Home اہم خبریں موٹر سائیکل امپورٹ نہ ہوتا تو بھی معیشت مضبوط ہوتی

موٹر سائیکل امپورٹ نہ ہوتا تو بھی معیشت مضبوط ہوتی

197
0

ذوالفقار علی بھٹو میاں شریف برادری کی اتفاق فونڈری اور دوسری پرائیویٹ انڈسڑی کو تباہ نہ کرتا اور جنرل ضیاء الحق شریف برادری کو کاروبار سے نکال کر سیاست میں نہ لاتا تو آج شریف فیملی کو پانامہ لیکس کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ایٹم بم بنانا ریاست اور سائنسدانوں کا کام تھا۔ نوازشریف اور شہباز شریف کا تعلق لوہے کی صنعت سے تھا۔ صرف موٹر سائیکل بنانے میں پاکستان کو خود کفیل بناتے تو آج اس ملک کی معیشت بہت مضبوط ہوتی۔ جب پرویزمشرف نے گوادر پورٹ چین کو دیا اور طالبان و بلوچ شدت پسند پاکستانی فوج اور چینیوں کو ماررہے تھے تو نوازشریف انکے ساتھ کھڑے تھے۔ تقریریں کرتے تھے کہ سوئی گیس سے پنجاب نے بلوچستان کی عوام کو محروم کیا ، اسکا ہم ازالہ کرینگے۔ پھر سی پیک سے کوئٹہ کو محروم کرکے لاہور کو نواز دیا۔ دنیا صنعتی علاقہ اس کو بناتی ہے جہاں آبادی نہ ہو، دنیا آلودگی کے خاتمے کیلئے منصوبہ بندی کررہی ہے اور ہمارے ملک میں لوہے کی صنعت سے وابستہ شریف برادری کے ہاتھ میں سیاست آئی تو ساہیوال جیسی زرخیز زمین کو کوئلے کی پلانٹ سے آلودہ کرنے کیلئے سلیمانی ٹوپی کے بجائے انگریزی ہیڈ پہن لیا۔ عوام کو یہ بھی بتادیا کہ بجلی کا وعدہ ہم نے پورا کرلیاہے ، اب اگلی مرتبہ ووٹ دو گے تو استعمال کا طریقہ بھی بتادیں گے۔ عدلیہ شریف فیملی کی ساری دولت اور خاندان کو باہر سے لاکر لوہے کی صنعت لگانے پر مجبور کردے تو پاکستان ترقی کی منزل طے کریگا۔ حضرت عمرؓ اپنے عروج کے دور میں عوام کو پیشہ بدلنے سے جبراً منع کرتے تھے۔ ریاست مذہب اور سیاست کو پیشہ بنانے پر سخت پابندی لگادے۔
ملت اسلامیہ کے داخلی مسائل کا جب تک حل نہیں نکالا جاتا ہے ،اس وقت تک سیاست اور مذہب محض تجارت اور مفاد پرستی کا شاخسانہ ہے۔عوام کے مسائل کے حل کی طرف توجہ کرنا ہوگی۔