مذہبی سیاسی جماعت کے منشور کا یہ عارضی خاکہ دیکھ لیں! مشاورت سے ترتیب وتدوین ہوگی۔

630
0

zina-bil-jabr-in-islam-gustakh-e-rasool-ki-saza-hatake-izzat-sangsar-karna-maulana-muhammad-khan-sherani
1: آزاد منش کہتے ہیں کہ مذہبی طبقہ خواتین کو گھروں میں محصور کرنے کے درپے ہے حالانکہ اسلام کے بنیادی مرکز خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ میں دنیا بھر کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ حج اور عمرے کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ دنیا کے کسی دوسرے مذہب کی خواتین ہی نہیں خود آزاد منش خواتین میں یہ ہمت نہیں کہ حجر اسود کو چومنے کیلئے ایسی بھیڑ میں نامحرم مردوں کیساتھ ہڈی پسلی ایک کرنے کی ہمت کریں جہاں کمزور اعصاب کے مرد جانے کی ہمت نہیں رکھتے وہاں یہ اعزاز حاصل کرلیں، جو فرض ہے نہ واجب بلکہ جان لیوا بھیڑ ہو توسنت بھی نہیں اور غیرمحرموں کے دبوچنے کے اس ماحول میں مستحب و مستحسن بھی کجا بلکہ شریعت وفطرت اور انسانیت کے بھی منافی ہے لیکن مجال ہے کہ مذہبی طبقہ اپنی خواتین کو اس شوق سے روکیں یا مذہبی قیادت کچھ منہ کھولے۔ اگر مخلص نمازی ہوں تو بیت اللہ کی طرح ہر مسجد کا ماحول مشترکہ فیملی مرکز بن سکتاہے، جس میں پانچوں اوقات میں محلہ کے مرد، لڑکے، بچے ،خواتین، لڑکیاں اور بچیاں شرکت کا اہتمام کرکے ایک نئی دنیا میں ایسے داخل ہوسکتے ہیں کہ نماز اجتماعی ماحول کو فحاشی و منکرات سے بچانے کا ذریعہ بھی بنے گا۔ فقہ کی کتابوں میں صف بندی کے لحاظ سے امام کے پیچھے مردوں، لڑکوں، بچوں ، بچیوں، لڑکیوں اور آخر میں خواتین کی ترتیب کا ذکر ہے۔ 1400 سال پہلے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے لشکر کی قیادت کی تھی اور حضرت زینبؓ نے کربلاء کے واقعہ پر شہداء کی تحریک کو زندہ رکھا تھا۔ غزوات میں صحابیاتؓ نے زخمیوں کی مرہم پٹی کی خدمت اور پانی لانے کا فریضہ انجام دیا تھا۔ اسلام نے روشن خیالی میں دنیا کو بہت پہلے بہت پیچھے چھوڑ دیا مگر امیرالمؤمنین یزید سے لیکر امیرالمؤمنین نواز شریف تک جب حکمرانوں نے اسلام کو اقتدار کیلئے استعمال کیا تو ہر آنے والا دن پہلے سے زیادہ تاریک تر بنتا چلا گیا۔ اس میں اسلام کا قصور نہیں بلکہ اسلام کو غلط استعمال کرنے والے حکمرانوں اور ان کے حواریوں کے سیاہ کرتوت کا کرشمہ ہے۔ اب طالبان شریف اور طالبان خان کے علاوہ پاکستان میں اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگانے والوں اور انکے چیلے چپاٹوں کا کرداربھی سامنے ہے۔
2: پنچایت نے ریپ کے بدلے ریپ اور ریپ کے بدلے شادی کے فیصلوں سے ہیجان پیدا کردیا ۔ طالبان نے تشدد کا راستہ اختیار کیاتو قوم کی حمایت سے وہ محروم ہوگئے۔ جرگہ و پنچایت کا نظام اسلئے رائج ہورہاہے کہ تھانہ و پولیس ، سیاست وقیادت، پاکستان کی شرعی اور عام عدالتوں کا انصاف وہ بازو ہیں جو سب نے آزمائے ہوئے ہیں۔ ملزم طاقتور ہو اور مظلوم کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو تو وہ عدالت کی فیس، لوئر کورٹ ، سیشن کورٹ، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جانے تک اچھا خاصہ پیسہ اور وقت ضائع کرکے بھی کچھ انصاف نہیں پاتا بلکہ ہرجانہ اور ہتک عزت کے دعوے پر جرمانہ بھرنا پڑتا ہے، یا معافی مانگنی پڑتی ہے۔ شرعی عدالتوں میں زنابالجبر پر بھی چار گواہ پیش نہ کرنے پر قید اور کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے۔ تو پنچایت کے ذریعے غریب معاشرے نے اپنا راستہ نکال لیا ہے۔
اسلام کی تلاش میں ملک خداداد بنایا گیا لیکن کیا پاکستان خواتین ، غریب و بے بس، مظلوم ولاچار اور مجبور ومعذور معاشرے کو انصاف دینے کی صلاحیت بھی رکھتاہے یا نہیں؟، بس اس کا کام یہ ہے مذہبی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دو اوروہ ایوانوں میں پہنچ کر اپنا اُلو سید ھا کریں؟۔ خالص مذہبی جماعتوں میں جان، مال اور وقت لگاکر اپنے کام سے کام رکھو اور مدارس ومساجد کو چندے دو، جب طلاق کا مسئلہ آئے تو قرآن وسنت کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کریں اور تفریق و حلالے کا فتویٰ دے کر جان عذاب میں ڈالیں۔ پنچایت پر تو کوئی آواز اٹھانے کی جرأت کرلیتاہے، معاشرہ قہر الٰہی سے ڈرتا ہے ، چیف جسٹس نوٹس لیتاہے ، تھانہ بھی حرکت میں آتاہے ،وزیراعلیٰ شہبازشریف بھی سرپر ہاتھ پھیرنے کی برکات سے نوازتا ہے اور میڈیا بھی زبردست کوریج دیتا ہے لیکن حلالہ پر عزت بھی لٹ جاتی ہے، ملامت اور لعنت کی برسات بھی ہوتی ہے اور زندگی بھر اس گناہِ بے لذت کی لذت کا سرٹیفکیٹ مل جاتاہے۔ یہ طبقہ اقتدار میں آیا تو پھر معاشرے کا کیا حشر نشر ہوگا؟۔ عوامی شکایات درست ہیں اور ایک ایک طاقتور کو لگام دینے میں مشکل نہیں ہوگی۔ بنی امیہ کے یزید نے خاندانی قبضہ کرکے اسلام کا حق ادا نہیں بلکہ بنی امیہ، بنی عباس اور خلافت عثمانیہ کے خاندانوں نے سلطنت مغلیہ اور حکمرانوں کے حواری نواب، خان ، ملا اور پیروں کے خانوادوں نے بھی اسلام کو اپنے اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا جیسے موجودہ دور کی پارٹیاں کررہی ہیں۔ مسجد، مدرسہ، خانقاہ، درگاہ اور مذہبی وسیاسی جماعتوں کو عوام کے چندوں اور طاقت سے بنایا جاتاہے اور پھر اس پر مافیاز قبضہ کرلیتی ہیں۔ مسجد کی کمیٹیاں بھی حق کی آواز کیلئے نہیں حق دبانے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں جو خردبرد میں بھی ملوث ہوتی ہیں۔ موجودہ دور میں یہ ممکن ہوگیا ہے کہ کسی بھی ٹرسٹ پر خاندانی قبضہ ختم کیا جائے۔ مالیاتی نظام کی تفصیل انٹرنیٹ کے ذریعے کھلے عام رکھی جائے جس کی تفتیش اور چیک اینڈ بیلنس کیلئے ایک نظام بھی تشکیل دیا جائے۔ غریبوں کے نام پر غریبوں کا حق صدقات، خیرات، زکوٰۃ، فطرہ اور عطیات سے لوگ امیر سے امیر بنتے جارہے ہیں۔باکردار لوگوں کے اٹھنے سے تمام فلاحی اور مذہبی اداروں کو عوام کی فلاح وبہبود کیلئے متحرک اور باوقاربنایا جاسکتاہے۔
حضرت عمرؓ نے حلالہ پر حد جاری کرنے کی بات فرمائی۔ رسول ﷺنے محرم عورت ماں، بہن، بیٹی وغیرہ سے نکاح کرنے پر قتل کا حکم دیا۔ علماء نے محرم سے نکاح پر شبہ سے حد کو رفع کرنے کا راستہ رکھا اور دوسری طرف قتل کی بات رکھی تاکہ کسی غریب کو محرم کے نکاح کے جھوٹے الزام میں قتل کیا جائے تو بھی اس پر باز پرس نہ ہو اور طاقتور کیلئے محرم سے نکاح پر سزا سے بچنے کا راستہ ہو۔ مولانا فضل الرحمن کو پوچھا جائے ، فتاویٰ عالمگیریہ پانچ سو معتبر علماء نے مرتب کیا جن میں حضرت شاہ ولی اللہؒ کے والد بھی تھے، جس میں بادشاہ کیلئے قتل، چوری، زنا، ڈاکہ پر کوئی سزا نہیں ہوسکتی ہے
3 : اللہ تعالیٰ نے خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے حوالہ سے مؤمنات خواتین کو حکم دیا کہ ایسا لباس وپوشاک زیبِ تن کریں تاکہ پہچانی جائیں کہ وہ فالتو نہیں اور ضرر سے بچ جائیں۔ یہ لوگ مدینہ میں نہ رہیں گے مگر کم عرصہ۔ پہلے بھی اللہ کی سنت رہی ہے کہ حق کا غلبہ ہونے کے بعد اینما ثقفوا فقتلوا تقتیلاً ’’جہاں پائے گئے ان کا تعاقب کرکے قتل کیا گیا‘‘۔ زنا بالجبر اور جنسی ہراساں کرنے کو اللہ نے فسادفی الارض قرار دیا ۔ جماعت اسلامی اور علماء کے بے غیرت رہنما اس آیت کی کھلی وضاحت کے باوجود خواتین سے جبری زنا کو بھی فساد فی الارض میں شامل کرنے کے بجائے رسالت مآب ﷺ کو اذیت دینے پر اس آیت کو فٹ کرتے ہیں۔ حالانکہ رسول ﷺ کو اذیت دینے کا اس سے پہلے والے رکوع میں ذکر ہے اور اس آیت کااس اذیت سے تعلق نہیں ۔ طاقتور طبقے ہی خواتین کو اذیت دینے اور زنابالجبر میں ملوث ہوتے ہیں اور مذہبی طبقے طاقتور وں کے زرخرید غلام ہوتے ہیں۔ غریب کی بجائے طاقتوروں کے ذریعہ اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی بھی غریب کارکنوں کو اپنے لئے بوجھ اور مالداروں کواپنا اثاثہ سمجھتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک خاتون شکایت لیکر آئی کہ اسکے ساتھ جبری زنا ہوا ہے۔ نبیﷺ نے فوراً مجرم کو پکڑنے اور سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ وہ پکڑا گیا اور سنگساری کے حکم پر عمل بھی ہوا۔ مولوی کہتے ہیں کہ نبیﷺ کوئی قانون دان نہیں تھے، عورت کیساتھ جبری زنا ہو تب بھی چارمرد عادل گواہ لازم ہیں۔ آج کل ڈی این اے سے سو فیصد مجرم کے جرم کا یقین بھی ہوجاتا ہے مگر اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانامحمد خان شیرانی نے کونسل کی سفارش میڈیا کو بتائی کہ’’ ڈی این اے کو بطورِ شہادت استعمال نہیں کیا جاسکتامگر معاون قرار دیا جاسکتا ہے‘‘۔ حالانکہ قرآن وسنت کی زنا بالجبر میں بغیر گواہی قتل کی سزا ہے اور ڈی این اے اس کی توثیق ہے۔
جب غیرت، انسانیت، فطرت اورقرآن وسنت کیمطابق زنا بالجبر کیلئے قتل اور جنسی ہراساں کرنے کی سخت سے سخت سزا دی جائے گی تو دنیا میں خواتین اسلام کی چھتری کے نیچے آجائیں گی اور غیرتمند مرد بھی اسی کی حمایت کریں گے۔ ابلیس کی مجلس شوریٰ کے عنوان سے علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا کہ دنیا میں شیطانی نظام کو خطرہ مزدوکیت، جمہوریت اور بادشاہت سے نہیں بلکہ اسلام سے ہے جس کا آئین آشکار ہوجائے کہ حافظِ ناموسِ زن ہے اور مرد آزما مرد آفریں ہے تو پھر مکڑی کے جالے سے انسانیت کی آنکھوں کو دھوکہ نہیں دیا جا سکے گا۔ علماء اور جماعتِ اسلامی اپنی صلاحیتوں کو ضائع کرنے کے بجائے بروئے کار لائیں اور اسلام کے ٹھیکدار بن کر نہیں خادم بن کر نبیﷺ کے دین کو عوم تک پہنچانے کا بھرپور حق ادا کریں توچند دنوں میں انقلاب آسکتاہے۔
4: عدالتوں میں ہتک عزت کا دعویٰ ہوتاہے تو پہلے ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں کی قیمت میں ہوتا تھا۔ اب اربوں میں بھی ہورہاہے۔اسلام میں مال ودولت، رتبہ ومقام اور بڑی وچھوٹی حیثیت کی بنیاد پر ہتک عزت کی قیمت نہیں لگتی، بلکہ سب کی عزت برابرہے اور عورت پر بہتان کی سزا80کوڑے ہیں۔ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان لگایا گیا تو بہتان لگانے والوں کو80،80کوڑے لگائے گئے۔ ایک غریب عورت پر بھی کوئی بہتان لگائے تو اس کی سزا 80 کوڑے ہیں۔ انسانی عزتوں میں رتبہ ومقام کے لحاظ سے بہت فرق ہوتاہے لیکن جرم کے لحاظ سے غریب کی عزت کو بالکل بھی کم تصور نہیں کیا گیا اور اللہ کو انسانی رحجانات اور مفادات کا پتہ تھا کہ غریب اور لاچارکو دنیا میں انصاف نہیں مل سکے گا ،اسلئے بہتان و زنا کی سزا میں برابری کا قانون جاری کیا۔ مگرآج بھی مرد وں کیلئے الگ معیار ہے اور خواتین کیلئے الگ معیار ہے۔ غریبوں کیلئے الگ معیار ہے اور امیروں کیلئے الگ معیار ہے۔ عورت شادی شدہ ، غیرشادی شدہ ہو، ماں ہو، بہن ہو، بیٹی ہو یا بیوی ہو اس کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتاہے۔ مرد شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، بھائی ہو، باپ ہو، بیٹا ہو یا شوہر مگر کوئی قتل نہیں کرتا۔ یہ ددہرا معیار اللہ اور رسولﷺ کیلئے قبول نہیں اور نہ انسانیت اور دنیا کیلئے۔ بیوی کو رنگے ہاتھوں کسی غیر کیساتھ دیکھنے کے بعد بھی اس کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ۔ سیکولر اور ملحد بھی اس غیرت پر سمجھوتہ نہیں کرتالیکن اسلام نے 1400 سال پہلے جو لعان کا قانون نافذ کیا تھا ، اس کی نظیر دینے سے آج بھی دنیا قاصر ہے۔قرآن نے عورت کو کھلی فحاشی پر گھر سے نکلنے اور نکالنے کی اجازت دی مگر تشدد اور قتل کی نہیں۔ سورۂ طلاق میں بھی اس کی وضاحت ہے۔امام ابوحنیفہؒ نے زنا کی سزا کیلئے مرد و عورت کا چارمرتبہ اقرارِجرم برابر قرار دیا ، باقی تین امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے مرد کیلئے چار مرتبہ اقرارِ جرم لازم مگر عورت کیلئے ایک مرتبہ اقرار جرم کافی قرار دیا۔ صحابہؓ اپنے اوپر اقرارِ جرم سے حد نافذ کرکے دنیا کو ایمان کی صداقت کا یقین دلاتے تھے اور اب خود کش کے ذریعے دوسروں کو نقصان پہنچاکر اسلام کو دہشت گرد ی کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔ تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی ، جماعتِ اسلامی، جمعیت علماء اسلام ، مدارس کے علماء اور خانقاہی نظام والوں نے اسلام کے نام پر قربانیوں سے زیادہ مفادات حاصل کئے اگر پاکستان شریعت کورٹ میں کچھ لوگوں کو خود پر شرعی سزاؤں کیلئے پیش کردیا جائے تو دنیا میں مذہبی طبقے کا نام روشن ہوجائیگااور بدکردار لوگ لبادے کاتحفظ اوڑھ کر بھی درونِ خانہ ذلت کا احسا س رکھیں گے۔ مذہب کو کاروبار کی بجائے فرض کا درجہ حاصل ہونا چاہیے۔
5: زنابالجبر، خواتین کوہراساں کرنے اور بچوں کیساتھ زیادتی کرنے پر مذہبی طبقے کا رویہ اور فقہ کی کتابوں میں لکھے ہوئے مسائل اس قابل نہیں کہ ان پر قانون سازی کیلئے کام کیا جائے۔ جو قرآن وسنت کے واضح احکام کے بالکل منافی ہیں ۔ مرد اور عورت کیلئے قرآن میں زنا کی سزا 100 کوڑے ہیں۔ جبکہ دو مرد کیلئے برائی پر اذیت دینے کا حکم ہے اور توبہ کرنے پر معافی ہے۔ اذیت کیلئے اس پردیوار گرانے،اس کو پہاڑ سے گرانے اور جلانے کے حوالہ سے بہت باتیں ہیں۔ اذیت کی سزا کا مقصد قرآن میں قتل کرنا نہیں بلکہ جرم روکنا ہے۔ جو قومِ لوط ؑ کے عمل کے رسیا ہوں ، درست علاج بھی ان کو اذیت دینے کے برابر ہے۔ طالبان رہنما نیٹو کی آمد کے بعد دنیا بھر سے میڈیا پر ظاہر ہوئے ،اگر اپنے چندا فراد کو علاج کیلئے بھی مغربی ممالک بھیج دیتے تو دنیا پر زبردست اثرات مرتب ہوتے، شوکت خانم کی طرح ایک اعلیٰ معیار کا ہسپتال ان لوگوں کے علاج کیلئے بنتا۔ زناکی سزا 100 کوڑوں کیلئے اقرارِ جرم یا چار گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ قرآن میں سنگسار کرنے کا حکم نہیں۔ ایک طرف محفوظ قرآن ہے اور دوسری طرف تحریف شدہ توراۃ ہے۔ قرآن کی آیت میں شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کی سزا میں کوئی فرق نہیں ۔ توراۃ میں بھی صرف اور صرف بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے بارے میں ہے جس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی کوئی تفریق نہیں ۔ الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فرجموھما ۔۔۔ ’’ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جب زنا کریں تو دونوں کو رجم کرو‘‘۔جب تک سورۂ نور کی آیات نازل نہیں ہوئی تو پہلے اہل کتاب کے احکام کے مطابق عمل کیا جاتاتھا اور سورۂ نور کی آیات نازل ہوئیں تو کسی کو سنگسار نہیں کیاگیا۔ حضرت عمرؓ اللہ کے احکام میں سب سے زیادہ سخت تھے۔ اپنے بیٹے کو شرعی گواہ نہ ہونے کے باوجود زنا کا پتہ چلنے پر کوڑوں سے اتنا سخت مارا کہ وہ قتل ہوا۔ حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ پر چار گواہوں نے گواہی دی تو اس کو سنگساری سے بچانے کیلئے پوری کوشش کی، ایک کی گواہی ناکافی قرار دیکر باقی تین افراد کو80،80کوڑے لگانا گوارا کیا مگر سنگساری کی غیر فطری سزا سے بچانے میں کردار ادا کیا ۔ یوں حضرت عمرؓ کے ہاتھوں سے سنگساری کی وہ سزا دفن ہوئی جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ ’’اگر میرے پاس دنیا کااقتدارہو تو سارے مذاہب والوں کو ان ہی کی کتابوں کے مطابق سزا دوں گا۔ اگر مسلمان پر گواہی کا معاملہ آتا تو حضرت علیؓ نے سنگسار کرنے کے بجائے گواہی اور اقرار پر قرآن کے مطابق 100کوڑوں کی سزا نافذ کرنی تھی۔ اگر یہودی رعایا پر زنا کی حد جاری کرنے کی ضرورت پڑتی تو بوڑھے بوڑھی پر سنگساری کا حکم جاری ہوتا اور دنیا میں یہ سمجھا جاتا کہ مسلمان سب سے زیادہ عادل حکمران ہیں۔ خلفاء راشدینؓ کی نیک نیتی پر کوئی بھی شبہ نہ کرتا لیکن وحی کی رہنمائی سے وہ محروم تھے اسلئے حضرت علیؓ اپنے تئیں عدل قائم بھی کرلیتے تو سنگساری کی سزا انسانیت پر کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتی ۔ حضرت علیؓ کو مستحکم اقتدار کا موقع نہیں مل سکا اور اللہ تعالیٰ نے حکمتِ بالغہ سے انسانیت کی حفاظت فرمائی۔
اگر حضرت عمرؓ کے دل ودماغ میں حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کیلئے قرآن کے مطابق 100 کوڑوں کی سزا ہوتی تو ان کو بچانے کیلئے باقی تین افراد کو 80،80کوڑے نہ لگائے جاتے۔ اس کاروائی نے حدود کے نفاذ کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دروازہ بند کردیا۔جس طرح شیطان کیلئے رجیم کا لفظ لعنت کے معنیٰ میں استعمال ہواہے۔ اسی طرح بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت کوڑوں کی سزا سے قتل بھی ہوسکتے تھے تو ان پر خالی لعنت ملامت کے الفاظ کافی قرار دئیے گئے ہیں، جس طرح لعان میں بھی قرآن کے الفاظ میں لعنت ہی ہوتی ہے۔ سزا سے بچاؤ کی قائم مقام لعن طعن ہوسکتی ہے۔ حضرت عمرؓ کے بیٹے کو شدید ضربوں سے قتل کرنے کے بعد شرعی حدود کی یقیناًمعاشرے میں نفاذ کی حوصلہ افزائی نہیں حوصلہ شکنی ہوئی ہوگی۔ پرویزمشرف نے زنابالجبر کو شرعی حد سے نکال کرتعزیر میں شامل کرنے کی کوشش اسلئے کی کہ مجرموں کو تحفظ ملتا تھا، جس پر مفتی تقی عثمانی نے انتہائی غلط قلم اٹھایا۔
قرآن میں شادی شدہ لونڈی کی سزا عام خواتین کے مقابلہ میں آدھی ہے اور اس میں بھی یہ فرمایا گیاہے کہ مشکل میں پڑنے سے ڈرنے کا خوف نہ ہو تو معاف کرنا بہتر ہے۔ لونڈی کمزور ہوتی ہے تو اس کی سزا میں آدھی تخفیف کے بعد مزید عفوودرگزر سے کام لینے کا حکم دیا گیاہے اور اسلام کا کمزور کو انصاف فراہم کرنے کے علاوہ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ شادی شدہ کیلئے سنگساری کی سزا نہیں ہے، کیونکہ وہ آدھی نہیں ہوسکتی ہے۔ کنواری لونڈی کی بات نہیں شادی شدہ کی وضاحت ہے۔ 100 کوڑے کے مقابلہ میں 50کوڑے آدھی سزا ہے۔ قرآن میں امہات المؤمنینؓ سے زیادہ محترم کون ہوسکتی ہیں؟۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ کسی کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں تو دوھری سزا کا حکم ہے۔ 100 کے مقابلہ میں200 دوھری سزا ہے لیکن سنگساری میں دوھری سزانہیں ہوسکتی۔
6:جب جرم کی سزا فطرت کے مطابق ہوگی تو بہت سے لوگ اپنے جرائم کو چھپانے کی غلطی پر اصرار کرنے کے بجائے اقرار کرکے آخرت میں سرخرو ہونا چاہیں گے۔زنا پر گواہی قائم ہوجائے تو اللہ نے فرمایا کہ ’’اس پر دل میں رحم مت کھاؤ، مؤمنوں کے ایک گروہ کی موجودگی میں اس پر100 کوڑے کی حد جاری کردو‘‘۔ یہ سزا مردوں اور خواتین کیلئے یکساں ہے۔ یہ سزا معاشرے میں جرم کو ختم کردے گی۔ اللہ تعالیٰ نے لونڈی کی سزا کے حوالے سے فرمایاہے کہ گزشتہ قوموں میں بھی یہی تھی۔ پھر اللہ نے یہ بھی وضاحت فرمائی کہ ان کو اپنی جانوں کے قتل اور جلاوطنی کی سزا بھی اللہ نے نہیں دی تھی، یہ ان کے خود ساختہ قوانین تھے۔ شادی شدہ کو قتل سے روکنے کیلئے لعان کا قانون کتنا عظیم ہے؟۔ جو بے غیرت قرآن کی آیت پر عمل کرنے میں لعان کی لعن طعن کو بے غیرتی سمجھتے تھے ان کو حلالہ کی بدترین لعنت میں بے غیرتی پر عمل کرنے میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔ نبیﷺ خواتین سے بیعت لیتے وقت بدکاری نہ کرنے اور بہتان نہ لگانے وغیرہ کا عہد لیتے تھے۔ عورت بہتان لگاتی ہے تو مرد سے زیادہ خود اس کو نقصان پہنچتاہے۔ہتک عزت کی سزا خاتون پر بہتان لگانے کی ہے۔ مرد پر بھی بہتان لگانا بہت براہے لیکن قرآن میں پاکدامن خواتین پربہتان کی سزاواضح ہے اور اس پر عمل درآمد ہو، غریب و امیر، رتبہ ومقام والی اور نچلے درجہ سے تعلق رکھنے والی سب کیلئے یہ ایک ہی سزا80 کوڑے ہوں تو معاشرے میں عدل ومساوات کی زبردست فضاء قائم ہوگی۔
7: بہت سی شرعی اصطلاحات جس میں خلع، طلاق، عورت پر گھریلو تشدد، حلالہ ، عورت کیلئے معاشی میدان میں شانہ بشانہ چلنے کی اجازت وغیرہ کی قرآن وسنت کے واضح ہدایات سے ہمارے چودہ طبق کی تاریکیاں دور ہوسکتی ہیں۔ سورۂ النساء آیت19 میں پہلے عورت کو خلع کا حق دیا گیاہے اورآیت20میں مرد کو طلاق کا حق دیا گیاہے۔ مالی حقوق میں خواتین کی رعایت بالکل واضح ہے۔ شوہر پر حق مہر اورگھر کے خرچہ کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور اسی وجہ سے فضیلت بھی حاصل ہے لیکن یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ عورت کے کمانے پر کوئی پابندی ہے۔ حضرت خدیجہؓ کی معاشی اور تجارتی سرگرمی سے شروع ہونے والی اسلامی تحریک میں خواتین کی کمائی پر کیسے پابندی لگ سکتی ہے؟۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے صحابہؓ کے دور میں حضرت ابوبکرؓ نے خلیفہ بننے کے بعد بھی تجارت کرنا چاہی تو مسلمانوں نے ایک معقول وظیفہ مقرر کردیا۔ زوجہ محترمہؓ نے تھوڑا تھوڑا بچاکر میٹھابنانے کا اہتمام کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے وہ لیکر غرباء میں تقسیم کردیا اور بیت المال سے اتنا وظیفہ کم کردیا۔ اگر حضرت ابوبکرؓ کی زوجہؓ خود سلائی وغیرہ کرکے یہ کام کرتیں تو حضرت ابوبکرؓ بھی پیش کرنے پر خوشی سے کھاتے، حضرت فاطمہؓ نے ہاتھ سے کمایا تو حضرت علیؓ نے ان کی اجازت سے وہ کھانا بھکاری کو دیا تھا۔