ہندو نیٹ ورک سائبر سپاہی کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں ایک ہندو لڑکی کا خطاب

455
0

yahoodi-muhammad-hindu-hindu-network-hindu-girl-mudi-sarkar-quran-us-aid- cybersipahi-org

مسلمانوں کیخلاف آگ اگلنے والی تقریر

کیا اس میں پڑھایا جارہا ہے جس ملک میں 3لاکھ سے زیادہ مدرسے چل رہے ہوں جس ملک میں 2لاکھ سے زیادہ مسجدیں ہوں دن رات بول رہے ہیں لا الہ الا اللہ ، پانچ بار بولتے ہیں اور پانچ بار نماز پڑھی جاتی ہے اور شروعات ہی اسی سے کرتے ہیں کہ کوئی نہیں ہے لا معنی نہیں ہے کوئی بھی اللہ کے جیسا اور محمد رسول اللہ محمد ہی اس اللہ کا رسول ہے ان دو کے علاوہ اور کسی کو ہم پوجیں گے نہیں مانیں گے نہیں۔ اب یہ بتادو جس انسان کو پانچ بار یہی بتایا جارہا ہو دن میں تو اس کی مینٹیلٹی کیا بنے گی۔ وہ سیدھے آپ کے اوپر تلوار لے کر کھڑا ہوگا۔ اور یہ صرف آذان ہے نماز الگ ہوتی ہے ۔ یہ آذان ہے آؤ آؤ اپنی نیند کو چھوڑ کربیٹھو یہاں اس کے بعد ایک مولوی بولتا ہے ، ایک مولوی کے اشارے پر سب جھکتے ہیں کھڑے ہوتے ہیں اس کے بعد وہاں آیتوں کا پاٹ( ورد) ہوتا ہے ۔ آیتیں ۔۔۔۔ ہم کیا سمجھتے ہیں جیسے ہم مندر میں گھنٹا بجاتے ہیں ویسے ان کی نمازیں چل رہی ہیں بالکل غلط سوچ ہے،
وہ نماز اسی لئے پڑھ رہا ہے کہ ہمارا وناش (ہمیں ختم) کرنا ہے۔ اگر ہمیں ختم کرنے کیلئے کوئی دن میں پانچ بار تیاری کرتا ہو او رہر پڑوسی تیاری کررہا ہو دن میں پانچ بار اور ہماری نیند نہ کھلے تو یاد رکھو ہم نے ہمارا ریموٹ کنٹرول ان کے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔ ان کو پروبلم ہماری گائے سے نہیں ہے ان کو پرابلم ہماری ماتاؤں بہنوں سے بھی نہیں ہے ان کو پرابلم ہے صرف ہمارے وجود سے۔ جب تک ایک بھی ہندو بچا ہوا ہے تب تک ان کو پرابلم ہے۔ ان کو تب تک لگاتار جہا د کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔اور لگاتار ہماری ماتاؤں (ماؤں) بہنوں کے ساتھ ظلم اور زنا کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ کوئی پڑھ کر تو دیکھے انہیں وہ روزہ کس لئے رکھتے ہیں۔ روزہ کوئی نوراترو (ہندو عورت شوہر کی زندگی کیلئے) جیسا ورت (روزہ) نہیں ہے ۔ آج ہم روزے کو نوراترو کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ ہم نوراترو میں اپنی ماں دُرگا (ہندوؤں کا ایک بت) کا تصور کرتے ہیں اس کو اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جتنی محمد نے لڑائی لڑی تھی ساری روزے کے ٹائم پر لڑی تھی۔ اور ساری تیاری روزے میں کی تھی۔ روزہ اسلئے رکھا جاتا ہے کہ آپ لڑائی لڑو گے جنگ لڑو گے تو بھوکا رہنا پڑے گا تو اب اس بھوک اور پیاس کو کیسے برداشت کرو گے ۔ آپ روزے کے اصلی معنی ڈھونڈ کر لائیے ۔ ان کی عربی میں اس کے ایک معنی گھوڑے کو ہنکانے کے ہیں۔ گھوڑے بھی تیار کرنا اور خود اپنے جسم کو مضبوط کرنا۔ اگر اس روزے کی افطار پارٹی میں سارے کے سارے ہندو جاکر بیٹھتے ہیں ۔۔۔ آسچنیو ہوتا ہے ۔۔۔ جب لکھنؤ کے مندر کے ۔۔۔ مٹھادی شیوجا ۔۔۔ کرکے روزے کی افطار پارٹی مندر کے اندر کراتے ہیں اور ہم سب صرف فیس بک پر غصہ نکال کر رہ جاتے ہیں۔ میں آپ سب سے درخواست کرنا چاہتی ہوں یاد رکھو ان کے پانچ ۔۔۔ استنبھ ۔۔۔۔۔۔ ایک ہی ایشور ہے ایک اللہ ہے اس کے علاوہ ہم کسی کو مانتے ہی نہیں۔ہم کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے لعنت ہے ہمارے اوپر 14سو سال سے جنہوں نے صرف قتل عام کیا ہو آج بھی ہم ان کو ۔۔۔۔۔۔دھارمک ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں۔ وہ اللہ کے علاوہ او رکسی کو نہیں مانیں گے۔ وہ ہر ۔۔۔ استپل ۔۔۔ کریں گے وہ داڑھی رکھ کر بھی کریں گے ، وہ پینٹ شرٹ پہن کر بھی کریں گے وہ عربی بول کر کے کریں گے وہ ہندی بولیں گے وہ انگلش بولیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہے جب تک ایک بھی کافر زندہ ہے اللہ کا کام رکے گا نہیں۔ اور جو لوگ کہتے ہیں جنہوں نے بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لعنت ہے ہمارے اوپر ہم نے کبھی پڑھ کر کے نہیں دیکھا اللہ کہتے کس کو ہیں ۔ ہم نے ایشور کے برابر اللہ کو رکھ دیا۔ ارے ہمارا ایشور دیالو ہے۔ ۔۔۔۔۔۔کرپا ۔۔۔ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔پرنتو ۔۔۔۔۔۔ اللہ کا آدیش ہے۔۔ کہاں پڑھو گے قرآن پڑھو گے ۔ اللہ کا صاف ۔۔۔آدیش ۔۔۔ ہے جو میرے کو نہیں مانتا جبرائیل میکائیل کو نہیں مانتا جو محمد کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ اور کافر واجب القتل ہے۔ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔ اتنا ہی نہیں جہاں تک رمضان کا مہینہ ختم ہوجائے ان کو گھات لگا کر کے مارو۔ پڑھو سورہ توبہ پڑھو سورہ البقرہ ۔ ساری کی ساری قرآن کی یہ آیتیں پڑھ کر کے دیکھو آپ کو صاف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پتا چل جائے گا ۔ ہم سوچتے ہیں کہ ان کی ہر عبادت ہماری ہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبادت جیسی ہے۔ ارے پڑھو بھائیو! اگر ان کی ہر عبادت ہماری ۔۔۔۔۔۔ جیسی ہوتی تو وہاں پر سب لوگ جاسکتے تھے۔ صرف مسلمان ہی کیوں جاتے ہیں۔ آج وہ ان کے اوپر ہمارے پاس پیسہ بھیجتے ہیں اور وہاں سے وہ اپنی ۔۔۔۔۔۔ کو بھیجتے ہیں۔ ان کو کوئی ایمبسی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہے کہ بھارت میں آپ ہمارے عربی کلچر کی تشہیر کیجئے۔ یہ سارے بڑھائے ہوئے داڑھی یہ سارے اونچا پاجامہ اور نیچا کرتا پہن کر کے سارے وہاں سے سیکھ کر کے آتے ہیں اور اپنے آپ یہاں آکر کے سکھاتے ہیں۔ یاد رکھو! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا یہ دھرم اور آبرو بھی جائے گی تمہارے نام سے دنیا کو شرم آئے گی۔
اگر آج نہیں جاگے تو کوئی ہمیں بچانے والا نہیں ہے۔ یہ نماز خلافت کا منی ٹرائل ہے۔ یہ نماز اسلئے کہتا ہے کہ ایک خلیفہ بٹھائیں گے۔ اور اس کا راج چلے گا۔ پہلے بھی ہمارا ملک آزادی کیلئے ۔۔۔۔۔۔ رہا تھا اور ساری مسلم دنیا خلافت کیلئے ۔۔۔۔۔۔ رہی تھی۔ تاریخ پڑھ کر دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جو معرکہ ہوا ہمارے لوگ تو مارے گئے ہماری عورتوں کے ساتھ۔ کیونکہ خلافت ۔۔۔۔۔۔ فیل ہوگیا ۔ ترکی میں خلیفہ تھا اس کی خلافت چلی گئی خلیفہ چھوڑ کر انگلینڈ بھاگ گیا۔ وہاں سے ان کو غصہ آیا ۔۔۔۔۔۔ہماری ہندو ماں بہنوں کے اوپرنکالا۔ وہ جو لیڈی ریڈنگ کو خط لکھا تھا ہماری ہندو عورتوں نے کبھی پڑھ کر دیکھو۔ انہوں نے لکھا ہماری کتنی ۔۔۔۔۔۔ درگشا۔۔۔۔۔۔ہوئی ہے۔ ہمارے سامنے ہمارے دودھ پیتے بچوں کو بھالے کے سامنے اچھال کر اوپر ٹانگ دیا گیا۔ ہماری بیٹیوں ماؤں کے ساتھ بے پناہ ۔۔۔۔۔۔ ہوئے ۔ ایک ایک ماں کے ساتھ زنا کرنے کیلئے دس دس جہادی تھے۔ اور وہ دس دس جہادی کے بیچ میں پھنسی ہوئی عورت یہ سوچ رہی تھی کہ کس کیلئے دکھ برداشت کروں اپنے بیٹے کیلئے یا اپنے جسم کیلئے۔ کس کیلئے روئیں گے۔ درد کو بھی درد آئے گا۔ وہ ایسی خوفناک ۔۔۔۔۔۔ استتی ۔۔۔۔۔۔ ہے۔ اور یہ صرف ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہیں یہ سب اوپر سے سکھایا ہوا ہے۔
بھائیو! آپ سب لوگ جو فیس بک میں اس کو ریکارڈ کررہے ہیں یا اپنے موبائل میں ریکارڈ کررہے ہیں یہ موبائل میں ریکارڈ کرنے کی چیز نہیں ہے دل میں ریکارڈ کیجئے۔ اس کو اپنی بہنوں ماؤں اور بچیوں بچوں کو بتائیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہتا ہے۔

اسلام دہشتگردی کا راستہ روکتا ہے

متعصبانہ تقریر کا مثبت جواب۔ از سید عتیق الرحمن گیلانی

یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ اسلام کی حقیقت کو نہیں سمجھا جارہاہے۔ جمہوری نظام کی روح اسلام نے دنیا میں پھونکی۔ بنی اسرائیل کے پیر دریا سے خوش نہ ہوئے کہ سامری کی سازش سے بچھڑے کو معبود بنا ڈالا ۔ جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑلیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے عرض کیا کہ میں نے اسلئے ایک نئے معبود بنانے اور پوچنے سے نہیں روکا، تاکہ بنی اسرائیل میں تفریق پیدا نہ ہوجائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت جلالی مزاج کے تھے۔تفرتق وانتشار کا ماحول پیدا کرنابھی بڑا جرم ہے۔ یہودونصاریٰ کی مشرک خواتین سے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مسلمانوں کو نکاح کرنے کی اجازت دی ۔ مارنااور قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے ، دین اور مذہب میں کسی قسم کے جبرواکراہ نہیں ۔ جہاد اور غصہ کرنا انسانی فطرت ہے۔ فرمایا: جاہدالکفار والمنافقین واغلظ علیھم’’کفاراور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو‘‘۔ نبی ﷺ رحمت للعالین تھے ۔ منافقوں اور کافروں کیساتھ آپ ﷺ کا برتاؤ کیا تھا؟۔ آپﷺ کو جو حکم سورۂ تحریم کی اس آیت میں دیا گیا ، اسکا پسِ منظر کیا ہے اور سیاق وسباق سے اس جہاد کے حدودوقیود کیا ہیں؟۔ حضرت عائشہؓو حضرت حفصہؓ نے دوسری ازواج مطہراتؓسے مل کر نبی ﷺ سے حضرت ماریہ قبطیہؓ اور شہد کے حوالے سے ناگوار قسم کا مذاق کیا۔ لونڈی اور شہد اپنی ازواجؓ کی خواہش پر اپنے اوپر حرام کرنے سے منع فرمایا اور دونوں ازواج مطہراتؓ کو ڈانٹ کر فرمایا کہ تم سے بہتر ازواج نبی کو مل سکتی ہیں۔ اس پس منظر میں کافروں کی مثال حضرت لوطؑ اور حضرت نوحؑ کی ازواج کا ذکرکیا، دونوں کافر تھیں۔مؤمنات کی مثال حضرت مریم اور فرعون کی بیوی تھیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ نے اپنی بیگمات پر کس قسم کی سختی کی اور کس قسم کا جہاد کیا؟۔ حضرت مریم اور فرعون کی بیوی نے کیا سختی کی اور کس قسم کا جہاد کیا؟۔ پسِ منظر، سیاق وسباق اور نتائج کو چھوڑ کر آیات کے ایک جملے سے غلط نتائج مرتب کرنے سے مجاہدین دہشت گردی کے دھانے پر پہنچ گئے ہیں۔ اگر ازواج مطہراتؓ کے مذاق کو سنجیدہ نہ لیا جاتا تو معاشرے میں سنجیدہ گھریلو ماحول کے بجائے مذاق کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی سنت بن جاتی۔اسلام متوازن ، معتدل اور سنجیدہ نظام کے ذریعے سے دنیامیں گھراور معاشرے کو جنت نظیر بناتاہے افسوس کہ ہم نے اسلامی تعلیمات کو بالکل پیشہ ور مذہبی طبقے کے سپرد کیا۔
ایک ہندو لڑکی کی تقریر مودی سرکار کی شاہکار ہے لیکن اس سے ہندوستان بالکل تباہ ہوجائیگا۔ اسلام کے نام پر حکمرانوں اور دہشتگردوں نے جو کچھ بھی کیا، اسکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ہندو لڑکی نے سورۂ توبہ اور البقرہ کا حوالہ دیا کہ اس میں دوسرے مذاہب والوں کو قتل کرنا اللہ کا حکم ہے۔ حالانکہ سورۂ توبہ میں ان مہینوں کا ذکر ہے جن میں دشمن ایکدوسرے کیخلاف لڑنے سے گریز کرتے تھے اور اس کی تائید سورۂ توبہ میں ہے۔ دورانِ جنگ دشمن ایکدوسرے کو قتل کرتے تھے۔ سورۂ توبہ میں لڑائی کے دوران گھات لگاکر محاصرے کی ترغیب دی گئی ہے اور پھر ایمان لانے ،نماز اور زکوۃ دینے پر چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورۂ محمد میں قیدیوں کو فدیہ اور بغیر فدیہ چھوڑنے کی وضاحت ہے۔ سورۂ توبہ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر مشرکوں میں سے کوئی پناہ لینے کیلئے خود آئے تو اس کو پناہ دو، یہاں تک کہ اللہ کے کلام کو سن لے کیونکہ یہ جاہل قوم ہے اور پھر اس کو وہاں پہنچادو، جہاں اسکے اپنے وامان کے ٹھکانے ہیں۔ خواتین ، بچوں اور بوڑھوں پر جنگ کے دوران بھی اسلام ہاتھ اٹھانے سے منع کرتا ہے۔ ہندو لڑکی کو اسلام سمجھنے کیلئے قرآن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔سورۂ بقرہ کی آیت62 میں ہے کہ ان الذین اٰمنواوالذین ہادوا والنصٰریٰ وصائبین من امن باللہ والیوم اٰخر و عمل صالحًا فلھم اجر ولاخوف علیھم ولاھم یحزنون ’’بیشک جو لوگ مسلمان ہیں، اور جو یہودی ہیں اور جو نصاریٰ ہیں اور جو صائبین ہیں۔ جو بھی ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر تو ان کیلئے اجر ہے اورنہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے‘‘۔ مسلمانوں نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ جو انبیاء کو نہیں مانتے وہ صائبین ہیں اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ہندو صائبین ہیں جو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم ہیں۔
دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں کہ آخرت میں دوسرے مذاہب کے ایماندار اور نیک لوگوں کو بشارت دیتا ہو۔ یہودونصاریٰ کو اسلام نے ان خیالات سے منع کیا جو صرف اپنے لئے جنت کا خیالی تصور رکھتے تھے۔ مسلمانوں میں جو گمراہ لوگ ہیں وہ یہودونصاریٰ کے ان مذہبی طبقوں کے نقشِ قدم پر چل پڑے ہیں جن کی قرآن نے مذمت کی تھی۔آخرت کے حوالے سے دوسرے مذاہب کیلئے قرآن نے بڑی بات کہی جس کے مسلمان فرقے بھی ایکدوسرے کیلئے روادار نہیں ۔ اس سے بھی بڑھ کردوسروں کی عبادتگاہوں کو بھی محفوظ بنانے اور ان میں اللہ کے نام کو یاد کرنے کی گارنٹی دی ۔ ولولادفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوٰت ومسٰجد یذکرفیھااسم اللہ فیہ کثیرا’’اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعے نہ ہٹاتا تو مجوسی، یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کی عبادتگاہوں کو گرا دیتے جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے‘‘ سورۃ الحج آیت40 دنیا کو مذہبی جنونیوں سے بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے اسلام نازل کیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’اے اللہ ! میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا‘‘۔ اللہ نے یہ دعا قبول کرلی۔ ہمارے ہاں درگاہوں پر جبینِ نیاز جھکانے کی عادت ہندوؤں سے آئی تھی۔ عمران خان نے روضہ رسول ﷺ پر سجدے کی شکل نہیں بنائی اور اگر نبیﷺ دعا نہ فرماتے تو تحریک انصاف کے رہنماء صف در صف بشریٰ پنکی کی امامت میں سب سے پہلے روضہ رسولﷺ پر جبینِ نیاز جھکا تے۔مشرکینِ مکہ نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کرلیا اور دہشتگردی سے بچاؤ کی خاطر شرپسندوں کو اللہ نے کعبہ سے روکا ہے۔
مشرکینِ مکہ نے بت شکن ابراہیم ؑ کی طرف سے اللہ کے بنائے ہوئے گھر کو بتوں سے بھردیا۔ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں، دنیا کے لوگ گائے کو کھا جاتے ہیں۔ ہندو کس کس سے نبرد آزما ہونگے؟۔ سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کے حکم میں معجزے کا ذکرہے اور انہوں نے نقلی بچھرے کو پوجا تھا۔ اسلام دنیا کیلئے امن وسلامتی کا ضامن ہے۔البتہ مسلمان قرآن کی تعلیم سے بالکل بہت دور ہٹ گئے ، اسلام مسلمانوں کے گمراہ عقائد کا نام نہیں ۔اسلام دہشتگردی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔مسلمانوں نے مشرکینِ مکہ سے جانوں کی حفاظت کیلئے مال ومتاع ، گھر باراور جائیدادسب کچھ چھوڑ کر ہجرت کی مگر مشرکینِ مکہ نے پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑا۔ بدر کا غزوہ بھی شام سے آنیوالے مال بردار قافلے سے اپنا حق چھین لینے کی مجبوری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ قافلہ ہاتھوں سے نکالا اور اپنے سے کئی گنا زیادہ لڑائی کیلئے آنیوالے لشکر سے سامنا کردیا پھر لڑائی میں جیت بھی دی۔ 70قیدیوں کو قتل کرنے کے بجائے فدیہ ، تعلیم کے بدلے اور کسی کو مفت میں رہا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جاہلوں کو ڈرانے کیلئے آیات نازل کیں کہ ’’نبی کیلئے مناسب نہیں کہ اسکے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ زمین میں خوب خونریزی کرے، تم دنیا چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے‘‘۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا مقصد قیدیوں کو قتل کرنا ہوتا تو ایک بھی بچ کر نہیں جاتا۔ اللہ نے مشرکینِ مکہ کو اپنی حکمتِ عملی سے ڈرایا کہ دوبارہ لڑائی میں فدیہ سے چھوٹ جانے کو خاطر میں نہیں لانا۔ پھر بھی ان قیدیوں میں سے بعض غزوہ احد کی صورت میں مدینہ پر حملہ کرنے آئے جن میں وہ شخص بھی شامل تھا جس کو فدیہ کے بغیر چھوڑ دیا گیا تھا اور پھر اس کو قتل بھی کردیا گیا۔
مسلمانوں نے سمجھا کہ ہم نے غزوہ بدر کے قیدیوں کو چھوڑ کر غلطی کی اور سخت بدلہ لینے کا فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ حدود سے آگے نہ بڑھو، اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو پہلے ان کو بھی زخم پہنچا ۔ کسی قوم کے انتقام کا جذبہ تمہیں اعتدال سے نہ ہٹائے۔ جتنا انہوں نے کیا ہے اتنا تم بھی کرسکتے ہو اور اگر معاف کردو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے، بلکہ معاف ہی کردو اور یہ معاف کرنا بھی اللہ کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔ صلح حدیبیہ کا معاہدہ اور میثاقِ مدینہ اس بات کے بین ثبوت ہیں کہ داخلی اور خارجی معاملات میں مسلمان غیرمسلموں کیساتھ امن وسلامتی کی زندگی کے پابند ہیں، فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کا رویہ عالیشان تھا، دشمنوں کے سردار ابوسفیانؓ سے عزت کا سلوک روا رکھا۔ کسی کو ریپ نہ کیا گیا، کسی کو لونڈی اور غلام نہیں بنایا گیا۔ اسلام نے زمانوں کے دستور ، انسانوں کی خصلتیں اور جاہلانہ رسوم ورواج کو اپنے اعلیٰ اقدار سے بدلا ہے لیکن کسی پر عقیدہ بدلنے کی زبردستی نہیں کی۔ امریکہ کو اپنی نالائقی کی سزا مسلم ممالک اور مسلمانوں کو دینی تھی۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کا کیا حال کیا؟ جدید ترین ہتھیاروں سے تباہی وبربادی پھیلانے کا مقابلہ خود کش حملوں کے علاوہ کسی اور طریقے سے ممکن نہیں تھا ۔ روس کو جہاد کے ذریعے روکنے کے بعد نیٹو کا مقابلہ بھی افغانستان میں مجاہدین نے کیا۔ ہمارے حکمرانوں کی مجبوری تھی اور بڑے نقصان سے بچنے کیلئے امریکی سی آئی اے کا پلان قبول کرکے آپس میں بھی قتل وغارتگری کا بازار گرم کرنے میں اپنی ایجنسیو ں نے غلط کردار ادا کیا۔ پاکستان نے فرقہ واریت، دہشتگردی اور عالمی ایجنسیوں کے کردار کو جس خوش اسلوبی سے برداشت کیا یہ اللہ کی مہربانی ہے ورنہ کوئی اورملک ہوتا،کسی دوسری قوم پر یہ آزمائش پڑتی اور کسی دوسرے مذہب کو اس سے واسطہ پڑتا تو کب کا ملیامیٹ ہوچکا ہوتا۔ پاکستان سے اللہ نے دنیا کی امامت کا کام لینا ہے اسلئے تمام سازشوں کے باوجود بڑی تیزی سے دلدل سے نکل گیا۔ بھارت کو 65ء کی جنگ میں شکست دی 71ء میں بھارت سے شکست کھائی۔ غزوہ بدر پر اللہ نے اترانے کی اجازت دی اور نہ غزوہ احد میں شکست کھانے پر طعنہ دیا۔ صلح حدیبیہ کے شرائط قبول کرنے کیلئے آج بھی ہم تیار ہیں۔پاکستان کے شدت پسند مسلمانوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ہم اور ہماری ریاست مظلوم کشمیریوں کیلئے کچھ نہیں کرسکے اور اگر خدانخواستہ جاہل ہندوں کی طرف سے کروڑوں مسلمانوں کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بناکر اپنی بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل ، مال اور جائیدادوں پر قبضہ کرلیا تو اسکے نتائج بہت خطرناک ہونگے۔ دنیا بھر میں ہندو مسلم فسادات عرب وعجم کی زمین کو خون سے بھر دینگے اور مغرب ہماری اس لڑائی کا فائدہ اٹھائیگا۔کئی مسلم ممالک ہیں اسلئے مسلمانوں کا خاتمہ ممکن نہیں، بھارت کے ہندوؤں کو عرب ممالک سے جس قدرسپورٹ ملتی ہے اگر اسکا رستہ بھی بند ہوگیا تو انڈیا میں بھوک وافلاس کی تباہی مچے گی۔
عمران خان سے سعودیہ کے حکمران پاک پتن کے مزار پر جبینِ نیاز جھکانے پر ناراض نہیں تواپنی ضروریات کیلئے بھارت ایران گیس پائپ لائن پر ناراض نہ ہوگا۔ ایران سے بھارت گیس پائپ لائن گئی تو بھارت امریکہ کے سامنے ڈٹ سکتا ہے۔ کھربوں ڈالر بھارت امریکہ کو دے رہا ہے ہماری طرح یوایس ایڈ کی زکوٰۃ امریکہ سے نہیں لے رہاہے۔ پیٹرول کی ناجائز سپلائی بلوچستان کی مجبوری ہے لیکن ہم جائز طریقے سے پورے پاکستان میں ایران کے تیل کا فائدہ اٹھائیں اور بھارت کی سرحدوں پر سمگلنگ کے ذریعے جن بھوکوں کا پیٹ بھرناہو بھریں۔ بھارت بھی اپنی عوام کو سستے گیس وتیل کی فراہمی پر خوش ہوگا اور ہم نالائقوں کو کشمیر بنے بنائے ڈیم سمیت دینے پر بخوشی راضی ہوگا۔کسی کی نالائقی پر قیمت وصول کرکے کرایے کاکام چھوڑنا ہوگا۔ امریکہ نے بہت مدد بھی کی اور کام بھی بہت لیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا ڈومور سے انکار اس وقت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے کہ جب ہم اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کیلئے متبادل بھی تلاش کریں۔ساری غیرملکی امداد اور قرضے مقتدر طبقات کی طرف سے بیرون ملک منی لانڈرنگ کی نذر ہوگئے ہیں۔ دفاعی بجٹ سے زیادہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کا معاملہ آگیا ۔ عمران خان نے کنٹینر پر چڑھ کر جمہوریت کو ختم کرنے کی سازش کی لیکن قومی اسمبلی سے استعفیٰ تک نہیں دے سکا تھا۔ اب وزیراعظم بن کر کیا تیرماریگا؟۔ یہ اس کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان میں ایگزیٹ اور عمران خان کے ذریعے بہت پیسہ باہر سے آگیا لیکن ایک جیل میں ہے اور دوسرا سیاسی کھیل میں ہے۔سیاسی جماعتوں نے جس طرح دھاندلی اور مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سے جمہوریت کو یرغمال بنار کھا تھا اور عوام کا جمہوریت کے ذریعے تبدیلی کا خواب بھی نہیں رہا تھا، یہ عمران خان کا نہیں اس کو استعمال کرنے والی طاقت کا کمال ہے کہ یرغمال شدہ جمہوریت کو بازیاب کرایا ہے۔پہلے حکومتوں کا رونا ہوتا تھا کہ خزانے خالی ہیں اور اب قرضوں کا بوجھ رونا بن گیا ہے۔ سودی قرضے اور سازشی امداد جاری رہے گی اور آخر یہ حال ہوگا کہ ہزاروں سے لاکھوں کامقروض ہونے سے فرق نہیں پڑتا تو کروڑوں سے بھی فرق نہیں پڑتا ہے۔ مقتدر قوتیں اپنے اہل وعیال کیساتھ باہر ہیں اور غریب عوام اور غریب ملازمین کو رگڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عابد شیر علی نے جعل سازی کا امتحان دینے پر محکمہ تعلیم کے افسر ڈاکٹرنعیم باجوہ کی میڈیا پر تذلیل اور سرزنش کی تھی اور اب فیصل واوڈا نے الیکشن میں دوبارہ گنتی کے سوال پر کامران شاہد کے پروگرام دنیا نیوز میں مظہر عباس کی توہین و تذلیل کردی۔ میاں شاہد لطیف نے کہا کہ عزیز ہم وطنو! والے اپنا رستہ ہموار کرنے کیلئے تحریک انصاف کو لائے۔ جمہوری حکومت ناکام ہوگی اور فوج آجائے گی۔
ہمارے سیاستدانوں کے رویے فوجی ڈکٹیتروں کی نسبت زیادہ بدتر ہیں۔ جس طرح عمران خان کیلئے سعید مراد اپنی ماں بہن کی گالیاں بھی کھاتا ہے، فوج کے ٹاؤٹ لوگ اس حد تک اپنے باس کیلئے گری ہوئی حرکت نہیں کیا کرتے ہیں۔ یہ ملک اور قوم زیادہ جھٹکوں کا متحمل نہیں ہوگا اور اگر قرضوں اور امداد کے بجائے ملک وقوم کو اپنے پیر پر کھڑا کیا گیا تو شریف لوگ آگے آئیں گے اور جن کو تعلیم وتربیت کے ذریعے سدھارنے یا سزاؤں کے ذریعے ان کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے یہ لوگ اہم قومی معاملات پر بات کرنے کیلئے کتوں کی طرح ٹی وی اسکرین پر نہیں چھوڑے جائیں گے۔ جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ بہت ہی خوش اسلوبی کیساتھ اخلاقیات کا ایسا مظاہرہ کیا جائے کہ کارکنوں اور عوام کے دل ودماغ ٹھنڈے رہیں۔ نوبت یہ آگئی ہے کہ صدر زرداری کو پشاور، لاہور، کوئٹہ اور کراچی کی سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرنے والے شہباشریف اب اپوزیشن لیڈر بن جائیگا اور عمران خان وزیراعظم۔ خوب چلے گی مل جائیں گے جب اخلاقیات کے دیوالیے دو۔
بھارت سے تعلقات بہتر کرنے میں ایرانی گیس کا بڑا کردار ہوگا۔ سعودیہ کی امداد سے زیادہ بہتر عوام کیلئے سستے گیس و تیل کی ضرورت ہے۔ بھارت وایران سے بہتر تعلق امریکہ وافغانستان کے بحران میں کام آئے گا۔