شاہ ولی اللہؒ :شاہ اسماعیل شہیدؒ :مولانا عبیداللہ سندھیؒ 

612
0

shah-waliullah-shah-ismael-shaheed-maulana-ubaid-ullah-sindhi-maulana-yousuf-binuri-mansab-e-imamat-bidat-ki-haqiqat-ahmad-raza-khan-barelvi-syed-abdul-qadir-jilani-albayyinat-haroon-rasheed-

خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم (الحدیث)
نبی ﷺ نے فرمایا: بہترین دور میرا ہے، پھر ساتھ والوں کا، پھر انکے ساتھ والوں کا۔ صحابہؓ، تابعینؒ اور تبع تابعین ؒ مرادلئے جاتے ہیں مگرشاہ ولی اللہؒ نے لکھا کہ ’’ نبیﷺ کے بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کا دور تھا اورپھر حضرت عثمانؓ کا دور تھا جبکہ علیؓ کے دور پر خیر کا اطلاق نہیں ہوتا ‘‘۔یہ فکر کتابوں میں ہے۔ پھر شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے لکھا کہ ’’ نبیﷺ نے تین ادوار کو خیر کہا ۔ تیسری صدی ہجری تک تقلید نہ تھا۔چوتھی صدی ہجری میں تقلید کی بدعت ایجاد ہوئی اسلئے تقلید سے امت کو چھٹکارا دلانا فرض ہے‘‘۔ مولانا یوسف بنوریؒ نے ان کی اس کتاب ’’بدعت کی حقیقت ‘‘ کے اردو ترجمہ پرتقریظ لکھ دی اور ان کی ایک اور کتاب ’’منصبِ امامت ‘‘ کی بڑی تعریف کی ۔ علماء دیوبند نے مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی کتاب ’’حسام الحرمین ‘‘ سے گھبراکر شاہ اسماعیل شہیدؒ کا بیانیہ مسترد کیاتھا اور مولانا یوسف بنوریؒ کے والد مولانا زکریا بنوریؒ نے کہا تھا کہ’’ ہند میں حنفی مسلک کی حفاظت کاکریڈٹ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کو جاتا ہے‘‘۔
شاہ ولی اللہؒ نے لکھاکہ ’’نبیﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ شیعہ عقیدۂ امامت کی وجہ سے گمراہ ہیں۔جسکا میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انکے عقیدۂ امامت کی وجہ سے ختم نبوت کا انکار لازم آتا ہے‘‘۔ شاہ عبدالعزیزؒ نے جو کتاب ’’تحفہ اثناعشریہ‘‘ کے عنوان سے لکھ دی تھی اس سے شیعہ کیخلاف کفر کے فتوے کی راہ ہموار ہوئی ۔ سپاہ صحابہ کے قائد مولانا حق نوازجھنگوی شہیدؒ کی تقریر شائع ہوئی کہ ’’ہمارا اختلاف شیعہ سے قرآن پر نہیں ، صحابہ پر نہیں بلکہ اصل اختلاف عقیدۂ امامت پر ہے‘‘۔ شیعہ خود سمجھتے ہیں کہ عقیدۂ امامت کی وجہ سے سنی گمراہ ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ بڑے عالم تھے، مشاہدہ کی بنیاد پرفتویٰ سے گریز کرنا چاہیے۔ صوفیاء نے مشاہدات کی بنیاد پر پتہ نہیں کس کس کو گمراہ قرار دیاتھا۔حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ بھی امام ابوحنیفہؒ کو گمراہ سمجھتے تھے۔ گمراہ اور کافر میں فرق ہے۔ نبیﷺ نے عقیدۂ امامت کی بنیاد پر شیعہ کو گمراہ کہا تو کفر کا فتویٰ لگانا بھی درست نہ تھا۔ یہی نتیجہ نکالتے کہ صحابہؓ اور اجماع امت سے شیعہ بدظن ہوکر گمراہ ہوگئے۔علاوہ ازیں اہلسنت کہتے ہیں کہ امام کا تقرر امت پر فرض ہے اور شیعہ کہتے ہیں کہ امام اللہ کی جانب سے ہوتا ہے۔ اگر اس میں کفر اور ختم نبوت کا مسئلہ ہے تو شاہ اسماعیل شہیدؒ نے اپنی کتاب ’’منصبِ امامت ‘‘ میں شیعہ بیانیہ کو تسلیم کیا ہے اور لگتا یہ ہے مرزا غلام احمد قادیانی بھی اسی وجہ سے ختم نبوت کا منکر بن گیااور اس میں مشاہدات کا بھی دخل تھا۔ متحدہ مجلس عمل کا سیاسی اتحاد اس وقت کامیاب ہوگا جب وہ جہالتوں کا بھی خاتمہ کرنے میں ایک اعلامیہ جاری کریگا۔ ورنہ یہ مکڑی کا جالا ثابت ہوگا۔
جب عقیدۂ امامت میں شاہ اسماعیل شہیدؒ اور شیعہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور دونوں اس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ اس کی وجہ سے ختم نبوت کا انکار کریں تو ایک علمی محفل میں سنجیدہ علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو اکٹھا کرکے اعلامیہ بھی جاری کردیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی کتاب ’’البینات کا خصوصی شیعہ نمبر‘‘ موجود ہو، جس میں سینکڑوں مدارس اور علماء کرام نے شیعہ پر تین وجوہات کی بنیاد پر کفر کا فتویٰ لگایا کہ ’’صحابہ کرامؓ کو نہیں مانتے۔قرآن کو نہیں مانتے اور عقیدۂ امامت کیوجہ سے ختم نبوت کے منکر، قادیانیوں سے بدتر کافر ہیں کیونکہ قادیانیوں صرف ختم نبوت کی آیت میں تأویل کرتے ہیں باقی ان کی نماز، زکوٰۃ اور اکابر سب کے سب ہمارے ساتھ مشترکہ ہیں‘‘۔ جب تک حقائق کا انکشاف نہ کیا جائے تب تک امت میں اتحاد واتفاق اور وحدت کی راہ ہموار نہیں ہوگی۔
شاہ ولی اللہؒ سے لیکر شاہ اسماعیل شہیدؒ اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ تک کے نام پر کام کرنیوالوں میں اتنی صلاحیت نہیں کہ ان تضادات کو ختم کریں لیکن اہل حق کے سلسلے کا تسلسل رکھنے کے دعویدار ہیں۔ مولانا سندھیؒ نے لکھا کہ ’’ حضرت عمرؓ کے دور میں فرقِ مراتب کے لحاظ سے وظائف مقرر ہوئے،جو سرمایہ دارانہ نظام کی ابتداء تھی اور حضرت عثمانؓ کے دور میں سرمایہ دارانہ نظام نے رائج ہوگیا جس سے حضرت ابوذر غفاریؓ نے نبیﷺ سے انحراف قرار دیا اور علیحدہ ہوگئے‘‘۔ مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کی تفسیر ’’الہام الرحمن کے مقدمہ میں ناشر نے لکھا ہے کہ ’’پہلی منزل: پہلا دور نبیﷺ وابوبکرؓ کا دور تھا جن میں حبشہ و ایران اور عرب وعجم میں امتیاز نہ تھا۔ دوسرا دور حضرت عمرؓ سے شروع ہوا، جس میں عرب قومیت کو کسی درجہ فوقیت حاصل ہوئی۔ تیسرا دور حضرت عثمانؓ سے شروع ہوا۔جس کا ابتدائی حصہ فاروقی دور کی طرح تھا مگر آخری دور قدرے اترا ہوا تھا۔ جس میں نیم عربی قومیت کا رنگ آگیا، جسے امیرشام حضرت معاویہؓ نے قانونی شکل میں منظم کردیا۔اسلام کی پہلی منزل حضرت ابوبکرؓ سے تحکیم کے فیصلے تک خلافت راشدہ کا دور ختم ہوا۔دوسری منزل: الغرض السابقین الاولین کی مثالی حکومت اور عربی قومیت (جس کی بنیاد امیر شام نے رکھی، حضرت علیؓ حضرات شیخین کے دور کے متمنی تھے۔ ۔۔۔ حضرت عمرؓ کی شہادت سے عجمیوں پر عربوں کا اعتماد اُٹھ چکا تھا اور اسلام کے اصل دشمن بدطینت یہودی اپنی تخریب کاریوں کا آغاز حضرت عثمانؓ کے آخری دور سے کرچکے تھے اسلئے حضرت امیرمعاویہؓ نے عربوں کا قومی مسئلہ بناکر اسلام کی اجتماعیت کو مستحکم کردیا۔ جبکہ حضرت علیؓ اولی العزمی کیساتھ آخری وقت تک ڈٹے رہے۔ آل علی کا بھی بعد میں یہی رحجان رہا۔ اسلئے ان کو عربوں کے بجائے ہمیشہ غیر عرب مدد گار ملے۔ آخر میں جب ایرانیوں میں قومی شعور بیدار ہو ا ،اور اسلام کو بھی انہوں نے قومی رنگ دیدیا تو اسلام کی ایسی تعبیر کی جس میں عربیت کا اثر کم سے کم تھا بلکہ ایک حد تک عربوں سے متنفر کا جذبہ موجود تھا۔ شیعیت اسلام کی ایرانی تعبیر ہے۔ حضرت معاویہؓ نے جس قومی حکومت کی بنیاد ڈالی ،اس کا انتہائی عروج ولید بن عبدالملک کی سلطنت میں تھا اور خلیفہ ہارون الرشید پر عربوں کی سیادت کا دور ختم ہوتاہے ۔یہاں اسلام کی بین الاقوامی دوسری منزل ختم ہوتی ہے۔تیسری منزل: ہارون الرشید کی خلافت کے بعد زوالِ بغداد تک عجمی قومیں عباسی خلافت کے زیر سایہ برسر اقتدار آتی ہیں۔ یہ بنی عباس کا دور ہے جس کی بنیاد حضرت علیؓ نے ڈالی تھی۔ یہاں اسلام کے تیسرے بین الاقوامی انقلاب کی منزل ختم ہوتی ہے۔ گویا ہارون الرشید تک بارہ خلفا ختم ہوتے ہیں۔ابوبکرؓ ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓکی خلافت راشدہ اور معاویہؓ، عبدالملک، ولید، سلیمان ،ہشام، منصور، مہدی، ہارون الرشید 8خلفا کی حکومت بین الاقوامی نہیں قومی تھی مگر اپنا تفوق جتانے کے باوجودماتحت قوموں کو راضی رکھا اور بغاوت نہ ہوئی۔ زوال بغداد پر عربی قومیت کے دورکا خاتمہ ہوا،خلافت عثمانیہ سے عجمی قومیت کی چوتھی منزل کا آغاز ہوا۔ مصطفی کمال اتاترک کے انقلاب کے بعد خلافت عثمانیہ کا بھی ہوا‘‘۔
بارہ خلفاء قریش کا ذکر ہے جن پر امت کا اجماع ہوگا۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ بارہ خلفاء میں ایک باقی ہیں جبکہ سنی شیعہ کا اتفاق ہوگا کہ یہ بارہ خلفاء آئندہ آئیں ۔