شرعی حدود کے حوالے سے بہت اہم آیات کا زبردست کردار…. تحریر: اجمل ملک

558
0

nikah-and-agreement-ghulam-and-londi-mma-zina-bil-jabr-pak-daman-aurat-par-tohmat-lagane-ki-saza-80-kore-ptm-manzoor-pashtoon-ispr

نوشتۂ دیوار کے پچھلے شمارے میں قرآنی آیات کے حوالے سے جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کو عام فہم اور اچھے انداز میں علماء و مفتیانِ عظام کو میڈیا پر لانیکی ضرورت ہے ،تاکہ متحدہ مجلس عمل کا مذہبی سیاسی اتحاد معاشرتی بنیادوں پر بھی درست لائحہ عمل اور بیانیہ تشکیل دینے میں سرخرو ہوجائے۔ قرآن میں نکاح وایگریمنٹ کا تصور اور غلامی ولونڈی سسٹم کا خاتمہ وہ بڑا بریک تھرو ہے جس سے دنیا میں ایک عظیم و پرامن انقلاب آسکتا ہے۔ ماہرالقادری مرحوم نے قرآن کی فریاد لکھ دی تھی مگر افسوس کہ ارباب علم وتقویٰ علماء ومشائخ نے کان نہ دھرا تھا مگر دھر بھی نہیں سکتے تھے کہ قرآن کو اجنبیت کے غلاف میں لپیٹنے کا یہی نتیجہ نکلتا تھا کہ طوطا مینا کی طرح کچھ بول سکھائے جاتے۔
پہلی اہم بات یہ ہے کہ قرآن میں دوجگہ پر چار گواہوں کی شہادت کا ذکر ہے۔ سورہ النساء میں چار گواہوں کا یہ تصور دیا گیا ہے کہ ’’عورتوں میں فحاشی کی مرتکب پر چار گواہ اپنے میں سے طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں توانکو گھروں میں روکے رکھو ۔ یہاں تک کہ موت سے وہ فوت ہوجائیں یا اللہ ان کیلئے سبیل نکال دےOاور تم میں سے جو دومرد بدکاری کے مرتکب ہوں تو ان دونوں کو اذیت دو، اور اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دیں ، بیشک اللہ توبہ قبول کرنیوالا رحیم ہےO (سورہ النساء آیت:15،16)۔ ان آیات میں عورت کیلئے فحاشی کرنے پر اس گواہی کا کوئی تصور نہیں جو فقہا نے کتابوں میں عجیب وغریب قسم کے شرائط کا ذکر کیا ہے۔ جب تک انسان کا وجود گوشت پوست کے بجائے شفاف آئینے کی طرح نہ بنایا جائے ،اس طرح کی گواہی کا تصور نہیں ہوسکتا ہے۔
معاشرے میں کوئی ایک عورت خراب ہو تو گندی مچھلی کی طرح سارا تالاب اور معاشرہ خراب کردیتی ہے۔اس کو نظر بند کرنے پر تمام خواتین و حضرات متفق ہونگے اور اس پر ایسی گواہی کی بھی ضرورت نہیں جو عملی طور پر ممکن نہ ہو، افسوس کہ قرآن کی من گھڑت تشریح سے حقائق بگاڑ دئیے گئے۔فحاشی میں مبتلاء عورت کیلئے معاشرے میں گواہوں کا ملنا کوئی مسئلہ نہیں اور ان خواتین کو گھروں میں بند رکھنے کا حکم بھی ایک بالکل فطری بات ہے البتہ مرتے دم تک بند رکھنا تو سمجھ میں آتاہے مگر کوئی سبیل نکلنے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟۔
فاحشہ عورت کا نکاح کسی زانی مرد یا مشرک سے کرانا بھی مسئلہ کاحل ہے اسلئے کہ قرآن میں ہے والزانیۃ لا ینکحھا الا الزانی او مشرک وحرم ذٰلک علی المؤمنین ’’اور زانیہ عورت کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی مرد یا مشرک سے اور مؤمنوں پر یہ حرام کردیا گیا ‘‘۔ایک حل یہ آیت ہے۔ دوسرا یہ کہ مفسرین نے لکھ دیا کہ’’ آئندہ اللہ نے کوئی حل واضح کرنا ہے‘‘ تو زیادہ دور سورۂ نور میں جانے کی ضرورت نہیں۔ سورۂ النساء میں ہی اگلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حل پیش کردیا ، جہاں نکاح کے علاوہ متعہ کا ذکر ہے۔ متعہ والی عورتوں کو مستقل نکاح کیلئے پسندیدہ نہیں سمجھاجاتا البتہ ایگریمنٹ تک میں کوئی مسئلہ نہیں سمجھتا ۔ جب اللہ نے سورۂ النساء کے ابتداء میں فرمایا کہ ’’ نکاح کروعورتوں میں جوچاہو تم! دودو، تین تین، چار چار سے۔ اگر تم خوف کرو کہ عدل نہ کرسکوگے تو پھرایک یا جن سے تمہارا معاہدہ ہواہے‘‘۔ جب سورۂ النساء میں اللہ نے واضح کیا کہ فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدہ او ماملکت ایمانکم جب انصاف نہ کرسکنے کی صورت میں ایک کا حکم ہو یا بے شمار ایگریمنٹ والی کی اجازت ہو۔ تو کیسے ممکن ہے کہ اللہ اپنے قرآن میں تضادکی بات کرے کہ اگر آزاد عورت سے نکاح کی استطاعت نہ ہو تو متعہ والی سے نکاح کرو؟۔ اس میں تضاد کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ لونڈی یا متعہ کرنے والی سے ایگریمنٹ یا متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ہے لیکن اسکے ساتھ نکاح کرنے میں فطری طور پر کراہت ہوتی ہے اور قرآن نے اسی انسانی فطرت کی نشاندہی کردی ہے۔
ایگریمنٹ اور نکاح میں بہت فرق ہے۔ مغرب میں رائج بھی ہیں لیکن ہم نے قرآن وسنت کی طرف دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی ہے۔ ایگریمنٹ کیلئے ملکت ایمانکم کا لفظ بہت موزوں ہے۔ قرآن نے یہی الفاظ استعمال کئے ۔ متعوھن کا لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ غلام احمد پرویز نے بہت بڑے طبقے کو قرآن وسنت اور تفاسیر سے بدظن کرنے میں اسی لئے کامیاب کردار ادا کیا کہ علماء کے نصاب اور ذہنیت میں تضادات تھے۔
عورت کے اندر نفسانی خواہش کا جذبہ فطری ہوتا ہے اسلئے اس کا رستہ کھلا رکھا ہے لیکن ماحول خراب کرنے کے پیش نظر حکم ہے کہ اس کو گھروں میں روکے رکھا جائے۔ البتہ دو مردوں کے حوالے سے حکم بالکل جدا ہے کہ ان کو اذیت دی جائے کیونکہ اس بدفطری کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں جو معاشرے میں بہت زیادہ خرابیوں کا باعث ہونگے۔ دونوں مردتوبہ و اصلاح کرلیں تو انکے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں اللہ رحیم ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ قرآن میں واضح حکم ہونے کے باوجود اس کے حکم کو واضح نہیں سمجھا گیا اور طرح طرح کی سزائیں تجویز کی گئیں ہیں لیکن مذہبی طبقے ان پر عمل کرنے میں زیروہیں۔
قرآن میں فاحشہ عورت کو ماحول خراب کرنے سے روکنے کیلئے چار گواہوں کا ذکر بالکل جدا ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے اور سورۂ نور میں پاکدامن خواتین پر بہتان لگانے کا معاملہ بالکل جدا ہے ۔ پاکدامن عورت پر بہتان کی سزا80 کوڑے ہے۔ پاکدامن خواتین کو بہتان سے بچانے کیلئے چار گواہ کے مطالبے کا مسئلہ بھی بالکل واضح ہے۔ معاشرے کے اندر فحاشی و پاکدامنی کا واضح پتہ چلتا ہے اور چار گواہوں کے ذریعے فرق و امتیاز بہت آسان حل ہے۔ فاحشہ کو جرم سے روکنا مقصد ہے۔ محصنہ کو بہتان سے بچانا مقصد ہے۔دنیا کیلئے قرآنی آیات کا مفہوم بالکل فطری ہے۔ مولوی کو اپنے بگاڑ سے دستبردار ہونے کی ضرورت ہے۔ بڑے مدارس کے علماء ومفتیان ایک ماحول کی وجہ سے اپنی گمراہی پر ڈٹ گئے ،جب علماء ومفتیان اپنے معمولی مفادکو قربان نہ کرسکتے ہوں تو سیاستدان ، بیوروکریٹ، مضبوط ادارے ظلم وجبر کے نظام سے کیسے دستبردار ہونگے؟۔
سعودی عرب میں پانی سرسے گزر ا تو مسیار کے نام پر متعہ کو جائز قرار دیا ۔پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں اسلئے جبری زنااور قتل کی لرزہ خیز وارداتوں سے عرش ہل رہاہے۔ امریکہ و اسرائیل اور بھارت ہم پر مسلط نہ بھی ہوئے کہ ہم نے جھوٹ کو ڈھال بناکر عوام کو اطمینان دلادیا ہے کہ ہمارا دفاع مضبوط ہے تو آپس کے عذاب سے ہم چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ ہمارا مذہب، ہماری سیاست اور ہماری ریاست جھوٹ کے سہارے کھڑے ہیں۔ سچ کو برداشت نہ کرنے کا دور بھی گزر چکاہے اسلئے کہ یہ مسائل اب ڈھکے چھپے نہیں بلکہ سب ڈھیٹ بن چکے ہیں۔
جب کسی ایک طبقے کی وکالت کی جاتی ہے تو ڈھیٹ پن کے شکار ہوکر رہ جاتے ہیں۔ کراچی کی فضاؤں سے رستا ہوا خون ، بلوچوں کی ریاست کیخلاف شدت پسندی اور طالبان کا شدت پسندانہ رویہ ابھی ختم نہ ہوا کہ پختون تحفظ موومنٹ نے سر اٹھالیا ہے۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ عدم تشد اور دستورِ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے یہ لوگ سیاسی جدوجہدکی بات کررہے ہیں۔ ایم کیوایم سے زیادہ بیزار کراچی کے مہاجر عوام ہوگئے ، اسلئے کہ بھتہ، زبردستی کی زکوٰۃ، فطرہ اور قربانی کی کھال مہاجر بھگت رہے تھے۔روز ہڑتال سے نقصان بھی انہی کا ہوتاتھا۔ بلوچ شدت پسندوں نے بلوچ عوام کا جینا دوبھر کردیا تھا اور پھر طالبان نے سب سے زیادہ پختونوں کو متأثر کیا تھا۔ اب پھر اگرپختون تحفظ موومنٹ کے نام سے فوج سے لڑائی مول لی گئی تو عوام میں اتنی ہمت نہیں رہی ہے کہ پھر کوئی رسک لے سکیں۔
مسلم لیگ ن جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو پختون و بلوچ کے حقوق پامال کرنیوالے فوجیوں پر اسمبلی اور عام جلسوں میں تنقید کرتے ہیں لیکن جب حکومت میں ہوتے ہیں تو افواج کی پیٹھ پر ہاتھ رکھتے ہیں کہ ’’ہم تمہارے ساتھ ہیں ،مزیدبھی کرو‘‘ اور عمران خان میں تو غیرت کی کوئی چنگاری بھی نظر نہیں آتی ہے کیونکہ پل پل میں ابن الوقت کا کردار ادا کرتا ہے۔ اسفند یار خان ، محمود اچکزئی ، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق دُم چھلوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے، ایم کیوایم بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ بلوچ ، سندھی اورپنجاب کے بے غیرت موسمی سیاستدان کسی کام کے نہیں۔ پیپلزپارٹی کا تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ سیاسی جدوجہد میں منظور پشتون نے مشکل حالات میں جو قد کاٹ بنالیا ، یہی اصل قیادت ہے، انسان غلطی کا پتلا ہوتا ہے۔ منظور پشتین اور انکے ساتھیوں میں ہزاروں غلطیاں ہوسکتی ہیں لیکن اب پاکستان سیاسی قیادت کے بحران سے گزر رہاہے اور یہ بہت خطرناک صورتحال ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت میں کوئی خوبی نہیں تھی بس سیاسی لوٹوں کو بے غیرت قرار دیکر خبر کی حد تک زندہ رہنے کی سیاست کی اور پھر پرویزمشرف کو اسوقت چپک گئے جب فوجی امریت کا ریفرینڈم بھی بڑا بدنام ہوچکا تھا۔ طالبان کی حمایت اسلئے نہیں کررہا تھا کہ ’’یہ کوئی نظریاتی اتحاد تھا‘‘ بلکہ امریکہ ،اسرائیل اور پاک فوج کو اسی سے خوش کیا جاسکتا تھا۔ اس خطے میں صرف پختون نہیں بلکہ جو بھی خوشحالی کی زندگی بسر کرتا تھا ،اسے بدحالی پر مجبور کیا گیا تھا۔
منظور پشتون اپنے محسود اور پختون سے محبت کریں یہ ایمان کی علامت ہے لیکن تعصب کفر وبے ایمانی کی بات ہے۔ اس ایمان وکفر میں امتیاز بھی مشکل نہیں۔ سوشل میڈیا کے علاوہ عام لوگوں میں جتنا فکروشعور ظالمانہ اور جابرانہ نظام نے بیدار کردیا ہے اسکا بڑے لوگ جس طبقہ سے بھی تعلق رکھتے ہوں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتے۔ نصیراللہ بابر پختون نے ہی طالبان کا تحفہ دیا، ایم کیوایم نے طالبان سے زیادہ خون نہ بہایا اور نہ کراچی علاقہ غیر تھا مگر نصیراللہ بابر نے ماورائے عدالت قتل کا آغاز کیا ،اسکی ایک یادگارراؤانوار اور دوسراچوہدری اسلم تھا۔ حقائق و اعتدال ضروری ہیں اورحقیقت پسند قائدکی پوری قوم کو ضرورت ہے۔