے کے نام پر گھروں کو تباہ، عصمتوں کو لوٹنے اور بچوں کو والدین کے سایائے عاطفت سے محروم کیا جائیگا تو اس معاشرے کے کمزور طبقات نے حکمرانوں اور بڑے علماء ومفتیان کو بد دعائیں دینی ہیں ۔ ایک ایک کا انجام عبرتناک ہوگا۔ جو لوگ ریاست کیلئے وفا رکھتے ہیں اور پاکستان کی افواج کا تحفظ کرتے ہیں ان کو پشتون تحفظ موومنٹ والے ’’ گل خانوں‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مولانا سمیع الحق کی ساری زندگی ریاست ہی کا تحفظ کرتے کرتے گزری ہے۔ شریعت بل، مارشل لاء کا دفاع، مجاہدین کی سرپرستی،اسلامی جمہوری اتحاد میں کردار اور طالبان کا تحفظ کرنے کیساتھ ساتھ وہ پاکستان، افواج پاکستان کا ہر موقع پردفاع کرتے ۔اُن کی موت بھی بڑے پیمانے پر ریاست کو نقصان پہنچانے کا سدِ باب بن گئی۔ ریاست کے خلاف طوفان برپا ہورہاتھا، دیوبندی بریلوی فسادات کا خدشہ بھی تھا اور ایک بڑی افراتفری کی فضاء قائم ہونے کاخطرہ بھی تھا۔ نیک لوگ تماشۂ حیات کی طرف دیکھتے نہیں، بدی کی قیادت بدعنوانی سے ہورہی ہے مگر ایک طرف شعور بیدار ہورہاہے اور دوسری طرف باطل کے منہ سے نقاب اُٹھ رہاہے، ہنگامۂ خیز اور ہیجانی صورت پیدا کرنے کی خواہش بہت سے لوگوں کے دِ لوں میں موجزن ہے۔تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی کا طرزِ عمل مروجہ احتجاج کا نہیں ورنہ طوفان برپا ہوسکتا تھا۔

ہماری عدلیہ آزادہوتی تو کم ازکم ڈاکٹر عافیہ کی طرح آسیہ کوقید کی سزا دیتی
اگرسورۂ نورمیں بہتانِ عظیم کا معاملہ واضح کیا جاتا توعظیم نتائج نکل جاتے

علماء کرام کا سب سے بڑا کمال ہے کہ قرآن وسنت کاتحفظ کررہے ہیں۔ غلام احمدپرویز اور اسکے کارندوں کی فکر نے بیوروکریسی، جدید تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں میں جاہلیت کی روح پھونک دی ،سورۂ نور میں بہتان عظیم کا واقعہ ہے۔ حضرت عائشہؓ کے حوالے سے بہتان سیرت رسول اور اسوۂ حسنہ کا سب سے بڑا ، بہت ہی اذیت ناک واقعہ تھا۔ غلام احمد پرویز نے احادیث صحیحہ کا انکار کرکے یہ لکھ دیا ہے کہ ’’ یہ کسی عام عورت کا واقعہ تھا، اگر نبیﷺ کی زوجہ مطہرہؓ پر یہ بہتان لگتا تو مسلمان اس کو قتل کردیتے، یہ اہل تشیع نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عصمت وعزت کو داغدار کرنے کیلئے ایرانی عجم کی سازش سے ہماری کتب احادیث میں گھڑ دیا ہے‘‘۔ غلام احمد پرویز کی اس فکر نے ایک طرف فرقہ واریت کا بیج بویا ہے تو دوسری طرف جس مذہبی انتہاء پسندی کو مذہبی لبادے میں نہیں بلکہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی شکل میں پروان چڑھایا ہے،اسکے نتائج بھی میڈیا پر عوام کے سامنے مرتب ہورہے ہیں۔حامدمیر نے ایک کلپ میں انصار عباسی سے مذہبی و لامذہبی انتہاپسندی کی تعریف پوچھی ہے تو انصار عباسی نے سلمان تاثیر کا قتل درست اسلئے قرار دیا ہے کہ ’’ مملکتِ پاکستان میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ، عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں اور اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ عوام قانون کو ہاتھ میں لیں‘‘۔


انصار عباسی کے ذاتی گھر کیلئے ایک لمبی سڑک سرکار کے خرچے پر ن لیگ نے بنائی تھی جس کا انکشاف اسوقت لوگوں پر ہوا، جب ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا تھا، عوام تعزیت کیلئے وہاں پہنچی تھی۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا کی کتاب ’’ ایک قتل جو نہ ہوسکا‘‘ میں یہ انکشاف ہے کہ ایک سازش کے تحت انصار عباسی نے اپنے کالم میں انکشاف یہ کیا کہ پنجاب کے چیف جسٹس خواجہ شریف کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ، جس میں صدر زرداری، سلمان تاثیر کا مرکزی کردار ہے۔ لیکن پنجاب پولیس کے ایک اہم سپاہی نے اس سارے کھیل کو ناکام بنادیا تھا۔ ورنہ تو انصارعباسی نے اس گھٹیا خدمت کیلئے اپنی خدمات انجام دیں۔ کسی موقع پر جنگ کے معروف صحافی نذیر ناجی نے کہا کہ’’ مجھے معلوم ہے ،یہ کتے کے بچے انصار عباسی نے کیا ہے ‘‘۔
ہماری خواہش تھی کہ طلاق کے مسئلے کو میڈیا تک پہنچا دیا جائے، تاکہ مذہب کے نام پر خواتین کی عصمت دری کا سلسلہ رک جائے۔ عمر چیمہ نے ایک بچے سے زیادتی کا کیس اٹھایا تھا، اوکاڑہ کے مضافات میں حجرہ شاہ مقیم سے ایک گاؤں میں جس بچے کیساتھ یہ واقع ہوا تھا، اسکے والد سے ہم نے ملاقات بھی کی۔ جس کرب سے گزررہاہے یہ ناقابلِ بیان ہے۔ ایک امیر، بلدیہ ذمہ دار، ن لیگ سے تعلق رکھنے والے بااثر سیاسی رہنماکے بیٹے نے جسطرح کی زیادتی کی ہے۔ پنجاب ،مرکزی حکومت اور عدلیہ نے اگر زینب کیس کی طرح اس کو اہمیت دی اور غریب کی داد رسی ہوئی اور ظالم انجام تک پہنچا تو آگ بجھانے کی کوشش میں ریاست کا یہ کردار بھی ایک چڑیا کی طرح ہی ہوگا۔
ہم عمر چیمہ سے ملنے گئے ۔ طلاق وحلالہ کوسمجھنے و میڈیا پراٹھانے کی استدعا کی۔ عمر چیمہ نے بات سننے کے بعد کہا کہ آپ لوگ انصار عباسی سے ملیں وہ قرآن وسنت کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ ہم انصار عباسی سے ملنے گئے تو معاملہ ان کو سمجھ آیا یا نہیں آیا لیکن ان کا مشورہ تھا کہ ایسے موضوعات کو اہل علم کی مجالس تک محدود رہنا چاہیے اور یہ میری ذاتی رائے ہے، تاکہ کوئی مسئلہ انتشار کا باعث نہ بنے۔ ہم نے انصار عباسی سے مزارعت کا مسئلہ بھی ذکر کیا کہ ’’ احادیث میں زمین کو بٹائی اور کرایہ پر دینے کی ممانعت ہے، مفت دینے کا حکم ہے۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام داؤد ظاہری سب اسکی حرمت پر متفق ہیں‘‘۔مگر انصار عباسی نے کہا کہ میں نے بخاری میں ایک حدیث پڑھی ،جسمیں رسول اللہ ﷺ نے زمین کو بٹائی پر دینے کا حکم فرمایاہے‘‘۔
علامہ طاسین صاحبؒ نے ’’ مروجہ نظام زمینداری‘‘ پر بڑا تحقیقی کام کیا اور ان خفیہ گوشوں سے پردہ اٹھایاہے کہ جن کی وجہ سے علامہ اقبال ؒ نے کہاتھا کہ ’’ وہی سرمایہ داری ہے بندۂ مؤمن کا دین‘‘۔بخاری میں ایسی حدیث نہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے اقوال کے منافی زمین کو بٹائی پر دینے کا حکم دیا ہو۔ البتہ آل عمر، آل عثمان،آل علی کیلئے روایت ہے مگر ان سے بھی صحابہؓ مراد نہیں بلکہ کوئی اورہے۔
9ھ میں سود کی حرمت کا قرآن میں حکم نازل ہوا،پھر رسول اللہﷺ نے زمین کو بٹائی، کرایہ پر دینے کو بھی حرام اور سود قرار دیا۔ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اورامام شافعی ؒ تک مزارعت کو سود قرار دیتے رہے جو حکمرانوں کے زیرِعتاب رہے۔ امام ابوحنیفہؒ نے جیل میں وفات پائی۔ شاگردامام ابویوسف قاضی القضاۃ( چیف جسٹس) شیخ الاسلام تھے۔ جس نے مزارعت کو جائز قرار دیا۔ آج مفتی تقی عثمانی شیخ الاسلام اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن بینکاری کو اسلامی قرار دے رہے ہیں حالانکہ یہی اپنے اساتذہ کرام کی مخالفت ، قرآن سے انحراف ،دین کی بدترین تحریف ہے اور علامہ اقبالؒ نے اسلئے بندہ مؤمن کے دین کوسرمایہ داری قرار دیا ہے۔ سودی نظام کو قرآن میں اللہ اور اسکے رسولﷺ سے اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے اور پاکستان کا آئین قرآن وسنت کا پابند ہے۔ جب علماء ومفتیان نے سودی نظام کو بھی اسلامی قرار دیا ہے تو بھارت، اسرائیل یا امریکہ کا نام بھی اسلام کیوں نہیں رکھا جاتا ہے تاکہ اسلامی اور غیر اسلامی کی دردِ سری کا معمہ حل ہوجائے اور ابلیس کی اپنے مشیروں سے خطاب کی ضرورت بھی نہ رہے؟۔
سورۂ نور میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر بہتان کی بات احادیث میں غلط ہے تو علماء ومشائخ پرویزی مذہب اختیار کرلیں اور درست ہے تو اللہ نے فرمایا: ’’ اسے اپنے لئے شر نہ سمجھو بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر ہے ‘‘۔ آج یہ آیات دنیا کے سامنے پیش کرکے نام نہاد عاشقانِ رسولؐ، سیاسی مفادات، مذہبی جنونیت کی آڑ میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرنے والوں کا ہی راستہ نہیں روکا جاسکتاہے بلکہ اسلام کے ذریعے دنیا بھر کے اسٹیٹس کو بھی توڑا جاسکتاہے۔ ایک طرف ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا مقام اور دوسری طرف آپ پر بہتان کی وہی سزا جو ایک عام غریب، بے بس اور نادار پر بہتان لگانے کی ہے،دونوں میں برابری مساوات اور یکساں سلوک انصاف کے تقاضوں کو نہ صرف پورا کرتا ہے بلکہ نام نہاد اسلامی اور غیر اسلامی ریاستوں کے اندر موجود باطل نظام کے مگر مچھوں سے انسانی حیات کو تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ علامہ طاسین صاحبؒ نے انقلابی تحقیق کی تھی۔ مولانا بنوریؒ کے بڑے داماد ہونے کے بھی باوجود ’’ ماہنامہ البینات، جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی‘‘ میں انکا ایک مضمون پورا شائع نہ ہوسکا تھا۔مولانا فضل الرحمن بھی مولانا طاسینؒ ہی کو آئیڈیل شخصیت مانتے ہیں لیکن…