وکالت کے نظام کی خرابیاں اور مضمرات: سید عتیق الرحمن گیلانی

389
0

wikalat-k-nizam-ki-kharabian-aur-muzmirat

وکالت کے نظام کی خرابیاں اور مضمرات

وکالت کا نظام تمام خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔ چوہدری اعتزاز احسن نوازشریف کا وکیل ہو تو معصومیت کا سرٹیفکیٹ دلانے کی قسم کھالیتا ہے ، یہ اپنی نالائقی سمجھتا ہے کہ 100 فیصد مجرم کو 100فیصد بری کرنے میں کامیاب نہ ہو،یہ روزی حلال کرنے کا طریقہ ہے۔ بدکارعورتیں کسی کو دلال بنائیں تو اس کو بھڑوا کہتے ہیں۔ بھڑواگیری بری ہے لیکن اس سے زیادہ ظالم ، جابر، بدمعاش ، قاتل اور کرپشن کے سیاسی قائدین کا وکیل بننا ہے۔ اس نظام نے انسانیت کو غیرت، ضمیر، ایمان، اقدار اور شرم وحیاء سب سے محروم کردیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کا ترجمان جان اچکزئی، جماعت اسلامی کا حنیف عباسی اور پرویز مشرف کا دانیال عزیز وامیر مقام وغیرہ ن لیگ کی ترجمانی کرکے شرم وحیاء غارت کررہے ہیں۔ زرداری کے تقدس کی قسم کھانے والا بابر اعوان عمران خان کیساتھ بیٹھ کر غیرت اور قدروں کو دفن کررہاہے۔ شاہ محمود قریشی جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف میں شانہ بشانہ کام کرکے بتادیا کہ سیاسی رہنما بیلوں کی طرح کہیں بھی جت سکتے ہیں۔
صحافت کیلئے دلالی و جانبداری شعبے کے بنیادی اور قانونی تقاضے کے منافی ہے لیکن صحافت کے تاجدار بے شرمی کے دریا میں ڈوب مرے ۔ جیو کو اپنی صحافت مثالی لگتی ہوگی ۔ مولاناحامد کاظمی پر جنگ کی شہ سرخی خبر لگی کہ وزیر مذہبی امور نے کرپشن کا اعتراف کرلیا۔ حالانکہ اسی دن شام کو مولانا کاظمی حلفیہ کہہ رہے تھے کہ ’’ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی ‘‘۔ مولاناحامد کاظمی کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا تھا کہ ’’جن ذرائع سے خبر لیک کی تھی ، بعض اوقات خبر درست ثابت نہیں ہوتی‘‘۔ وہ آزاد تھے اور فون کرکے اعتراف کنفرم ہوسکتا تھا۔ یہ اسحاق ڈار کا عدالت میں اعترافی بیان نہ تھا۔ مولاناحامد سعید کاظمی کو کئی سال جیل کے بعد عدالت سے رہائی ملی مگر جنگ اور جیو کے ذمہ دار اور مالک کو کیا سزا دی گئی؟۔ یہ خبر نہیں مہم جوئی تھی اور یہ مہم جوئی اب جیو اور جنگ نوازشریف کے حق میں اور عدالت و فوج کیخلاف کر رہے ہیں۔ ٹریکٹرکے بڑے ٹائر ٹیوب میں پھونک سے ہوا بھرنے جیسی کوشش نواز شریف کا سیاسی مورال بچانے میں ہورہی ہے۔ پہلے مہم جوئی اسلئے تھی کہ ثابت کیا جاسکے کہ نواز شریف پارلیمنٹ ، قطری خط ، متضاد خاندانی بیانات اور تمام معاملے میں 100% بے گناہ ہے بس فوج نے عدلیہ کو پیچھے لگادیا ہے اور اب یہ کوشش ہے کہ کسی طرح فوج پر دباؤ پڑے کہ عدلیہ کو انصاف پر مبنی کاروائی سے روک کر نواز شریف کوکسی طرح سے ریلیف دلائی جائے۔جبکہ اس اقدام سے عدلیہ کے ساتھ ساتھ فوج کا چہرہ بھی کالا ہوجائے گا۔