پاکستان کی ریاست کے استحکام کیلئے اقدام کیا ہو؟

543
0

مجھے کارٹون سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن بچوں کے محبوب شغل کی وجہ سے ٹام اینڈ جیری کا نام جانتا ہوں۔ سیاسی ٹاک شوز سے بڑی دلچسپی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست کی وہی حیثیت بن گئی ہے جو بچوں کے کارٹون کی ہے۔ بہت دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ پیپلز پارٹی کی گذشتہ دور حکومت میں نواز شریف اور شہباز شریف دن رات آصف زرداری کی کرپشن کا واویلا مچاتے تھے۔ کراچی ، لاڑکانہ ، نوابشاہ اور لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں ، پیٹ چاک کرکے لوٹی ہوئی رقم واپس لوٹانے کے بیانات اور چوکوں پر لٹکانے کے عہد و پیمان سے میڈیا گونج رہا ہوتا تھا۔ جب ن لیگ کو عوام نے اقتدار سونپ دیا یا کسی اور چینل سے ان کو جتوایا گیا تو سب وعدے وعید بھول گئے اور پانامہ لیکس سے ان کی اپنی بلی تھیلی سے باہر آئی۔ متضاد بیانات میڈیا کی زینت بنے لیکن ڈھیٹ آہنی اعصاب کے ٹھیٹ مالک ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
مذہبی دہشت گرد ریاستی اداروں کے پلے ہوئے قربانی کے بکرے تھے، جنکو جنرل راحیل شریف نے قابل قدر کارنامہ انجام دے کر ٹھکانے لگادیا۔ بلوچ قوم پرست تعصبات کے شکار تھے اور کراچی کی ایم کیو ایم اپنی قوم کیلئے ہی عذاب جان بن گئی تھی۔ اسلئے ان سب کو سہولت کے ساتھ قابو کیا گیا۔ بینظیر انکم سپورٹ کا نام بدل کر خوشحال پاکستان رکھ دیا گیا لیکن غریبوں کی تھوڑی بہت امداد بھی روک دی گئی۔ ہوسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن نے پیپلز پارٹی کو معاہدے

mustafa-kamal-ishrat-ul-ibad-2-

کے تحت یہ ڈھیل دی ہو کہ کچھ غریبوں میں ان کی مقبولیت کا گراف پھر بڑھ جائے۔ ابو ظہبی نے جو مفت پاور پلانٹ دیا تھا اس کے بارے میں سید تنویر الحسن زیدی نے میرے سامنے ایم کیو ایم کے رہنما سلمان مجاہد بلوچ کو گوادر کے پی سی ہوٹل میں بتایا کہ ’’مجھ سے کہا گیا کہ اگر ایم کیو ایم کو کچھ چاہیے تو ان کو بھی دے دیتے ہیں۔ اس وقت مصطفی کمال ناظم تھے ، جب مصطفی کمال نے بتایا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے بس کراچی کے لوگوں کی مدد ہو تو میں خوشی سے پھولے نہ سمارہا تھا کہ ہماری ایم کیو ایم کتنی اچھی ہے۔ پھر گورنر عشرت العباد کے پاس بھی ہم گئے ، انہوں نے بھی یہی کہا مگر کسی نے بعد میں بتایا کہ اگر مصطفی کمال نہ ہوتے تو ڈاکٹر عشرت العباد کچھ لے لیتا۔ پھر وہ پاور پلانٹ پرویز مشرف کی حکومت کے جانے کے بعد صدر زرداری نے کراچی میں نہیں لگنے دیا۔ وہ پلانٹ پھر فیصل آباد میں لگایا گیا‘‘۔ چیئر مین سینٹ رضا ربانی وضاحت طلب کریں۔
عوام سوچتی ہے کہ یہ پاور پلانٹ عوام کیلئے تھا مگر کراچی اور فیصل آباد کی عوام کو براہ راست اس کا کیا فائدہ پہنچتا؟ ۔ اور کچھ نہیں تو لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی کمی کا مسئلہ حل ہوسکتا تھا۔ دنیا بھر میں اتنی سستی بجلی کہیں پیدا نہیں ہوسکتی جتنی پاکستان میں پانی کے قدرتی بہاؤ سے پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ آبشاروں سے دنیا روشن ہوسکتی ہے۔ محمود خان اچکزئی الیکٹریکل انجینئر ہیں ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ سوات کے آبشاروں سے کئی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوسکتی ہے۔ اپنے دوست نواز شریف کو سمجھاتے کہ لوہے کے کاروبار سے بجلی کا کاروبار زیادہ منافع بخش ہے اور عوام کیلئے سستی بجلی کا بندوبست ہوجاتا تو پختونخواہ اور پاکستان کی عوام کا بہت بھلا ہوجاتا۔ کراچی میں جب ایرانی پیٹرول پکڑا جاتا ہے تو ریاست ، حکومت اور سیاست کا سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ بلوچستان کے راستے میں دور دور تک کوسٹل ہائی وے پر آبادی ہے اور نہ ہی پیٹرول پمپ، گوادر میں ایرانی پیٹرول ہی فروخت ہوتا ہے۔ حکومت اپنوں و ریاستی عناصر کو نوازنے کیلئے اسمگلنگ کا کاروبار جاری رکھے ہوئی ہے۔
ایران سے گیس اور پیٹرول حکومت خریدتی اور عوام کو ریلیف مل جاتا ، اس طرح آبشاروں سے وسیع پیمانے پر سستی بجلی پیدا کی جاتی تو عوام کو خوشحال بنایا جاسکتا تھا۔ قدرتی پانی کے باوجود پاکستان کی آبادیاں صاف و شفاف پانی سے اسلئے محروم ہیں کہ منرل واٹر پر پلنے والے غریبوں کا احساس اور دکھ درد نہیں سمجھ سکتے۔ برفیلے پہاڑوں سے اللہ تعالیٰ شفاف پانی کو عوام تک پہنچاتا ہے اور حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندیوں سے غریب عوام آلودہ پانی و انواع و اقسام کی بیماریوں کے شکار بنتے ہیں۔حکمران سبسڈی کے نام پر کمپنیوں کو نواز کر اپنا اُلو سیدھا کرتے ہیں۔ یہ ملک قدرت نے دنیا پر امامت کیلئے بنایا ہے ، بلوچستان انڈسٹریل زون بنتا اور پنجاب و پختونخواہ اور سندھ کی آبادیوں میں قدرتی شفاف پانیوں کی حفاظت ہوتی ، زراعت و باغات ہوتے ، آلودگی سے حفاظت ہوتی اور کراچی سے گوادر تک سمندر کے کنارے کوسٹل ہائی وے پر انڈسٹریل زون ہوتا تو دنیا حسین پاکستان کا نظارہ کرنے کیلئے امنڈ آتی۔ ذو الفقار علی بھٹو کو ایوب خان لایا ، آدھا تیتر آدھا بٹیر بھٹو نے اسلامی سوشلزم کے نام پر ملک کا بیڑہ غرق کیا ، جنرل ضیاء نے بھٹیوں سے نواز شریف کو نکال کر قوم پر مسلط کیا جس نے ملک کو قرضوں تلے دبا کر عوام کو غلام بنادیا۔